1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

قتل دجال ، عیسیٰ علیہ اسلام کے ھاتھوں یا قلم سے ؟

خادمِ اعلیٰ نے 'حیات عیسیٰ علیہ السلام پر شبہات کے جوابات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جون 22, 2015

  1. ‏ جون 22, 2015 #1
    خادمِ اعلیٰ

    خادمِ اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    سوال : مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق دجال کو عیسیٰ علیہ اسلام نے قتل کرنا ہے مگر مرزا غلام قادیانی نے کہا کہ میں مسیح موعود ہوں اور قتل دجال عیسیٰ علیہ اسلام کے ہاتھوں نہیں بلکہ قلم سے ہونا ہے ۔ کیا دجال کا قتل قلم سے ممکن ہے ؟


    جواب :
    حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ابن صیاد کے متعلق مشہور ہوا کہ وہ دجال ہے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تلوار نکال کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی کہ اگر اجازت ہو تو میں اسے قتل کر دوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ دجال ہے تو تو تم اسے قتل نہیں کرسکتے اس کو حضرت عیسیٰ علیہ اسلام ہی قتل کریں گے اگر یہ دجال نہیں تو تم کیوں اپنے ھاتھ قتل ناحق سے رنگین کرتے ہو ۔
    عن جابر بن عبداللہ (فی قصۃ ابن صیاد)فقال عمر بن الخطاب ائذن لی فاقتلہٗ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان یکن ھو فلست صاحبہ انما صاحبہ عیسیٰ ابن مریم علیہ الصلوٰۃ والسلام، و ان لا یکن فلیس لک ان تقتل رجلا من اھل العھد(مشکوٰۃ۔ کتاب الفتن، باب قصّۃ بن صیّاد ، بحوالہ شرح السُّنہ بَغَوی)
    جا بر بن عبداللہ (قصّۂ ابن صیّاد کے سلسلہ میں) روایت کرتے ہیں کہ پھر عمر بن خطاب نے عرض کیا، یا رسول اللہ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اسے قتل کردوں ۔ اس پرحضوؐر صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ وہی شخص (یعنی دجال) ہے تو اس کے قتل کرنے والے تم نہیں ہو بلکہ اسے تو عیسیٰ بن مریم ہی قتل کریں گے۔ اور اگر یہ وہ شخص نہیں ہے تو تمہیں اہلِ عہد (یعنی ذمیوں) میں سے ایک آدمی کو قتل کردینے کا کوئی حق نہیں ہے۔

    حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا تلوار نکالنا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اگر یہ دجال ہے تو تم اسے قتل نہیں کرسکتے اس کو عیسیٰ ابن مریم ہی قتل کریں گے ، اس حدیث شریف نے یہ ثابت کردیا کہ
    دجال سے حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کی لڑائی ہوگی اور حضرت عیسیٰ ابن مریم دجال کا قتل کریں گے ، ورنہ جس وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تلوار نکالی تھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرما دیتے کہ اے عمر رضی اللہ عنہ یہ کیا کر رہے ہو اس کے ساتھ تو جہاد قلم کے ساتھ ہوگا ۔
    چنانچہ یہ حدیث دلیل ہے اس بات کی کہ دجال کے ساتھ حضرت عیسیٰ ابن مریم کی باقاعدہ لڑائی ہوگی اور دجال اس لڑائی میں مارا جائے گا نہ کہ قلم سے کے ساتھ دجال کو ختم کیا جائے گا ۔

    خود مرزا غلام قادیانی کہتا ہے کہ
    " اگر ابن صیاد کی پیشانی پر ک ف ر لکھا ہوا ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس کے قتل کرنے سے کیوں منع فرماتے اور کیوں فرماتے کہ ہمیں ابھی اس کے حال پر ابھی اشتباہ ہے اگر یہی دجال ہے تو اس کا صاحب عیسیٰ ابن مریم ہے جو اسے قتل کرے گا ہم اسے قتل نہیں کر سکتے " ( خزائن جلد 3 صفحہ 213، 212 )
    مرزا غلام قادیانی کی مندرجہ بالا تحریر سے تین باتیں ثابت ہوتی ہیں
    1 : ابن صیاد کی دجال کی طرف نسبت کرنے سے یہ بات بلکل واضح ہوجاتی ہے کہ دجال فرد واحد کا نام ہے کسی گروہ کا نہیں ، جیسا کہ قادیانی امت کا دجال کے بارے میں خیال ہے کہ دجال سے مراد پادریوں کا گروہ ہے ( خزائن جلد 3 صفحہ 362 ، 365 ، 494 )
    2 :
    مرزا غلام قادیانی نے اس حدیث کا حوالہ دے کر یہ تسلیم کرلیا ہے کہ دجال کا قتل عیسیٰ علیہ اسلام کے ھاتھوں ہوگا نہ کہ قلم سے
    3 : قادیانی امت حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کی وفات کے بارہ میں صحابہ کے اجماع کا دعویٰ کرتے ہیں اور اسکی بنیاد آںحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا تلوار نکالنا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا آیت قد خلت پڑھنا بتاتے ہیں اور اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ وفات مسیح کے قائل نہ تھے ۔ ورنہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر یہی دجال ہے تو اس کا صاحب عیسی ابن مریم ہے جو اسے قتل کرے گا ہم اسکو قتل نہیں کرسکتے ۔ تو وہاں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہ کیوں نہ فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ اسلام تو وفات پاچکے ہیں وہ دجال کو کیسے قتل کرینگے ؟

    خلاصہ بحث

    لہذا ثابت ہوگیا کہ
    دجال کا قتل حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کے ھاتھوں ہوگا نہ کہ قلم سے
    دجال فرد واحد ہے نہ کہ کسی پادریوں کے گروہ کا نام
    وفات مسیح علیہ اسلام پر صحابہ راضوان اللہ علیہ اجمعین کے اجماع کا دعویٰ سراسر جھوٹ ہے ۔

    • Like Like x 2

اس صفحے کی تشہیر