1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

قومی اسمبلی میں دوسرا دن

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ نومبر 25, 2014

لڑی کی کیفیت :
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
  1. ‏ نومبر 25, 2014 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    قومی اسمبلی میں دوسرا دن

    Tuesday, the 6th August. 1974.
    (بروز منگل، ۶؍اگست ۱۹۷۴؁ئ)
    قومی اسمبلی میں دوسرا دن


    The Special Committee of the Whole House of the National Assembly of Pakistan met in Camera in the Assembly Chamber, (State Bank Building), Islamabad, at ten of the clock, in the morning. Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.
    (پاکستان کی قومی اسمبلی کے مکمل ایوان کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس اسمبلی کے چیرمین (اسٹیٹ بینک بلڈنگ) اسلام آباد میں صبح دس بجے منعقد ہوا۔ اسپیکر قومی اسمبلی (صاحبزادہ فاروق علی) بحیثیت چیئرمین تھے)
    ----------
    (Recition from the Holy Quran)
    (تلاوت قرآن شریف)
    ----------

    Mr. Chairman: Should we start?
    (جناب چیئرمین: کیا اب ہم آغاز کریں؟)
    Members: Yes. (ممبران: جی ہاں!)
    Mr. Chairman: They may be called.
    (جناب چیئرمین: ان کو اندر بلالیں)
    (Pause)
    جناب چیئرمین: ابھی باہر بیٹھیں۔
    ----------
    BOOKS FOR REFERENCE DURING
    CROSS- EXAMINATION
    Mr. Chairman: Mr. Attorney- General, would you agree with me if the books are placed near you for referance?
    (جناب چیئرمین: جناب اٹارنی جنرل! کیا آپ میرے ساتھ اتفاق کرتے ہیں کہ کتابیں آپ کے نزدیک رکھ دی جائیں حوالہ جات کے لئے؟)
    Mr. Yahya Bakhtiar: (Attorney- General of Pakistan): They are available.
    (جناب یحییٰ بختیار: (اٹارنی جنرل آف پاکستان) وہ سب دستیاب ہیں)
    210Mr. Chairman: All are available?
    (جناب چیئرمین: تمام دستیاب ہیں؟)
    Mr. Yahya Bakhtiar: They are available.
    (جناب یحییٰ بختیار: وہ تمام دستیاب ہیں)
    Mr. Chairman: And the reference.... which you put to the witness... may be shown that this is it, and there should be least disturbance near the Attorney- General.
    (جناب چیئرمین: اور گواہ کو حوالہ کے وقت دیکھا دینی چاہئیں اور اٹارنی جنرل کے نزدیک کم سے کم خلل اندازی ہونی چاہئے)
    ----------
    • Like Like x 1
  2. ‏ نومبر 25, 2014 #2
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    METHOD OF CONTACTING THE ATTORNEY- GENERAL
    Mr. Chairman: Two honourable members have been.... (جناب چیئرمین: دو معزز ممبران سے درخواست ہے…)
    Ch. Jahangir Ali: Mr. Chairman, Sir,....
    (چوہدری جہانگیر علی: جناب چیئرمین! سر…)
    Mr. Chairman: Just a minute.... requested to collect the chits. One is Maulana Zafar Ahmad Ansari and Mr. Aziz Bhatti. The chits should be delivered to these honourable members. And during the recesses, they can discuss with the Attorney- General. And any hounurable member can discuss any matter with the Attorney- General in the recess but, when cross- examination is going on, there should be no disturbance, and specially no whispering around this area. Although I would not like whispering from this end or from that end, but around this area whispering should not be.
    (جناب چیئرمین: صرف ایک منٹ… میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ تمام رقعوں کو جمع کر لیا کریں۔ پھر یہ رقع مولانا ظفر احمد انصاری صاحب اور عزیز بھٹی کو وقفہ کے دران دے دی جایا کریں۔ دوران وقفہ اٹارنی جنرل صاحب سے جو بات ہو بات کر لیا کریں۔ لیکن جب جرح ہو رہی ہو اس وقت کوئی خلل نہ ہونا چاہئے اور اٹارنی جنرل کی سیٹ کے قریب سرگوشی بھی نہیں ہونی چاہئے۔ ہاں! ایوان کے دور دراز کونوں میں سرگوشی ہوسکتی ہے۔
    Yes, Ch. Jahangir Ali. جی! چوہدری جہانگیر علی۔
    • Like Like x 1
  3. ‏ نومبر 25, 2014 #3
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    INTERPRETATION OF DOCUMENTS OR WRITINGS
    Ch. Jhangir Ali: Mr. Speaker, Sir.... oh! Mr. Chairman, Sir, interpretation of a document or a writing is not the job of a witness. I would therefore request. Sir, that the witness should not be allowed to interpret the writing. It is the job of the Presiding officer or the Judge, Sir, or this honourable committee, to give interpretation to the writings. He should be conformed only with this....
    (چوہدری جہانگیر علی: جناب چیئرمین! دستاویزات کا ترجمہ یا تحریر کا مفہوم پیش کرنا گواہ کا کام نہیں ہونا چاہئے۔ اس لئے میری رائے میں گواہ کو مفہوم یا ترجمانی کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔ یہ کام ایک جج کا یا صدر کا ہوا کرتا ہے)
    Mr. Chairman: Yes. (جناب چیئرمین: جی ہاں!)
    211Ch. Jhangir Ali: ....whether you admit the existence of this writing in your so and so....
    Mr. Chairman: This is what is settled. You are the judges. You can draw any inference out of this.....
    Ch. Jahangir Ali: Sir, he is wasting unnecessarily the time in giving interpretation.... what was the interpretation before the Munir Committee, what was the statement before the Munir Committee...
    (چوہدری جہانگر علی: یہ کمیٹی کا وقت ضائع کرتے ہیں۔ منیر کمیٹی سے پہلے کیا تعبیر تھی؟ منیر کمیٹی کے بعد کیا وضاحت تھی…)
    Mr. Chairman: Ch. Sahib whenever any such difficulty arises, the Attorney- General can ask the Chair that this is unnecessary.
    (جناب چیئرمین: اٹارنی جنرل صدر اجلاس سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ غیرضروری ہے۔ صدر سے جس معاملہ میں چاہیں وضاحت طلب کر سکتے ہیں۔ ابھی ان کو نہ آنے دیں)
    Ch. Jahangir Ali: All right. That is the better way.
    Mr. Chairman: Begum Nasim Jahan.
    (جناب چیئرمین: جی! بیگم نسیم جہاں)
    Begum Nasim Jahan: A......
    Mr. Chairman: I have entirely left the matter in the hands of the Attorney- General. He can seek the protection of the Chair. He can seek the clarifiation or anything. Whatever he needs. Yes.
    (جناب چیئرمین: میں نے معاملہ مکمل طور پر اٹارنی جنرل کے ہاتھوں میں دے دیا ہے۔ وہ کرسیٔ صدارت سے مدد لے سکتے ہیں۔ وہ وضاحت طلب کر سکتے ہیں جب بھی انہیں ضرورت ہو)
    • Like Like x 1
  4. ‏ نومبر 25, 2014 #4
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    WOMEN'S REPRESENTATION ON QUESTIONS COMMITTEE
    Begum Naseem Jahan: Mr.Chairman, Sir, I am on a matter of clarification. Have women been given any representation on the Questions Committee?
    (بیگم نسیم جہاں: چیئرمین صاحب! میں پوچھتی ہوں کہ کیا ایک عورت کو سوال پیش کرنے والی کمیٹی میں نمائندگی دی گئی ہے)
    Mr. Chairman: Pardon?
    (جناب چیئرمین: معاف کیجئے، کیا کہا؟)
    Begum Nasim Jahan: Have women been given any representation on the Questions Committee?
    (بیگم نسیم جہاں: کیا خواتین کو سوالات کمیٹی میں نمائندگی دی گئی ہے؟)
    Mr. Chairman: The scope was so narrow: the scope was only five members to sit in the Question Committee.
    (جناب چیئرمین: سوال کمیٹی محدود ہے۔ صرف پانچ ممبر اس سوال کمیٹی میں ہیں)
    212Begum Nasim Jahan: Sir, I....
    (بیگم نسیم جہاں: جناب! میں…)
    Mr. Chairman: The Steering Committee has got representation of one....
    (جناب چیئرمین: البتہ سٹیرنگ کمیٹی میں ایک کی نمائندگی ہے)
    Begum Nasim Jahan: Yes, Sir, I know.
    (بیگم نسیم جہاں: جی ہاں! جناب! مجھے معلوم ہے)
    Mr. Chairman: .... Begum Shireen Wahab; and the Question Committee had to comprise out of the Steering Committee.
    (جناب چیئرمین: اور سوال کمیٹی کا انتخاب سٹیرنگ کمیٹی کے ممبران میں سے ہوا ہے)
    Begum Nasim Jahan: Mr. Speaker... Mr. Chairman, Sir, may I make a humble submission?
    (بیگم نسیم جہاں: جناب چیئرمین صاحب! کیا میں ایک بات عرض کر سکتی ہوں؟)
    Mr. Chairman: Yes. (جناب چیئرمین: جی ہاں!)
    Begum Nasim Jahan: I consulted Begum Shireen Wahab about this thing and she said that the Committee. The Question Committee was not formed when she was present. Now, Sir, I am fully aware. I don't want to be irrelevant and I don't want to waste your time and the time of the House.
    Now the witness has made a very important statement in his examination in chief or in his dep...., you know, in what he deposed before the House. Now, his link in this chain is that because the Holy Prophet of Islam (May peace of God be upon him) did not have a male issue. Therefore, the female line cannot carry on the tradition. Therefore, we have to had a Roohani male issue carrying on his tradition.
    Now, Sir, this is also an important issue in the case because it is an important link and also it hits the status of women. Now, a man who claims to represent one crore of Muslims all over the world, I just wnat to....
    (بیگم نسیم جہاں: میں نے بیگم شیریں وہاب سے مشورہ کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ جب سوال کمیٹی کی تشکیل ہوئی تو وہ موجود نہ تھیں۔ گواہ نے دوران جرح ایک خاص بات کہی تھی کہ رسول اﷲa کے کوئی نرینہ اولاد نہ تھی اور اس لئے نسوانی سلسلہ نسب سے روایات نہیں کی جاسکتیں۔ سلسلہ نرینہ روایات کے حامل ہوتا ہے۔ یہ ایک خاص کڑی ہے اور عورتوں کے رتبہ پر اس طرح ضرب پہنچتی ہے میں صرف یہ چاہتی ہوں…)
    Mr. Chairman: I request the hon'able member to be patient. ابھی ان کو نہ آنے دیں۔
    Begum Nasim Jahan: Sir,....
    213Mr. Chairman: Please stop them. Yes.
    Begum Nasim Jahan: Sir, I just wanted. I never want to be irrelevant and I hope you will correct me when I am irrelevant. But whatever comes in the examination in chief is subject to cross examination. That is what I was told. May be I am wrong. But, Sir, I feel that this is a very important link and an important chain. There should be a woman on the Questions Committee, who should vet the question.
    (بیگم نسیم جہاں: میں کوئی بے محل غیر متعلق بات نہیں کر رہی ہوں اور اگر میں غلط ہوں تو میری غلطی واضح کی جائے۔ میں محسوس کرتی ہوں کہ یہ ایک بہت اہم کڑی ہے اور بہت ضروری زنجیر ہے۔ اس لئے سوال کمیٹی کے اندر کوئی عورت بھی شامل ہونی چاہئے)
    Mr. Chairman: I will discuss the matter with the convener of the Question Committee, because the Question Committee came out of the Steering Committee.
    (جناب چیئرمین: میں اس معاملہ کو اسٹیرنگ کمیٹی کے سامنے پیش کروں گا۔ کیونکہ اسٹیرنگ کمیٹی ہی نے اپنے میں سے کچھ ممبران کو سوال کمیٹی میں نامزد کیا ہے)
    Begum Nasim Jahan: Well, thank you, Sir, I am very graceful. (بیگم نسیم جہاں: میں شکرگزار ہوں)
    Mr. Chairman: Yes, I will just bring.... I will convey the feelings of the honourable member to the Chairman of the Committee.
    (جناب چیئرمین: تو جو آپ کے احساسات ہیں میں ان تک پہنچا دوں گا)
    Begum Nasim Jahan: Sir, they all are supporting me.
    (بیگم نسیم جہاں: یہ سب لوگ میرے حق میں بول رہے ہیں)
    Mr. Chairman: Yes, the entire House supports you. No, no, it has to go from the Steering Committee.
    Now, I will request the members, if they are prepared, we may call the witnesses.
    They may be called.
    (The Delegation entered the Chamber)
    (وفد ایوان میں داخل ہوتا ہے)
    Mr. Chairman: I will request honourable Members to be attentive.
    (جناب چیئرمین: معزز ممبران سے درخواست کرتا ہوں کہ پوری طرح متوجہ رہیں)
    Mr. Attorney- General, you can proceed.
    (جناب اٹارنی جنرل آپ شروع کر سکتے ہیں)
    214REPETITION OF OATH BY THE WITNESS
    Mr. Chairman: The Oath?
    (جناب چیئرمین: کیا حلف ہونا چاہئے؟)
    Mr. Yahya Bakhtiar: It may not be repeated, Sir, it is the same. (جناب یحییٰ بختیار: حلف دہرانے کی ضرورت نہیں)
    Mr. Chairman: Yes, it is. All right, the witness may take the oath. otherwise, Rao Sahib, it is a continuing process; it is a continuing process.
    (جناب چیئرمین: میں بھی سمجھتا ہوں کہ یہ ضروری نہیں۔ راؤ محمد ہاشم صاحب حلف اٹھانا چاہئے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: It is not necessary, Sir, at all. (جناب یحییٰ بختیار: سر بالکل ضرورت نہیں ہے)
    Mr. Chairman: It is not necessary. Yes, it is a continuing process.
    (جناب چیئرمین: بالکل ضرورت نہیں ہے۔ جی ہاں!)
    Mr. Yahya Bakhtiar: It is a formality; that you have applied.
    (جناب یحییٰ بختیار: یہ ایک فارملٹی ہے۔ جس کو آپ اپنا رہے ہیں)
    Mr. Chairman: It is a cross-examination. It may be carried to one day, two days, three days. It is a continuing process. And the oath is for the entire examination.
    (جناب چیئرمین: یہ جرح ہے جو دو تین دن تک چل سکتی ہے۔ جو حلف اٹھایا گیا ہے وہ مکمل جرح کے لئے اٹھایا گیا ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: This is just a formality.
    (جناب یحییٰ بختیار: یہ ایک صرف فارملٹی ہے)
    Mr. Chairman: No, then we have to go on for oath daily.
    (جناب چیئرمین: ہم روزانہ حلف اٹھانے کی طرف نہ جائیں گے)
    Yes, Mr. Attorney- General to continue.
    (جی ہاں! جناب اٹارنی جنرل جاری رکھیں)
    ----------
    • Like Like x 1
  5. ‏ نومبر 25, 2014 #5
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    CROSS- EXAMINATION OF THE QADIANI GROUP DELEGATION

    Mr. Yahya Bakhtiar (Attorney- General of Pakistan): Mirza Sahib, I don't want to waste your time or the time of the House. It is valuable. But for the purpose of clarification, I will repeat one or two questions again because I am not sure what the reply was yesterday.
    You said, Sir, that there are two categories of Kafirs: One category is Kafirs who fall outside the pale of Islam. Rather does it? Am I correct in understanding you?
    (جناب یحییٰ بختیار: میں ایوان کا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ لیکن بطور وضاحت عرض کروں گا کہ میں نے دو ایک سوال جو پہلے کئے تھے دہراؤں گا۔ کیونکہ ان کے جو جواب کل دئیے گئے وہ کیا تھے۔ مجھے صحیح طور پر یاد نہیں۔ (مرزاناصر احمد سے مخاطب ہوکر) جناب تو کافر دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک کافر وہ ہے جو دائرہ اسلام سے خارج ہے کیا میں نے صحیح سمجھا ہے؟)
    215مرزاناصر احمد (گواہ، سربراہ جماعت احمدیہ، ربوہ): جی! میں اس کی وضاحت کر دیتا ہوں۔ کل میں نے یہ عرض کی تھی… جیسا کہ پہلے بھی سلف صالحین، بزرگوں نے یہ وضاحت کی ہے… کہ ’’ایمان دون ایمان‘‘ ایمان کے بھی درجات ہیں اور ’’کفر دون کفر‘‘ کفر کے بھی درجات ہیں۔ ابن تیمیہ بڑے مشہور ہمارے عالم ہیں اور اہل حدیث کے نزدیک امام ہیں۔ وہ لکھتے ہیں اپنی کتاب ’’کتاب الایمان‘‘ ہیں: ’’الکفر کفر ان احدہما ینقل عن الملۃ والاخر لا ینقل عن الملۃ‘‘ کہ کفر کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ کفر جو ملت اسلامیہ سے خارج کر دیتا ہے اور ایک وہ کفر جو ملت اسلامیہ سے خارج نہیں کرتا۔ جو کفر ملت اسلامیہ سے خارج نہیں کرتا وہ کفر بھی ہے اور اس کو ہم… یعنی ملت اسلامیہ سے خارج نہیں کرتا۔ لیکن جماعت احمدیہ کے محاورہ میں دائرہ اسلام سے خارج کر دیتا ہے۔ ’’دائرہ اسلام‘‘ اور ہے اور ’’ملت اسلامیہ‘‘ اور ہے تو جو کفر دائرہ اسلام سے خارج کرتا ہے۔ لیکن ملت اسلامیہ سے خارج نہیں کرتا۔ اس کے لئے ہمیں سیاسی تعریف آنحضرتa کے ارشادات پر مبنی بنانی چاہئے اور وہ کفر جو ملت اسلامیہ سے خارج کر دیتا ہے… مثلاً کلمہ طیبہ کا انکار… کلمہ طیبہ کے انکار کے بعد ملت اسلامیہ میں نہیں رہتا۔ دائرہ اسلام کا سوال نہیں، ملت اسلامیہ، میں ہی نہیں رہتا وہ۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: Now, Sir, if.... shall I ask or you want to complete this?
    مرزاناصر احمد: ہاں جی! ہیں جی؟
    Mr. Yahya Bakhtiar: Shall I ask you further question? (جناب یحییٰ بختیار: اب میں جناب سے ایک سوال کرتا ہوں)
    Mirza Nasir Ahmad: Yes.
    (مرزاناصر احمد: جی ہاں!)
    216Mr. Yahya Bakhtiar: Now, Sir, if a Muslim, as I submitted yesterday, accepts all the Prophets but does not accept Hazrat Isa as a Nabi, in which category he come of Kafir? Outside Daera-e-Islam (دائرہ اسلام) or outside Daera-e-Millat (دائرہ ملت)?
    (جناب یحییٰ بختیار: جیسے میں نے کل عرض کیا تھا اگر ایک مسلمان تمام رسولوں کو مانتا ہے مگر حضرت عیسیٰ کو بحیثیت نبی نہیں مانتا تو وہ کون سی قسم میں کافروں کی آتا ہے۔ دائرہ اسلام سے خارج ہوتا ہے یا دائرہ ملت سے خارج ہوتا ہے؟)
    مرزاناصر احمد: جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت سے انکاری ہے۔ ایسے لوگوں کو ہم دو قسموں میں منقسم کریں گے۔ ایک وہ جن کو یہ علم نہیں۔ قرآن کریم یہ مطالبہ کرتا ہے کہ ان کی نبوت کا اقرار کیا جائے۔ عوام جو ہیں ان کو قرآن کریم ناظرہ بھی نہیں آتا۔ ان میں سے اگر کسی شخص کے دماغ میں یہ بات ہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا انکار کوئی ایسی اہم بات نہیں ہے تو وہ ایسا شخص عدم علم کی وجہ سے ان پڑھ ہونے کی وجہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کا انکار کرتا ہے۔ وہ ملت اسلامیہ سے خارج نہیں ہوتا۔ اگرچہ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ لیکن وہ شخص جو خدا کے حضور کھڑا ہوکے بغاوت کا ’’ابیٰ واستکبر‘‘ کی طرح اعلان کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں جانتا ہوں کہ قرآن عظیم ہم سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ پہلے تمام انبیاء پر ایمان لاؤ اور قرآن عظیم اس مطالبے کے ساتھ… خود بتاتا ہے… کہ انبیاء علیہم السلام میں سے وہ ہیں جن کا ذکر نام لے کر قرآن عظیم میں بیان ہوا ہے اور (ایک) وہ ہیں جن کا ذکر قرآن کریم میں بیان نہیں ہوا۔ تو ایک مجملاً جو بھی نبی آئے ہیں ہم ان پر ایمان لاتے ہیں اور ایک کو تفصیلاً یعنی وہ تمام انبیاء جن کا نام قرآن کریم میں آیا ہے ان پر ہم ایمان لاتے ہیں… جو بغاوت کر کے، باغیانہ طریق اختیار کر کے ’’ابیٰ واستکبر‘‘ کے نتیجہ میں کہتا ہے کہ خدا حکم دیتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو نبی مانو، میں نہیں مانتا، تو وہ ملت اسلامیہ سے خارج ہوگیا۔لیکن جو پہلی کیٹگری ہے وہ ملت اسلامیہ سے خارج نہیں ہوئی۔ دائرہ اسلام سے خارج ہوگئی۔
    217جناب یحییٰ بختیار: مرزاصاحب! جو مسلمان مرزاغلام احمد کو نبی نہیں مانتے، وہ بھی دو کیٹگریز ہیں ان کی؟
    مرزاناصر احمد: وہ بھی دو کیٹگریز ہیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: اسی طرح؟
    مرزاناصر احمد: …ہاں، بالکل! یعنی ایک وہ لوگ ہیں جو… بعض دفعہ ہمیں بھی شبہ پڑتا ہے۔ لیکن ہم تو انسان ہیں، عالم غیب نہیں کہ یہ سمجھ گئے ہیں۔ مگر انکار پر اصرار کر رہے ہیں… اگر واقع میں وہ ایسے ہیں تو ملت اسلامیہ سے خارج ہیں۔ لیکن جن کو یہ علم نہیں اور وہ انکار کر رہے ہیں۔ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ لیکن ملت اسلامیہ سے خارج نہیں۔ اسی وجہ سے ہمارے بانی سلسلہ، آپ کے جو نائبین تھے… اس وقت تیسرا نائب میں یہاں بیٹھا ہوں… ہم میں سے کسی نے بھی کسی جگہ ایک دفعہ بھی، جن کو عام محاورے میں لوگ کہہ دیتے ہیں غیر احمدی، ان کو غیرمسلم نہیں کہا، کہا ہی نہیں… لٹریچر میں ہمارے وہ ہے ہی نہیں کہ وہ غیرمسلم ہیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: غیر مسلم، کا مطلب ملت سے باہر ہوگا؟
    مرزاناصر احمد: ہاں! یعنی کہا ہی نہیں، ایک دفعہ بھی نہیں کہاگیا۔ وہ ملت اسلامیہ سے باہر نہیں، لیکن دائرہ اسلام سے خارج ہے… یہ دو ہم کرتے ہیں۔ یہ دو فرق کر رہے ہیں۱؎۔
    جناب یحییٰ بختیار: ان دو کیٹگریز سے آپ کے تعلقات میں کچھ فرق ہے کہ دونوں سے ایک جیسے تعلقات رکھتے ہیں آپ؟ دو کیٹگریز کے کافر ہیں۔ ایک ملت سے باہر ہیں ایک دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔
    مرزاناصر احمد: ہاں جی! ہاں جی! ٹھیک ہے۔
    218جناب یحییٰ بختیار: آپ کے تعلقات ان دونوں سے ایک جیسے ہیں یا مختلف ہیں؟
    مرزاناصر احمد: میں سمجھ گیا ہوں۔ سوال میں سمجھ گیا ہوں۔ مختلف ہیں۔ ایک سے ہمارا انسانیت کا تعلق ہے۔ جو انسان اور انسان کے درمیان ہونا چاہئے۔ کیونکہ انسان اور انسان کا رشتہ ملت کا رشتہ نہیں ہے۔ یہ وہ رشتہ ہے جو ملت کا تو نہیں لیکن قرآن کریم نے بڑا زور دے کے اس رشتہ کو قائم کیا: قل انما انا بشر مثلکم اس کے… اس میں مخاطب سارے بشر ہیں، اور اپنی انسانی اقدار میں ان کے آپس میں تعلقات ہیں۔ کچھ عقل نے قائم کئے اور حقیقتاً، بنیادی طور پر اسلام نے قائم کئے۔وہ لوگ جو باغیانہ راہ اختیار کر کے انکار کرتے ہیں اور ہمارے نزدیک ملت اسلامیہ سے خارج ہو جاتے ہیں۔ ان کے ساتھ ہمارے تعلقات انسان اور انسان کے تعلقات ہیں۔ وہ بھی پیار اور محبت کے تعلقات ہیں۔لیکن جو ملت اسلامیہ سے خارج نہیں، لیکن دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ ان کے ساتھ تو ہمارے بہت گہرے تعلقات ہیں۔ ان سے تو اتنا پیار ہمارے دل میں نبی اکرمﷺ کا پیدا کیا۔ بانی سلسلہ احمدیہ نے، کہ ان کے لئے بھی ہمارے دل میں پیار، تڑپ ہے۔ آپ نے فرمایا ؎
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۱؎ مرزاغلام احمد قادیانی نے تحریر کیا۔ ’’خداتعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔‘‘ (تذکرہ ص۶،۷) مسلمان نہیں یعنی ملت اسلامیہ سے خارج؟ مرزاقادیانی کچھ کہتا ہے۔ مرزاناصر کچھ کہتا ہے۔ قادیانی بتائیں سچا کون اور جھوٹا کون؟
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    اے دل تو نیز خاطر ایں نہ نگہدار
    کافر کند چو دعویٰ حب پیمبرم
    تو یہ فرق ہے ہر دو میں۔
    • Like Like x 1
  6. ‏ نومبر 25, 2014 #6
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (مسلمان، عیسائی ایک جیسے ہیں؟)
    جناب یحییٰ بختیار: میں آپ کی توجہ مرزابشیرالدین محمود صاحب۱؎ کی ایک تحریر یا تقریر کی طرف دلانا چاہتا ہوں۔ وہ فرماتے ہیں کہ جی: ’’حضر219ت مسیح موعود نے غیراحمدیوں کے ساتھ صرف وہی سلوک جائز رکھا جو نبی کریمﷺ نے عیسائیوں کے ساتھ کیا، غیراحمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں۔ ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دیا گیا۔ ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا۔ اب باقی کیا رہ گیا ہے جو ہم ان کے ساتھ مل کر کر سکتے ہیں۔ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں۔ ایک دینی اور دوسرے دنیاوی۔ دینی تعلقات کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے۔ دنیاوی تعلقات کا بھاری ذریعہ رشتہ ناطہ ہے تو یہ دونوں ہمارے لئے حرام قرار دئیے گئے۔ اگر کہو کہ ہم کو ان کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے تو میں کہتا ہوں کہ نصاریٰ کی لڑکیاں لینے کی بھی اجازت ہے اور اگر یہ کہو کہ غیراحمدی کو سلام کیوں کیا جاتا ہے اس کا جواب ہے۔ حدیث سے ثابت ہے کہ بعض اوقات نبی کریمﷺ نے یہود تک کو سلام کا جواب دیا۔‘‘
    (کتاب ریویو آف ریلیجنز ص۱۶۹،۱۷۰، ج۱۴ نمبر۳،۴، مارچ، اپریل ۱۹۱۵ئ)
    مرزاناصر احمد: جی سوال کیا ہے؟
    جناب یحییٰ بختیار: میں عرض کر رہا ہوں کہ یہ تعلق جو انہوں نے کہا ہے کہ ان سے بالکل کوئی تعلق نہیں رہتا۔ یہ دونوں کیٹگریز کے لئے ہے یا ایک کیٹگری کے لئے ہے جن کو وہ کافر سمجھتے ہیں… غیر احمدی؟
    The word is not even used. The word, Sir, is not used "Kafir" at all. Non Ahmadi, who does not accept Mirza Ghulam Ahmad.
    غیراحمدی۔ (غیراحمدی یعنی جو شخص مرزاغلام احمد کو نہیں مانتا)
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۱؎ بشیر الدین محمود نہیں۔ بلکہ مرزاقادیانی کا بیٹا بشیر احمد مراد ہے اور یہ اسی بشیر احمد کی کتاب ہے۔
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    مرزاناصر احمد: نہیں، نہیں، غیراحمدی میں نے بتایا کہ دو قسم کی کیٹگریز میں آ جاتے ہیں۔ یہ وہ ہیں جو پہلی کیٹگری میں ہیں، جو باغیانہ رویہ اختیار کرتے ہیں اور جانتے… یہ سمجھنے کے بعد کہ بانی سلسلہ اپنے دعویٰ میں سچے ہیں، پھر بھی انکار کرتے ہیں۔
    220Mr. Yahya Bakhtiar: In other words, Sir....
    مرزاناصر احمد: لیکن وہ غیراحمدی جو دوسری کیٹگری میں ہیں ان کے متعلق نہیں کہتے۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: In other words, you allow your Girls to marry the other categories of non-Ahmadies?
    مرزاناصر احمد: نہیں، ان کی… Allow جو ہے ناں لفظ
    Mr. Yahya Bakhtiar: I mean you have no objection. I could put it that way.
    مرزاناصر احمد: ہاں! اس کی وضاحت ہونی چاہئے تھی۔ ہماری Objection جو ہے وہ اس بنیاد کے اوپر ہے کہ ہمارے خلاف یہ فتویٰ دیا گیا ہے کہ ان کی لڑکیاں نہیں لینی اور جو وہابی یا بریلوی یا دیوبندی یا اہل حدیث یا اہل قرآن اپنے فتویٰ کے خلاف احمدی بچی سے شادی کرتا ہے۔ ہمارا تجربہ یہ ہے کہ وہ دونوں کی زندگیاں تلخ ہو جاتی ہیں۔ اس وہابی خاوند کی بھی اس احمدی لڑکی کی بھی، اس لئے ہم Object کرتے ہیں۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: Not as a matter of faith but as a matter of expediency you refuse?
    مرزاناصر احمد: شرعی نہیں ہے۔ یہ فتویٰ ایک تو شریعت کا فتویٰ ہے ناں…
    جناب یحییٰ بختیار: اگر یہ علماء فتویٰ نہ دیتے…
    مرزاناصر احمد: یہ شرعی فتویٰ نہیں… جیسے یہ ایک… یہ جو ہے رشتہ ناطہ کا سوال:
    ’’یہ شخص (یعنی بانی سلسلہ… یہ میں اپنی طرف سے کہہ رہا ہوں) یہ شخص مرتد ہے اور اہل اسلام کو ایسے شخص سے ارتباط رکھنا حرام ہے۔ اسی طرح جو لوگ اس پر عقیدہ رکھتے ہیں وہ بھی کافر ہیں اور ان کے نکاح باقی نہیں رہے۔ جو چاہے ان کی عورتوں سے نکاح کرے۔‘‘
    221تو ان فتوؤں کے بعد ازدواجی زندگی کا جو پیار اور حسن سلوک کا جو معاشرہ اور حالات پیدا ہوتے ہیں وہ نہیں ہوسکتے۔ اس واسطے یہ شرعی فتویٰ نہیں۔ لیکن We object to it.
    • Like Like x 1
  7. ‏ نومبر 25, 2014 #7
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (غیراحمدی عورت سے قادیانی مرد کا رشتہ؟)
    Mr. Yahya Bakhtiar: نہیں You object to it because relations will not be happy. But if an Ahmadi marries a non-Ahmadi girl, the relation will be all right? It will be happy? Further it is...
    (جناب یحییٰ بختیار: آپ کے اعتراض کی وجہ یہ ہے کہ تعلقات خوشگوار نہیں رہیں گے۔ لیکن اگر احمدی لڑکا غیراحمدی لڑکی سے شادی کر لے تو پھر سب کچھ ٹھیک ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: No, we don't like.....
    نہیں، نہیں،…
    Mr. Yahya Bakhtiar: It is what Mirza Sahib says.
    کہ عیسائیوں کی طرح ان کی لڑکیوں سے بھی شادی کر سکتے ہیں۔
    Mirza Nasir Ahmad: It would be Happier than that in the previous case.
    اس واسطے کہ ہمارا جو ہے احمدی نوجوان، اس سے ہم توقع رکھتے ہیں… ضروری نہیں کہ وہ ہماری توقع پوری کر دے۔ اس سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ تمام حقوق اپنی بیوی کے ادا کرے گا جو اسلام نے اس پر عائد کئے ہیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: اور آپ غیراحمدی سے یہ توقع نہیں کرتے؟
    مرزاناصر احمد: اس فتویٰ کے بعد میں توقع نہیں کرتا۔
    جناب یحییٰ بختیار: اچھا! مرزاصاحب!…
    مرزاناصر احمد: اور یہ فتویٰ جو ہے یہ اس کا حوالہ نوٹ کر لیں تاکہ… یہ اشاعت السنۃ ج۱۳ صفحہ۵ کے اوپر ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: یعنی دونوں کیٹگریز کے جو مسلمان ہیں۔ جہاں تک شادی کا تعلق ہے، یہ عیسائیوں کی طرح ٹریٹ ہوں گے؟
    222مرزاناصر احمد: جہاں تک شادی کا تعلق ہے تو پہلی کیٹگری جو ہے…
    جناب یحییٰ بختیار: وہ تو Clear ہے جی۔
    مرزاناصر احمد: وہ تو عیسائیوں کی طرح ٹریٹ ہوں گے۔
    جناب یحییٰ بختیار: دوسری کیٹگری جو ہے؟
    مرزاناصر احمد: جو دوسری کیٹگری ہے اس پر شرعی کوئی نہیں فتویٰ۔
    جناب یحییٰ بختیار: شرعی نہیں، But in fact آپ نہیں کرتے؟
    مرزاناصر احمد: شرعی کوئی نہیں فتویٰ۔
    جناب یحییٰ بختیار: اور نماز کے بارے میں؟
    • Like Like x 1
  8. ‏ نومبر 25, 2014 #8
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (نمازجنازہ کی بحث)
    مرزاناصر احمد: نماز کے بارے میں انہوں نے یہ بھی فتویٰ دے دیا۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: Supposing there is no fatwa at all, but what is your faith, what is your belief?
    (جناب یحییٰ بختیار: فرض کریں کوئی فتویٰ نہیں ہے تو پھر آپ کے کیا اعتقاد اور یقین ہیں؟)
    Mirza Nasir Ahmad: No, why supposing a thing which does not exist?
    (مرزاناصر احمد: کیوں فرض کریں۔ ایسی بات جو وجود میں نہیں؟)
    Mr. Yahya Bakhtiar: But, Sir, supposing there had been no Fatwa at all...
    Mirza Nasir Ahmad: In that realm of unreality, you might issue any fatwa.
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, but supposing....
    (جناب یحییٰ بختیار: فرض کریں کوئی فتویٰ سرے سے نہیں ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: Why suppose unreality?
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, but You think that the only reason is "Fatwa"?
    (جناب یحییٰ بختیار: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ فتویٰ دینے کے لئے فتویٰ کی کوئی وجہ ہوتی ہے؟)
    مرزاناصر احمد: میرا دماغ بڑا کمزور ہے۔ میں جو غیرحقیقی چیزیں ہیں وہ تخیل میں ہی نہیں لاسکتا۔
    223جناب یحییٰ بختیار: میں آپ سے پھر گذارش کرتا ہوں کہ پہلے تو یہ اگر فتویٰ نہ ہوتا…
    مرزاناصر احمد: اگر فتویٰ نہ ہوتا تو یہ حالات نہ ہوتے اور اگر فتویٰ نہ ہوتا تو یہ شادی، بیاہ، جنازہ، نماز پڑھنا، یہ حالات ہی نہ ہوتے۔ ان فتاویٰ نے پہل کر کے تو سارے حالات پیدا کر دئیے۔
    جناب یحییٰ بختیار: ویسے عقیدے کے لحاظ سے آپ کو کوئی اعتراض نہیں ہے؟
    مرزاناصر احمد: ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ جو اس قسم کے فتوے دے ان کے ساتھ…
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اگر فتوے نہ دے؟
    مرزاناصر احمد: اگر فتوے نہ دے اور وہ… اس کا… سلوک ہی اس کے ساتھ اور ہو جائے گا۔
    جناب یحییٰ بختیار: تو آپ یہ فرمائیے کہ جو آدمی فتویٰ دے…
    مرزاناصر احمد: جو آدمی فتویٰ دے یا جو خاموشی سے اس کا ساتھ دے اور…
    جناب یحییٰ بختیار: اور جو فتویٰ نہ دے اس کے ساتھ بھی وہی سلوک؟ یا مختلف ہوگا؟
    مرزاناصر احمد: نہیں، نہیں۔ آپ کنفیوز (Confuse) کر دیتے ہیں ایشو (Issue)۔ ایک ہے فتویٰ۔ ایک شخص فتویٰ نہیں دیتا۔ لیکن اس کے پیچھے لگتا ہے، مفتی کے، اور آپ ان دو کو علیحدہ علیحدہ کر دیتے ہیں۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: I will put it in a different way. If a person is not aware of "Fatwa" but he believes it is his faith.....
    (جناب یحییٰ بختیار: میں اس بات کو دوسرے پیرائے میں کہتا ہوں۔ فرض کریں کہ ایک شخص کو فتویٰ کا علم نہیں ہے۔ مگر یقین رکھتا ہے کہ یہی اس کا اعتقاد ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: He has blind faith in his religious leader who has issued the Fatwa.
    224Mr. Yahya Bakhtiar: No, no, not in the Maulvi, Sir. What I was submitting is that a Muslim feels and he has his faith that after the Holy Prophet Muhammad (a) on other Prophet of any category or kind can come. This is his.....
    (جناب یحییٰ بختیار: میں یہ کہہ رہا ہوں کہ ایک مسلمان یہ محسوس کرتا ہے اور اس کا اس میں اعتقاد بھی ہے کہ حضورa کے بعد کوئی اور نبی کسی قسم کا کسی نوعیت کا نہیں آئے گا اور نہ آسکتا ہے۔ اس کے بعد نہ اس نے غلام احمد کا نام سنا اور نہ کسی فتویٰ کا)
    مرزاناصر احمد: آں! یہ ٹھیک ہے۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: After that, he has never even heard of Mirza Ghulam Ahmad, he never heard of any Fatwa....
    مرزاناصر احمد: یہ ان… دو مہینے جو گذرے ہیں پیچھے، اس کے بعد تو ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس نے کبھی سنا نہیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: میں سمجھتا ہوں کہ شاید سب نے… فرض کیجئے قائداعظم نے نہیں سنا
    مرزاناصر احمد: کس نے؟
    • Like Like x 1
  9. ‏ نومبر 25, 2014 #9
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (قائداعظم کو قادیانیوں کے خلاف فتوے کا علم تھا)
    جناب یحییٰ بختیار: … قائداعظم نے ان فتوؤں کے بارے میں نہیں سنا۔
    His faith was that one other Prophet would come....
    مرزاناصر احمد: ان کے اتنے گہرے تعلقات احمدیوں کے ساتھ تھے کہ آپ کی Supposition میرے نزدیک غلط ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، فتوؤں کا میں کہہ رہاہوں۔
    مرزاناصر احمد: ہاں! فتوؤں کا میں بھی کہہ رہا ہوں۔ عبدالحمید بدایونی صاحب، حامد بدایونی صاحب نے اجلاس لاہور میں ان سے اس معاملہ پر بحث کی ہے اور آپ کہتے ہیں کہ ان کو علم نہیں تھا؟
    جناب یحییٰ بختیار: انہوں نے فتویٰ دیا ہے؟
    225مرزاناصر احمد: ہاں! انہوں نے قرارداد پیش کی تھی۔ انہوں نے قرارداد پیش کی۔
    جناب یحییٰ بختیار: قائداعظم نے؟
    مرزاناصر احمد: نہیں، نہیں۔ حامد بدایونی صاحب نے۔
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں! انہوں نے تو فتویٰ دیا۔ قائداعظم نے بھی کوئی فتویٰ دیا؟
    مرزاناصر احمد: قائداعظم کے سامنے انہوں نے یہ قرارداد پیش کی تھی۔ اس واسطے قائداعظم کو ان فتاویٰ کا علم تھا۔ اس وقت صرف یہ بات ہورہی ہے کہ علم تھا یا نہیں تھا۔
    جناب یحییٰ بختیار: آپ کا یہ خیال ہے کہ انہوں نے اس کو سپورٹ (Support) کیا؟
    مرزاناصر احمد: میرا یہ خیال ہے کہ انہوں نے اس کفر کے فتوے کے خلاف کوئی فتویٰ صادر نہیں کیا۔
    جناب یحییٰ بختیار: اچھا جی! اگر کوئی آدمی سن نہیں سکتا، دیکھ نہیں سکتا،…
    مرزاناصر احمد: مرفوع القلم اس کو کہتے ہیں ہماری زبان میں۔
    جناب یحییٰ بختیار: اس کے بارے میں بھی آپ یہی کہتے ہیں کہ اس نے Repudiate نہیں کیا؟
    مرزاناصر احمد: اس کو ہم مرفوع القلم کہتے ہیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: وہ بھی کافروںکی اس کیٹگری میں آجاتا ہے؟
    مرزاناصر احمد: وہ…
    جناب یحییٰ بختیار: اس نے تو نہیں مانا۔
    226مرزاناصر احمد: وہ مرفوع القلم ہے۔ اس کے اوپر کوئی شرعی حکم لگتا ہی نہیں۔ جو پاگل ہے، جس کے حالات اس قسم کے ہیں…
    جناب یحییٰ بختیار: جس شخص نے…
    مرزاناصر احمد: … کوئی مواخذہ نہیں ہے۔ اسلام کہتا ہے کہ اﷲتعالیٰ اس سے مواخذہ ہی نہیں کرے گا۔
    جناب یحییٰ بختیار: اور اگر کوئی بچہ ہو چھ سال کا، دوسال کا، چھ مہینے کا وہ تو کوئی Repudiate نہیں کر سکتا۔ جی فتوے کو؟ چھوٹا بچہ چھ مہینے کا…
    Mirza Nasir Ahmad: On both sides....
    (مرزاناصر احمد: دونوں طرف وہی بات ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: ....he cannot repudiate, he is not capable of repudiation. جی!
    (جناب یحییٰ بختیار: وہ اپنانے سے انکار نہیں کر سکتا۔ کیونکہ وہ انکار کی اہلیت نہیں رکھتا)
    مرزاناصر احمد: یہ تو موٹی بات ہے۔ اپنے والدین کے مذہب کے اوپر بچے ہیں۔ اگر جب وہ جوان ہو جائے تو پھر وہ Repudiate کر دے تو وہ اپنے ماں باپ کے مذہب سے علیحدہ ہو جاتا ہے اور اگر نہ کرے تو ان کے ساتھ چلتا ہے۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: Now, Sir, I will ask you another question. If you don't mind. In tribal society a brother is responsible for the sins and crime of his brother. But in Islam and in civilised society, I am responsible for my crime, for my sin, and but not for my brother's crime or my brother's sin. It is correct or not?
    (جناب یحییٰ بختیار: میں ایک دوسرا سوال کرتا ہوں۔ قبائلی معاشرے میں ایک بھائی دوسرے بھائی کے جرائم وگناہوں کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ لیکن اسلام میں اور تمدنی مہذب معاشرے میں اپنے جرم کا میں خود ذمہ دار ہوں اور اپنے بھائی کے جرائم کا نہیں ہوں۔ یہ بات صحیح ہے یا نہیں؟)
    مرزاناصر احمد: لا تزر وازرۃ وزر اخریٰ ہر شخص اپنے اعمال کا خود جوابدہ ہے اﷲتعالیٰ کے سامنے، قرآن کریم کہتا ہے۔ ہاں!…
    • Like Like x 1
  10. ‏ نومبر 25, 2014 #10
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (مسلمان بچوں کا حکم عیسائیوں بچوں جیسا؟)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, if the child's father has committed the sin of not accepting.... from your point of view.... Mirza Ghulam Ahmad as Nabi....
    (جناب یحییٰ بختیار: میں آپ سے آپ کے نقطۂ نظر سے سوال کرتا ہوں۔ ایک بچے کا والد ہے جس نے یہ گناہ کیا ہے کہ اس نے غلام احمد کو نبی نہیں مانا۔ اس آدمی کا ایک چھ ماہ کا بچہ ہے تو کیا آپ اس بچے کو باپ کے گناہ کی وجہ سے سزا نہیں دیں گے؟)
    227مرزاناصر احمد: اور وہ اپنے گھر میں…
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... his six month's old child, are you punishing him also for the sin of his father?
    Mirza Nasir Ahmad: No, we won't punish the boy.
    Mr. Yahya Bakhtiar: Has not Mirza Bashir-ud-din said:
    ’’اس کا جنازہ بھی مت پڑھو۔ جیسے عیسائی بچوں کا جنازہ نہیں پرھتے۔‘‘
    Mirza Nasir Ahmad: جنازہ نہ پڑھنا is not a punishment.
    Mr. Yahya Bakhtiar: But why?
    Mirza Nasir Ahmad: It is not a punishment; I tell you why.
    نماز جنازہ متفقہ طور پر آئمہ فقہ کے نزدیک فرض کفایہ ہے۔ یہ فرض نہیں ہے۔ یہ فرض کفایہ ہے اور فرض کفایہ فقہ میں اس فرض کو کہتے ہیں کہ اگر امت مسلمہ کے چند آدمی اس فرض کو ادا کردیں تو کسی پر گناہ نہیں ہے۔ اگر اس بچے کا بیس آدمی یا دس آدمی جنازہ پڑھ لیتے ہیں تو جو جنازہ نہیں پڑھتے وہ کسی گناہ کے مرتکب نہیں ہورہے۔ یہ فتویٰ ہماری فقہ کا فتویٰ ہے اور متفقہ فتویٰ جو گناہ ہی نہیں وہ Punishment (سزا) کیسے بن گئی؟
    Mr. Yahya Bakhtiar: My question was, the way you treat muslims of different categories, who don't belong to Ahmadi's school of thought, any distinction do you make between the two categories?
    جو دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور جو ملت اسلامیہ سے خارج ہیں۔ ان دو کیٹگریز کی آپ نے وضاحت کی۔ میں پوچھتا ہوں کہ کس Sense میں ان دونوں میں آپ…
    228مرزاناصر احمد: یہ دو کیٹگریز کی جو وضاحت کی میں نے، وہ صرف دسواں حصہ کی باقی نو حصے باقی ہیں۔ وہ آپ اگر سن لیں؟
    Mr. Yahya Bakhtiar: نہیں جی! .... we are here; because we want the issue to be clarified.
    مرزاناصر احمد: یہ نماز پڑھنے کا تھا ناں سوال۔ اب یہ سن لیں باقی حصے نو جو ہیں، یا کم وبیش نو۔ یہ ایک فتویٰ ہے: ’’یہ فتویٰ دینے والے صرف ہندوستان کے علماء ہی نہیں بلکہ جب وہابیہ دیوبندیہ کی عبارتیں ترجمہ کر کے بھیجی گئیں تو افغانستان، جاوا، بخارا، ایران، مصر، روم، شام اور مکہ معظمہ ومدینہ منورہ وغیرہ تمام دیار عرب وکوفہ بغداد شریف غرض تمام جہان کے علماء اہل سنت نے بالاتفاق یہ فتویٰ دیا ہے۔‘‘
    فتویٰ یہ ہے: ’’وہابیہ دیوبندیہ اپنی عبارتوں میں تمام اولیائ، انبیائ، حتیٰ کہ حضرت سیدالاولین وآخرینa کی اور خاص ذات باری تعالیٰ شانہ کی اہانت وہتک کرنے کی وجہ سے قطعاً مرتد وکافر ہیں اور ان کا ارتداد کفر میں سخت سخت سخت اشد درجہ تک پہنچ چکا ہے۔ ایسا کہ جوان مرتدوں اور کافروں کے ارتداد وکفر میں ذرا بھی شک کرے وہ بھی انہی جیسا مرتد اور کافر ہے اور جو اس شک کرنے والے کے کفر میں شک کرے تو وہ بھی مرتد وکافر ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ ان سے بالکل ہی محترز، مجتنب رہیں۔ ان کے پیچھے نماز پڑھنے کا تو ذکر ہی کیا اپنے پیچھے بھی ان کو نماز نہ پڑھنے دیں اور نہ اپنی مسجدوں میں گھسنے دیں۔ نہ ان کا ذبیحہ کھائیں اور نہ ان کی شادی غمی میں شریک ہوں۔ نہ اپنے ہاں ان کو آنے دیں۔ یہ بیمار ہوں229 تو عیادت کو نہ جائیں۔ مریں تو گاڑانے توپنے میں شرکت نہ کریں۔ مسلمانوں کے قبرستان میں جگہ نہ دیں۔ غرض ان سے بالکل احتیاط واجتناب رکھیں… پس وہابیہ ودیوبندیہ…‘‘
    Mr. Chairman: It is already in the Mahzar Nama, it need not be read; it is part of Mahzar Nama at page....
    (جناب چیئرمین: یہ تمام حوالہ جات محضر نامہ میں موجود ہیں۔ اس کو پڑھنے کی ضرورت نہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: The question is repeated.
    Mr. Chairman: .... at page 154.
    Mirza Nasir Ahmad: I beg....
    Mr. Chairman: Yes?
    Mirza Nasir Ahmad: ... to submit that I may be allowed to repeat....
    (مرزاناصر احمد: مجھے دہرانے کی اجازت مرحمت فرمائی جائے…)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, no, if he wants to emphasize that, I have no objection.
    (جناب یحییٰ بختیار: اگر یہ اصرار کرتے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: If you repeat the question. I will have to repeat the answer.
    (مرزاناصر احمد: جب آپ سوال دہراتے ہیں تو میں بھی جواب دہراؤں گا)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Certainly, certainly.
    مرزاناصر احمد: ’’پس وہابیہ، دیوبندیہ سخت سخت اشد مرتد وکافر ہیں۔ ایسے کہ جو ان کو کافر نہ کہے خود کافر ہو جائے گا۔ اس کی عورت اس کے عقد سے باہر ہو جائے گی اور جو اولاد ہوگی وہ حرامی ہوگی اور ازروئے شریعت ترکہ نہ پائے گی۔‘‘
    اس اشتہار میں جن علماء کے نام ہیں۔ ان میں چند ایک یہ ہیں۔ سید جماعت علی شاہ صاحب، حامد رضا صاحب قادری نوری رضوی بریلوی، محمد کرم دین، محمد جمیل احمد بدایونی، وغیرہ بہت سے علماء کے نام ہیں۔
    230ایک رخ یہ بھی ہے تصویر کا۔ ان کے بچوں کے متعلق بھی وہی فتویٰ ہے جس کے متعلق آپ مجھ سے وضاحت کروانا چاہتے ہیں اور یہ اس سے کہیں زیادہ سخت ہے اور یہ بہت سارے حوالے ہیں۔ میں ساروں کو چھوڑتا ہوں تاکہ وقت ضائع نہ ہو۔ یہاں آچکے ہیں۔
    اہل حدیث کے پیچھے نماز پڑھیں تو اس کے متعلق بریلوی ائمہ ہمیں غیرمبہم الفاظ میں خبردار کرتے ہیں کہ: ’’وہابیہ وغیر مقلدین زمانہ باتفاق علمائے حرمین شریفین کافر مرتد ہیں۔ ایسے کہ جو ان کے اقوال ملعونہ پر اطلاع پاکر انہیں کافر نہ جانے یا شک ہی کرے خود کافر ہے۔ ان کے پیچھے نماز ہوتی ہی نہیں۔ ان کے ہاتھ کا ذبیحہ حرام ہے۔ ان کی بیویاں نکاح سے نکل گئیں۔ ان کا نکاح کسی مسلمان، کافر یا مرتد سے نہیں ہوسکتا۔ ان کے ساتھ میل جول، کھانا پینا، اٹھنا بیٹھنا، سلام کلام سب حرام۔ ان کے مفصل احکام کتاب مستطاب حسام الحرمین شریف میں موجود ہیں۔‘‘
    یہ اہل حدیث کے متعلق نماز کا ذکر ہورہا ہے پیچھے نماز پڑھنے کے۔ باقی اس کے حوالے میں چھوڑتا ہوں۔ بریلویوں کے متعلق جہاں تک نماز پڑھنے کا سوال ہے دیوبندی علماء یہ شرعی حکم ہمیں سناتے ہیں: ’’جو شخص اﷲ جل شانہ کے سوا علم غیب کسی دوسرے کو ثابت کرے اور اﷲتعالیٰ کے برابر کسی دوسرے کا علم جانے وہ بے شک کافر ہے۔ اس کی امامت اور اس سے میل جول محبت ومودت سب حرام ہیں۔‘‘
    231یہ فتاویٰ رشیدیہ، حضرت مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کا ہے۔ جو ان کے مرشد ہیں۔ ان کا ہے یہ فتویٰ اور میں صرف ایک ایک فتوے کو صرف بتارہا ہوں تاکہ معاملہ جو ہے صاف کر سکوں۔ پرویزیوں اور چکڑالویوں کے متعلق نماز پڑھنے کے سلسلے میں یہ فتویٰ ہے: ’’چکڑالویت حضور سرور کائنات علیہ التسلیمات کے منصب ومقام اور آپ کی تشریحی حیثیت کی منکر اور آپ کی احادیث مبارکہ کی جانی دشمن ہے۔ رسول کریم کے ان کھلے باغیوں نے رسول کے خلاف ایک مضبوط محاذ قائم کر دیا ہے۔ جانتے ہو باغی کی سزا کیا ہے؟ صرف گولی۔‘‘
    شیعہ حضرات کے متعلق کہ ان کے پیچھے نماز ہوتی ہے یا نہیں: ’’بالجملہ ان رافضیوں، تبرائیوں کے باب میں حکم یقینی، قطعی، اجماعی یہ ہے کہ وہ علی العموم کفار مرتدین ہیں۔ ان کے ہاتھ کا ذبیحہ مردار ہے۔ ان کے ساتھ مناکحت نہ صرف حرام بلکہ خالص زنا ہے۔ معاذ اﷲ مرد رافضی اور عورت مسلمان ہو تو یہ سخت قہر الٰہی ہے۔ اگر مرد سنی اور عورت ان خبیثوں کی ہو جب بھی نکاح ہر گز نہ ہوگا۔ محض زنا ہوگا۔ اولاد ولد الزنا ہوگی۔ باپ کا ترکہ نہ پائے گی۔ اگرچہ اولاد بھی سنی ہی ہو، کہ شرعاً ولدالزنا کا باپ کوئی نہیں۔ عورت نہ ترکہ کی مستحق ہوگی نہ مہر کی کہ زانیہ کے لئے مہر نہیں۔ رافضی اپنے کسی قریب حتیٰ کہ باپ بیٹے، ماں بیٹی کا بھی ترکہ نہیں پاسکتا۔ سنی تو سنی کسی مسلمان بلکہ کسی کافر کے بھی یہاں تک کہ خود اپنے ہم مذہب رافضی کے ترکہ میں اس کا اصلاً کچھ حق نہیں۔ ان کے مرد، عورت، عالم، جاہل کسی سے میل جول، سلام وکلام سخت کبیرہ اشد حرام۔ جو ان کے ملعون عقیدوں پر آگاہ ہو کر بھی انہیں مسلمان جانے یا ان کے کافر ہونے میں شک کرے باجماع تمام ائمہ دین خود کافر بے دین ہے اور اس کے لئے بھی یہی سب احکام ہیں جو ان232 کے لئے مذکور ہوئے۔ مسلمان پر فرض ہے کہ اس فتویٰ کو بگوش ہوش سنیں اور اس پر عمل کر کے سچے پکے سنی بنیں۔‘‘
    (فتویٰ مولانا شاہ مصطفیٰ رضا خان بحوالہ رسالہ رد الرافضہ)
    یہ تو اس میں آگئے ہیں۔ یہاں یہ سوال نہیں کہ احمدی وہابیوں، دیوبندیوں وغیرہ کے پیچھے نماز کیوں نہیں پڑھتا یا ان کی شادیاں جو ہیں ان کو کیوں مکروہ سمجھا جاتا ہے۔ اس سے کہیں زیادہ سخت فتویٰ موجود ہیں۔ تو ساروں کو اکٹھا رکھ کے کوئی فیصلہ کرنا چاہئے ہمیں۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, I ask you that you don't say prayer because of the "Fatwah" or because of the matter of your own faith? Because if I don't accept Mirza Ghulam Ahmad as Nabi.....
    (جناب یحییٰ بختیار: میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ آپ فتویٰ کی وجہ سے پیچھے نماز نہیں پڑھتے۔ یا آپ کا اپنا اعتقاد بھی یہی ہے۔ کیونکہ اگر میں مرزاغلام احمد کو نبی نہیں مانتا…)
    مرزاناصر احمد: یہ جو میں نے فتاویٰ پڑھے ہیں ان میں تو نبی ماننے یا نہ ماننے کا سوال ہی نہیں ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: میں کہہ رہا ہوں کہ آپ ان کو کس کیٹگری میں فتوؤں میں شمار کرتے ہیں؟ جو بالکل دائرہ اسلام سے خارج کر دیتے ہیں؟
    مرزاناصر احمد: یہ تو وہ بتائیں گے ناں۔
    جناب یحییٰ بختیار: آپ کے نظریہ سے؟
    مرزاناصر احمد: یہ جو فتوے میں نے پڑھے ہیں؟
    جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں!
    مرزاناصر احمد: یہ تو جنہوں جنہوں نے فتوے دئیے ہیں، میں کیسے بتادوں کہ وہ کیا کرتے ہیں؟
    جناب یحییٰ بختیار: لیکن آپ جو Study (مطالعہ) کررہے ہیں…
    مرزاناصر احمد: میں نے جو Study (مطالعہ) کیا ہے وہ جو میرا استدلال ہے… مجھے اﷲتعالیٰ نے عقل دی ہے… میں اس یقین پر قائم ہوں کہ میرے استدلال کے وہ پابند نہیں ہیں۔
    233جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ پابند نہیں ہیں۔ مگر آپ کے نقطۂ نظر سے یہ دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتے ہیں یا ملت اسلامیہ سے؟
    مرزاناصر احمد: میں تو… حسن ظن کی طرف مائل ہوتا ہے میرا دماغ، اس لئے میرا دماغ اس طرف جاتا ہے کہ ان کے نزدیک بھی دائرہ اسلام سے خارج ہوتے ہیں۔ ملت اسلامیہ سے خارج نہیں ہوتے۔
    جناب یحییٰ بختیار: اور جو فتوے آپ کے متعلق (احمدیہ جماعت کے متعلق) دئیے ہیں علماء نے وہ کس قسم کے ہیں؟
    مرزاناصر احمد: جو علماء بیٹھے ہیں آپ…
    جناب یحییٰ بختیار: آپ کے Point of view (نقطۂ نظر) سے…
    مرزاناصر احمد: میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔
    جناب یحییٰ بختیار: … وہ آپ کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں یا…
    مرزاناصر احمد: وہی بتائیں گے۔
    جناب یحییٰ بختیار: … ملت اسلامیہ سے؟
    مرزاناصر احمد: ان کے متعلق میں کیسے بتادوں؟
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آپ نے کہا کہ…
    مرزاناصر احمد: باقیوں کے متعلق تو میں نے کہا ہے۔ کیونکہ میرا ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا۔ جب میں اپنے متعلق بات کروں گا تو سمجھا جائے گا کہ I am prejudiced against.... in favour of myself.
    Mr. Yahya Bakhtiar: No. Sir, you said yesterday that the Fatwa boomerangs. Now...
    (جناب یحییٰ بختیار: نہیں، جناب آپ نے کل کہا تھا کہ فتویٰ (کفرکا) واپس فتویٰ دینے والے پر پڑتا ہے)
    مرزاناصر احمد: وہ میرا جنرل آئیڈیا یہ ہے کہ اس کو، ان فتاویٰ کو معقولیت دینے کے لئے، معقولیت کا رنگ پہنانے کے لئے اور اسلام کے شیرازہ کو متحد رکھنے کے لئے ہم اس طرف234، ہمیں اس کی طرف مائل ہونا چاہئے کہ یہ فتاویٰ دائرہ اسلام سے خارج کرتے ہیں۔ ملت اسلامیہ سے خارج نہیں کرتے… ہمارے متعلق بھی اور آپس کے متعلق بھی۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, I again want to ask.... because this reply was not clear to me.... as to why the Janaza prayer of a child of six months.....
    (جناب یحییٰ بختیار: جناب میں دوبارہ آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں کیونکہ آپ کا جواب مجھے صاف نہیں معلوم ہوا۔ کیا وجہ ہے کہ ایک چھ ماہ کے بچے کی نماز جنازہ…)
    مرزاناصر احمد: جو بچے کا جنازہ ہے…
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی!
    مرزاناصر احمد: … وہ فرض ہی نہیں ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! فرض نہ سہی احمدی، بچے کا پڑھ لیں گے؟ کہتے ہیں کہ اس کا مت پڑھو اس کو۔ ایسے ہی جیسے عیسائی کا (نہیں) پڑھتے ہیں۔ ہندو کا (نہیں) پڑھتے ہیں…
    مرزاناصر احمد: نہیں، نہیں۔ وہ تو جو آپ حوالہ دیتے ہیں ناں، نہ میں اس کی تردید کرتا ہوں نہ تصدیق کرتا ہوں۔ اس واسطے کہ جب تک میں اصل نہ دیکھوں میں سمجھتا ہوں کہ آپ دیانت داری سے میرے ساتھ متفق ہوں گے کہ یہ مجھے تصدیق کرنی چاہئے نہ تردید کرنی چاہئے۱؎۔
    جناب یحییٰ بختیار: وہ تو ٹھیک ہے۔ اگر آپ اس سے انکار کرتے ہیں تو اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
    مرزاناصر احمد: نہیں، نہیں۔ نہ میں اس کی تصدیق کرتا ہوں نہ تردید کرتا ہوں۔
    جناب یحییٰ بختیار: اگر آپ اس کو تصدیق کردیں اس کے بعد میں کہوں گا۔
    مرزاناصر احمد: میں تو نہ تصدیق کرتا ہوں نہ تردید کرتا ہوں۔ جب تک Original کو Refer (کہ اصل کا حوالہ نہ دیکھ لوں) نہ کروں۔
    (مداخلت)
    235جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں۔ آپ Verify تو کر سکتے ہیں۔ نہیں تو ہم آپ کے سامنے پیش بھی کر سکتے ہیں۔
    مرزاناصر احمد: نہیں، نہیں۔ پیش تو ضرور کر سکتے ہیں۔ یہ آپ کا حق ہے۔ کون چھینتا ہے آپ سے؟
    Mr. Yahya Bakhtiar: Now, Sir, I draw your attention to the collection of speeches and addresses of Mirza Bashir-ud-din Mohammad Ahmad Sahib.
    (جناب یحییٰ بختیار: اب جناب! میں آپ کی توجہ مرزابشیرالدین محمود احمد صاحب کی تقریروں اور خطبات کے مجموعے کی طرف کراتا ہوں)
    مرزاناصر احمد: کیا نام ہے اس کا؟
    جناب یحییٰ بختیار: انوار خلاف صفحہ نمبر۹۳
    Mirza Nasir Ahmad: Page?
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۱؎ فرار کا راستہ ڈھونڈا جارہا ہے کہ اپنے چچا اور مرزا کے بیٹے کے حوالہ سے جان چھڑا رہے ہیں۔
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    جناب یحییٰ بختیار: صفحہ نمبر۹۳
    ’’اب ایک اور سوال رہ جاتا ہے کہ غیراحمدی تو حضرت مسیح موعود کے منکر ہوئے۔ اس لئے ان کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہئے۔‘‘
    Now, Sir, here I will respectfully say that no question of Fatwa has come. Here is a clear injunction on them.
    (اب جناب! یہاں میں گزارش کرتا ہوں کہ فتوے کا کوئی معاملہ نہیں ہے۔ یہاں ان پر صراحتاً واجب قرار دیا گیا ہے)
    مرزاناصر احمد: ہاں، ہاں!
    جناب یحییٰ بختیار: ’’لیکن اگر کسی غیراحمدی کا چھوٹا بچہ مر جائے تو اس کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے؟ وہ تو مسیح موعود کا مکفر نہیں۔‘‘
    Sorry, I don't know. مرزاناصر احمد: مکفر نہیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں!
    ’’میں یہ سوال کرنے والے سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ بات درست ہے تو پھر ہندوؤں اور عیسائیوں کے بچوں کاجنازہ کیوں نہیں پڑھا جاتا اور کتنے لوگ ہیں جو ان236 کا جنازہ پڑھتے ہیں؟ اصل بات یہ ہے کہ جو ماں باپ کا مذہب ہوتا ہے شریعت وہی مذہب ان کے بچے کا قرار دیتی ہے۔ پس غیراحمدی کا بچہ بھی غیراحمدی ہوا۔ اس لئے اس کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہئے۔ پھر میں کہتا ہوں کہ بچہ تو گنہگار نہیں ہوتا۔ اس کے جنازے کی ضرورت ہی کیاہے۔ بچے کا جنازہ تو دعا ہوتی ہے۔ اس کے پسماندگان کے لئے اور اس کے پسماندگان ہمارے نہیں۔ بلکہ غیراحمدی ہوتے ہیں۔ اس لئے بچے کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہئے۔ باقی رہا کوئی ایسا شخص جو حضرت صاحب کو تو سچا مانتا ہے۔ لیکن ابھی اس نے بیعت نہیں کی۔ احمدیت کے متعلق غور کر رہا ہے اور اس حالت میں مرگیا تو مرگیا۔ اس کو ممکن ہے کہ اﷲتعالیٰ کوئی سزا نہ دے۔ لیکن شریعت کا فتویٰ ظاہری حالات کے مطابق ہوتا ہے۔ اس لئے ہمیں اس کے متعلق بھی یہ کرنا چاہئے کہ اس کا جنازہ نہ پڑھیں۔‘‘ (انوار خلافت ص۹۳، مطبوعہ اکتوبر ۱۹۱۶ئ، سٹیم پریس امرتسر)
    مرزاناصر احمد: جی!
    Mr. Yahya Bakhtiar: So, this is a part of the reference. (جناب یحییٰ بختیار: ایسا ہے، تو یہ حوالے کا ایک حصہ ہے)
    مرزاناصر احمد: یہ ٹھیک ہے۔ یہ سوال جسٹس منیر کی انکوائری میں کیاگیا تھا۔ خود حضرت خلیفہ ثانی اور انہوں نے اس کا جو جواب دیا وہ میں سنا دیتا ہوں: ’’کیا آپ نے انوار خلافت صفحہ۹۳ پر کہا ہے…‘‘ آگے وہی اقتباس ہے جو آپ نے پڑھا۔
    ’’جواب: ہاں! لیکن یہ بات میں نے اس لئے کہی تھی کہ غیراحمدی علماء نے یہ فتویٰ دیا تھا کہ احمدیوں کے بچوں کو بھی مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ ہونے دیا جائے۔ واقعہ یہ ہے کہ احمدی عورتوں اور بچوں کی نعشیں قبروں سے اکھاڑ کر باہر پھینکی گئیں237۔ چونکہ ان کا فتویٰ اب قائم ہے۔ اس لئے میرا فتویٰ بھی قائم ہے۔ البتہ اب ہمیں بانی سلسلہ کا ایک فتویٰ ملا ہے۔ جس کے مطابق ممکن ہے غور وخوض کے بعد پہلے فتوے میں ترمیم کر دی جائے۱؎۔‘‘
    یہ جو ہے کہ احمدی بچوں کو دفن نہیںکیاگیا۔ اس کے متعلق یہ ۲۰؍اگست ۱۹۱۵ء کا واقعہ… الفضل ۱۹؍اکتوبر ۱۹۱۵ئ… یہ واقعہ جو ہوا ہے بچے کے متعلق، وہ ہے: ’’مالا بار کے ایک احمدی کے۔ ایس۔ حسن کا چھوٹا بچہ فوت ہوگیا۔ ریاست کے راجہ صاحب نے حکم دے دیا کہ چونکہ قاضی صاحب نے احمدیوں کے متعلق کفر کا فتویٰ دے دیا ہے۔ اس لئے ان کی نعش مسلمانوں کے کسی قبرستان میں دفن نہیں ہوسکتی۔ چنانچہ وہ بچہ اس دن دفن نہ ہوا۔ دوسرے دن شام کے قریب مسلمانوں کے قبرستان سے دو میل دور اس کی نعش کو دفن کر دیا گیا۔‘‘
    اور اب یہ ابھی ان پچھلے دنوں میں گوجرانوالہ میں ایک بچی فوت ہوئی، اس کو دفن نہیں ہونے دیا۔ قائدآباد میں ایک احمدی فوت ہوا۔ اس کو دفن نہیں ہونے دیا اور قبر اکھاڑ کر نعش کو باہر پھینک دیا۔ ان حالات میں آپ بتائیں کیا فتویٰ ہونا چاہئے۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! میں فتویٰ نہیں کہہ رہا۔ ایک آدمی غلطی کرتا ہے تو یہ جواب تو نہیں ہوتا کہ دوسرا بھی غلطی کرے؟
    مرزاناصر احمد: ایک آدمی غلطی کرتا ہے اور دوسرے آدمی پر فرض ہو جاتا ہے کہ فتنے میں نہ پڑے اور دوسرے کو بھی فتنے سے بچائے۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں! بچے کا جنازہ پڑھنا فتنے میں شامل ہونے کے برابر ہوتا ہے؟
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۱؎ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت سے بوکھلا کر مرزامحمود اپنے کئے پر پانی پھیر رہا ہے۔ لیجئے! پیغمبر زادہ چوکڑی بھول گیا۔ کہاں وہ رعونت کہ ’’میرے دشمن میرے سامنے مجرموں کی طرح پیش ہوں گے۔‘‘ کہاں اب یہ من، من شپ شپ۔
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    مرزاناصر احمد: جب وہ کہتے ہیں کہ ہمارے پیچھے ہمارا جنازہ نہ پڑھو ہمیں نہیں کہتے، شیعوں کو بھی یہی کہا ہے کہ کوئی شیعہ ہمارا جنازہ نہ پڑھے۔ بات یہ ہے کہ جو کچھ کہاگیا ہے238 ایک دوسرے کے خلاف سارا سامنے رکھ کر پھر مسئلہ جو ہے وہ حل ہو جاتا ہے۔ یعنی شیعہ تک کو یہ کہاگیا کہ ہمارے پیچھے نماز نہ پڑھیں، نماز نہ پڑھنے دو اپنے پیچھے۔
    جناب یحییٰ بختیار: مرزاصاحب! یہ عیسائیوں اور ہندووں نے تو کوئی فتوے نہیں دئیے تو آپ کے خلاف؟ نہیں، سوال پیدا ہوتا ہے۔
    مرزاناصر احمد: ٹھہرو جی! عیسائیوں نے اور ہندوؤں نے مسلمانوں کے خلاف پچھلے چودہ سو سال میں کوئی فتویٰ نہیں دیا؟
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آپ کے خلاف، Particularly؟
    مرزاناصر احمد: ہم مسلمان ہیں۔ اگر انہوں نے پچھلے چودہ سو سال میں فتویٰ کے بعد فتویٰ اسلام کے خلاف دیا ہے تو اس کو سب لوگ آپ بھول گئے؟
    جناب یحییٰ بختیار: تو ان کو اور باقی مسلمانوں کو آپ ایک ہی کیٹگری میں ٹریٹ کرتے ہیں؟
    مرزاناصر احمد: ہم اپنے آپ کو اور باقی مسلمانوں کو ایک کیٹگری میں ٹریٹ کرتے ہیں جہاں تک ہندوؤں اور عیسائیوں کے فتاویٰ کا تعلق ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں۔ جہاں تک نماز، دفن کرنے اور جنازے کا تعلق ہے، آپ باقی مسلمانوں کو اور عیسائیوں کو اور ہندوؤں کو ایک کیٹگری میں سمجھتے ہیں؟
    مرزاناصر احمد: نہیں، نہیں، وہ شرعی اور مذہبی طور پر نہیں شکل… نماز نہ پڑھنے کی شکل میں وہ ایک ہیں۔ شرعی فتوے کے لحاظ سے نہیں ایک۔
    جناب یحییٰ بختیار: مرزاصاحب! میرا سوال یہ تھا کہ تعلقات جہاں تک ہیں غیرمسلموں سے اور مسلموں سے، ان میں کیا فرق ہے آپ کا؟
    مرزاناصر احمد: ہاں! یہ فرق میں بتادیتا ہوں…
    239جناب یحییٰ بختیار: جہاں تک شادی رشتہ ہے۔ آپ نے کہا نہیں ہوسکتا…
    مرزاناصر احمد: نہیں، نہیں، جنازے کے متعلق فرق کو میں بتادیتا ہوں، بڑا واضح…
    جناب یحییٰ بختیار: …عبادت نہیں ہوسکتی…
    مرزاناصر احمد: جنازے کے متعلق میرا، جماعت احمدیہ کے تیسرے خلیفہ کا یہ فتویٰ ہے کہ جنازہ فرض کفایہ ہے اور چونکہ دوسرے دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث اور دوسرے جو فرقے ہیں انہوں نے یہ فتویٰ دیا کہ یہ ہمارے پیچھے بھی نہ نماز پڑھیں، امامت بھی نہ کرائیں نماز کی۔ اس واسطے ہمیں فتنے سے بچنا چاہئے اور نہیں پڑھنی چاہیے۔ لیکن…، ’’لیکن‘‘ کے بعد کی جو بات ہے وہ سوچیں۔
    ایک مسلمان ہوائی جہاز میں سفر کر رہے تھے کہ ڈنمارک میں جب جہاز نے لینڈ کیا تو وہ فوت ہوچکے تھے جہاز میں اور وہاں سوائے احمدیوں کے جنازہ پڑھنے والا کوئی نہیں تھا اور انہوں نے وہاں غلطی کی اور جب میرے پاس معاملہ پہنچا تو میں بڑا سخت ناراض ہوا اور ہینس جو ڈنمارک کے رہنے والے ہیں، عیسائیوں سے مسلمان ہوئے۔ اب احمدی ہوچکے ہیں۔ انہوں نے مجھے پہلی دفعہ انہوں نے بتایا کہ یہ واقعہ ہوا ہے۔ میں نے انہیں کہا یہ تو بڑا ظلم ہوا ہے۔ اس لئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے نبی اکرمa کی اتنی محبت ہمارے دل میں پیدا کی ہے کہ کوئی شخص جو حضرت محمدa کی طرف منسوب ہوتا ہے وہ لاوارث نہیں رہے گا اور اگر ایسا کوئی واقعہ ہو تو احمدیوں کا فرض ہے کہ نماز جنازہ پڑھائیں۔ لیکن عیسائیوں کے متعلق ہمارا یہ فتویٰ نہیں ہے اور یہ فرق ہے ان دو فتوؤں میں۔
    جناب یحییٰ بختیار: یہ آپ نے Amend (ترمیم) کیا اس کو؟
    240مرزاناصر احمد: نہیں، Amend (ترمیم) نہیں کیا، میں نے، پہلا ہی جب واقعہ ہوا، میں نے اس کو نمایاں کیا۔
    جناب یحییٰ بختیار: Clarify کیا؟
    مرزا ناصر احمد: ہاں نمایاں کرنا اور چیز ہے، Amend کرنا اور چیز ہے۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, in which category do you put persons who belong to Lahori school of thought, what they call, who....
    مرزاناصر احمد: جی! یہ میرا خیال ہے پہلے ہم نے… میں نے وضاحت کی تھی۔ یاد نہیں مجھے۔ ہر وہ شخص جو خود کو احمدی کہتا ہے احمدی ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: اور وہ اگر مرزاغلام احمد کو نبی نہیں سمجھتا، محدث سمجھتا ہے؟
    مرزاناصر احمد: جب وہ کہتا ہے کہ میں احمدی ہوں تو وہ احمدی ہے۔ جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے وہ مسلمان ہے۔ وہ بڑے دائرے کے اندر جو ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مگر آپ ان کو…
    مرزاناصر احمد: احمدی کس طرح کہتے ہیں؟
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ کیٹگری اس میں نہیں لائیں گے؟ کفر کی کس کیٹگری میں؟
    مرزاناصر احمد: نہیں، کفر کی کیٹگری میں تو آجائیں گے وہ۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ کہہ رہا ہوں نا جی…
    مرزاناصر احمد: ہاں، ہاں، وہ ملت اسلامیہ سے خارج نہیں ہوں گے۔
    جناب یحییٰ بختیار: مگر وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوں گے؟
    مرزاناصر احمد: دائرہ اسلام سے ہمارے نزدیک وہ خارج ہیں۔ لیکن ملت اسلامیہ سے بالکل نہیں خارج۔
    241Mr. Yahya Bakhtiar: That is what I wanted to clarify.
    مرزاناصر احمد: ہاں! اس واسطے نہیں… ایک فرق ہے ناں… وہ احمدی بھی ہیں ہمارے نزدیک۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! میں اس واسطے پوچھتا ہوں کہ انہوں نے تو کوئی فتویٰ نہیں دیا آپ کے خلاف؟
    مرزاناصر احمد: انہوں نے ہمارے خلاف نہیں فتویٰ دیا۔ انہوں نے…
    جناب یحییٰ بختیار: انکار کیا ہے صرف؟
    مرزاناصر احمد: ان لوگوں میں سے ہیں جن کو مقام بانی سلسلہ کے سمجھنے کے زیادہ مواقع تھے دوسروں کی نسبت۔ یہ فرق ہے ناں!
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی! نہیں، مگر انہوں نے صرف انکار کیا ہے؟
    مرزاناصر احمد: انہوں نے انکار کیا ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: فتویٰ نہیں دیا کفر کا آپ کے خلاف؟
    مرزاناصر احمد: انہوں نے، ہاں، کفر کا فتویٰ نہیں دیا۔ نہیں، وہ اور چیز ہے۔ ایک ہے کفر کا فتویٰ دینا،۔ ایک ہے انکار کرنا۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہی میں کہہ رہا تھا کہ کفر کی دو کیٹگریز ہیں۔ آپ کہہ رہے تھے کہ انہوں نے فتوے دئیے اس لئے ہم انہیں کافر کہتے ہیں۔
    مرزاناصر احمد: نہیں، نہیں، دو وجوہات ہیں، دو کیٹگریز نہیں۔ یعنی دائرہ اسلام سے خارج کرنے کے باوجود ملت اسلامیہ میں شامل سمجھنے کے لئے دو مختلف وجوہات، دو سے زیادہ وجوہات…
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ہاں، وجوہات جو بھی سمجھئے، مگر یہ کہ…
    242مرزاناصر احمد: وجوہات دو ہیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: ’’کیٹگریز‘‘ میں اس واسطے کہہ رہا ہوں کہ ایک دائرہ اسلام سے خارج، دوسرا ملت اسلامیہ سے خارج۔
    مرزاناصر احمد: نہیں، یہ تو اس لحاظ سے غیر مبایعین، اور دوسرے وہ لوگ جو ناسمجھی کی وجہ سے… ابیٰ واستکبر کے نتیجے میں نہیں… انکارکرنے والے ہیں، وہ دائرہ… وہ ملت اسلامیہ سے خارج نہیں ہیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: دونوں؟
    مرزاناصر احمد: لیکن یہ احمدی بھی ہیں۔ میں یہ بتا رہا ہوں کہ ہم ان کو یہ نہیں کہتے۔ صرف اس وجہ سے کہ مثلاً انہوں نے خلافت کی بیعت نہیں کی یا سارے دعاوی کو انہوں نے نہیں سمجھا۔ ہم ان کو یہ نہیں کہتے کہ تم احمدیت سے نکل گئے ہو۔ ہم ان کو احمدی کہتے ہیں۔ یہ Help کرنا ہے ناں سمجھنے میں۔ ہم دونوں کو مسلمان ہی…
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! میں یہ کہہ رہا ہوں، پوزیشن Clear اس واسطے مجھے ہو رہی ہے کہ آپ نے ایک وجہ تو یہ بتائی کہ چونکہ مسلمانوں کے علماء نے…
    مرزاناصر احمد: فتاویٰ دئیے تھے۔
    جناب یحییٰ بختیار: … فتاویٰ دئیے تھے اس وجہ سے ان کے…
    مرزاناصر احمد: ان کے اوپر لوٹ آئے۔
    جناب یحییٰ بختیار: … آپ نے یہ فتوے دئیے کہ ان سے نمازیں مت پڑھو، رشتے مت کرو،…
    مرزاناصر احمد: لیکن یہ وہ دوسرا…
    جناب یحییٰ بختیار: مگر یہ دوسری کیٹگری جو ہے وہ بھی ہے…
    243مرزاناصر احمد: لیکن یہ دوسری وجہ جو آپ نے شروع کی تھی کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں مانتا تو اس کا کیا ہے تو اس کا میں نے بتایا تھا کہ دو صورتیں بنتی ہیں۔ وہ ان کی شکل یہ بھی بنتی ہے ناں! ان کے حصے میں…
    جناب یحییٰ بختیار: لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ یہ تو صرف اسی وجہ سے ہے؟
    مرزاناصر احمد: ہاں! یہ صرف اسی وجہ سے ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں! صرف اسی وجہ سے؟ فتوؤں کی وجہ سے نہیں؟
    مرزاناصر احمد: اس سے معلوم ہوا کہ وہ کفر کی جو دوسری وجہ ہے وہ بھی اسی قسم کی ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: مگر دونوں وجوہ جو ہیں، ابھی جو باقی مسلمان ہیں انہوں نے فتوے بھی دئیے اور انکاری بھی ہیں۔ دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ ملت سے خارج نہیں؟
    مرزاناصر احمد: لیکن دونوں کا نتیجہ ایک ہی نکلتا ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: ایک ہی نکلتا ہے؟ اور یہاں اگر صرف… (مداخلت) میں نے وہی بات کہی ہے مرزاصاحب کہ اگر فتوے نہ بھی ہوتے تو ریزلٹ یہی ہوتا…
    • Like Like x 1
لڑی کی کیفیت :
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

اس صفحے کی تشہیر