1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

قومی اسمبلی میں تیرھواں دن

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 8, 2015

لڑی کی کیفیت :
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
  1. ‏ فروری 8, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    قومی اسمبلی میں تیرھواں دن

    Wednesday, the 28th August. 1974.
    (کل ایوانی خصوصی کمیٹی بند کمرے کی کارروائی)
    (۲۸؍اگست ۱۹۷۴ئ، بروز بدھ)
    ----------

    The Special Committee of the Whole House met in Camera in the Assembly Chamber, (State Bank Building), Islamabad, at ten of the clock, in the morning. Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.
    (مکمل ایوان کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس اسمبلی چیمبر (سٹیٹ بینک بلڈنگ) اسلام آباد صبح دس بجے جناب چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی) کی زیرصدارت منعقد ہوا)
    ----------
    (Recition from the Holy Quran)
    (تلاوت قرآن شریف)
    ----------

    Mr. Chairman: Should we call them? They may be called
    (جناب چیئرمین: کیا انہیں بلالیں؟ انہیں بلا لیں)
    (The Delegation entered the Chamber)
    (وفد ہال میں داخل ہوا)
    Mr. Chairman: Yes Mr. Attorney- General
    (مسٹر چیئرمین: جی اٹارنی جنرل صاحب)
    ----------

  2. ‏ فروری 8, 2015 #2
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    CROSS- EXAMINATION OF THE LAHORI GROUP DELEGATION
    (حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریعی نبی تھے یا غیرتشریعی؟)

    جناب یحییٰ بختیار(اٹارنی جنرل پاکستان): صاحبزادہ صاحب! کل کئی چیزوں کا آپ نے ہمیں بتایا۔ مگر میں یہ محسوس کرتا ہوں اور اسمبلی کے بھی اکثر ممبر یہ محسوس کرتے ہیں کہ پوزیشن کئی چیزوں پے واضح نہیں ہوئی۔ اس لئے آپ ذرا مختصراً بعض چیزوں پراگر پوزیشن واضح ہو سکے، کیونکہ ہمارے سامنے کچھ ایسی گواہی پہلے آچکی ہے کہ بعض چیزوں کا ان سے تضاد ہوتا ہے۔ مثلاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کیا پوزیشن ہے؟ وہ شرعی نبی ہیں یا غیر شرعی نبی ہیں؟
    1722جناب عبدالمنان عمر(گواہ،جماعت احمدیہ ،لاہور): حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ہمارا نقطہ نگاہ یہ ہے کہ ان کو کتاب بھی دی گئی ہے اور وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیروی کئے بغیر براہ راست نبی تھے۔ لیکن اس اصطلاحی طور پر ان کو ایک کامل، جدید، مکمل شریعت دی گئی ہو۔ ہم ان کو ایسا نبی نہیں سمجھتے ہیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: وہ غیرشرعی نبی تھے۔ مگر اس کے علاوہ ان کو یہ بھی اختیار دیا گیا تھا کہ وہ کچھ تبدیلیاں کریں اس شرع میں؟
    جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔
    جناب یحییٰ بختیار: یہ پوزیشن یہ ہوگئی، ویسے ہیں وہ غیر شرعی۔ مگر جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شرع تھی۔ اس میں ترمیم، منسوخ یا کچھ Addition (اضافہ) کرنے کی ان کو…
    جناب عبدالمنان عمر: قرآن مجید میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے: (عربی)
    تاکہ میں بعض وہ چیزیں…
    جناب یحییٰ بختیار: یعنی وہ اختیار دیاگیاتھا ان کو۔ اب یہ فرمائیے کہ ایک شخص جو محدث کا دعویٰ کرے او ر وہ دعویٰ کو آپ صحیح سمجھے۔ میں’’نبی‘‘ کا لفظ نہیں استعمال کر رہا ہوں۔ کیونکہ آپ کہہ رہے ہیں، اور اس پر بھی ایسی وحی نازل ہو جیسی کہ انبیاء پر آتی رہی ہیں اﷲ کی طرف سے، اور ایسی ہی پاک ہو اور اس پہ وہ ویسے ہی ایمان لاتا ہو اور اس وحی کے بعد وہ اگر ایسے احکام جاری کرے۔ جس سے ملت میں تفریق پیدا ہو جائے۔ تو آپ ان احکام کو منظور کریںگے؟ یہ نیا قانون ہوگا کہ نہیں،جیسے عیسیٰ علیہ السلام نیا قانون لے آیا ہو؟
    جناب عبدالمنان عمر: جناب عالی! شرعی طور پر بالکل ایسا قانون نافذ نہیں ہو سکتا۔ 1723لیکن کوئی شخص اگر شریعت کی تفسیر کرتا ہے، توضیح کرتا ہے، تشریح کرتا ہے۔ تو اس کو اس کا حق حاصل ہے اور اس کا حق تمام علمائے امت نے، تمام مفسرین نے اس حق کو تسلیم کیاہے۔ (pause)
    جناب یحییٰ بختیار: اگر وہ مسلمانوں کے جو علماء ہیں۔ جو ان کے بزرگ اور اولیاء ہیں۔ انہوں نے اس کی تشریح کی اور جس پر ان کی ایک رائے ہو اور اگر یہ محدث ان سے مختلف تشریح کرے۔ مرزا صاحب کی بات کر رہا ہوں میں تاکہ وہ نہ آئے۔ تو آپ مرزا صاحب کے اس کو binding سمجھیں گے؟ یہ تشریح جو ہے، یہ صحیح ہے؟
    جناب عبدالمنان عمر: اگر اس کے مقابلے میں پیش کرنے والا شخص جو ہے۔ اس کی حیثیت محض ایک عالم کی ہو…
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں سارے علماء کا کہہ رہا ہوں کہ تیرہ سو سال تک اگر یہ…
    جناب عبدالمنان عمر: میرے علم میں،میرے علم میں ایسا کوئی واقعہ نہیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اگر تیرہ سو سال سے اگر یہ…
    جناب عبدالمنان عمر: یہ theoretical question (نظری سوال) ہے ۔ میرے نزدیک یہ ایک مفروضہ ہے۔ میرے نزدیک کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس پر تیرہ سو سال سے علماء متفق چلے آتے ہوں۔ میں اس کے لئے حضرت احمدبن حنبل کا ایک قول پیش کروں گا کہ ’’جو شخص اجماع کا دعویٰ کرتا ہے، وہ غلط بات کہتاہے۔‘‘ یہ حضرت امام احمد بن حنبل کی بات میں نے پیش کی ہے اور کوئی واقعہ میرے علم میں کم از کم نہیں ہے کہ پورے تیرہ سو سال امت کسی ایسے مسئلے پر اجماع رکھتی ہو۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اگر یہ ایک ان کا خیال ہو کہ ’’خاتم النّبیین‘‘ کی آیت کا مطلب یہ ہے کہ اور کسی قسم کا نبی نہیں آسکتا۔ اس میں بھی کوئی شک تھا پہلے؟ مرزا صاحب سے پہلے کہ…
    1724جناب عبدالمنان عمر: میرا خیال ہے کہ اگر میں آپ کا تھوڑا سا وقت اس سلسلے میں لوں کہ ہمیں لفظی نزاع میں نہیں الجھنا چاہئے۔ کیونکہ لفظ جو ہوتے ہیں۔ ایک زبان میں ایک لفظ ہوتا ہے۔ اسی کامضمون دوسری زبان میں دوسرے لفظ سے ادا ہو جاتا ہے۔ تو اگر ہم پہلے تعیّن کر لیں کہ اس لفظ ’’نبی‘‘ سے مراد کیاہے…
    جناب یحییٰ بختیار: مراد وہی ہے جو آنحضرتa نے کہا ہے کہ ’’لانبی بعدی‘‘…
    جناب عبدالمنان عمر: جی۔
    جناب یحییٰ بختیار: …وہی مراد میں کہہ رہاہوں…
    جناب عبدالمنان عمر: یہ اس کو…
    جناب یحییٰ بختیار: …یہ شاعروں کی باتیں نہیں کر رہا ہوں۔
    جناب عبدالمنان عمر: یعنی میں، عربی لفظ ہے ناں، تو ہم ذرا اردو میں…
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں، تو میں عربی میں کہتاہوں کہ ’’میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔‘‘
    جناب عبدالمنان عمر: ’’نبی‘‘ کس کو کہتے ہیں؟
    جناب یحییٰ بختیار: جو انہوں نے، ان کا مطلب تھا۔
    جناب عبدالمنان عمر: وہی میں پوچھنا چاہتاہوں کہ اس شخص کے نزدیک… نبی کریمa کی مراد کیاہے؟
    جناب یحییٰ بختیار: جو وہ دعویٰ کرے کہ، وہ شخص جو دعویٰ کرے کہ ’’میں اﷲ کی طرف سے آیا ہواہوں، اﷲ نے مجھے مامور کیا ہے۔ اﷲ نے مجھے وحی دی ہے۔ وہ وحی ویسی ہی پاک ہے، جو انبیاء پر آتی رہی ہیں۔‘‘پھر بار بار کہے کہ ’’میں نبی ہوں، رسول ہوں، نبی ہوں، رسول ہوں۔‘‘
    1725جناب عبدالمنان عمر: یہ تشریح میرے علم میں کہیں بھی نہیں تھی۔ کسی امت، فرد نے ’’نبی‘‘ کے یہ معنی نہیں کئے جو آپ نے بیان فرمائے ہیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: آپ بتائیے، کیا ان کے معنی ہیں؟
    جناب عبدالمنان عمر: ’’نبی‘‘ کے معنی،’’نبی‘‘کا لفظ اسلام کے لٹریچر میں دو معنوں میں استعمال ہوتا رہاہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آنحضرتﷺ نے جب کہا کہ’’میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا…
    جناب عبدالمنان عمر: جی۔
    جناب یحییٰ بختیار: …کس مطلب میں کہا؟ آپ وہ بتا دیجئے۔
    جناب عبدالمنان عمر: نبی کریمa نے جب یہ لفظ استعمال کیا، اس کی تشریح وہاں نہیں ملتی ہے۔ اس کی تشریح امت کے لوگوں نے کی ہے۔ اس لئے میں گزارش کرتا ہوں کہ وہ کیا کی گئی ہے؟
    تو’’نبی‘‘ کا ایک استعمال حقیقی استعمال ہے اور اس کے معنی ہوتے ہیں ایک ایسا شخص جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک جدید شریعت لے کر آتا ہے اور اس کو یا پہلے احکام شریعت کو، اس سے پہلے کی جوشریعت ہے۔ اس کے بعض حصوں کو منسوخ کرتا ہے۔ یا پہلی شریعت والے نبی کا امتی نہیں ہوتا اور اس کو یہ فیضان اس نبی کی متابعت میں نہیں حاصل ہوتا۔ یہ ایک تشریح ہے۔ جو اس لفظ کی کی گئی ہے۔ یہ اس لفظ ’’نبی‘‘ کے حقیقی معنی ہیں۔
    لیکن عربی زبان میں ’’نبی‘‘ کا لفظ ’’نبائ‘‘ سے نکلا ہے۔ جس کے معنی ہوتے ہیں ’’خبر دینا‘‘ تو اگر کوئی شخص خدا سے علم پاکر کوئی خبردیتا ہے تو لغوی طور پر نہ کہ حقیقی طور 1726پر ، نہ کہ اصطلاحی طور پر، محض لغوی طور پر اور figurative (تمثیلی طورپر) رنگ میں، مجازی رنگ میں، اس غیر نبی پر، جو حقیقی نبی نہیں ہوتا، لفظ’’نبی‘‘ کا استعمال ہوجاتا ہے۔ جس کے لئے میں نے کل بھی عرض کیاتھا۔ مولانا روم اپنی مثنوی میں فرماتے ہیں:
    اونبی وقت خویش است اے مرید
    کہ وہ نبی جو ہے:
    او نبی وقت خویش است اے مرید
    وہ پیر جو ہے، جو ارشاد کا کام کرتا ہے۔ جو راہبری کا کام کرتا ہے۔ جو خدا اور رسول کی طرف بلاتا ہے۔ جو امتی ہوتا ہے۔ اس کو بھی انہوں نے اس لغوی معنوں میں اس مجازی معنوں میں اس غیر حقیقی معنوں میں ’’نبی‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے اور وہ کافر نہیں تھے۔ وہ نہایت ہی متقی انسان تھا اور اس نے ختم نبوت سے انکار نہیں کیا۔ وہ ختم نبوت کا قائل تھا۔ پھر فرماتے ہیں،اپنے مرید کے لئے کہتے ہیں کہ تمہیں کوشش کرنی چاہئے:
    تانبوت یا بد اندر ملّتے
    امت کے اندر رہ کر تاکہ تمہیں نبوت حاصل ہو جائے۔ یہ نبوت حقیقی نبوت نہیں ہے۔ یہ وہی لغوی معنی ہیں۔ یہ وہی مجازی معنی ہیں۔ وہی اس کے غیرحقیقی معنی ہیں…
    جناب یحییٰ بختیار: بس یہ، یہ کافی ہوگیا۔ مرزا صاحب! میں نے صرف یہ کہا تھا کہ بہت سے سوال پوچھنے ہیں آپ سے اورآج ہمارا آخری دن ہے اورٹائم نہیں ہے اس کے بعد۔
    Mr. Chairman: I would request the Attorney- General to put definite questions.
    (جناب چیئرمین: میںاٹارنی جنرل صاحب سے درخواست کروں گا کہ وہ مخصوص سوال کریں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, I have put definete questions.
    (جناب یحییٰ بختیار: جناب والا!میں نے مخصوص سوال ہی پوچھا ہے)
    Mr. Chairman: And I will also request the witness to make short and definite answers.
    (جناب چیئرمین: میں گواہ سے التماس کروں گا کہ وہ مختصر اور مخصوص جواب دیں)
    1727Mr. Yahya Bakhtiar: He is not in position to answer any question definitely. That I am sure.
    (جناب یحییٰ بختیار: جناب والا!وہ کوئی جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں)
    Mr. Chairman: No. no. we have to confine ourselves to questions.
    (جناب چیئرمین: ہمیں اپنے آپ کو سوال کے دائرے کی حدود کے اندر رکھنا پڑے گا)
    Mr. Yahya Bakhtiar: I will ask him again.
    (گواہ سے) تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مرزاغلام احمد صاحب غیر حقیقی امتی نبی تھے؟
  3. ‏ فروری 8, 2015 #3
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (لغت کی کاپی جیب میں؟)

    جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، میں نے عرض کیا، ’’امتی نبی‘‘مرزا صاحب نے کبھی استعمال نہیں کیا۔ ’’امتی اورنبی‘‘ کا لفظ استعمال ضرور کیا ہے انہوں نے۔
    Mr. Chairman: I think question is answered, because what the witness has stated, every Musalman must keep a copy of in his pocket. This is what he says Lughat.
    کہ ایک لغت کی کاپی ضرور اس کی جیب میں ہونی چاہئے۔
    (جناب چیئرمین: میراخیال ہے کہ سوال کا جواب دے دیاگیا ہے۔ گواہ کا مطلب یہ ہے کہ ہر مسلمان کو جیب میں لغت رکھنی چاہئے)
    جناب یحییٰ بختیار: انہوں نے کہا کہ ’’ایک پہلو سے میں نبی ہوں، ایک پہلو سے امتی‘‘ کہا۔
    جناب عبدالمنان عمر: اس کی تشریح خود انہی کے الفاظ میں ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں، بس یہ مطلب، یہ کہ آپ اس معنی میں ان کو نبی مانتے ہیں کہ ایک پہلو سے نبی ہو اور ایک پہلو سے امتی ہو۔
    جناب عبدالمنان عمر: اور اس کی تشریح کیا ہے؟
    جناب یحییٰ بختیار: تشریح کو چھوڑ دیجئے۔
    جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: پہلے اس بات کا جواب دیجئے ناں۔
  4. ‏ فروری 8, 2015 #4
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (مرزاقادیانی ایک پہلو سے نبی ایک پہلو سے امتی)
    1728جناب عبدالمنان عمر: میں نے عرض کیا ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی ہو، وہ تسلیم کرتے ہیں۱؎۔
    جناب یحییٰ بختیار: یہ بات آپ مانتے ہیں۔ آپ بھی تسلیم کرتے ہیں؟
    جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، ہم بھی تسلیم کرتے ہیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: پھر اس کے بعدآپ کہیے کہ کیا اس کو ہوا۔ دیکھئے ناں، پہلے سوال کا جواب آ جائے۔ پھراس کے بعد بیشک آپ تشریح کریں کہ کیا تشریح ہے۔
    جناب عبدالمنان عمر: تو اس کی تشریح کیاہے؟ مرزا صاحب فرماتے ہیں:
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۱؎ مرزا قادیانی ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی تھے۔ آج تسلیم کر لیا ۔ پہلے اس کے خلاف کہتے تھے اور اس کو تسلیم ہی نہیں کرتے تھے۔
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ’’سنو یہ بات کہ اس کو امتی بھی کہا اور نبی بھی…‘‘
    وہی لفظ ہیں’’امتی بھی اور نبی بھی…‘‘
    …اس کو امتی بھی کہا اورنبی بھی۔ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دونوں شانیں امتیت اورنبوت کی اس میں پائی جائیں گی۔ جیسا کہ محدث میںان دونوں شانوں کا پایا جانا ضروری ہے۔ لیکن صاحب نبوت تامہ تو صرف ایک ہی شان نبوت رکھتا ہے۔ غرض محدثیت دونوں رنگوں میں رنگی ہوتی ہے۔ اس لئے خدا نے براہین احمدیہ میں میرا یہ نام رکھاہے۔‘‘
    تو تشریح یہ ہوئی کہ ’’امتی اورنبی‘‘ کے معنی ہیں’’محدث‘‘۔ ’’امتی اور نبی‘‘ حقیقی نبی نہیں ہوتا۔ وہ نبوت کی کسی قسم کا مالک نہیں ہوتا۔ وہ یہ چیز نہیں ہوتی کہ ’’اس قسم کا تو میں ہوں نبی اور اس قسم کا نہیں ہوں۔‘‘امتی اورنبی کے معنی ہیں غیر نبی، اس کے معنی ہیں محدث۔ مرزا صاحب کی عبارت میں نے آپ کے سامنے پیش کی۔
    جناب یحییٰ بختیار: میں بھی ذراآپ کو ایک اور عبارت پڑھ کے سنادیتاہوں:
    ’’اگر خدا تعالیٰ سے غائب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو پھر بتلاؤ کس نام سے اس کا پکارا جائے۔ اگر کہو(کہ) اس کانام محدث رکھنا 1729چاہئے تو میں کہتاہوں(کہ) تحدیث کے معنی کسی لغت کی کتاب میں اظہار غائب نہیں ہے۔ مگر نبوت کے معنی اظہار امر غیب ہے۔‘‘
    (ایک غلطی کا ازالہ ص۳، خزائن ج۱۸ص۲۰۹)
    ’’ایک غلطی کا ازالہ ‘‘میں آپ نے پڑھا ہو گا کئی دفعہ یہ۔
    جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، میں نے پڑھا ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: اچھا۔
    جناب عبدالمنان عمر: یہ کل ہو چکا ہے۔ میں پھر عرض کر دیتاہوں…
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں اس واسطے کہہ رہا ہوں کہ پوزیشن نہیں Clear (واضح) ہوتی۔
    جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، بالکل،دیکھیں جی،میں،اگر مجھے موقع دیں تو میں اس پوزیشن کو بالکل آپ کے سامنے… (مداخلت)
    Mr. Chairman: I will request…
    (جناب چیئرمین: میں التماس کرتا ہوں…)
    جناب یحییٰ بختیار: آپ یہ بھی کہتے ہیں کہ نبی کے لئے شارع ہونا شرط نہیں ہے۔ جیسے آپ فرما رہے ہیں۔
    Mr. Chairman: I will request let us get out of this Lughat. This Lughat will not solve the problem.
    (جناب چیئرمین: میں التماس کرتا ہوں کہ ہم لغت سے باہر نکلیں۔ یہ لغت مسئلہ کو حل نہیں کرے گی)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Let him answer again this point. (جناب یحییٰ بختیار: گواہ کو ایک دوسرے نقطہ کا جواب دینے دیں)
    Mr. Chairman: All right.
    (جناب چیئرمین: ٹھیک ہے)
    Ch. Jahangir Ali: A point of explanation. Mr. chairman. (چوہدری جہانگیر علی: جناب صدر!ایک نقطہ کی وضاحت)
    Mr. Chairman: To Attorney-General.
    (جناب چیئرمین: اٹارنی جنرل کی وساطت سے)
    Ch. Jahangir Ali: I can address the Chair, Sir,I cannot address the Attorney- General.
    (چوہدری جہانگیر علی: میں ان (اٹارنی جنرل ) کو خطاب نہیں کر سکتا۔ میں جناب سے مخاطب ہو سکتاہوں)
    1730Mr. Chairman: You can talk to Attorney- General or you can send me a chit. If I find it, then you can…
    (جناب چیئرمین: آپ اٹارنی جنرل کو یا مجھے پرچی بھجوا سکتے ہیں)
    Ch. Jahangir Ali: No, Sir, my point of explanation should be known to the members of this House.
    (چوہدری جہانگیر علی: میرے نقطہ وضاحت کا علم ایوان کے اراکین کو ہونا چاہئے)
    Mr. Chairman: No, that method we have been dealing, trying and we have been practising for the last month.
    (جناب چیئرمین: اس طریقہ کا رپر ہم گزشتہ ایک مہینہ سے عمل پیراہیں)
    چوہدری جہانگیر علی: سر!میں تو صرف یہ گزارش کرناچاہتاہوں۔
    Mr. Chairman: All the points shall be told to me in private…
    (جناب چیئرمین: تمام نقاط مجھے علیحدگی میں بتائے جاتے ہیں)
    چوہدری جہانگیر علی: … کہ witness کو… (گواہ)
    Mr. Chairman: …or we will decide those matters in the absence of the members of the Delegation.
    (جناب چیئرمین: … اور یا پھر ہم ایسے نقاط کے بارے میں وفد کی غیر موجودگی میں فیصلے کرتے ہیں)
    چوہدری جہانگیر علی: نہیں،سر!میں تو ڈیلی گیشن کی اطلاع کے لئے بھی عرض کرنا چاہتا تھا…
    جناب چیئرمین: نہیں، ان کی اطلاع نہ کریںناں، میری…
    چوہدری جہانگیر علی: …کہ ان کو ایسی زبان میں جواب دینا چاہئے۔ جس طرح سے کہ وہ عوام میں تبلیغ کرتے ہیں…
    جناب چیئرمین: نہیں، نہیں، ایک سیکنڈ…
    چوہدری جہانگیر علی: …اگر اس انداز میں وہ عوام میں…
    جناب چیئرمین: چوہدری صاحب!چوہدری صاحب!…
    چوہدری جہانگیر علی: …تبلیغ کرتے ہوں تو میں سمجھتاہوں…
    جناب چیئرمین: چوہدری جہانگیر علی، چوہدری جہانگیر علی!…
    چوہدری جہانگیر علی: …کہ کوئی بھی ان کے مذہب کو نہیں سمجھے گا۱؎۔
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۱؎ قادیانیت واقعی ایک گورکھ دھندہ ہے۔ جس کے سامنے قادیانی کیس آئے گا وہ یہی کہے گا جو ایک غیر جانبدار معزز رکن اسمبلی فرمارہے ہیں۔
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    1731Mr. Chairman: Ch. Jahangir Ali, this is uncalled for. (جناب چیئرمین: چوہدری جہانگیر !یہ غیر ضروری ہے)
    Ch. Jahangir Ali: All right, Sir.
    (چوہدری جہانگیر علی: ٹھیک ہے جناب والا)
    Mr. Chairman: This is wrong. You make a point and then say: "All right"
    (جناب چیئرمین: یہ بات غلط ہے۔ یہ ان قوائد کی خلاف ورزی ہے جو آپ نے خود مرتب کئے ہیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: They have the right to reply. (جناب یحییٰ بختیار: انہیں جواب دینے کا حق حاصل ہے)
    Mr. Chairman: (to Ch. Jahangir Ali) no, this is a violation of your on rules that you have formed
    (جناب چیئرمین (چوہدری جہانگیر علی سے): نہیں، یہ آپ کے اپنے بنائے ہوئے ضابطوں کی خلاف ورزی ہوگی)
    Thats upto youبعد میں کہہ دیا۔"All right"
    Mr. Yahya Bakhtiar: They have every right to reply. I would only request them to be as brief as possible.
    (جناب یحییٰ بختیار: ان سے صرف یہ درخواست کروں گا کہ انہیں جواب دینے کا حق حاصل ہے۔ جواب جس حد تک ممکن ہو، مختصر طورپر دیں)
    Mr. Chairman: When the Chair has taken notice of it, the entire Houseاس واسطے کہ پھر آپ کے ساتھ …Chair has remarked it, has the right to say, to put any question.
    (جناب چیئرمین: صدر نے اس بات کا نوٹس لیا ہے اور اس بارے میں رائے بھی دی ہے، تمام ایوان کو کوئی بھی سوال پوچھنے کا حق حاصل ہے)
    جناب عبدالمنان عمر: جناب والا! میں گزارش یہ کر رہا تھا کہ ایک لفظ اصطلاحی معنی بھی رکھتا ہے اور لغوی معنی بھی رکھتا ہے۔ مثلاً’’صلوٰۃ‘‘ کا لفظ ہے۔ یہ اس سے، ہم جب ’’صلوٰۃ‘‘ کالفظ بولتے ہیں تو عام مسلمان اس کے معنی وہی سمجھتا ہے جس طرح ہم پانچ وقت نماز پڑھتے ہیں۔ لیکن جب لغت میں آپ اس کو تلاش کریں گے۔ تو اس وقت میں اس کے معنی یہ نہیں ہوںگے کہ ’’اﷲ اکبر‘‘کہے اور ہاتھ اٹھائے اور پھر اس کو باندھے سینے پر یا اپنی ناف پر۔ یہ معنی، یا رکوع کرے اور سجدہ کرے اور قیام کرے یا التحیات میں بیٹھے۔ یہ معنی لغت میں ’’صلوٰۃ‘‘ کے نہیں ملتے۔ لیکن ’’صلوٰۃ‘‘ کا لفظ ایک اصطلاحی لفظ ہے۔ جس سے یہی مراد ہے جو کہ ہم نماز پڑھتے ہیں۔ اسی طرح دنیا کی زبان میں بہت سے الفاظ ایسے ہوتے ہیں کہ اس کے لغوی معنی اور ہوتے ہیں، اصطلاحی معنی او ر ہوتے ہیں۔
    1732جناب یحییٰ بختیار: یہ، یہ دیکھیں، صاحبزادہ صاحب!یہ بات ہم کل کر چکے ہیں۔ آپ نے تفصیل سے یہ بات بتائی اور میں نے عرض بھی کیا۔ ہم نے ’’شیر‘‘ کی بھی بات کی اور حقیقی شیر کی اور وہ شیر جو مثال کے طور پر آتے ہیں۔ ابھی اگرآپ اس اسمبلی کے اندر آئے ہیں۔ میں آپ سے یہ سوال پوچھتا ہوں، پاکستان کی پارلیمنٹ ہے، یہاں لوگ پھر رہے ہیں۔ ایک شخص کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ سپیکر ہے۔ اگر وہ کہے کہ ’’میں سپیکر ہوں‘‘ تو کوئی شک تو نہیں رہ جاتا کہ کون ہے، ’’لاؤڈ سپیکر‘‘ تو مطلب نہیں لیا جائے گا۔ حالانکہ ’’لاؤڈ سپیکر‘‘ کو بھی ’’سپیکر‘‘ کہتے ہیں۔ اسی طرح ایک شخص کہتا ہے کہ ’’مجھ پہ وحی آرہی ہے، پاک ہے، اﷲ کی طرف سے ہے۔ میں اس پر ایمان رکھتاہوں۔ ایسے ہی جیسے باقی انبیاء پر‘‘ اور کہتا ہے ’’میں نبی ہوں، میں رسول ہوں۔‘‘ تو پھر اس کے بعد کہنا کہ ’’جی،یہ مطلب نہیں، ڈکشنری میں جا کے دیکھئے اس کا مطلب کچھ اور تھا‘‘۔ یہ Confusion (الجھن) جو تھی ناں، اس لئے میں آپ سے عرض کر رہاتھا…
    جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔
    جناب یحییٰ بختیار: …کہ اس کی Clarification (وضاحت) کی ضرورت ہے۔
    جناب عبدالمنان عمر: میں نے عرض کیا تھا کہ آپ نے فرمایا کہ یہاں ’’سپیکر‘‘ ایک ہی کوکہتے ہیں، اور یہ بالکل درست ہے۔ لیکن اگر کوئی ایسی جگہ ہو جہاں ’’سپیکر‘‘ ان معنوں میں بھی معروف ہو اور دوسرے لفظ میں بھی…
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ درست آپ فرمارہے ہیں۔ میں کہنا چاہتا ہوں کہ جب ایک شخص محدث ہے اور آپ اس کو محدث مانتے ہیں۔ وہ اس کا بڑا Status (مقام) ہے اور ان کے مرید ہیں۔ اس نے اپنی جماعت بنائی ہے۔ ان سے بیعت لے رہا ہے او ر یہی کہتا ہے بار بار کہ ’’دیکھو! مجھ پر اتنی وحی نازل ہورہی ہے اور اتنی پاک وحی نازل ہورہی 1733ہے اور یہ اس پر میں ایمان لاتاہوں۔ ایسے ہی جیسے کہ بعض انبیاء پر جو وحی آرہی ہے۔ اس پرایمان لاتا ہوں‘‘ اور بعض وقت کہتا ہے’’میں رسول ہوں،میں نبی ہوں، میں رسول ہوں، میں نبی ہوں‘‘۔ تو اس کے بعد آپ کہتے ہیں کہ ’’نہیں،یہ جو مولانا روم نے کہا تھا کہ پیغمبر، یہ وہ والی بات آگئی۔‘‘
    جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، ہم نہیں کہتے، وہ خود یہ کہتے ہیں، ہم نہیں کہتے ہیں۔ یہ جو میں نے مولانا روم کا حوالہ پیش کیا۔ یہ میں نے نہیں پیش کیا۔ انہوں نے خود یہ پیش کیا۔ وہ خود یہ فرماتے ہیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: میں پھر آپ…
    جناب عبدالمنان عمر: یہ میں نے…
    جناب یحییٰ بختیار: میں آپ سے پھر ذرا کچھ اور حوالے آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔ اس کے بعد پھر آپ کچھ اس بات پر روشنی ڈال سکیں تو بہتر ہوگا۔ جب وہ فرماتے ہیں:
    ’’اور میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اس نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے اور اس نے میری تصدیق کی کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کئے ہیں۔ جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔‘‘
    (تتمہ حقیقت الوحی ص۶۸، خزائن ج۲۲ص۵۰۳)
    ایک شخص قسم کھا کے، خدا کی قسم کھاتا ہے اور آپ سمجھتے ہیں کہ وہ ہے بھی صادق،اور اس کے بعد کہتے ہیں کہ ’’نہیں،یہ تو شاعری ہے۔‘‘ اس کا آپ سمجھا دیں ہمیں؟
    جناب عبدالمنان عمر: میں نے پہلے…
    1734جناب یحییٰ بختیار: وہ کہتا ہے کہ’’مجھے خدا نے بھیجا ہے۔ میرا نام نبی رکھا ہے۔ مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے۔ میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کئے ہیں۔ جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔‘‘ اور پھر آگے یہ بھی فرماتے ہیں:
    ’’میں بیت اﷲ میں کھڑے ہوکر یہ قسم کھا سکتا ہوں کہ وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے۔ وہ اسی خدا کا کلام ہے جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت محمدﷺ پر اپنا کلام نازل کیاتھا۔‘‘
    (ایک غلطی کا ازالہ ص۳، خزائن ج۱۸ص۲۱۰)
    تواس سے جو Confusion (پریشانی) آجاتی ہے۔ آپ کے بیان سے جو ہمیں تضاد معلوم ہوتا ہے۔ اس کے لئے آپ سے Request (التماس) کر رہے ہیں کہ اس کو Clarify (واضح) کرئیے۔
    جناب عبدالمنان عمر: میں جناب!پھر گزارش کروں گا کہ جب کوئی ایسا حلقہ ہو جس میں ایک لفظ دو معنوں میں استعمال ہو رہا ہو تو ہمیں اس بات پر غور کرنا پڑے گا کہ جب ایک شخص ایک جگہ ایک لفظ کو استعمال کرتا ہے تو کن معنوں میں کرتا ہے اور وہی شخص اسی لفظ کو ایک اور جگہ استعمال کرتا ہے تو کن معنوں میںکرتا ہے۔ کیونکہ دونوں قسم کی چیزیں لٹریچر میں موجود ہیں۔ میں نے عرض کیاتھا کہ’’نبوت کی ایک یہ تعریف ہمارے لٹریچر میں موجود ہے کہ نبی وہ ہوتا ہے جو صاحب کتاب ہو اور یہ ہو اور وہ ہو…‘‘
    جناب یحییٰ بختیار: انہوں نے کہا ہے کہ ضروری نہیں۔ ’’ایک غلطی کا ازالہ‘‘ میں انہوں نے کہا کہ’’ضروری نہیں کہ صاحب شرع ہو۔‘‘ وہ اس واسطے میں کہہ رہا ہوں کہ آپ کو پڑھ کے میں نے سنایا۔ آپ کی Definition ٹھیک ہے…
    جناب عبدالمنان عمر: جناب!میں ’’تفسیر مظہری‘‘ کا حوالہ آپ کی خدمت میں پیش …
    جناب یحییٰ بختیار: ابھی دونوں، یہ بھی مرزا صاحب کی میں بات کر رہا ہوں۔
    1735جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، ’’تفسیر مظہری‘‘مرزا صاحب کی کتاب نہ ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، یعنی آپ مرزا صاحب کی بات کریں جن کی…
    جناب عبدالمنان عمر: دیکھئے ناں، میں عرض کررہا ہوں…
    جناب یحییٰ بختیار: …جن کی نبوت کا سوال ہے سامنے۔ آپ دیکھئے ناں، یہ دوسرا تو Irrelevant ہے۔ یا تو خدا کی بات کریں، قرآن کی بات کریں، حدیث کی بات کریں۔ مولاناروم کو چھوڑ دیجئے۔ ان کو چھوڑ دیجئے۔ کیونکہ وہی ہم پر Binding (لازمی) ہے اور کوئی Binding (لازمی) نہیں ہے۔
    جناب عبدالمنان عمر: جناب عالی! میں گزارش یہ نہیں کر رہا ہوں کہ مولانا…
    A Member: Point of order, Sir.
    میری عرض یہ ہے کہ جو انہوں نے اب یہ پڑھ کر بتایاہے…
    Mr. Chairman: This is no point of order.
    ایک رکن: ہاں جی۔
    Mr. Chairman: This is no point of order.
    (جناب چیئرمین: یہ کوئی پوائنٹ آف آرڈر نہیں ہے)
    ایک رکن: اس کی تشریح کر دیں جو…
    جناب چیئرمین: تشریح…
    ایک رکن: …انہوں نے، انہوں نے پڑھ کر بتایا ہے۔
    جناب چیئرمین: وہ، وہ کر سکتے ہیں۔
    ایک رکن: تشریح اور کر دیں۔
    جناب چیئرمین: اس، اس موضوع پر وہ کہہ سکتے ہیں Chair کو۔ آپ نے پروسیجر ایک مہینہ خود Follow (عمل) کیا ہے۔ یہ ان سے پوچھیں۔ (مداخلت)
    1736جناب چیئرمین: یہ ان سے پوچھیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: یہ تو وہ خود کہہ رہے ہیں۔ یہ خود ہی بات کر رہے ہیں۔
    جناب عبدالمنان عمر: جناب والا! میں نے جب مولانا روم کو پیش کیا یا حضرت سید عبدالقادر جیلانی کے اقوال آپ کے سامنے پیش کئے۔ تو میں یہ بات واضح کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ یہ چیزیں اسلام کے یا مسلمانوں کے لٹریچر میں ہیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ تو آپ نے کل کافی تفصیل آپ نے اس سلسلے میں کہا، فرمایا آپ نے۔ اس پر میں نے عرض کیا تھا اور آپ کو شاید یاد ہو گا کہ جس محفل میں یہ دونوں الفاظ استعمال ہوتے ہوں۔ جیسے آپ نے ابھی فرمایا کہ اصطلاحی Sense (معنوں) میں اور اصلی معنوں میں، دونوں میں استعمال ہوتا رہا ہے۔ تو اس سے کچھ غلطی فہمی بھی پیداہوئی اور آپ نے خود ہی فرمایا کہ ہاں، مرزا صاحب نے لکھا پھر یہ کہا تھا کہ ’’کیونکہ بعض لوگ مجھ سے ناراض ہو رہے ہیں، ان کو غلط فہمی ہو گئی ہے، اس لئے نبی کا لفظ جہاں جہاں میں نے استعمال کیا ہے، اس کو منسوخ سمجھا جائے اور اس کی جگہ محدث کا لفظ استعمال ہونا چاہئے اور وہ لکھ دیں آپ، ترمیم کر لیں میری کتابوں میں۔‘‘ یہ بھی مرزا صاحب نے فرمایا۔ آپ نے کہا ہاں، یہ ٹھیک ہے۔ اس کے بعد میں نے عرض کیا کہ اس کے باوجود کہ ان کو معلوم تھا کہ غلط فہمی ہو جاتی ہے۔ دو لفظ ہیں، ایک لفظ ہے جس کے دو معنی ہیں اور ان کا مطلب یہ نہیں کہ وہ حقیقی نبی ہیں۔لوگوں میں غلط فہمی پیدا ہو گئی۔ انہوں نے کہاکہ ’’یہ غلط فہمی کی وجہ سے ان کو ٹھیک کر دیجئے، درست کر دیجئے، یہ مجھ سے غلطی ہوئی ہے۔‘‘ اس کے بعد میں نے عرض کیا کہ پھر بار بار انہوں نے ’’نبی‘‘ کا لفظ استعمال کیا۔ جانتے ہوئے کہ لوگوں کو غلط فہمی ہو جاتی ہے۔ پھر آپ نے کہا کہ ان کو اﷲ کا حکم آیا تھا، وہ مجبور تھے۔
    1737جناب عبدالمنان عمر: میں ادب سے عرض کروں گا کہ نہ میں نے کہا، نہ مرزا صاحب نے کہا:’’مجھ سے یہ غلطی ہو گئی ہے۔‘‘یہ…
    جناب یحییٰ بختیار: غلطی نہ سہی تو سادگی سہی، یہ کیا وجہ تھی کہ لوگوں میں…
    جناب عبدالمنان عمر: ہاں، ہاں، یہ ٹھیک ہے، یہ صحیح ہے،یہ کیوں ہوا ہے…
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں…
    جناب عبدالمنان عمر: …یہ کہ ’’غلطی سے ہواہے‘‘ یہ مرزا صاحب نے کبھی نہیں کہا۔
    جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب نے کبھی نہیں کہا…
    جناب عبدالمنان عمر: …اور نہ غلطی ہے۔ میں عرض کرتا ہوں…
    جناب یحییٰ بختیار: …سادگی سے انہوں نے کہا ہے۔
  5. ‏ فروری 8, 2015 #5
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (مرزاقادیانی کے اقوال میں تضاد ہے)
    جناب عبدالمنان عمر: ہاں، میں عرض کرتاہوں، میں نے گزارش یہ کیا ہے کہ جب ایک لفظ دو مختلف معنوں میں استعمال کیا جارہا ہو، اور دومختلف معنی متضاد بھی ہوں۔ جیسے ’’شیر‘‘ کے لفظی معنی، کل آپ نے بھی مثال بیان فرمائی کہ وہ شخص ایک معنوں میں شیر ہوگا بوجہ اپنی بہادری کے۔ مگر ایک معنی میں وہ شیر نہیں ہوگا بوجہ اپنی درندگی کے نہ ہونے کے۔ یہ دو باتیں بڑی واضح باتیں ہیں۔ یہی چیز مرزا صاحب کے اقوال میں ہے کہ لفظ ’’نبی‘‘ کی دو تشریحیں ہیں۔ دونوں متضاد تشریحیں ہیں۔ جب ایک تشریح کو مرزا صاحب مدنظر رکھتے ہیں تو اقرار کرتے ہیں۔ جب دوسری تشریح ان کے سامنے آتی ہے۔ تو انکار کرتے ہیں۔ یہ چیزیں ان کی ساری تحریرات میں موجود ہیں…
    جناب یحییٰ بختیار: یہ آپ…
    جناب عبدالمنان عمر: …کیونکہ امت میں…مجھے گزارش کرنے دیں…
    1738جناب یحییٰ بختیار: آپ کی توجہ میں ایک دو اور حوالوں کی طرف دلاتا ہوں…
    جناب عبدالمنان عمر: جناب!مجھے گزارش کرنے دیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: آپ کر لیجئے۔
    جناب عبدالمنان عمر: آپ کے…
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔
    جناب عبدالمنان عمر: تومیں گزارش یہ کر رہا تھا کہ لفظ ’’نبی‘‘ اور لفظ ’’محدث‘‘ امت کے اندر، مرزا صاحب کے نہیں صرف۔ امت کے اندر دو بالکل متضاد معنوں میں، استعمال ہوئے ہیں یہ لفظ۔ جس طرح میں نے ابھی ’’شیر‘‘ کی مثال دی ہے۔ اسی طرح ’’نبی‘‘ کا لفظ جو ہے۔ امت میں دو معنوں میں استعمال ہوتا رہا ہے۔ ایک اس کے معنی وہی ہیں جو حقیقی ہیں اور دوسرے ہیں’’جس پر اظہار غیب ہو یعنی خدا تعالیٰ اس پر نزول کلام کرے۔‘‘
    جناب یحییٰ بختیار: یہ آپ نے درست فرمایا۔ توپھر آپ کیوں اس بات سے احتجاج کرتے ہیں۔ Hesitate (ٹال مٹول) کرتے ہیں کہ وہ نبی نہیں تھے۔ وہ دوسرے معنی میں، جیسے ربوہ والے کہتے ہیں۔ آپ بھی کہہ دیا کریں۔ آپ کیوں اس پر Insist (اصرار) کرتے ہیں کہ ’’ہم اس کو کسی رنگ میں بھی نبی نہیں کہتے ہیں؟‘‘
    جناب عبدالمنان عمر: اگر آپ مجھے جواب ختم کرنے دیں۔ پھر آپ جو ارشاد فرمائیں، ٹھیک ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے۔
    جناب عبدالمنان عمر: تو میرا…کیونکہ بیچ میں گفتگو ہوتی ہے، یکے بعد دیگر حوالے پیش ہوتے ہیں…ان کا اعتراض بڑاموزوں تھا کہ جناب!اس کی تشریح ہو جانی چاہئے۔ اس بات کی، وہ ابھی تشریح ختم نہیں ہوتی کہ ایک اگلی بات آتی ہے۔
  6. ‏ فروری 8, 2015 #6
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (آپ کا لیکچر؟)
    1739جناب یحییٰ بختیار: آپ اس کی تشریح تو کسی بات کی نہیں کرتے۔ آپ تو لیکچر دیتے ہیں۔ جو مصیبت بن جاتی ہے۔
    جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، میں لیکچر نہیں دیتا ہوں۔ بات یہ ہے کہ…
    جناب یحییٰ بختیار: آپ اس کی تشریح کردیں۔
    جناب عبدالمنان عمر: بات یہ ہے کہ تنگ وقت میں زیادہ سے زیادہ باتیں کرنی ہوتی ہیں۔ تو میری گزارش یہ تھی کہ آپ نے جو الجھن ہمارے سامنے رکھی ہے۔ وہ یہ الجھن ہے کہ کہیں مرزا صاحب کی تحریروں میں نبوت کا اقرار ہے اور کہیں مرزا صاحب کی تحریروں میں نبوت کا انکار ہے۔ اس الجھن کا کیا جواب ہے ؟ یہ میں سمجھا ہوں جناب کی گفتگو سے۔ میں نے اس کا جواب یہ عرض کیا ہے کہ یہ لفظ حقیقتاً جماعت کے، امت کے، مسلمانوں کے لٹریچر میں، دو مختلف ، متضاد معنوں میں استعمال ہوتا رہا ہے۔ ایک اس کا لغوی استعمال ہے۔ ایک اس کا حقیقی استعمال ہے اور اسی طرح ’’محدث‘‘ کا لفظ جو ہے۔ وہ بھی دو معنوں میں استعمال ہوتا رہا ہے۔ ایک اس کا لغوی استعمال ہے۔ ایک اس کا اصطلاحی استعمال ہے۔ مرزا صاحب نے جس جگہ کہا ہے کہ ’میں نبی ہوں‘‘ وہ ان معنوں میں کہا جو محدثیت کے معنی ہیں اور جہاں انہوں نے کہا کہ ’’میں نبی نہیں ہوں‘‘ وہ ’’نبی‘‘ کے اصطلاحی اورحقیقی معنوں کی رو سے انکار کیا ہے۔
    اور جب کیفیت بدل جاتی ہے، وجہ بدل جاتی ہے، پہلو بدل جاتا ہے، تو دوسرا لفظ استعمال کرنا ممنوع نہیں ہوتا۔ اسی طرح میں نے اس کے لئے بتایا تھا کہ یہ وہ چیز ہے جو مرزا صاحب اکیلے نہیں ہیں۔ اس میں، امت کے لٹریچر میں یہ چیز موجود ہے اور امت کے دوسرے افراد اس کو استعمال کرتے رہے ہیں۔ اسی طرح ’’محدث‘‘ کے لفظ کے لغوی معنی’’اظہارغیب‘‘ نہیں ہوتا۔ اظہار غیب ’’نبی‘‘ کے لفظ میں ہوتا ہے۔ تو جب وہ لغت کی بات کہتے ہیں تو کہتے 1740ہیں ’’میں لغوی طور پر نبی ہوں مگر اصطلاحی طور پر نبی نہیں ہوں۔‘‘ اور جب ’’محدث‘‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو فرماتے ہیں کہ ’’میں لغوی طور پر تو محدث نہیں ہوں مگر میں اس اصطلاح کی رو سے محدث ہوں جو کہ امت میں رائج ہے۔‘’ یہ ہے جناب! اس مشکل کا حل کہ کہیں اقرار ہے، کہیں انکار ہے۔ یہ اقرار اور یہ انکار ان معنوں میں متضاد نہیں کہ ایک شخص متضاد باتیں کر رہا ہے۔ بلکہ اس کی بنیاد یہ ہے کہ امت میں دو اصطلاحیں ہیں اور دو قسم کے الفاظ رائج ہیں اور وہ Context (سیاق و سباق) اس کا الگ الگ ہوتا ہے…
    Mr. Chairman: Next. (جناب چیئرمین: اگلا…)
    جناب عبدالمنان عمر: …تو…
    جناب یحییٰ بختیار: پھر آپ نے یہ نہیں بتایا کہ جب وہ قسم کھا کے کہتے ہیں:
    ’’اور میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتاہوں کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے مجھے بھیجا ہے اور اس نے میرا نام نبی رکھا۔‘‘
    (تتمہ حقیقت الوحی ص۶۸، خزائن ج۲۲ص۵۰۲)
    یہ اﷲ تعالیٰ نے ان کا نام جو نبی رکھا، ان کو بھیجا، یہ لغوی معنی میں ہے؟
    جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، جی ہاں، لغوی معنوں میں ہے، Figurative (تمثیلی طور پر)
    جناب یحییٰ بختیار: یہ ان کا…
    جناب عبدالمنان عمر: …بالکل، انہی معنوں میں…کہ تو نبی وقت باشدیہ انہی معنوں میں ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: …اﷲ تعالیٰ کا مطلب نہیں تھا ان کو بنی بنانے کا؟
    جناب عبدالمنان عمر: …’’نبی‘‘آیا،یہ انہی معنوںمیں ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: اور جب ان کو مسیح…’’اور مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا‘‘ وہ بھی یہی مطلب تھا کہ نبی نہیں ہیں وہ؟
    1741جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، بالکل۔
    جناب یحییٰ بختیار: تو کل جب آپ نے کہا کہ جہاں جہاں مرزا صاحب کہتے ہیں ’’نبی‘ اس کامطلب ہوتا ہے ’’غیرنبی۔‘‘
    جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، غیر نبی۔
    جناب یحییٰ بختیار: آپ نے یعنی Brief طریقے سے …
    جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، حقیقی معنوں کی رو سے، اصطلاحی معنوں کی رو سے غیر نبی ہیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: اچھا، اب یہ آپ فرمائیے… (Pause)
    جناب عبدالمنان عمر: واضح کر دیں گے ، وہ ہے…
    Mr. Chairman: No, the witness cannot reply unless a question is put.
    (جناب چیئرمین: نہیں، گواہ جواب نہیں دے سکتا جب تک اس سے سوال نہ پوچھا جائے)
    جناب یحییٰ بختیار: یہ مجھے مولانا نے مرزا صاحب کا ایک حوالہ دیا ہے۔ جسے وہ آپ کو پڑھ کر سنائیں گے۔ عربی میں ہے۔ میں نہیں جانتا اور وہ کہتے ہیں:’’جہاں جہاں میں قسم کھا کر کہتا ہوں کوئی بات، تو پھر اس میں کوئی شاعری کی بات نہیں ہوتی، اصلی بات ہوتی ہے۔‘‘ یہ مولانا نے مجھے سمجھایا ہے۔
    مولوی مفتی محمود: حوالہ یہ ہے جی، وہ لکھتے ہیں کہ:
    ’’(حمامۃ البشریٰ ص۱۴، خزائن ج۷ص۱۹۲) مرزا نے لکھا’’والقسم یدل علی ان الخبر محمول علی الظاہر لاتاویل فیہ ولا استثنائ‘‘
    کہتے ہیں کہ جو کلام قسم کے ساتھ تاکیدکیاجاتا ہے، قسم دلالت کرتا ہے۔ اس پر کہ یہ بات محمول ہے، ظاہر پر اس میں کوئی تاویل نہیں ہوگی اور تاویل کی گنجائش اگر ہو تو فائدہ کیا ہے قسم کے کھانے میں، قسم کھانے میں کیا فائدہ ہے؟تو…
    1742جناب عبدالمنان عمر: جناب والا! یہ حوالہ کہاں سے آپ نے پڑھا؟
    مولوی مفتی محمود: حمامۃ البشریٰ…
    جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، ہاں جی۔ تو گزارش یہ ہے کہ مرزا صاحب نے خود اس جگہ اس بات کو واضح کر دیا ہے کہ…’’بھائی!جب میں قسم کھا کر ایک بات کہتا ہوں تو اس قسم کو میرے اس الفاظ پرجو ظاہر پر جو میں بات، میں الفاظ میں پیش کر رہا ہوں، اس پر اعتماد کرو اور اس کو مانو۔‘‘ وہ کیا ہیں مرزا صاحب کی قسمیں؟ دو دفعہ مرزا صاحب نے قسم کھائی ہے، مسجد میں جاکر۔ وہ قسم یہ ہے کہ:’’میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے نبوت حقیقی کا دعویٰ نہیں ہے۔‘‘ یہ ہے ان کی قسم۔ یہ ہر رنگ میں صحیح ہے۔ اس حوالے کے مطابق صحیح ہے اور اس میں ہم کسی قسم کی کوئی تاویل نہیں کرتے۔ حضرت صاحب کا، مرزا صاحب کا میں آپ کو ایک حوالہ سناتا ہوں، بات بالکل کھل جائے گی۔ (عربی)
    کہ’’جن معنوں میںپہلے انبیاء نبی کہلاتے تھے۔ جب میرے لئے کہیں لفظ ’’نبی‘‘ دیکھو تو ان معنوں میں نہ سمجھ لو۔ تمام انبیائ، زمرئہ انبیاء کا ہر فرد جن معنوں میں نبی ہوتا تھا۔ میرے لئے اگر لفظ نبی کہیں استعمال ہوا ہے تو ان معنوں میں نبی نہیں ہوں۔‘‘ یہ مرزا صاحب کی عبارت ہے، اورمیں عرض کردوں۔
    جناب یحییٰ بختیار: صاحبزادہ صاحب!یہاںآپ اپنی…
    جناب عبدالمنان عمر: …کہ ان کی آخری زمانے کی کتاب ہے ’’حقیقت الوحی‘‘
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ آپ سے میں عرض کر رہا تھا کہ آپ نے کہا کہ انہوں نے قسم کھا کے کہا کہ ’’میں نبی نہیں ہوں۔‘‘…
    1743جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔
    جناب یحییٰ بختیار: …پھر انہوں نے قسم کھا کے کہا کہ…’’میں نبی ہوں۔‘‘
    تو اس پہ ہم کہہ رہے ہیں۔ ناں جی کہ مرزا صاحب تو اگر بغیر قسم کے بھی بات کہیں تو ہم مانتے ہیں ان کی بات۔ مگر یہ بتائیں کہ وہ کہتے کیا ہے؟ وہ کہتے ہیں کہ…
    جناب عبدالمنان عمر: دونوں باتیں صحیح کہہ رہے ناں جی۔
    جناب یحییٰ بختیار: ’’اور میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے مجھے بھیجا ہے۔ اس نے میرانام نبی رکھا ہے…‘‘
    جناب عبدالمنان عمر: ہاں جی، تو وہی ہوا ناں۔ میں نے عرض کیا تھا کہ ایک اس کے حقیقی معنی ہیں۔ ان معنوں میں نہیں ہے یہ قسم۔ یہ جناب! بتایا ہے کہ ’’میں ان معنوں میں ہوں، مجھے خدا نے بھیجا ہے۔‘‘
    جناب یحییٰ بختیار: وہ خود یہ کہتے ہیں:’’جب میں قسم کھاتا ہوں، تاویل کی بات نہیں ہے۔‘‘
    جناب عبدالمنان عمر: تاویل ہے نہیں، نہیں جی، وہ خود کہہ رہے ہیں۔ قسم میں لفظ موجود ہے۔ میں اپنے پاس سے تو نہیں کہہ رہا ہوں۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہاں کہتے ہیں کہ ’’میرا نام نبی ہے۔‘‘
    جناب عبدالمنان عمر: ہاں جی۔
    جناب یحییٰ بختیار: ’’مجھے خدا نے بھیجا ہے۔‘‘
    جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، خدا نے بھیجا ہے۔ جو خدا کی طرف سے بھیجا گیا ہو۔ وہ مجدد بھی…
    جناب یحییٰ بختیار: وہ نبی۔
    1744جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، نبی نہیں ہوتا۔
    جناب یحییٰ بختیار: مجدد نہیں، کہتے جی۔
    جناب عبدالمنان عمر: نہیں، خدا کی طرف سے جو بھیجا گیا ہو وہ نبی، ضروری نہیں کہ وہ نبی ہو۔ دیکھئے میں عرض کرتا ہوں’’تفسیر مظہری‘‘ میں سے: ’’صرف ایسے نبی کو رسول کہتے ہیں…‘‘
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں میں، ان کو چھوڑ دیجئے، ان کا ترجمہ کر کے بتادیں۔
    جناب عبدالمنان عمر: جناب!ان کا Context (سیاق و سباق) میں ترجمہ ہو گا۔
    جناب یحییٰ بختیار: دیکھئے، Context (سیاق وسباق) میں یہی ہے، ایک ان کا بیان ہے…
    جناب عبدالمنان عمر: ہاں جی، بالکل صحیح بیان ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: دیکھئے ناں، اور اس میں یہ ہے:
    ’’اورمیں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے مجھے بھیجا ہے۔ اس نے میرا نام نبی رکھا ہے…
    جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔
    جناب یحییٰ بختیار: ’’…اور اس نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکاراہے…‘‘
    جناب عبدالمنان عمر: ہاں جی۔
    جناب یحییٰ بختیار: ’’…اور اس نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کئے ہیں، جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔‘‘
    (تتمہ حقیقت الوحی ص۶۸، خزائن ج۲۲ص۵۰۳)
    جناب عبدالمنان عمر: (عربی)
    کہ’’مجھے خداتعالیٰ نے جو لفظ نبی، نام میرا نبی رکھا ہے، یہ مجازی نام ہے، مجازی لفظ ہے یہ۔‘‘
    1745جناب یحییٰ بختیار: یہ تاویل آپ کر رہے ہیں ناں جی، یہ تو تاویل کر رہے ہیں۔ یہاں یہ نہیں ہے۔
    جناب عبدالمنان عمر: نہیں جی، مرزا صاحب خود کہہ رہے ہیں۔ میں تو نہیں کہہ رہا۔
    جناب یحییٰ بختیار: یہاں تو نہیں کہہ رہے، کہیں۔ سوال یہ ہے۔
    جناب عبدالمنان عمر: آپ ہر چیز وہیں ڈھونڈیں گے یا اس شخص کی پوری کتاب کو دیکھیں گے؟
    جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں، بات یہ ہے ناں جی کہ ایک جگہ مرزا صاحب کہتے ہیں ’’جب میں قسم کھا کے بات کہتاہوں۔ اس میں پھر کوئی تاویل کی بات نہیں ہوتی۔‘‘
    جناب عبدالمنان عمر: تاویل ہے نہیں جی۔
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں تو آپ کہتے ہیں:’’تاویل کے لئے ہم جائیں گے کسی اور جگہ۔‘‘
    جناب عبدالمنان عمر: نہیں جی، کہیں نہیں جائیں گے۔ آپ فرماتے ہیں کہ جو مامور ہو…
    جناب یحییٰ بختیار: اچھا جی، آپ اس کو چھوڑ دیجئے۔ میں آپ کو کچھ اور حوالے دیتاہوں…
    جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔
    جناب یحییٰ بختیار: …آپ ان پر ذراغور کیجئے تاکہ شاید ہم کسی Clarification (وضاحت) پر پہنچ سکیں۔ مرزا صاحب نے فرمایا ہے ایک جگہ:
    ’’کیا تو نہیں جانتا کہ پروردگاررحیم اور صاحب فضل نے ہماری نبیﷺ کا بغیر کسی استثناء کے خاتم النّبیین نام رکھا اور ہمارے نبی نے اہل طلب کے لئے اس کی تفسیر 1746اپنے قول لا نبی بعدی میں واضح طورپر فرمائی ہے اور ہم اپنے نبی کے بعد کسی نبی کا ظہور جائز قرار دیں تو گویا ہم باب وحی بند ہو جانے کے بعد اس کاکھلنا جائز قرار دیںگے اور یہ صحیح نہیں ہے۔ جیسا کہ مسلمانوں پر ظاہر ہے اور ہمارے رسول کے مابعد نبی کیونکر آسکتا ہے۔ درآں حالانکہ آپ کی وفات کے بعد وحی منقطع ہوگئی اور اﷲ تعالیٰ نے ہم پر نبیوں کا خاتمہ فرمادیا۔‘‘ (حمامۃ البشریٰ ص۲۰، خزائن ج۷ص۲۰۰)
    جناب عبدالمنان عمر: بالکل ٹھیک ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: بالکل ٹھیک ہے۔ ابھی میں آپ کو پھر آگے پڑھ کے سناتا ہوں…
    جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔
    جناب یحییٰ بختیار: ’’آنحضرتﷺ نے بار بار فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اورحدیث لانبی بعدی ایسی مشہور تھی کہ کسی کو اس کی صحت پر کلام نہ تھا…‘‘
    جب میں نے کہا کہ Consensus (اجماع) مسلمانوں کا یہی تھا کہ اور کوئی نبی نہیں آسکتا: ’’کہ کسی کو اس کی صحت پر کلام نہ تھا اور قرآن شریف کا ہر لفظ قطعی ہے۔ اپنی آیت خاتم النّبیین سے اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ فی الحقیقت ہمارے نبیﷺ پر نبوت ختم ہو چکی ہے۔‘‘
    یہ بھی مرزا صاحب کا ہی قول ہے۔
    جناب عبدالمنان عمر: بالکل جی۔
    جناب یحییٰ بختیار: پھر وہ آگے فرماتے ہیں:
    ’’ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ صادق الوعد ہے اور جو آیت خاتم النّبیین پر وعدہ کیا گیا ہے اور جو حدیثوں میں بتصریح بیان کیاگیا ہے ۔ اب جبرائیل بعد وفات 1747رسول اﷲﷺ ہمیشہ کے لئے وحی نبوت لانے سے منع کیاگیا ہے۔ یہ تمام باتیں سچ اورصحیح ہیں۔ تو پھر کوئی شخص بحیثیت رسالت ہماری نبیﷺ کے بعد ہرگز نہیں آسکتا۔‘‘
    (مباحثہ راولپنڈی ص۱۷۰)
    جناب عبدالمنان عمر: جی۔
    جناب یحییٰ بختیار: آگے وہ فرماتے ہیں: ’’ہم بھی مدعی نبوت پر لعنت بھیجتے ہیں(مدعی نبوت پر) لاالہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ کے قائل ہیں اورآنحضرتa کی ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔‘‘
    (مجموعہ اشتہارات ج۲ص۲۹۷)
    یہ ہیں اس زمانہ کے ان کے قول، جب انہوں نے مہدی ومسیح کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔
    اب میں آتا ہوں، بعد میں فرماتے ہیں:
    ’’تم بغیر نبیوں اور رسولوں کے ذریعے وہ نعمتیں کیونکر پا سکتے ہو۔ لہٰذا یہ ضرور ہوا کہ تمہیں یقین اور محبت کے مرتبہ پر پہنچانے کے لئے خدا کے انبیاء وقتاً فوقتاً آتے رہیں اور جن سے تم نعمتیں پاؤ۔ اب کیا تم خدا تعالیٰ کا مقابلہ کروگے اوراس کے قدیم قانون کو توڑ دو گے۔‘‘
    (لیکچر سیالکوٹ ص۳۲، خزائن ج۲۰ص۲۲۶)
    جناب عبدالمنان عمر: انبیاء کی نعمتیں توملتی ہیں، وہ حدیث میں آتاہے…
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ کہہ رہا ہوں…
    جناب عبدالمنان عمر: آپ بالکل صحیح فرما رہے ہیں…
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں، دیکھیں، سب باتیں صحیح فرمارہے ہیں کہ کوئی نبی نہیں آئے گا کوئی، راستہ بند ہوگیا، کوئی وحی نہیں آئے گی۔
    جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، یہ نہیں کہا۔ ’’وحی رسالت‘‘ ہے، پھر لفظ دیکھ لیجئے۔
    جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔
    جناب عبدالمنان عمر: ’’کوئی وحی‘‘ نہیں کہا۔
    1748جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔ صاحب!میں مانتا ہوں۔ جی ہاں، پھر بیان فرماتے ہیں:
    ’’تم بغیر نبیوں اور رسولوں کے…‘‘ یہ تو انہوں نے کہہ دیا کہ نبی نہیں آئیں گے…
    جناب عبدالمنان عمر: ہاں جی۔
    جناب یحییٰ بختیار: …رسول نہیں آئیں گے۔
    جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔
    جناب یحییٰ بختیار: پھر فرماتے ہیں کہ:
    ’’تم بغیر نبیوں اوررسولوں کے ذریعہ، وہ نعمت کیونکر پا سکتے ہو…‘‘
    جناب عبدالمنان عمر: ہاں، نعمت پانا نبیوں کی، علماء کے متعلق آتا ہے:
    ’’ورثتہ الانبیائ‘‘کہ ان کی نعمتوں کے وارث وہ ہوتے ہیں…
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں آگے دیکھیں: ’’لہٰذا…‘‘
    جناب عبدالمنان عمر: …ان علوم کے وارث وہ ہوتے ہیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: ’’لہٰذا ضرور ہواکہ تمہیں یقین اورمحبت کے مرتبہ تک پہنچانے کے لئے خدا کے انبیاء وقتاً فوقتاً آتے رہیں۔‘‘
    جناب عبدالمنان عمر: ٹھیک ہے جی۔
    جناب یحییٰ بختیار: یعنی ختم نبوت کے بعد بھی انبیاء آتے رہیں گے؟
    جناب عبدالمنان عمر: بروزی رنگ میں، ظلی رنگ میں…
    جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے۔
    1749جناب عبدالمنان عمر: …غیر حقیقی رنگ میں، ورثتہ الانبیاء کے رنگ میں۔
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی:
    ’’جن سے تم نعمتیں پاؤ گے۔ اب تم خداتعالیٰ کا مقابلہ کروگے۔‘‘
    یعنی اس کے لئے تو کوئی مقابلے کی بات نہیں آئی۔ بروزی رنگ میں آتے رہے ہیں۔
    جناب عبدالمنان عمر: نہ جی، لوگ نہیں ناں مانتے بعضے، بعضے لوگ تو وحی…
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، لوگ…
    جناب عبدالمنان عمر: …اور الہام کے نزول کو نہیں مانتے۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، لوگ تو کہتے ہیں کہ جو ’’خاتم النّبیین‘‘ کی آیت ہے۔ اس کے بعد نبی نہیں آسکتے اور کوئی کہے کہ آتا ہے۔ توپھر کہتے ہیں’’تم اﷲ تعالیٰ کا مقابلہ کرتے ہو۔‘‘
    جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، یہ نہیں کہہ رہے ہیں۔ وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ انبیاء کی جو نعمتیں ہیں۔ ان کے وارث دنیا میں آتے رہیں گے۔ یہ نبی کریمﷺ کا خود ارشاد ہے، پیش فرما رہے ہیں۔ مگر یہ کہتے ہیں:’’دیکھو!اس سے غلطی نہ کھا لینا کہ تم یہ سمجھو کہ جس طرح پہلے انبیاء آیا کرتے تھے۔ وہی انبیاء کا سلسلہ پھر بھی جاری ہے۔ محمد رسولaﷺ کے بعد ختم نبوت۔‘‘
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، آگے فرماتے ہیں:
    ’’میرے نزدیک نبی اس کو کہتے ہیں، جس پر خدا کا کلام یقینی اور قطعی و بکثرت نازل ہو، جوغیب پر مشتمل ہو۔ اس لئے میرا نام نبی رکھا مگر بغیر شریعت کے۔‘‘
    (تجلیات الٰہیہ ص۲۶، خزائن ج۲۰ص۴۱۲)
    جناب عبدالمنان عمر: یہ اس کا مجازی استعمال ہے، یہ اس کا لغوی…
    جناب یحییٰ بختیار: ’’بغیر شریعت کے۔‘‘دیکھئے، صاحبزادہ صاحب!ہم نے پہلے کہا کہ نبی دو قسم کے ہو سکتے ہیں…شرعی اور غیر شرعی۔
    1750جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، میں نے نہیں یہ کہا، کبھی نہیں میں نے کہا۔ یہ آپ کے ذہن میں وہ دس دن کی بحث غالباً ہوگی۔
    جناب یحییٰ بختیار: میں نے، نہیں، میں نے ابھی آپ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں پوچھا کہ وہ شرعی اورغیر شرعی۔ آپ نے کہا…
    جناب عبدالمنان عمر: میں نے چار شرطیں بتائیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ابھی جو میں نے آپ سے پوچھا، کل کی بات آپ چھوڑ دیجئے۔ اس کو بیشک آپ Clarify (واضح) کر دیجئے۔ممکن ہے میں غلط سمجھا ہوں۔ یہ تو نہیں کہ ابھی یہاں ہم نے کوئی فیصلے کرنے ہیں۔ ممکن ہے میں غلط سمجھا ہوں۔ آپ کو میں سمجھا نہیں سکا۔ میں نے یہ عرض کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام شرعی نبی تھے یا غیر شرعی نبی تھے؟ آپ نے فرمایا کہ وہ غیر شرعی نبی تھے۔ مگر ان کو یہ اختیار تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شرع میں ترمیم کر سکیں۔ تو یہ میں نے پوچھا کہ یہاںجوآپ کہتے ہیں کہ ’’بغیر شریعت کے۔‘‘یہ کہتے ہیں’’میں اس قسم کا نبی ہوں۔‘‘
    جناب عبدالمنان عمر: یہ نہیں کہا۔
    جناب یحییٰ بختیار: باقی یہ انہوں نے نہیں کہا کہ ’’میں ترمیم کروںگا‘‘فی الحال مگر یہ انہوں نے کہا کہ ’’میں غیر شرعی نبی ہوں۔‘‘
    جناب عبدالمنان عمر: نہیں جی، یہ نہیں کہا’’میں غیر شرعی نبی ہوں‘‘ یہ نہیں، مرزا صاحب کے میں آپ کو الفاظ دکھادوں گا۔
    جناب یحییٰ بختیار: میں، پھر میں یہ پڑھ دوں: ’’میرے نزدیک نبی اس کو کہتے ہیں جس پر خدا کا کلام یقینی اور قطعی و بکثرت نازل ہوا ہو…‘‘
    1751جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، یہ ایک اس کے لغوی معنی کئے ہیں لفظ ’’نبی‘‘ کے۔
    جناب یحییٰ بختیار: اور پھر: ’’جو غائب پر مشتمل ہو۔‘‘
    جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، یہ وہی…
    جناب یحییٰ بختیار: ’’اس لئے میرا نام نبی رکھا۔‘‘
    جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، ان معنوں میں نبی رکھا ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: ’’اس لئے…‘‘
    جناب عبدالمنان عمر: ان معنوں میں ہیں، یہ خیال رکھیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: ان معنوں میں سہی۔
    جناب عبدالمنان عمر: ہاں جی۔
    جناب یحییٰ بختیار: ان معنوں میں یہ ہے ناں کہ:
    ’’نبی ان کو کہتے ہیںجس پر خدا کا کلام یقینی اور قطعی طور پر بکثرت نازل ہوا ہو…‘‘
    جناب عبدالمنان عمر: یہ شریعت نہیں ہے۔ یہ پہلی شریعت کی تنسیخ نہیں ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: ’’…جو علم غائب پر مشتمل ہو، مگر بغیر شریعت کے۔‘‘
    جناب عبدالمنان عمر: ہاں، یعنی کلام ہو، خدا کا ہو، بکثرت ہو اور شریعت نہ ہو۔ یہ شرطیں ہیںتین۔
    جناب یحییٰ بختیار: پھر آگے فرماتے ہیں…میں ذرا حوالے پورے کرلوں پھر آپ اس کے بعد…پھر فرماتے ہیں:
    ’’میں کوئی نیا نبی نہیں ہوں۔ مجھ سے پہلے سینکڑوں نبی آ چکے ہیں۔‘‘
    (ملفوظات احمدیہ ج۱۰ص۲۱۷، بحوالہ الحکم ج۱۲نمبر۲۶، مورخہ ۱۰؍اپریل ۱۹۰۸ئ)
    تو یہ مطلب یہ ہوا مجازی؟
    1752جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، جی ہاں۔ ہم تومانتے ہیں ناں کہ یہ امت میں مجددین، اولیا، یہ سب اس کیٹگری کے لوگ ہیں۔ یہ صحیح بات لکھی ہے…
    جناب یحییٰ بختیار: پھر آگے کہتے ہیں…
    جناب عبدالمنان عمر: …اور یہی ہمارا Stand (مؤقف) ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: پھر فرماتے ہیں:
    ’’خدا کی مہر نے یہ کام کیا کہ آنحضرتﷺ کی پیروی کرنے والا اس درجہ کو پہنچا کہ ایک پہلو سے وہ امتی ہے اور ایک پہلو سے نبی۔‘‘
    (حقیقت الوحی ص۹۷، خزائن ج۲۲ص۹۹ حاشیہ)
    یہ بھی اسی مطلب میں کہ…
    جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، وہی محدث۔
    جناب یحییٰ بختیار: پھر آگے فرماتے ہیں کہ:
    ’’جس قدرمجھ سے پہلے اولیاء ابدال اقطاب اس امت میں گزر چکے ہیں۔ ان کو حصہ کثیر اس نعمت کا نہیںدیاگیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا ہوں اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔‘‘
    (حقیقت الوحی ص۳۹۱، خزائن ج۲۲ص۴۰۶)
    جب مجازی ہو تو پھر تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ باقی مستحق نہ ہوں۔ یہ آپ Explain (واضح) کر دیں۔
    جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، میں عرض کرتاہوں، گزارش یہ ہے جی کہ مرزا صاحب اوپر بیان کر چکے ہیں کہ میرے نزدیک لفظ ’’نبی‘‘ جو میں یہاں استعمال کر رہا ہوں۔ یہ تین لفظ، تین مفہوم اس میں شامل ہیں۔ خدا تعالیٰ کی وحی اس پر نازل ہو۔ بکثرت نازل ہو، اور خدا اس کا نام نبی رکھے۔ یہ تین شرطیں انہوں نے فرمائی ہیں۔ یہ تینوں شرطیں غیر حقیقی نبی میں ہوتی ہیں۔ لغوی لفظ، لفظ کے لغوی استعمال کی رو سے ہوتی ہیں۔ اس کا 1753یہ Figurative (تمثیلی) استعمال ہوتا ہے، مجازی استعمال ہوتا ہے۔ اس کے بعد اب دیکھئے کہ علماء امت جو ہیں یا ربانی علماء ہیں یا مجددین ہیں، یامحدثین ہیں۔ نبی کریمﷺ نے ان کی پیش گوئی فرمائی ہے۔ نبی کریم فرماتے ہیں: (عربی)
    ’’خداتعالیٰ ہر صدی کے شروع میں ایک ایسے شخص کو مبعوث کرے گا۔ جو امت محمدیہ میں تجدید دین کا کام سرانجام دے گا۔ اب یہ نبی کریم…خدا کی طرف سے مامور ہے وہ شخص۔ لیکن ان باتوں کے باوجود کہ ہر صدی کے سر پر آنے والے کی آپﷺ نے پیش گوئی فرمائی ہے۔ لیکن تمام احادیث کا ذخیرہ آپ کھنگال ڈالئے۔ ہر قسم کی حدیثیں پڑھ ڈالئے۔ صرف اور صرف مسیح موعود کے لئے نبی کریمﷺ نے لفظ ’’نبی‘‘ استعمال کیا ہے۔ Figurative (تمثیلی) معنوں میں بیشک، مگر دوسروں کے لئے یہ لفظ تمثیلی معنوں میں بھی استعمال نہیں کیاگیا۔ یہ اس کے معنی ہیں کہ ’’نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیاگیاہوں۔‘‘ یہ ایک حدیث کا ترجمہ آپ نے کیاہے۔ اپنے پاس سے بات نہیں کہی ہے۔ یہ اس حوالے کا مطلب ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: اب وہ آگے فرماتے ہیں:
    ’’جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے…‘‘
    یہ’’ایک غلطی کا ازالہ‘‘اسے میں پھر پڑھ رہا ہوں:
    ’’جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکا ر کیا ہے۔ صرف ان معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر شریعت لانے والا نہیں ہوں۔‘‘
    (ایک غلطی کا ازالہ ص۴، خزائن ج۱۸ص۲۱۰)
    جناب عبدالمنان عمر: ’’مستقل طورپر شریعت…‘‘
    جناب یحییٰ بختیار: ’’…لانے والا نہیں ہوں۔‘‘ 1754یعنی ہم تو پہلے کہہ چکے ہیں کہ نبی بغیر شریعت کے بھی ہو سکتا ہے۔ بغیر شریعت کے بھی نبی ہو سکتا۔ یہ بات تو آپ…
    جناب عبدالمنان عمر: مگر مستقل، وہ شرطیں…
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، عیسیٰ علیہ السلام، مستقل نبیوں میں نہیں شمار ہوتے؟
    جناب عبدالمنان عمر: مستقل میں ہوتے ہیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔
    جناب عبدالمنان عمر: ہاں جی۔
    جناب یحییٰ بختیار: یہ دیکھئے ناں، میں کہتاہوں کہ بغیر شریعت اور مستقل۔
    جناب عبدالمنان عمر: مستقل، مرزا صاحب نے مستقل ہونے کا نہیں دعویٰ کیا۔
    جناب یحییٰ بختیار: وہ کہتے ہیں کہ:
    ’’…جس جس جگہ میں نے نبوت سے انکار کیا ہے۔ ان معنوں میں کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں۔ مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتداء سے باطنی فیوض حاصل کر کے اپنے لئے اسی کا نام پاکر اس کے واسطے سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے۔ رسول اورنبی ہوں…‘‘
    (ایک غلطی کا ازالہ ص۴، خزائن ج۱۸ص۲۱۰)
    جناب عبدالمنان عمر: یہ جناب!وہی حوالہ ہے…
    جناب یحییٰ بختیار: میں ذرا، ذرا اپنی طرف سے آپ کو پورا کردوں حوالہ، پھر میں کچھ آپ سے سوال پوچھوں گا:
    ’’…نبی ہوں مگر بغیر کسی جدید شریعت کے…اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا۔ بلکہ انہی معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کر کے پکارا ہے۔ سو اب بھی میں ان معنوں میں نبی اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا۔‘‘
    (ایک غلطی کا زالہ ص۴، خزائن ج۱۸ص۲۱۱)
    1755کہ ’’بغیر شریعت کے نبی ہونے سے انکار نہیں کرتا۔‘‘ باقی وہ کہتے ہیں کہ :
    ’’میں Officiating (قائم مقام)ہوں یا Temporary (عارضی) ہوں۔‘‘ اس کا سوال نہیں۔ اگر آپ یہ کہہ دیں جی کہ یہ Permanent Government Servant (مستقل سرکاری ملازم) نہیں ہے۔ یہ Officiating (قائم مقام) ہے۔ اگر ’’مستقل‘‘ سے یہ مراد لیتے ہیں آپ…
    جناب عبدالمنان عمر: نہیں جی…
    جناب یحییٰ بختیار: …مستقل تو کوئی نہیں ہوتا، ہر انسان کی وفات ہوتی ہے۔
    جناب عبدالمنان عمر: نہیں جی’’مستقل‘‘ کے یہ معنی نہیں ہیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: ’’مستقل‘‘ کے کیامعنی ہیں؟
    جناب عبدالمنان عمر: ’’مستقل‘‘ کے معنی یہ ہیں کہ اس کو یہ جو عہدہ یا جو مقام حاصل ہوا ہے۔ وہ محمدرسول اﷲa کی پیروی کے بغیر حاصل ہوا ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: وہ تو (ڈائریکٹ) ہو گیا ناں جی۔
    جناب عبدالمنان عمر: اسی کو کہتے ہیں’’مستقل۔‘‘
    جناب یحییٰ بختیار: اس کو؟
    جناب عبدالمنان عمر: اسی کو۔
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں، تو یہ ان کامطلب ہے کہ آنحضرتa کے ذریعے ان کو ملی ہے یہ نبوت؟
    جناب عبدالمنان عمر: جو کچھ ملا ہے، جی ہاں۔
    جناب یحییٰ بختیار: اور یہ دوسری بات وہ یہ فرماتے ہیں کہ:
    ’’میں بغیر شریعت کے نبی ہوں۔ اس معنی میں بات کرتا ہوں۔ اس کے علاوہ میں نے جو انکار کیا ہے۔ وہ اس Sense (معنی) میں انکار کیا ہے کہ میں شرع لانے والا ڈائریکٹ نبی نہیں ہوں۔‘‘ اس سے یہ 1756مطلب نکلتا ہے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ کچھ اورمطلب اس کانکلتا ہے؟ تو وہ آپ مختصراً بتادیں۔
    جناب عبدالمنان عمر: عرض کروں؟
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔
    جناب عبدالمنان عمر: یہی وہ حوالہ ہے جس کی طرف میں نے کئی دفعہ کوشش کی کہ آپ کو متوجہ کروں کہ یہ Key point (مرکزی نقطہ) ہے۔ اس سے آپ مرزا صاحب کی تمام تحریرات نبوت کے بارے میں ایک فیصلہ کن نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں۔ وہ کیا ہے؟ کہ ’’نبی‘‘ کے دو معنی ہیں۔ ’’نبی‘‘ کا استعمال دو طرح ہوتا ہے۔ ایک اس طرح ہوتا ہے جو میں نے پہلے عرض کیا ہے۔ دوسرا اس طرح ہوتا ہے جو میں نے بتایا ہے کہ لغوی ہیں اور یہ اب مرزا صاحب فرماتے ہیں:
    ’’جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے۔ وہ پہلے معنوں کی رو سے ہے، حقیقی معنوں کی رو سے ہے اور جہاں میں اقرار کرتاہوں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ محمدﷺ کی پیروی کے نتیجے میں خدا مجھ سے ہم کلام ہوتاہے۔‘‘ بس اس سے زیادہ کوئی معنی نہیں ہیں۔ تو اب کوئی اختلاف نہیں رہا مرزا صاحب کی تحریر میں۔
    جناب یحییٰ بختیار: اچھا، اب انہوں نے ’’بغیر شریعت کے‘‘ بات تو کہہ دی کہ ’’بغیر شریعت کے، اور ان کے تابع ہیں نبیﷺ کے۔‘‘
    جناب عبدالمنان عمر: اسی کو محدث کہتے ہیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ’’محدث‘‘ آپ کہہ دیجئے۔ وہ توکہتے ہیں ’’میں نبی ہوں‘‘ آپ Insist (اصرار) کرتے ہیں کہ محدث ہیں۔
    جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، نہیں، جناب! مرزا صاحب کہتے ہیں۔میں تو مرزا صاحب کا حوالہ دیتاہوں۔

  7. ‏ فروری 8, 2015 #7
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    بقیہ (آپ کا لیکچر؟)

    1757جناب یحییٰ بختیار: دیکھئے جی، میں نے آپ سے عرض کیا کہ مرزا صاحب کی توجہ دلائی گئی اس بات کی طرف۔ انہوں نے کہا’’ہاں، غلطی فہمی پیدا ہورہی ہے، آئندہ لفظ ’’محدث‘‘ سمجھاجائے۔‘‘ مگر…
    جناب عبدالمنان عمر: اور آخر میں بھی یہ کہا…
    جناب یحییٰ بختیار: …اور اس کے باوجود انہوں نے خود پھر’’نبی‘ ‘ کا لفظ استعمال کیا۔
    جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، وہ دوسرے معنوں میں۔
    جناب یحییٰ بختیار: دوسرے کیوں؟ سوال ہی زیادہ یہاں معنی کا تھا۔ پہلے بھی تو کسی اور معنی میں انہوں نے لفظ ’’نبی‘‘ کا استعمال نہیں تھا کیا…
    جناب عبدالمنان عمر: انہوں نے نہیں کیا۔
    جناب یحییٰ بختیار: …انہوں نے تو ہمیشہ ’’یہ مجازی تھا، لوگوں کو غلط فہمی ہوئی کہ صاحب آپ چونکہ مجازی…‘‘
    جناب عبدالمنان عمر: آپ لوگوں کو ہوئی۔
    جناب یحییٰ بختیار: ’’آپ جب مجازی طور پر بھی استعمال…‘‘
    جناب عبدالمنان عمر: آپ لوگوں کو ہوئی ہے جی۔
    جناب یحییٰ بختیار: میں بعض لوگوں کا کہہ رہا ہوں جی۔ مجھے ہو گئی ہے۔ آپ کو کب میں کہہ رہا ہوں؟ آپ تو سمجھتے ہیں کہ شرعی تھے وہ۔ نہیں، میں یہ نہیں کہہ رہا…
    جناب عبدالمنان عمر: نہیں، شرعی…
    جناب یحییٰ بختیار: تو پھر غلط فہمی کس بات کی؟ آپ کو بھی ہوئی، مجھے بھی ہوئی۔
    جناب عبدالمنان عمر: نہیں جی، سب کو نہیں ہوئی ہے۔
    1758جناب یحییٰ بختیار: سب کو نہیں جی، جس کو بھی ہوئی…
    جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔
    جناب یحییٰ بختیار: …میں ان کا ذکر کر رہاہوں۔
    جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔
    جناب یحییٰ بختیار: انہوں نے ان سے عرض کیا کہ ’’مرزاصاحب! یہ آپ لفظ لغوی معنوں میں استعمال کر رہے ہیں۔ مجازی معنوں میں استعمال کر رہے ہیں۔ مگر لوگوں میں غلط فہمی ہوگئی ہے۔ بعض لوگوں میں غلط فہمی ہو گئی ہے۔ اس کو آپ دور کیجئے۔ تو انہوں نے کہا کہ ’’ہاں، یہ ٹھیک ہے۔ میری سادگی سے ہوئی ہے۔ میرا مطلب یہ نہیں تھا کہ میں اصلی معنوں میں نبی ہوں۔ اس لئے آئندہ جہاں بھی لفظ ’’نبی‘‘ ہو۔ اس کی جگہ آپ ’’محدث‘‘ کا لفظ استعمال کریں اور میری کتابوں میںلفظ ’’نبی‘‘ کو منسوخ سمجھیں اور اس کی جگہ پر ’’محدث‘‘ کا لفظ پڑھا جائے۔‘‘
    بالکل ٹھیک بات تھی۔ واضح ہوگئی بات۔ مگر اس کے بعد مرز اصاحب نے پھر’’نبی‘‘ کا لفظ استعمال کرنا شروع کیا۔ لکھنا شروع کیا اور کہتے رہے۔ تو جب لفظی جھگڑا تھا اور لوگوں کو غلط فہمی تھی۔ اس کے باوجود انہوں نے پھر اس کو کہا کہ ’’میں یہ لفظ پھر بھی استعمال کروں گا۔‘‘ تو آپ نے کل یہ فرمایا کہ ’’ان کے لئے کوئی، کوئی چارہ نہ تھا، اﷲ کی طرف سے حکم تھا۔‘‘
    جناب عبدالمنان عمر: میں گزارش یہ کرتاہوں جی، کہ اس حوالے نے مرزا صاحب کی پوزیشن کو بالکل واضح کر دیا ہے۔ مرزاصاحب فرماتے ہیں کہ ان کا اعتراض جو میں سمجھا ہوں، وہ یہ ہے کہ جب لفظ نبی سے بعض لوگوں کو غلط فہمی ہوتی تھی تو ان کی غلط فہمی کا دور کرنا ضروری تھا۔ چنانچہ مرزاصاحب نے ان کی غلط فہمی دورکردی۔ اب ایک اور طبقہ مرزا صاحب کا مخاطب ہے۔ اب ایک اور حلقہ ہے جو مرزاصاحب کا مخاطب ہے۔ 1759وہ طبقہ وہ ہے جو محض وحی اور محض مکالمہ مخاطبہ الٰہیہ کو بھی ناجائز سمجھتاہے۔ وہ کہتا ہے کہ وحی نازل ہی نہیں ہو سکتی اور اس قسم کی نبوت کبھی دنیا میں جاری نہیں ہے۔ ان کو مرزاصاحب نے بتایا کہ ’’دیکھو!نبوت بیشک بند ہے، ہر قسم کی نبوت بند ہے۔ لیکن مکالمہ ، مخاطبہ الٰہیہ جو ہے، وہ بند نہیں ہوا، وہ جاری ہے اور اس قسم کے الفاظ میرے استعمال کرنے جو ہیں، وہ صرف یہ مضمون بتانے کے لئے ہیں کہ خدا مجھ سے ہم کلام ہوتا ہے۔‘‘
    میں ان کی بالکل آخری زمانے کی تحریر، جس کے دو دن کے بعد آپ کی وفات ہوئی ہے، وہ پیش کرتا ہوں تاکہ یہ غلط فہمی دور ہو جائے کہ کسی زمانے میں تو مرزا صاحب یہ باتیں کہتے تھے۔ لیکن بعد میں انہوں نے چھوڑ دیا اس کو۔ یہ پوزیشن نہیں ہے۔ ان کی وفات سے دو دن پہلے کی تحریر ہے، جو شائع ہوئی تھی ان کی وفات والے دن، ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو اخبار عام میں، اس میں مرزا صاحب فرماتے ہیں:’’میں ہمیشہ اپنی تالیفات کے ذریعے سے لوگوں کو اطلاع دیتا رہا ہوں اور اب بھی ظاہر کرتاہوں…‘‘ کوئی ترمیم نہیں ہے۔ ’’جو شروع سے کہا وہ اب بھی ظاہر کرتاہوں۔‘‘
    ’’کہ یہ الزام جو میرے ذمے لگایاجاتا ہے کہ گویا میں ایسی نبوت کا دعویٰ کرتا ہوں جس سے مجھے اسلام سے کچھ تعلق باقی نہیں رہتا اور جس کے یہ معنی ہیں کہ میں مستقل طور پر اپنے تئیں ایسا نبی سمجھتا ہوں جو قرآن شریف کی پیروی کی کچھ حاجت نہیں رکھتا اور اپنا علیحدہ کلمہ اور علیحدہ قبلہ بناتا ہوں اور شریعت اسلام کو منسوخ کی طرح قرار دیتاہوں اور آنحضرتﷺ کی اتباع اور متابعت سے باہر جاتاہوں۔ یہ الزام صحیح نہیں ہے۔‘‘

    (مجموعہ اشتہارات ج۳ص۵۹۷)
    یہ وفات والے دن شائع ہوئی…
    1760جناب یحییٰ بختیار: یہ کتنی صاف بات انہوں نے کہہ دی ہے…
    جناب عبدالمنان عمر: …بلکہ…
    جناب یحییٰ بختیار: …کہ’’میں نبی ہوں،مگر اس قسم کا نبی نہیں، کسی اورقسم کا نبی ہوں۔‘‘
    جناب عبدالمنان عمر: نہیں جی، ’’قسم‘‘ تو کہیں نہیں فرمایا جی، ’’قسم‘‘ کا لفظ ہی نہیں ہے یہاں۔
    جناب یحییٰ بختیار: یہ کیا ہے پھر ؟ کیا کہہ رہے ہیں وہ؟
    جناب عبدالمنان عمر: میں نے بتایا دو استعمال ہیں اس کے، اس لفظ کو دو معنوں میں استعمال کیا ہے۔ آگے سنئے خود واضح کیاہے…
    جناب یحییٰ بختیار: یعنی میں یہی تو آپ سے عرض کررہا ہوں کہ لوگوں نے کہا کہ غلط فہمی نہ پیدا کیجئے۔ خدارا آپ اس کو ختم کر دیجئے…
    جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، اس طبقے کی غلط فہمی دور کر دی۔ مگر ایک اور طبقہ ہے اس کو یہ غلط فہمی نہیں ہے۔ جب دونوں استعمال دنیا میں رائج ہیں۔ ایک طبقے میں وہ چیز تھی۔ اس کو کہا ’’بھئی!یہ معنی مت سمجھنا میرے قول کے۔‘‘ دوسرے طبقے کو وہ غلط فہمی نہیں ہے۔ اس میں وہ ’’نبوت‘‘ کے لفظی معنی…
    Mr. Chairman: That's all. Next question. Next question. That's all. (جناب چیئرمین: یہ کافی ہے، اگلا سوال کریں)
    جناب یحییٰ بختیار: پھر یہ بات تو ظاہر ہوتی ہے کہ جن کوغلط فہمی تھی۔ ان کو یہ انہوں نے کہہ دیا کہ ’’آپ میرے آئندہ کے بیانات نہ پڑھیں، میری تحریریں نہ پڑھیں، میں پھر نبی کا لفظ استعمال کروںگا؟‘‘
    1761جناب عبدالمنان عمر: انہوں نے تو کہا کہ ’’میں اس کو مخفی نہیں رکھ سکتا۔‘‘ وہی کہا، وہیں کہا۔
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں، یہ میں، یعنی ’’اﷲ نے مجھے حکم دیاہے۔‘‘
    جناب عبدالمنان عمر: ہاں، بالکل کہا کہ ’’مخفی نہیں رکھوںگا۔ میں تو استعمال کروں گا…‘‘
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔
    جناب عبدالمنان عمر: ’’…تم اس کے وہ معنی نہ سمجھ لینا…‘‘
    جناب یحییٰ بختیار: ’’تم اس کو ترمیم کرتے رہو۔ تم اس کو…‘‘
    جناب عبدالمنان عمر: ’’…تم اس کو‘‘
  8. ‏ فروری 8, 2015 #8
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (میں نبی کہوں گا، تم محدث سمجھو)
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، ’’تم اس کو کتاب سے کاٹ کے محدث لکھتے رہو میں نبی لکھتارہوں گا۔‘‘ یہ کہا انہوں نے کہ ’’جہاں جہاں میری کتابوں میں ہے یہ لفظ، اس کوکاٹ کر، منسوخ کرکے ادھر ’’محدث‘‘ لکھیں اور اس کے بعد میں پھر جو ہے نبی لکھتا رہوں گاآپ منسوخ کرتے جائیے۔‘‘
    جناب عبدالمنان عمر: میں عرض کروں…
    جناب یحییٰ بختیار: …مطلب ایسا نکلتا ہے اس سے۔
    جناب عبدالمنان عمر: میں نے عرض کیا یہ کہ ایک یہ حوالہ میرا سن لیجئے۔ مجھے یہی دقت محسوس ہوتی ہے اپنے بیان میں کہ بات میری بیچ میں ہوتی ہے تو ایک اور Question (سوال) آ جاتاہے۔ اگر بالترتیب ہو تو کوئی شاید مشکل حل ہو جائے گی ہماری۔ تو میں یہ بتا رہاتھا کہ مرزا صاحب فرماتے ہیں:
    ’’…یہ الزام صحیح نہیں ہے۔ بلکہ ایسا دعویٰ نبوت کا میرے نزدیک کفر ہے۔ نہ آج سے بلکہ اپنی ہر ایک کتاب میں…‘‘
    1762Mr. Abdul Aziz Bhatti: point of order Sir. It's just waste of time. It's exremly irrelevant, Sir.
    (جناب عبدالعزیز بھٹی: یہ محض تضیع اوقات ہے اور وہ (گواہ) بالکل غیر متعلقہ باتیں کر رہا ہے)
    جناب چیئرمین: ہاں، ان…
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، انہوں نے کہہ دیا کہ کسی اورطبقے سے وہ کہہ رہے تھے۔ جو پہلا طبقہ تھا۔ ان کو ویسا ہی Confused (غلط ملط) چھوڑ دیا۔
    جناب عبدالمنان عمر: ’’…بلکہ ایسا دعویٰ نبوت کا میرے نزدیک کفر ہے۔ نہ آج سے بلکہ اپنی ہر ایک کتاب میں میں ہمیشہ یہی لکھتا آیا ہوں کہ اس طرح کی نبوت کا مجھے کوئی دعویٰ نہیں اور یہ سراسر میرے پر…‘‘
    جناب یحییٰ بختیار: کس قسم کی نبوت؟ یہی صاحب زادہ صاحب!میں کہہ رہاں ہوں کہ کس قسم کی نبوت کا دعویٰ تھا؟
    جناب عبدالمنان عمر: مکالمہ، مخاطبہ۔
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی؟
    جناب عبدالمنان عمر: مکالمہ، مخاطبہ۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ’’نبوت‘‘ کا لفظ استعمال کر رہے ہیں۔
    جناب عبدالمنان عمر: لغوی معنوں میں۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، لغوی معنوں میں آپ کو کیا اعتراض ہے جو ان کو نبی کہیں؟ میں یہ پوچھتاہوں لاہوری پارٹی کو۔
    جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، مجھے ختم کرلینے دیجئے بات تو…
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں نے ایک سوال پوچھا تھا کہ…
    1763جناب عبدالمنان عمر: میری بات ختم ہوجائے تو میں عرض کروں۔
    جناب یحییٰ بختیار: اچھا جی۔
    جناب عبدالمنان عمر: ’’جس بناء پر میں اپنے تئیں نبی کہلاتا ہوں، وہ صرف اس قدر ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی ہم کلامی سے مشرف ہوں اور میرے ساتھ وہ بکثرت بولتا اور کلام کرتا ہے اورمیری باتوں کا جواب دیتا ہے اوربہت سی غائب کی باتیں میرے پر ظاہر کرتا ہے اورآئندہ زمانوں کے وہ راز میرے پرکھولتاہے کہ جب تک انسان کا اس کے ساتھ خصوصیت کا قرب نہ ہو، دوسرے پر وہ اسرار نہیں کھولتا۔‘‘
    (مجموعہ اشتہارات ج۳ص۵۹۷)
    یہ ہے جناب!میری گزارش…
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں،میں نے یہ عرض…
    جناب عبدالمنان عمر: …کہ آپ کا اعتراض یہ تھا…
    Mr. Chairman: That,that's all. That's All.Next question. (جناب چیئرمین: یہ کافی ہے۔ کوئی اورسوال کریں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, I have got to ask him one more Hawalah(حوالہ). But before that, I want this position to be clarified.
    (جناب یحییٰ بختیار: جناب والا! مجھے اس سے ایک اور حوالہ پوچھنا ہے۔ لیکنمیں اس پوزیشن کی وضاحت کرانا چاہتاہوں)
    میں نے صاحبزادہ صاحب! یہ عرض کی کہ مرزاصاحب نے بار با رکہاکہ ’’میں نبی ہوں۔‘‘آپ کہتے ہیں کہ ہر حالت میں ان کا مطلب تھا مجازی، لغوی معنی میں، حقیقی معنوں میں نہیں تھا۔ مگر وہ پھر بھی یہ کہتے ہیں کہ ’’میں نبی ہوں،میں رسول ہوں۔‘‘آپ کہتے ہیں کہ ہردفعہ وہ یہی کہتے ہیں کہ ’’میںلغوی معنوں میں نبی اوررسول ہوں۔‘‘آپ ،لاہوری پارٹی کو کیا اعتراض ہے کہ ان کا یہ لفظ ’’نبی‘‘ استعمال نہیں کرتے، جب وہ استعمال اپنے لئے کرتے ہیں؟
    جناب عبدالمنان عمر: میں عرض کر وں جی؟
    1764جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔
    جناب عبدالمنان عمر: اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت جو ہمارے سامنے طبقہ ہے، ان کے ہاں لفظ ’’نبی‘‘ کے یہی معنی سمجھے جاتے ہیں کہ وہ صاحب شریعت ہوتا ہے۔ وہ براہ راست ہوتا ہے۔ وہ کسی حصے کو منسوخ کرتا ہے، وغیرہ۔ اس وجہ سے اور یہ چیز ہم خود نہیں کرتے ہیں، یہ ہماری تشریح نہیں ہے۔ یہ ہمارا اپنا خیال نہیں ہے کہ ہم نے سوچا کہ ہم یہ چھوڑ دیں۔ مرزا صاحب نے خود فرمایا کہ ’’میں پسند نہیںکرتا کہ میری جماعت کی عام بول چال میں میرے لئے ’’نبی‘‘ کا لفظ استعمال کیا جائے۔ کیونکہ اس کے بعض لوگوں کو دھوکہ لگنے کا اندیشہ ہے اور اس کے بدنتائج نکلتے ہیں…‘‘
    جناب یحییٰ بختیار: اورپھر اس کے بعد…
    جناب عبدالمنان عمر: …تو یہ مرزا صاحب…
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہی عرض کرتا ہوں۔ پھر خود استعمال کرنا شروع کر دیا۔
    جناب عبدالمنان عمر: میں نے بتایا ناں جی! کہ عام استعمال مت کرو۔ مگر چونکہ لغت میں اور اس امت کی اصطلاحات میں، اس کے لٹریچر میں اس قسم کے الفاظ پائے جاتے ہیں اور مکالمہ مخاطبہ الٰہیہ،جس پر ان کا سب سے بڑازورتھا…
    جناب یحییٰ بختیار: دیکھئے، دیکھئے۔ صاحبزادہ صاحب آپ درست فرمارہے ہیں۔ ان کا آخری خط جو ہے۔ جو آپ نے پڑھ کے سنایا۔ جو ان کی وفات کے دن شائع ہوا تھا۔ اس میں بھی وہ نبوت کا ذکر کرتے ہیں۔ اپنے نبی ہونے کا اور کس قسم کے نبی ہونے کا۔ تو اس کے باوجود …اس کے بعد تو ان لوگوں کا کوئی اور Statement (بیان) آیا نہیں ریکارڈ پر۔ گویا تحریر آئی نہیں ہے۔ اس میں وہ جب کہتے ہیں کہ ’’میں نبی ہوں مگر غیر شرعی۔ وہ 1765میں نے دعویٰ نہیں کیا کہ میرا اپنا علیحدہ کلمہ ہے، میرا علیحدہ کعبہ ہے، میرا علیحدہ مذہب ہے۔‘‘ اس لغوی معنی میں جب وہ کہتے ہیں کہ ’’مجھے نبی کہو‘‘توپھر کیوں نہیں کہتے آپ؟
    جناب عبدالمنان عمر: ان لغوی معنوں میں ہم نے عرض کیا ہے۔ انہوں نے خود کہا ہے کہ…
    جناب یحییٰ بختیار: اس کے بعد نہیں کہا۔ یہ آخری بات ہے اس کی۔
    جناب عبدالمنان عمر: ہاں جی، اسی میں کہاہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: اس میں یہی کہاہے کہ ’’میں نبی ہوں، اس قسم کا نبی ہوں۔‘‘
    جناب عبدالمنان عمر: ان معنوں میں۔
    جناب یحییٰ بختیار: کوئی حدیث…محدث کا کوئی ذکر نہیں کیا اس میں۔
    جناب عبدالمنان عمر: نہ جی، ہے: ’’اور یہ مجھے ایک عزت کا خطاب دیا گیاہے…‘‘
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں، تو آپ عزت…
    جناب عبدالمنان عمر: ’’…تاکہ ان میں اور مجھ میںفرق ظاہر ہوجائے۔‘‘
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں، تو یہ عزت کیوں نہیں دیتے آپ ان کو؟
    جناب عبدالمنان عمر: عزت دیتے ہیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: آپ نبی نہیں کہتے۔
    جناب عبدالمنان عمر: ہم یہ کہتے ہیں کہ مکالمہ، مخاطبہ الٰہیہ ان کو حاصل تھا…
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔
    جناب عبدالمنان عمر: …مگر کیونکہ بعض اس لفظ سے چڑتے ہیں، گھبراتے ہیں۔ اس کے لغوی استعمال کا ان کو علم نہیں ہے، ان لوگوں…
    1766جناب یحییٰ بختیار: اچھا!یہ…
    جناب عبدالمنان عمر: …کی غلط فہمی کو دور کرنے کے لئے اس کو استعمال کرتے ہیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: …یہ Expediency ہے! (یہ مبنی برمصلحت ہے)
    جناب عبدالمنان عمر: یہ حقیقتیں دونوں اپنی جگہ قائم ہیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔
    جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، دونوں حقیقتیں ہیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔
    جناب عبدالمنان عمر: …کہ وہ غیر نبی کے معنوں میں لفظ ’’نبی‘‘ محدث کے معنوں میں، لفظ ’’نبی‘‘ مکالمہ مخاطبہ الٰہیہ کے معنوں میں، لفظ ’’نبی‘‘ استعمال ہوجاتاہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: ظلی، بروزی تو ہیں وہ؟
    جناب عبدالمنان عمر: ظلی، بروزی ’’نبی‘‘ کی قسم نہیں ہیں، جناب!
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں؟
    جناب عبدالمنان عمر: بار بار یہ عرض کرتا ہوں کہ ظلی اوربروزی کے معنی یہ ہیں کہ غیر نبی۔
    جناب یحییٰ بختیار: اچھا، اچھا، یہ آپ، مطلب یہ کہ…
    جناب عبدالمنان عمر: ’’ظل‘‘ کے معنی ہوتے ہیں جناب!سادہ سا لفظ ہے ’’ظل‘‘ کے معنی ہوتے ہیں سایہ۔ ایک اصل چیز ہے، ایک اس کا سایہ ہے۔ اس کو ’’ظل‘‘ عربی میں کہتے ہیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ Clear (واضح) ہوگئی۔
    1767جناب عبدالمنان عمر: ایک نبوت ہے، ایک اس نبوت کاسایہ ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: یہ صاحبزادہ صاحب! Clear (واضح) ہوگئی پوزیشن۔
    جناب عبدالمنان عمر: اچھا جی۔
    جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ یہ انہوں نے صاف کہا کہ ’’میں شرعی نبی نہیں ہوں۔‘‘
    جناب عبدالمنان عمر: نہیں جی، ’’مستقل‘‘ بھی کہا ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: ’’مستقل بھی نہیں ہوں۔‘‘
    جناب عبدالمنان عمر: اور صرف یہ ہے کہ ’’میں مکالمہ، مخاطبہ الٰہیہ کے معنوں میں…‘‘
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں، بس یہ۔ ابھی آپ یہ فرمائیے، جب یہ کہتے ہیں وہ:
    ’’ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعے چند امرونہی بیان کئے اوراپنی امت کے لئے قانون مرتب کیا۔ وہی صاحب شریعت ہوگیا۔ پس اس تعریف کی رو سے ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔‘‘
    (اربعین نمبر ۴ص۶، خزائن ج۱۷ص۴۳۵)
    ابھی تو صاحب شریعت بھی ہوگئے۔
    جناب عبدالمنان عمر: شاید ایک لفظ کی طرف توجہ نہیں رہی جناب کی: ’’صاحب شریعت جدیدہ۔‘‘ جدید شریعت یہ قرآن مجید کی شریعت ہے۔ قرآن مجید ہی کی…!
    جناب یحییٰ بختیار: پہلے تو یہ ہم…
    جناب عبدالمنان عمر: …قرآن مجید کے الفاظ ہیں، قرآن مجید کی آیتیں ہیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، پہلے تو یہ ہم اس نتیجے پر پہلے پہنچ جائیں کہ وہ قدیم شریعت والے تھے۔ تب تو اس کے بعد جدید کا سوال آئے گا۔
    1768جناب عبدالمنان عمر: نہ جی نہ،وہ کہتے ہیں کہ نبی کون ہوتا ہے؟ جو ایک جدید شریعت لائے۔ یہ ’’نبی‘‘ کی تعریف ہم پہلے کرچکے ہیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: یہاں یہ…
    جناب عبدالمنان عمر: …یہ جدید شریعت نہیں ہے، بلکہ…
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، دیکھئے ناں…
    جناب عبدالمنان عمر: یہ کیا ہے؟ یہ میں آپ کو عرض کرتاہوں…
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں،میں یہ پھر آپ کو پڑھ کے سنا دیتاہوں، شایدمیں نہیں سمجھا:’’ماسوائے اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعے چند امرونہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے قانون مقرر کیا…‘‘ امت تو بناچکے تھے۔ بیعت لینا شروع کردیا۔ Directions (احکامات) ہو چکی تھیں۔ آپ کی علیحدہ پارٹی ہے:
    ’’…وہی صاحب شریعت ہوگیا۔ پس اس تعریف کی رو سے ہمارے مخالف ملزم ہیں کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اورنہی بھی۔‘‘
    جناب عبدالمنان عمر: میں اگر اپنی طرف سے اس کا کچھ جواب دوں توشاید سمجھنے میں دقت ہو…
    جناب یحییٰ بختیار: مولانا رومؒ کی طرف سے دے دیجئے آپ!
    جناب عبدالمنان عمر: جناب! میں مولانا محمدحسین صاحب بٹالوی کی طرف سے دیتا ہوں جو کہ مرزا صاحب کے شدید ترین مخالف تھے۔ یہ چیز ہے جس کو کہتے ہیں’’جادو وہ جو سر چڑھ کے بولتا ہے۔‘‘ مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب یہی بات، یہی اعتراض پیش کرکے فرماتے ہیں:
    1769’’مؤلف، ’’براہین احمدیہ‘‘ نے ہرگز یہ دعویٰ نہیں کیا کہ قرآن میں ان آیات کامورد نزول و مخاطب میں ہوں۔ اپنے اوپر ان آیات کے الہام یا دعویٰ سے ان کی مراد، جس کو صریح الفاظ میں وہ خود ظاہر کر چکے ہیں۔ ہم اپنی طرف سے اختراع نہیں کرتے۔ یہ ہے کہ جن الفاظ یا آیات سے خداتعالیٰ نے قرآن مجید یا پہلی کتابوں میں انبیاء کو مخاطب فرمایا ہے۔ انہی الفاظ یا آیات سے دوبارہ مجھے شرف خطاب بخشا ہے۔ پر میرے خطاب میں ان الفاظ سے اورمعانی مراد رکھے ہیں اور وہ معنی قرآن کے معنی کے اسرار اورآثار ہیں۔‘‘
    پھر عرض کرتا ہوں…
    Mr. Chairman: Nest question.
    (جناب چیئرمین: اگلا سوال کریں)
    جناب عبدالمنان عمر: حضرت امام جعفر صادق کے متعلق میں…
    جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں، بہت ٹائم کم ہے۔ آپ نے تفسیر کر دی۔
    Mr. Chairman: That's all. Only the views of the witness and his Jamaat are needed, not what the others have said. The reply should be confined to the views of the Jamaat.
    (جناب چیئرمین: یہ کافی ہے۔ صرف گواہ اور اس کی جماعت کے نظریات آنے چاہئیں نہ کہ دوسرے لوگوں نے کیا کہا۔ جواب کو صرف جماعت کے نظریات تک محدود رکھا جائے)
    Mr.Yahya Bakhtiar: Sir, I will draw attention of...
    (جناب یحییٰ بختیار: جناب والا میں آپ کی توجہ اس طرف دلاتاہوں…)
    Mr. Chairman: Yes, Only to Jammat, no other references…
    (جناب چیئرمین: صرف جماعت اور کوئی دوسرے حوالہ جات نہ دیئے جائیں)
    Mr.Yahya Bakhtiar: I will draw the attention of the witness…
    (جناب یحییٰ بختیار: میں گواہ کی توجہ اس طرف دلاتاہوں…)
    Mr. Chairman: …not what one honourable member has said and what the other has said. Yes, Mr. Attorney-General.
    (جناب چیئرمین: نہ یہ کہ کسی معزز ممبر نے کیا کہا ہے اور دوسرے لوگوں نے کیا کہا ہے۔ جی مسٹر اٹارنی جنرل صاحب)
    جناب یحییٰ بختیار: یہ ایک حوالہ، اس کی طرف سے آپ کی توجہ دلاتا ہوں۔ یہ نبوت حضرت مسیح موعودؑ۔ حضرت خلیفۃ المسیح اول فرماتے ہیں کہ:
    1770’’جن لوگوں نے مسیح موعود کو دیکھا ہے اور اس کی مجلس میں بیٹھے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ نبی میں ایک خاص کشش ہوتی ہے اور اس وقت کھل کر بیٹھنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اگر صریح حکم نہ آتا…‘‘
    یہ حکیم نور الدین صاحب فرماتے ہیں کہ ان کی محفل میں، نبی کی محفل، خاص کشش ہوتی ہے اور مرزاصاحب کی محفل میں جو بیٹھے تھے، کہتے ہیں جی، آدمی کھل کے نہیں بیٹھ سکتا تھا۔ مشکل ہوتاتھا۔ تو یہ نبی جو ہے، یہ وہ بروزی یا مجازی Sense (معنی) میں استعمال کر رہے ہیں یہاں؟
    جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، محدث کے معنوں میں۔
    جناب یحییٰ بختیار: ابھی اگر میں کہوں جی کہ ’’شیر کے ساتھ جنگل میں آدمی بڑا ڈر جاتا ہے۔‘‘
    جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔
    جناب یحییٰ بختیار: …تو وہ شیرتواصلی ہوتا ہے، کہ وہ بازاری شیر یا نقلی شیر؟
    جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، اور اگر وہ کہے کہ ’’شیر کے ساتھ میری محفل جو تھی، وہاں بہت سے لوگ تھے۔‘‘ تو وہاں کو ن سا شیر مراد ہوگا؟
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں ایسے کہہ رہاںہوں۔ دیکھیں، ایک آدمی ہوتاہے۔ سیاستدان ہوتا ہے۔ اس نے خدمت کی ہوتی ہے۔ اس کی خدمت کی وجہ سے کہتے ہیں۔ جی کہ یہ شیر پنجاب ہے یا شیر سرحد ہے۔ وہ بھی ہماری طرح انسان ہوتا ہے۔ وہ کسی کو کاٹتا نہیں، نہ پنجے مارتا ہے۔ تو اس کی محفل میں تو میں نہیں کہوں گاجی کہ جیسے جنگل میں کوئی آدمی چلاجائے اور شیرسامنے آ جائے تو ڈرجاتا ہے اس سے۔ کہ ڈر لگتا ہے؟
    جناب عبدالمنان عمر: نہیں جی، بہادر آدمی تو بعض وقت ڈر جاتا ہے۔
    1771جناب یحییٰ بختیار: نہیں، بہادر آدمی سے۔ وہ توبڑا سوکھا پتلا، قائداعظم جو تھا ان سے کون ڈرتاتھا؟
    جناب عبدالمنان عمر: ان کا دماغ جو تھا۔ وہ بڑے بڑے بہادروں سے افضل تھا۔
    جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں، شیر نہیں، یہاں جو کہتے ہیں ناں کہ شیر کی محفل سے، ’’نبی کی محفل سے آدمی جو ہے…‘‘ وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ نبی تھے۔ ’’نبی میں خاص کشش ہوتی ہے اور اس وقت کھل کر بیٹھنا بہت مشکل ہوتاہے۔‘‘یہ کس مطلب میں انہوں نے استعمال کیا ہے؟
    جناب عبدالمنان عمر: ہاںیہ، یہ سوال بڑا ہی اعلیٰ درجے کا ہے کہ یہ انہوں نے کن معنوں میں استعمال کیاہے؟ اس کے لئے میں بجائے اس کے کہ اپنی طرف سے اس کا جواب دوں…
    جناب یحییٰ بختیار: آپ اپنی طرف سے اس کا جواب دے دیں تو وہ…
    جناب عبدالمنان عمر: نہیں، جناب!میں مرزاصاحب…وہ مولانا نور الدین کی طرف سے جواب دوں گا جن کا وہ حوالہ ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: اچھا جی۔
    جناب عبدالمنان عمر: ہاں جی،یہی صحیح بات بھی ہے۔ نہیں، جناب! وہ اردو ہی ہے، خط ہے، اردو میں ہے، Simple (آسان) سا خط ہے:
    ’’دل چیر کر دکھانا انسانی طاقت سے باہر ہے۔ قسم پر اگر کوئی اعتبار کرے تو واﷲ العظیم کے برابر کوئی قسم مجھے نظر نہیں آتی۔ نہ آپ میرے ساتھ موت کے بعد ہوںگے اور نہ کوئی اور میرے ساتھ سوائے میرے ایمان اور اعمال کے ہوگا۔ پس یہ معاملہ اﷲ تعالیٰ کے حضور میں پیش ہونے والا ہے۔ 1772واﷲ العظیم(عربی)، میں مرزاصاحب کو مجدد اس صدی کا تعیّن کرتاہوں۔ میں ان کو راست باز مانتاہوں۔‘‘۲۷؍اکتوبر ۱۹۱۰ئ۔
    جناب یحییٰ بختیار: آگے کوئی نبی تو نہیں لکھا ہے اس میں؟
    جناب عبدالمنان عمر: ہیں جی؟
    جناب یحییٰ بختیار: آگے کوئی نبی تو …
    مولانا غلام غوث ہزاروی: جناب صدر صاحب!ایک عرض کروں؟
    جناب عبدالمنان عمر: آپ پھر پورا خط اگر پڑھنا چاہیں…
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں آپ سے صرف اتنا پوچھ رہا ہوں…
    مولانا غلام غوث ہزاروی: یہ گواہ’’واﷲ العظیم‘‘ کی جگہ ’’واﷲِالعظیم‘‘ پڑھے تو اچھا ہے۔
    (مداخلت)
    جناب عبدالمنان عمر: میں لفظ پڑھ لیتاہوں…
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یعنی آگے نبی…
    جناب عبدالمنان عمر: میں نے کہاجی میں خط ہی پڑھ دیتا ہوں آپ کو…
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں،میںآپ سے پوچھ رہا ہوں تاکہ ٹائم Save (محفوظ) ہو۔
    جناب عبدالمنان عمر: ٹائم تب ہی Save (محفوظ) ہوگا ناں جی کہ میں شاید کچھ اور جواب دے دوں اور یہاں کچھ اور ہو۔اچھا جی: ’’میں مرزا صاحب کو مجدد اس صدی کا یقین کرتاہوں۔ میں ان کو راست باز مانتا ہوں۔ نبی کے معنی لغوی پیش از وقت اﷲ تعالیٰ سے اطلاع پاکر خبر دینے والا،ہم لوگ یقین کرتے ہیں، نہ شریعت لانے والا۔ مرزا صاحب اور میں خود۔ جو شخص 1773ایک نقطہ بھی قرآن کا اور شریعت محمد رسول اﷲﷺ کا نہ مانے میں اسے کافر اورلعنتی اعتقاد کرتاہوں۔ یہی میرا اعتقاد ہے اور یہی میرے نزدیک مرزاغلام احمد صاحب کا تھا۔ کوئی رد کرے یا نہ مانے یا منافق کہے تو اس کا معاملہ حوالہ خدا ہے۔‘‘
  9. ‏ فروری 8, 2015 #9
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (قادیانیوں اور لاہوریوں میں کوئی فرق نہیں)
    جناب یحییٰ بختیار: تو اب تو بالکل بات صاف ہوگئی۔ صاحبزادہ صاحب! آپ میں اور ربوہ میں کوئی فرق نہیں۔ وہ بھی یہ کہتے ہیں کہ غیر شرعی نبی تھا، شریعت والا نہیں تھا۔
    جناب عبدالمنان عمر: جناب! میں گزارش کرتاہوں، مجھے علم نہیں کہ انہوں نے آپ کے سامنے کیا بیان دیاہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: یہ کہ غیر شرعی، امتی۔
    جناب عبدالمنان عمر: دیکھو جی، میں عرض کرتاہوں کہ میرے سامنے ان کا پچھلا پچاس سال کالٹریچر ہے۔ میں اس کی روشنی میں عرض کرتاہوں، وہ غیر شرعی نبی بمعنی محدث نہیں مانتے۔ میں نہیں جانتا یہاں ان کا کیا Stand (مؤقف) ہے۔ جو ان کا گذشتہ پچاس سال کا Stand (مؤقف) …
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اس معنی میں جیسے حکیم نور الدین صاحب نے فرمایا…
    جناب عبدالمنان عمر: مجدد۔
    جناب یحییٰ بختیار: ’’مجدد‘‘ توکہا…
    جناب عبدالمنان عمر: نہیں، مجدد۔
    جناب یحییٰ بختیار: …ساتھ ہی کہا’’بغیر شریعت کے، بغیر شریعت کے نبی۔‘‘
    جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، بغیر…لغت کے لحاظ سے، لغوی معنوں میں۔ پورے لفظ لیجئے ناں ان کے۔
    1774جناب یحییٰ بختیار: لغوی معنی، وہ بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ آنحضرتa کی امت سے تھے۔ ان کے قدموں میں بیٹھے۔‘‘…
    Mr. Chairman: Let us get out of this lughat (لغت). We have please,نہیں، نہیںgot so many lughats in our library. (Interruption) confine yourself. No further question, no further answers about the lughat or the double meaning or three meanings or four meanings.
    (جناب چیئرمین: ہم لغت سے باہر آ جائیں۔ ہماری لائبریری میں کئی ایک لغات ہیں۔ آپ موضوع کے اندر رہیں لغت کے بارے میں یا الفاظ کے دو معانی، تین معانی یا چار معانی کے بارے میں کوئی مزید سوال و جواب نہیں ہوگا)
    جناب یحییٰ بختیار: اچھاجی، یہ آگے پھر ایک اورحوالہ ہے کہ:
    ’’مولوی صاحب، حکیم نور الدین صاحب، خلیفہ اول قادیان، فرمایا کرتے تھے کہ یہ تو صرف نبوت کی بات ہے۔ میرا تو ایمان ہے کہ حضرت مسیح (غلام احمد قادیانی صاحب) صاحب شریعت نبی ہونے کا دعویٰ کریں اور قرآنی شریعت کومنسوخ قرار دیں توبھی مجھے انکار نہ ہو۔ کیونکہ جب ہم نے ان کو واقعی صادق اور من جانب اﷲ پایا ہے۔ تو اب جو بھی آپ فرمائیں گے، وہی حق ہوگا۔‘‘ (سیرت المہدی ج۱ص۹۹، روایت نمبر۱۰۹)
    جناب عبدالمنان عمر: یہ کہاں فرمایا جی؟
    جناب یحییٰ بختیار: یہ، آپ کو اس کا علم نہیں ہے؟
    جناب عبدالمنان عمر: جناب!میں ان کی گیارہ کتابوں کو جانتاہوں۔ میرے علم میں ان کی گیارہ کی گیارہ کتابوں میں سے کسی جگہ یہ لفظ نہیں ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: کسی خط میں؟ کتاب نہ سہی کسی اور…
    جناب عبدالمنان عمر: میرے سامنے خط پیش کیا جائے کیونکہ خط ایک پرائیویٹ چیز ہے۔ میں نہیں جانتا کہ وہ خط…
    جناب یحییٰ بختیار: کسی اور تحریرمیں ؟ نہیں، نہیں، کسی اورتحریر میں؟ آپ کے علم میں نہیں یہ بات؟
    1775جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، بالکل۔ اگر کوئی خط ایسا ہے…
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، بس ٹھیک ہے۔
    جناب عبدالمنان عمر: ہاں جب، بالکل۔
    جناب یحییٰ بختیار: اب آپ…
    جناب عبدالمنان عمر: Forged (جعلی) بھی چیزیں ہوتی ہیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ٹھیک ہیں ناں، اسی واسطے میں پوچھتاہوں کہ آپ اتھارٹی ہیں اس پر، آپ جانتے ہیں۔
    اب یہ ایک حوالہ ہے ’’الفرقان‘‘ ربوہ سے، کوئی اتھارٹی نہیں ہے۔ مگر انہوں نے Quote (پیش) کئے ہیں۔ آپ کے کچھ، جو پارٹی ہے، ان کے خیالات۔ وہ کہتے ہیں کہ:
    ’’ہم ذیل میں فریق لاہور کے اکابر کے وہ حوالہ جات پیش کرتے ہیں جن سے روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ سب خلافت ثانیہ سے اپنی علیحدگی یعنی ۱۹۱۴ء تک سیدنا حضرت مسیح موعود کی نبوت پراسی طرح اعتقاد رکھتے تھے، جس طرح جماعت احمدیہ رکھتی ہے…‘‘
    اور پھر وہ کہتے ہیں کہ ’’جناب مولوی مودودی صاحب نے تحریر کیا… میں Quote (پیش) کرتاہوں:
    ’’ہمارے نبیﷺخاتم النّبیین ہیں اور آپﷺ کے بعد کوئی نبی، خواہ وہ پرانا نبی ہو یا نیا، آ نہیں سکتا کہ اس کو بدوں وساطت آنحضرتﷺ کے نبوت ملی ہو۔‘‘
    پھر مولوی صاحب آگے بیان کرتے ہیں:
    ’’مخالف کوئی ہی معنی کرے۔مگر ہم تو اس پر قائم ہیں کہ خدا نبی پیدا کرتا ہے۔ صدیق بنا سکتا ہے اور شہداء کو صالح کا مرتبہ عطا کر سکتا ہے۔ مگر چاہئے مانگنے والا۔1776ہم نے جس کے ہاتھ میں ہاتھ دیا وہ صادق تھا۔ خدا کا برگزیدہ اور مقدس رسول تھا۔ پاکیزگی کی روح اس میںکمال تک پہنچی ہوئی تھی۔‘‘
    یہ ہے ۱۹۰۸ء کا ’’الحکم‘‘ پہلے ۱۰؍مارچ ۱۹۰۶ء کا ’’الحکم۔‘‘ پھر ہے ۱۸؍جولائی ۱۹۰۸ء کا ’’الحکم۔‘‘
    پھر آگے مولوی کرم الدین آف بھیں کے مقدمہ میں بطور گواہی مولوی صاحب نے یہ حلفیہ بیان دیا…
    جناب عبدالمنان عمر: (ناقابل سماعت)
    جناب چیئرمین: ابھی، ابھی نہیں، وہ ختم کر لیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: مجھے یہ حوالے پڑھنے دیجئے۔ پھر آپ پھر دیکھیں کہ…انہوں نے اس زمانے کے اخبارات سے دیئے ہوئے ہیں، ’’الحکم ‘‘ سے:
    "There is another view of the matter according to Mohammadan theology. One who beleives a person claiming to be a Prophet is Kazzab. And this has been admitted by prosecution evidence. Now the complainant knew perfectly well that the first accused claimed that position…"
    First accussed was Mirza Sahib there:
    "…that positoin and notwithstanding that he believed the accused- notwithstanding that he believed the accused. Consequently, in religions terminology, the complainant was a Kazzab."
    ترجمہ: ’’اسلامی علم الکلام کے مطابق اس معاملہ کا ایک اور بھی پہلو ہے، اور وہ یہ کہ جو شخص کسی مدعی نبوت و رسالت پرایمان لاتا ہے، کذاب ہے۔ یہ بات شہادت استغاثہ 1777میں تسلیم کی گئی۔ اب مستغیث مولوی کرم الدین نہایت اچھی طرح جانتا ہے کہ ملزم (یعنی مرزا، حضرت مرزا صاحب) نے اس حیثیت( یعنی نبوت و رسالت) کا دعویٰ کیا ہے۔ بہ ایں ہمہ مستغیث نے اس کی تکذیب کی ہے۔ پس مذہب اسلام کی اصطلاح کی رو سے بھی مستغیث کذاب ہے۔‘‘
    اب سوال یہ پیداہوتا ہے کہ مولوی محمد علی صاحب کہہ رہے ہیں… خواہ وہ دعویٰ عدالت میں اس کا جھوٹا ہو…کہ مرزا صاحب نے… یہ ابھی کوئی مجازی بات نہیں ہے… ایسے ہی کہتے ہیں کہ:
    ’’مستغیث (مولوی کرم الدین) نہایت اچھی طرح جانتا ہے کہ ملزم (یعنی مرزا صاحب) نے اس حیثیت (یعنی نبوت و رسالت) کا دعویٰ کیا ہے۔ بہ ایں ہمہ مستغیث نے اس کی تکذیب کی ہے۔ پس مذہب اسلام کی اصطلاح کی رو سے بھی مستغیث کذاب ہے۔‘‘
    کیونکہ ایک شخص نے دعویٰ کیا ہے اور وہ ان کو سچا سمجھتے ہیں تو یہ جو ہے۔
    پھر ایک اور حوالہ ہے "Review of Religions"۱۹۰۴ء میں مولانا محمد علی صاحب نے اخبار "Pioneer" الہ آباد کے ایڈیٹر کو جواب دیا:
    ’’جس طرح اس نے ہندوستان کے متعلق یہ لکھا کہ ہندوستان کو اس وقت کسی اور نبی کی ضرورت نہ تھی…‘‘
    "Pioneer" نے یہ لکھا تھا مرزاصاحب کے دعویٰ کے متعلق ان کو کہ ’’ہندوستان کو کسی اور نبی کی ضرورت نہ تھی۔‘‘ تو اس کے جواب میں کہتے ہیں:
    ’’جس طرح اس نے ہندوستان کے متعلق یہ لکھا کہ ہندوستان کو اس وقت کسی اور نبی کی ضرورت نہ تھی۔ اس طرح یہ بھی کسی اخبار میں شائع کرے کہ اس سے 1778۱۹۰۰ء سال پہلے ملک شام کو کسی اور نبی کی ضرورت نہ تھی۔‘‘ ("Review of Religions"مارچ ۱۹۰۴ء ص ۴۶)
    پھر آگے، مولوی محمد علی صاحب آگے فرماتے ہیں، ہندوؤں کو مخاطب کرکے:
    ’’ہم اس بات کو مانتے ہیں کہ آخری زمانہ میں ایک اوتار کے ظہور کے متعلق جو وعدہ انہیں دیاگیاتھا۔ وہ خدا کی طرف سے تھا اوراس کو ہندوستان کے مقدس نبی…مرزاغلام احمدقادیانی کے وجود میں خدا تعالیٰ نے پورا کر دکھایا ہے۔‘‘
    نومبر ۱۹۰۴ء ص۴۱۱)"Review of Religions"(
    پھرآگے لکھا ہے کہ:
    ’’مولوی کرم الدین نے حضرت مسیح موعود اور حکیم فضل الدین صاحب پرمقدمہ ازالہ حیثیت عرفی کیاتھا۔ کیونکہ حضرت نے اپنی کتاب میں مولوی صاحب…‘‘ یہ اس کا میں ذکر کرچکاہوں، جو انہوں نے اس کو کذاب کہاتھا۔ آگے جی میں اور کچھ حوالے چھوڑ دیتاہوں۔
    پھر بعد میں خواجہ کمال الدین صاحب کی اس تقریر کی طر ف آپ کی توجہ دلاتاہوں۔ جو ایڈیٹر ’’الحکم‘‘ کو لکھتے ہیں۔ یہ ہے جی ’’الحکم ۱۴؍مئی ۱۹۱۱ئ‘‘
    ’’بٹالوی نے اپنے روزنامہ ’’پیسہ اخبار‘‘ والے مضمون میں ذکرکیاتھا کہ خواجہ صاحب نے پھر بریکٹ میں نعوذ باﷲ حضرت مسیح موعود کے نبی یا رسول ہونے سے انکار کیا ہے۔ مگر بٹالوی کے لئے یہ خبر جانفرسا ہوگی کہ ان کے گھر بٹالہ ہی میں خواجہ صاحب نے اپنے لیکچر میں صاف طور پر بیان کیا اور بٹالہ والوں کو خطاب کر کے کہاکہ تمہارے ہمسایہ میں ایک نبی اور رسول آیا ہے، تم خواہ مانو یا نہ مانو۔‘‘
    1779یہ ان کی تقریر کا حوالہ دے رہے ہیں’’الحکم۱۹۱۱ء میں۔‘‘
    پھر اسی طرح آپ کے، کئی اور اکابرین کے باربار یہ حوالے انہوں نے دیئے ہیں۔ جن کویہاں دے کر میں وقت ضائع نہیں کرناچاہتا کہ وہ مرز اصاحب کو نبی اور رسول سمجھتے تھے…
    Mr. Chairman: What is the question?
    (جناب چیئرمین: کیا سوال ہے؟)
    جناب یحییٰ بختیار: …اب ایک حلفیہ شہادت ہے، اس کی طرف بھی آپ کی توجہ دلاتاہوں: ’’نبوت حضرت مسیح کے متعلق جماعت احمدیہ کا متفقہ عقیدہ۔ شیخ عبدالرحمن صاحب مصری لاہوری کی حلفیہ شہادت۔
    ہم ذیل میں خود شیخ عبدالرزاق صاحب کی دستخطی حلفیہ گواہی درج کرتے ہیں جو ۲۴؍ اگست ۱۹۳۵ء کو شیخ صاحب مذکور نے حضرت ناظر صاحب تالیف و تصنیف کے جواب میں تحریر کی ہے۔ لکھتے ہیں:
    ’’میں حضرت صاحب(یعنی مسیح موعود علیہ السلام) کے زمانہ کا احمدی ہوں۔ میں نے ۱۹۰۵ء میں بیعت کی تھی۔ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس طرح کا نبی یقین کرتاتھا اور کرتا ہوں جس طرح خدا کے دیگر نبیوں اور رسولوں کو یقین کرتا ہوں۔ نفس نبوت میں، میں نہ اس وقت کوئی فرق کرتا تھا اور نہ اب کرتاہوں۔ لفظ استعارہ اورمجاز اس وقت میرے کانوں میں کبھی نہیں پڑے تھے۔ بعد میں حضور علیہ السلام کی کتب میں یہ الفاظ جس معنی میں میں نے استعمال ہوتے ہوئے دیکھے ہیں۔ وہ میرے عقیدے کے منافی نہیں۔ ان ہی معنوں میں اب بھی حضور علیہ السلام (مرزا) کو… صحیح مجازی نبی 1780ہوں۔ یعنی شریعت جدید کے بغیر نبی، اور نبی a کا اتباع کی بدولت، حضور کی اطاعت میں فناہوکر، حضور کا کامل بروز ہوکر مقام نبوت کاحاصل کرنے والا نبی ہے۔ میرے اس عقیدے کی بنیاد حضرت مسیح کی تقاریر اور تحریرات اور جماعت احمدیہ کا متفقہ عقیدہ ہے۔‘‘
    تو یہ میں عرض کر رہا تھا کہ آپ کا اور ربوہ کا بالکل ایک ہی عقیدہ ہے۔
    Mr. Chairman: What is the question? These are the references and on these references, what question Mr. Attorney-General bares
    (جناب چیئرمین: سوال کیا ہے؟ یہ حوالہ جات ہیں اور اٹارنی جنرل صاحب! ان حوالہ جات پر کیا سوال پوچھنا چاہتے ہیں؟)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Sir?
    (جناب یحییٰ بختیار: جناب والا؟)
    Mr. Chairman: These are the references, What is the definite question out of these?
    Mr. Yahya Bakhtiar: I say, does he deny these allegations, these statements?
    (جناب یحییٰ بختیار: میں کہتاہوں کہ کیا گواہ ان الزامات سے انکاری ہے۔ ان بیانات سے انکاری ہے)
    Mr. Chairman: Yes, the first question.
    (جناب چیئرمین: جی ہاں، پہلا سوال تو یہ ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: I will give these copies to them. They will verify and, after the break, they can…
    (جناب یحییٰ بختیار: میںان کی نقول انہیں دے دوں گا۔ وہ ان کی تصدیق کر لیں اور چائے کے وقفے کے بعد…)
    Mr. Chairman: Yes, No. (1) I will ask the witness, whether these are admitted? If they are admitted…
    (جناب چیئرمین: جی ہاں، پہلی بات تو یہ ہے کہ گواہ اسے تسلیم کرتے ہیں؟ اگر تسلیم کرتے ہیں…)
    Mr. Yahya Bakhtiar: They have their "Review of religions."
    (جناب یحییٰ بختیار: وہ یہاں ریویو آف ریلیجنز رکھتے ہیں)
    Mr. Chairman: …Then the explaination, And if they are not admitted, that's all right, We will be going for a…
    (جناب چیئرمین: تو پھر وضاحت کریں اور اگر تسلیم نہیں کرتے تو پھر ٹھیک ہے…)
    جناب یحییٰ بختیار: (گواہ سے)آپ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ صرف مجازی Sense (معنوں) میں انہوں نے کہا ہے؟
    1781Mr. Chairman: The Delegation…just minute, just a minute…
    (جناب چیئرمین: وفد صرف ایک منٹ، صرف ایک منٹ…)
    جناب یحییٰ بختیار: یہ دیکھئے ناں…
    Mr. Chairman: The Delegation can look into all these references, We will break for fifteen minutes, Then they will reply about it, Yes.
    (جناب چیئرمین: وفد ان تمام حوالہ جات کو ملاحظہ کر سکتا ہے۔ ہم اجلاس پندرہ منٹ کے لئے ملتوی کریںگے اوراس کے بعد وہ ان کاجواب دیںگے)
    جناب یحییٰ بختیار: آپ ان کو دیکھ لیجئے! پندرہ بیس منٹ کے بعد…
    جناب چیئرمین: آپ ان کو دیکھ لیجئے! دس پندرہ حوالہ جات ہیں۔ You can look into them.... (آپ ان کو دیکھ لیجئے…)
    جناب یحییٰ بختیار: یہ کس Sense (معنوں) میں انہوں نے کہا ہے؟ اس کا کیا مطلب ہے؟
    Mr. Chairman: …then you can explain, the Delegation can explain.
    (جناب چیئرمین: …تب آپ وضاحت کر سکتے ہیں وفد وضاحت کر سکتاہے)
    جناب عبدالمنان عمر: (ناقابل سماعت)
    جناب چیئرمین: ہاں، آپ دیکھ لیجئے اسے ۔
    Mr. Chairman: The Delegation will keep sitting while the House is adjourned.
    (جناب چیئرمین: وفد تشریف رکھے، اجلاس ملتوی کیا جاتا ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Let them have a cup of tea also, They can discuss it there.
    (جناب یحییٰ بختیار: وہ(وفد) چائے نوش کرلیں اوروہیں پر مشورہ بھی کر لیں)
    Mr. Chairman: They can discuss, yes, they can discuss in the room.
    (جناب چیئرمین: ٹھیک ہے۔ وہ کمرے میں مشورہ کرسکتے ہیں)
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں، آپ بھی چائے پی لیجئے۔ وہاں ڈسکس کر لیجئے۔ اس پر غور کیجئے۔
    Mr. Chairman: Yes. At 12: 15.
    (جناب چیئرمین: ہاں جی،12:15پر)
    1782(The Delegation left the Chamber)
    (وفد ہال سے چلاگیا)
    Mr. Chairman: The House is also adjourned to meet again at 12:15.
    (جناب چیئرمین: ایوان کا اجلاس ملتوی کیاجاتاہے۔ دوبارہ 12:15 بجے ہوگا)
    ----------
    [The special Committee adjourned for tea break re-assemble at 12:15 p.m.]
    (خصوصی کمیٹی کا اجلاس چائے کے وقفہ کرنے کے لئے ملتوی ہوا پھر 12:15 پر شروع ہوگا)
    ----------
    [The special Committee re-assembled after tea break, Mr. Chairman(Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.]
    (خصوصی کمیٹی کا اجلاس چائے کے وقفہ کے بعد مسٹرچیئرمین(صاحبزادہ فاروق علی ) کی صدارت میں ہوا)
    ----------
    جناب چیئرمین: بلائیں ان کو۔ (Pause)
    میراخیال ہے کہ ایک گھنٹے میں ختم ہو جائے گا۔
    جناب یحییٰ بختیار: پونے دو تک…
    Mr. Chairman: We should try to.
    (جناب چیئرمین: ہمیں کوشش کرنی چاہئے)
    جناب یحییٰ بختیار: …یا شاید دو بجے، زیادہ سے زیادہ۔
    جناب چیئرمین: وہ لغت…ایک منٹ، ابھی نہ بلائیں…وہ لغت سے باہر تو نکلتے نہیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، میں ابھی ان کو چھوڑ رہاہوں۔
    Mr. Chairman: And he has clearly said کہ:"two meanings".
    ----------
    SUBMISSIOON OF WRITTEN REPLIES TO QUESTIONS
    Mr. Yahya Bakhtiar: I will tell them whathever reply they have got to give…
    1783Mr. Chairman: Yes. (جناب چیئرمین: جی ہاں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: …they may send it to you in writing. To some of these question, they want time.
    (جناب یحییٰ بختیار: وہ اسے تحریری طور پر بھجوا سکتے ہیں۔ وہ وقت چاہتے ہیں)
    Mr. Chairman: Yes. (جناب چیئرمین: جی ہاں)
    ----------
  10. ‏ فروری 8, 2015 #10
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    NODDING BY THE WITNESS IN REPLY TO QUESTION
    (زبان ہلائیں، سر نہ ہلائیں)

    صاحبزادہ صفی اﷲ: جناب والا!ایک بات میں عرض کرنا چاہتاہوں۔ یہ گواہ جو ہیں۔ یعنی اٹارنی جنرل صاحب جب سوال پوچھتاہے تو اثبات کی صورت میں سر ہلاتے ہیں۔ تو سر ہلانا تو ریکارڈ پر بھی نہیں آتا۔ ٹی وی کیمرہ بھی ہمارے ساتھ نہیں ہے۔
لڑی کی کیفیت :
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

اس صفحے کی تشہیر