1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

قومی اسمبلی میں ساتواں دن

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ دسمبر 3, 2014

لڑی کی کیفیت :
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
  1. ‏ دسمبر 3, 2014 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    قومی اسمبلی میں ساتواں دن

    Tuesday, the 20th August. 1974.
    (کل ایوانی خصوصی کمیٹی بند کمرے کی کارروائی)
    (۲۰؍اگست ۱۹۷۴ئ، بروز منگل)
    ----------

    The Special Committee of the Whole House met in Camera in the Assembly Chamber, (State Bank Building), Islamabad, at ten of the clock, in the morning. Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.
    (مکمل ایوان کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس اسمبلی چیمبر (سٹیٹ بینک بلڈنگ) اسلام آباد صبح دس بجے جناب چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی) کی زیرصدارت منعقد ہوا)
    ----------

    (Recition from the Holy Quran)
    (تلاوت قرآن شریف)
    ----------

    Mr. Chairman: Are you prepared?
    (جناب چیئرمین: آپ تیار ہیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar (Attorney General of Pakistan): Yes.
    (جناب یحییٰ بختیار (اٹارنی جنرل آف پاکستان): جی ہاں)
    Mr. Chairman: They may be called.
    (جناب چیئرمین: انہیں بلالیں)
    (The Delegation entered the Chamber)
    (وفدہال میں داخل ہوا)
    Mr. Chairman: Yes, Mr. Attorney- General.
    (جناب چیئرمین: جی، جناب اٹارنی جنرل صاحب)
    ----------

  2. ‏ دسمبر 3, 2014 #2
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    CROSS- EXAMINATION OF THE QADIANI GROUP DELEGATION
    جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! کچھ جوابات آپ نے دینے تھے۔
    مرزا ناصر احمد(گواہ، سربراہ جماعت احمدیہ، ربوہ): جی ہیں وہ میرے پاس۔
    (ہم فتح یاب ہوںگے، تم ابوجہل کی پیش ہوگے؟)
    جناب یحییٰ بختیار: یا وہی آپ پہلے وہ پڑھ کر سنادیں گے؟
    858مرزا ناصر احمد: ہاں جی۔
    ایک یہ سوال تھا کہ ’’الفضل‘‘ ۳؍جولائی ، ۱۹۵۲ء میں ہے: ’’ہم فتح یاب ہوںگے، تم ابوجہل کی طرح پیش ہوگے۔‘‘ اس کا جواب یہ ہے کہ اس پرچہ میں صرف ایسا کوئی فقرہ نہ لفظاً نہ معناً ہمیں ملا۔
    جناب یحییٰ بختیار: مرزاصاحب! آپ نے غور سے دیکھا ہے؟ کسی اور پرچہ میں…
    مرزا ناصر احمد: ہاں میں نے یہ اُس دن یہ کہا تھا کہ پانچ دس (۱۰) دِن کے آگے یا پیچھے کے بھی ہم دیکھ لیں گے۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں ،بعض دفعہ سال کی غلطی ہوجاتی ہے، اس تاریخ کا یا قریب سال کا…
    مرزا ناصر احمد: سارا ’’الفضل‘‘ کا فائل میں اس حوالے کے لئے تلاش کرتا، یہ تو انسان نہیں کرسکتا۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، میں… یہ دیکھیں جی کہ جہاں ہوجاتا ہے کہ: ’’۱۹۵۲ئ، ۱۹۵۱ء یا ۱۹۵۳ء ہوسکتا ہے۔‘‘بعض دفعہ ’’۱۳‘‘ کی جگہ ’’۲۳‘‘ ہوجاتا ہے۔ تو یہ تو میں نہیں کہتا کہ سارے کے سارے ایک ایک پرچہ دیکھیں۔ تو آپ کے پاس یہ نہیں ملا؟
    مرزا ناصر احمد: ہاں ، ہاں، ہمیں نہیں مل رہا۱؎۔
    جناب یحییٰ بختیار: اس کے متعلق آپ نے فرمایا تھا کہ یہ کوئی یوتھ آرگنائزیشن کی طرف سے بات آئی تھی۔
    مرزا ناصر احمد: نہیں ، اس کے متعلق نہیں، وہ دوسرا تھا۔
  3. ‏ دسمبر 3, 2014 #3
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (تمہیں دوسرے فرقوں کو بکلّی ترک کرنا پڑے گا)
    جناب یحییٰ بختیار: اچھا ، وہ دوسرا حوالہ۔
    مرزا ناصر احمد: ہاں، اس کے متعلق نہیں۔ ضمیمہ ’’تحفہ گولڑویہ‘‘ صفحہ:۲۷ ۔ سوال یہ تھا کہ وہاں یہ ہے کہ: ’’تمہیں دوسرے فرقوں کو کُلی ترک کرنا پڑے گا۔‘‘
    859اس سے یہ پتہ لگتا ہے کہ علیحدہ آپ نے بالکل ملت اسلامیہ سے بالکل ممتاز چیز بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ تو اگر ہم (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۲۷) کو دیکھیں تو خود اس جگہ اس کا جواب موجود ہے۔ وہاں کی عبارت یہ ہے: ’’جیسا خدا نے مجھے اطلاع دی ہے، تمہارے پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو، بلکہ چاہئے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو۔ اسی کی طرف حدیث بخاری کے ایک پہلو میں اشارہ ہے کہ ’’امامکم منکم‘‘ یعنی
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۱؎ اس پر پہلے فقیر نوٹ لکھ چکا ہے، یہ ۳؍ جولائی ۱۹۵۲ء کا پرچہ نہیں، یہ ۳ ؍ جنوری ۱۹۵۲ء کا پرچہ ہے اس کی مکمل عبارت فقیر نے پہلے نقل کردی ہے، مرزا ناصر کو معلوم تھا کہ یہ ۳؍ جولائی کا پرچہ نہیں، ۳؍جنوری ۱۹۵۲ء کا ہے ، لیکن جان بوجھ کر غلط بیانی کی کہ ’’ہمیں نہیں معلوم کہ کونسا پرچہ ہے، ہمیں تو نہیں ملا۔‘‘ حالانکہ یہی وہ پرچہ ہے جس کے متعلق مرزا محمود سے ۱۹۵۳ء میں بھی پوچھا گیا تھا۔
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    جب مسیح نازل ہوگا تو تمہیں فرقوں کو، جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں، کلی ترک کرنا پڑے گا۔‘‘
    (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۱۸حاشیہ، خزائن ج۱۷ص۶۴)
    نماز کی امامت کے سلسلے میں صرف۔ ایک ہے (انوارالاسلام ص۳۰، خزائن ج۹ ص۳۱) جو فقرہ یہاں سوال میں پیش کیا گیا تھا، جہاں تک ہمیں یاد ہے۔ کیونکہ ہمارے پاس کوئی ٹیپ تو ہے ہی نہیں۔ انہوں نے جو نوٹ کیا ہے اس کے مطابق ’’ولد الحرام بننے کا شوق ہے‘‘ اس قسم کا فقرہ کہ مسلمانوں کو یہ کہا گیا ہے ’’انوار الاسلام‘‘ میں۔ یہ عبارت خود اپنے معانی کو ظاہر کررہی ہے۔ یہاں یہ لکھا ہوا ہے: ’’اب اس سے زیادہ صاف اور کون فیصلہ ہوگا…‘‘ ’’کونسا‘‘ غالباً ہے، لفظ چھوٹا ہوا ہے۔ بہرحال:
    ’’اس سے زیادہ صاف اور کون فیصلہ ہوگا۔ کہ ہم دو (۲) کلموں کے مول میں خود امرتسر میں جاکر دو (۲) ہزار روپیہ دیتے ہیں آتھم کو۔ مسٹر عبداللہ آتھم اگر درحقیقت مجھے کاذب سمجھتا ہے (عبداللہ آتھم کی بات ہورہی ہے) مسٹر عبداللہ آتھم اگر درحقیقت مجھے کاذب سمجھتا ہے اور جانتا ہے کہ ایک ذرہ بھی اس نے اسلامی عظمت کی طرف860 رجوع نہیں کیا تو وہ ضرور بلاتوقف عبارتِ مذکورہ کے موافق اقرار کردے گا، کیونکہ اب تو وہ اپنے تجربہ سے جان چکا کہ میں جھوٹا ہوں۔ (اپنے متعلق ’’میں جھوٹا ہوں‘‘) اور مسیح کی حفاظت کو اس نے (یعنی عیسائی عبداللہ آتھم نے) مشاہدہ کرلیا، پھر اس مقابلہ سے اس کو کیا خوف ہے؟ کیا پہلے پندرہ ۱۵ مہینوں میں مسیح زندہ تھا اور مسٹر عبداللہ آتھم کی حفاظت کرسکتا تھا، اور اب مرگیا ہے، اس لئے نہیں کرسکتا، جبکہ عیسائیوں نے اپنے اشتہار میں یہ کہہ کے اعلان دیا ہے-کہ خدواوند مسیح نے مسٹر عبداللہ آتھم کی جان بچائی-پھر اب بھی خدواند مسیح جان بچائے گا۔ کوئی وجہ معلوم نہیں ہوئی کہ اب مسیح کے خداوند قادر ہونے کی نسبت مسٹر عبداللہ آتھم کو کچھ شک اور تردُّد پیدا ہوجائے اور پہلے وہ شک نہ ہو، بلکہ اب تو بہت یقین چاہئے، کیونکہ اس کی خداوندی اور قدرت کا تجربہ ہوچکا اور نیز ہمارے جھوٹ کا تجربہ لیکن یاد رکھو کہ مسٹر عبداللہ آتھم اپنے دل میں خوب جانتا ہے کہ یہ سب باتیں جھوٹ ہیں کہ اس کو مسیح نے بچایا۔ جو خود مرچکا وہ کس کو بچاسکتا ہے؟ اور جو مرگیا وہ قادر کیونکر اور خدواند کیسا؟ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ سچے اور کامل خدا کے خوف نے اس کو بچایا۔ اگر ایک نادان عیسائیوں کی تحریک سے بے باک ہوجائے گا تو پھر اس کامل خدا کی طرف سے بے باکی کا مزا چکھے گا۔ غرض اب ہم نے فیصلے کی صاف صاف راہ بتادی اور جھوٹے سچے کے لئے ایک معیار پیش کردیا۔ اب جو شخص اس صاف فیصلے کے برخلاف شرارت اور عناد کی راہ سے بکواس کرے گا اور اپنی شرارت سے بار بار کہے گا کہ عیسائیوں کی فتح ہوگی اور کچھ شرم اور حیا کو کام میں نہیں لائے گا اور بغیر اس کے جو ہمارے اس فیصلے کا انصاف کی رو سے جواب دے سکے، انکار اور زبان درازی سے باز نہیں آئے گا اور ہماری فتح کا861 قائل نہیں ہوگا۔ (اسلام کی فتح کا) تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں، پس حلال زادہ بننے کے لئے واجب یہ تھا کہ اگر وہ مجھے جھوٹا جانتا ہے (عبداللہ آتھم) اور عیسائیوں کو غالب اور فتح یاب قرار دیتا ہے تو میری حجت کو واقعی طور پر رفع کرے جو میں نے پیش کی ہے۔‘‘
    تو میرے نزدیک تو یہ عبارت بڑی واضح ہے کہ اس کا مخاطب عبداللہ آتھم اور اس کے ساتھی عیسائی ہیں اور اس سے اور بھی آگے اگر پڑھ لیا جائے تو زیادہ واضح ہوجاتا ہے، لیکن میرا خیال ہے کہ یہ واضح ہے اور زیادہ وقت نہیں کرنا چاہئے ضائع۔ لیکن اگر … اس میں پھر آگے تشریح ہے کہ ’’حرام زادہ‘‘ کس وجہ سے اور کس کو کہا گیا ۔ اگر کہیں تو میں پڑھ دیتا ہوں۔ ہاں جی؟
  4. ‏ دسمبر 3, 2014 #4
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (مرزا کی بیعت نہ کرنے والے جہنمی)
    جناب یحییٰ بختیار: ضرورت نہیں۔
    مرزا ناصر احمد: ہوں، اچھا جی! یہ ۳؍ جولائی کا میں نے کردیا۔
    میرے پاس کوئی ہیں بیس (۲۰) پچیس (۲۵) لکھے ہوئے۔ تو سب اس میں… اگر کہیں آپ تو تین جو آپ نے… میں… اس میں جو دیئے ہوئے… یہ ہے ’’تشحیذ الاذہان‘‘ مارچ ۱۹۱۴ء ’’بیعت نہ کرنے والے جہنمی۔‘‘ یہ سوال کیا گیا تھا، یہ لکھا ہے۔ ’’تشحیذ الاذہان‘‘ میں جو موضوع زیر بحث ہے، وہ یہ نہیں کہ کون فی النار ہے، کون نہیں۔ بلکہ موضوع زیر بحث یہ ہے کہ یہ ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو (۲) کلام ہوں، واقعہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور ان میں تضاد پایا جائے۔ تو موضوع ہی دوسرا ہے۔ وہاں یہ لکھا ہے کہ:
    ’’الہامات کا باہمی تناقض اور اختلافات اسلام کو سخت ضرر پہنچاتا ہے۔‘‘ یعنی اگر یہ سمجھا جائے کہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے دو (۲) الہام ہیں، واقعہ میں اور ان کے اندر تضاد پایا جاتا ہے تو یہ تو اسلام کو بڑا نقصان پہنچانے والا ہے، کیونکہ قرآن کریم کی واضح ہدایت862 کے خلاف ہے یہ بات سورۂ ملک میں، تفصیل میں نہیں جاتا--- اس میں بڑی وضاحت سے یہ بات ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات اور ان کے جو ظہور ہیں ان کے اندر کبھی کوئی اختلاف تمہیں نظر نہیں آئے گا۔ بہرحال، یہاں یہ موضوع ہے زیربحث:
    الہامات کا باہمی تناقض اور اختلافات اسلام کو سخت ضرر پہنچاتا ہے اور اسلام کے مخالفوں کو ہنسی اور اعتراض کا موقع ملتا ہے اور اس طرح پر دین کا استخفاف ہوتاہے، حالانکہ یہ کیونکر ہوسکے کہ ایک شخص کو خدا تعالیٰ یہ الہام کرے کہ تو خدا تعالیٰ کا برگزیدہ اور اس زمانہ کے تمام مؤمنوں سے بہتر اور افضل اور مسیح الانبیاء اور مسیح موعود اور مجدد چودھویں صدی اور خدا کا پیارا اور اپنے مرتبہ میں نبیوں کے مانند اور خدا کا مرسل اور اس کی درگاہ میں وجیہ اور مقرب اور مسیح ابن مریم کے مانند ہے اور ادھر دوسرے کو یہ الہام کرے کہ یہ شخص فرعون اور کذاب اور مسرف اور فاسق اور کافر ہے اور ایسا اور ایسا ہے، اس شخص کو تو یہ الہام کرے کہ جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیںہوگا اور تیرا مخالف رہے گا، وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور اس وجہ سے جہنمی ہے اور پھر دوسرے کو الہام کرے کہ جو اس کی پیروی کرتے ہیں وہ شقاوت کا طریق اختیار کرتے ہیں۱؎۔‘‘
    تو یہاں بات ہورہی ہے الہاموں کی، اپنی طرف سے کسی اعلان کی بات نہیں اور اصل جو سوال ہے زیر بحث وہ یہ ہے کہ جو دو (۲) الہامات اللہ تعالیٰ کی طرف سے آسمان سے نازل ہوں، ان کے اندر تضاد جو ہے وہ نہیں ہوسکتا۔ (تشحیذ الاذہان اگست،۱۹۱۷ء ص۵۸،۵۷)
    اس میں ، سوال میں --- جہاں تک ہم نے نوٹ کیا --- یہ تھا کہ یہاں یہ لکھا ہے کہ: ’’صرف ایک ہی نبی ہوگا۔‘‘ تو جہاں تک اس فقرے کا --- اگر نوٹ صحیح کیا گیا ہو--- تعلق ہے تو یہ فقرہ کہیں نہیں لکھا ہوا۔ جو لکھا ہوا ہے، وہ ایک دوسری بات ہے۔ وہ یہ ہے، میں پڑھ دیتا ہوں:
    863’’وہ لوگ جو بار بار کہتے ہیں کہ اسلام میں ایک ہی نبی کیوں ہوا؟ بہت سے نبی ہونے چاہئیں ، ان کو چاہئے کہ ختم نبوت کے اس امتیازی نشان کو ذہن میں لاویں کہ آنحضرتﷺ خدا کی مہر ہیں۔ خدا نے اپنی مہر کے ذریعہ جس کسی کے نبی ہونے کی تصدیق کی وہی نبی ثابت ہوسکتا ہے۔ باقی رہا یہ اعتراض کہ کیوں خدا کی مہر نے صرف ایک ہی کو نبی قرار دیا۔ سو یہ اعتراض ہم پر نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی مصلحت اور حکمت پر ہے۔ اگر ہماری حکومت خدا پر ہوتی یا اس کی مہر پر ہوتی تو بلاشبہ یہ سوال ہم پر پڑ سکتا تھا۔ خدا اپنی مہر کے ذریعہ بہت سے انبیاء ہونے کی پیش گوئی فرماتا--- تو ہمیں اس کو ماننے سے بھی کوئی چارہ نہ تھا۔ اب جب کہ خدائی مہر صرف
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۱؎ مرزا ناصر نے خود تسلیم کیا کہ قادیانی عقیدہ کے مطابق مرزا پر الہام نازل ہوا کہ ’’تیرا مخالف جہنمی ہے‘‘ تمام مسلمان مرزا کو نہیں مانتے، لہٰذا تمام مسلمان، قادیانی عقیدہ کے مطابق جہنمی ہیں۔
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ایک ہی کو نبی قرار دیتی ہے تو ہم کون ہیں جو کہیں کہ صرف ایک ہی نبی کیوں ہوا؟۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اس سوال کا یہی جواب دیا ہے۔‘‘
    آگے وہ اقتباس ہے: ’’ایک شخص نے سوال کیا کہ ’’آپ نبی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں؟‘‘فرمایا ’’ہاں، کہ تمام اکابر اس بات کو مانتے چلے آئے ہیں کہ اس امت مرحومہ کے درمیان سلسلہ مکالمات الٰہیہ کا ہمیشہ جاری ہے۔ اس معنی سے (مکالماتِ الٰہیہ--- اس معنی سے ) ہم نبی ہیں۔ ورنہ ہم اپنے آپ کو امتی کیوں کہتے؟ (یعنی امتی نبی، یعنی امتی کا پہلو بھاری ہے) ہم تو یہ کہتے ہیں کہ جو فیضان کسی کو پہنچ سکتا ہے--- جو فیضان کسی کو پہنچ سکتا ہے--- وہ صرف آنحضرتﷺ کی پیروی سے پہنچ سکتا ہے۔ اس کے سوائے اور کوئی ذریعہ نہیں۔ ایک اصطلاح کے جدید معنی اپنے پاس سے بنالینا درست نہیں ہے۔ حدیث شریف میں بھی آیا ہے کہ آنے والا مسیح نبی864 بھی ہوگا اور امتی بھی ہوگا۔ امتی تو وہ ہے کہ جو آنحضرتﷺ سے فیض حاصل کرکے تمام کمال حاصل کرے--- آنحضرتﷺ سے فیض حاصل کرکے تمام کمال حاصل کرے --- لیکن جو شخص پہلے ہی نبوت کا درجہ پاچکا ہے، وہ امتی کسی طرح سے بن سکتا ہے۔ وہ تو پہلے ہی سے نبی ہے۔‘‘ سائل نے سوال کیا:
    ’’اگر اسلام میں اس قسم کا نبی ہوسکتا ہے تو آپ سے پہلے کون نبی ہوا ہے۔‘‘ حضرت نے فرمایا: ’’یہ سوال مجھ پر نہیں، بلکہ آنحضرتﷺ پر ہے۔ انہوں نے صرف ایک کا نام نبی رکھا ہے۔ اس سے پہلے کسی آدمی کا نام نبی نہیں رکھا۔ اس سوال کا جواب دینے کا اس واسطے میں ذمہ دار نہیں ہوں۱؎۔‘‘
    تو اس سے یہ بات ساری ہوگئی ہے۔ ’’صرف ایک ہی نبی ہوگا‘‘ یہ بحث ہی نہیں ہے۔ بحث دوسری ہے وہاں۔ ’’الفضل‘‘ ۱۳نومبر، ۱۹۴۴ء کہ: ’’پارسیوں کی طرح---‘‘ (اپنے وفد کے ایک رکن سے) نکالیں ’’الفضل‘‘
    جناب یحییٰ بختیار: (سیکرٹری سے)کہاں ہے ’’الفضل‘‘؟
    مرزا ناصر احمد: ’’پارسیوں کی طرح علیحدہ اپنا مطالبہ کرلیا۔‘‘
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۱ ؎ گویا تسلیم کرلیا کہ حضور نبی کریمﷺ کے بعد ایک نبی بننا تھا اور وہ مرزا قادیانی ہے۔ مرزا کے بعد کوئی نبی نہیں ۔ گویا نبوت آنحضرتﷺ پر ختم نہ ہوئی ، مرزا پر ختم ہوئی۔ مرزا قادیانی خاتم النّبیین ہیں۔ یہ ہیں قادیانی کفریات جس کے باعث امت نے ان کو اپنے سے علیحدہ قرار دیا۔
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    جناب یحییٰ بختیار: ۱۳؍نومبر، ۱۹۴۶ء ۔
    مرزا ناصر احمد: ۱۹۴۶ء یہ ہے، ۱۳ نومبر ۱۹۴۶ء یہ جو ہے، اگر یہ خطبہ سارا پڑھ لیا جاتا تو سوال آنا ہی نہ تھا سامنے۔ میں پہلے مختصر بتادیتا ہوں۔
    865اس خطبے میں یہ ہے کہ جس وقت یہ بحث چلی کہ کون کون سے علاقے جو ہیں وہ پاکستان میں آئیں گے اور کون سے دوسری طرف جائیں گے تو اس وقت ایک فتنہ یہ کھڑا ہوا کہ احمدی چونکہ اپنے آپ کو علیحدہ سمجھتے ہیں اس لئے ملت اسلامیہ کے دائرہ میں ان کو نہ سمجھا جائے اور تعداد کے لحاظ سے مسلمان کم ہوجاتے ہیں۔ پھر خصوصاً گورداسپور کا علاقہ جو ہے اس میں ۵۱ اور ۴۹ کی نسبت سے مسلم اور غیر مسلم تھے اور یہ ۵۱ کی نسبت، اس میں جماعت احمدیہ، جو گورداسپور میں بہت بڑی تعداد میں تھی، وہ بھی شامل تھا۔ تو یہ ہندوؤں نے ایک چال چلی تھی۔
    اس وقت مسلم لیگ کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لئے اس وقت کے خلیفہ جماعت احمدیہ جن کو ہم خلیفہ ثانی کہتے ہیں، انہوں نے مسلم لیگ سے سر جوڑا اور مسلم لیگ کے مؤقف کو مضبوط بنانے کے لئے ایک پلان تیار کیا اور یہ سارا اس خطبے کے اندر ہے سارا، اور مسلم لیگ کے مشورے کے ساتھ یہ سوال اٹھایا کہ ’’تم پارسیوں کو علیحدہ حقوق دیتے ہو تو ہمیں کیوں نہیں دیتے؟‘‘ یعنی مسلم لیگ نے کہا کہ ’’ہمیں فائدہ پہنچے گا کہ تم یہ کرو۔‘‘ تو In collusion with Muslim League, he did what he did. ( اس نے جو کچھ کیا مسلم لیگ سے ساز باز کرکے کیا) اور میںکہیں تو سارا ’’الفضل‘‘پڑھ دیتا ہوں اور کہیں تو اس کو یہ ریکارڈ کے لئے شامل کردیتا ہوں۔
    جناب یحییٰ بختیار: اس کو فائل کردیں۔
    جناب چیئر مین: شامل کردیں اس کو۔
    مرزا ناصر احمد: ہاں! اس میں یہ شروع ہوتا ہے ’’دہلی کا سفر اور اس کی غرض۔‘‘ ’’دہلی کا سفر اور اس کی غرض۔ ‘‘ اس کے اوپر وہ سرخ نشان لگے ہوئے ہیں جہاں سے یہ اصل مضمون شروع ہوا ہے اور مسلم لیگ کی خدمت کے لئے یہ سارا کچھ کیا گیا تھا۔ صرف ایک فقرے سے تو کچھ نہیں ہوتا، لیکن اب میں سمجھتا ہوں کہ اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
    866ویسے ہماری تاریخ نے ۲۳؍ جنوری ۱۹۴۶ء میں اس چیز کو ریکارڈ کیا ہے۔ تاریخ Sub-continent (چھوٹا براعظم) کہ اہل حدیث کی طرف سے یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ ان کو جداگانہ حق ملنا چاہئے ۔ یہ میں بیچ میں ہی رہنے دیتا ہوں۔
  5. ‏ دسمبر 3, 2014 #5
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (ہم اس کے مذہب کو کھا جائیں گے)
    ایک سوال تھا ’’الفضل‘‘۱۶؍جولائی ۱۹۴۹ئ: ’’یہ گھبراتے ہیں…‘‘ یہ ہے، اس طرح آگے چلتا ہے اور پھر آخر میں ہے: ’’ہم اس کے مذہب کو کھاجائیں گے۔‘‘
    یہ سوال تھا کہ گویا کہ مسلمان فرقوں کو یہ کہا گیا ہے۔ ۱۶؍ جولائی ۱۹۴۹ء میں ایسا کوئی مضمون نہیں۔لیکن جیسا کہ میں نے وعدہ کیا تھا کہ آگے پیچھے دیکھیں گے، جہاں تک ممکن ہوا، ۲۵؍ جولائی ۱۹۴۹ء ۔ میں ایک مضمون ہے۔ ممکن ہے اس کی وجہ سے--- یعنی ’’۱۶‘‘ کی بجائے ۲۵؍ جولائی، ۱۹۴۹ئ۔ اگر اجازت ہو تو اس سوال کرنے پر میں شکریہ بھی ادا کردوں، کیونکہ بڑی اچھی چیز سامنے آئے گی، سب کے ۔ یہ اس کے اقتباس ہیں، ۲۵ جولائی والے کے:
    ’’اللہ کی طرف سے جب بھی دنیا میں کوئی آواز بلند کی جاتی ہے دنیا کے لوگ اس کی ضرور مخالفت کرتے ہیں۔ بغیر مخالفت کے خدائی تحریکیں دنیا میں کبھی جاری نہیں ہوئیں۔ خدائی تحریک جب بھی دنیا میں جاری کی جاتی ہے، اس کے متعلق بلاوجہ اور بلاسبب لوگوں میں بغض اور کینہ پیدا ہوجاتا ہے۔ اتنا بغض اور کینہ کہ اسے دیکھ کر حیرت آجاتی ہے ایک مسلمان کو…‘‘
    اب وہ جو ہے سوال: ’’ایک مسلمان کو محمد رسول اللہﷺ سے جو محبت ہے اس کو الگ کرکے، اسے آپﷺ سے جو عقیدت ہے اسے بھلاکر، اگر صرف آپﷺ کی ذات بابرکات کو دیکھا جائے تو آپﷺ کی ذات انتہائی بے شر، انتہائی بے نقص اور دنیا کے لئے نہایت ایثار اور قربانی کرنے والی معلوم ہوتی ہے۔ آپﷺ اپنی 867ساری زندگی میںکسی ایک شخص کا بھی حق مارتے ہوئے نظر نہیں آتے۔ آپﷺ کسی جگہ دنگا اور فساد میںمشغول نظر نہیں آتے۔ لیکن قریباً پونے چودہ سو سال کا عرصہ ہوچکا، دشمن آپ کی مخالفت کرنے اور آپ کے متعلق بغض اور کینہ رکھنے سے باز نہیں آتا۔ جو شخص بھی اٹھتا ہے اور مذہب پر کچھ لکھنا چاہتاہے، وہ فوراً آپﷺ کی ذات پر حملہ کرنے کے لئے تیار ہوجاتا ہے۔ آخر اس کا سبب کیا ہے؟ ہر چیز کا کوئی نہ کوئی سبب ہوتا ہے۔ اس کا بھی یا تو کوئی جسمانی سبب ہوگا یا روحانی سبب ہوگا۔ رسول کریمﷺ کی مخالفت کا کوئی جسمانی سبب تو نظر نہیں آتا…‘‘
    آگے جسمانی سبب کے اوپر کچھ نوٹ دیا ہوا ہے، اور وہ میں نے چھوڑدیا ہے۔ آگے لکھتے ہیں کہ: ’’اس کی کوئی روحانی وجہ ہونی چاہئے، اس کی کوئی روحانی وجہ ہے اور وہ صرف یہی ہے کہ رسول کریمﷺ کے مخالفین کے دل محسوس کرتے ہیں کہ اسلام ایک صداقت ہے، اگر اسے روکا نہ گیا تو یہ صداقت پھیل جائے گی اور انہیں مغلوب کرلے گی۔ یہی ایک چیز ہے۔ جس کی وجہ سے لوگوں کو محمد رسول اللہﷺ کی ذات سے سخت دشمنی ہے۔ اس مخالفت کے باقی جتنے بھی وجوہ بیان کئے جاتے ہیں وہ آپ سے زیادہ شان کے ساتھ دوسرے نبیوں میں موجود ہیں۔ اس لئے یہ بات یقینی ہے کہ اس دشمنی کی وجہ لڑائی اور جھگڑا نہیں بلکہ ایک روحانی چیز ہے جس کی وجہ سے یہ دشمنی پیدا ہوگئی ہے اور وہ یہی ہے کہ اسلام ایک حقیقت رکھنے والا مذہب ہے، اسلام غالب آجانے والا مذہب ہے، اسلام دوسرے مذاہب کو کھاجانے والامذہب ہے۔ اسے دیکھ کر مخالفین کے کان فوراً کھڑے ہوجاتے ہیں اور وہ مقابلہ کے لئے تیار ہوجاتے ہیں۔‘‘
    868’’تو کھاجانے والا‘‘اپنا نہیں کہا، بلکہ اسلام کے متعلق ساری بات ہورہی ہے اور فرما یہ رہے ہیں کہ ’’اسلام دوسرے مذاہب کو کھاجانے والا مذہب ہے۔‘‘ اور سوال یہ پوچھا گیا کہ گویا کہ جماعت احمدیہ کی طرف سے یہ کہا ہے کہ ’’ہم تمہیں کھاجائیں گے۔‘‘ آگے اور ایک اقتباس جو اس کو Complete (مکمل) کرتاہے: ’’یہ لوگ چونکہ محمد رسول اللہﷺ کا شکار ہیں۔ یہ لوگ چونکہ محمد رسول اللہﷺ کا شکار ہیں، اس لئے وہ آپﷺ کے مخالف ہوگئے ہیں اور یہی ایک وجہ ہے جس کی وجہ سے لوگ آپﷺ کے دشمن ہیں اور اگر یہی وجہ ہے تو یہ بات ہمارے لئے غم کا موجب نہیں ہونی چاہئے، بلکہ خوشی کا موجب ہونی چاہئے۔ لوگ گھبراتے ہیں کہ مخالفت کیوں کی جاتی ہے۔ لوگ جھنجھلااٹھتے ہیں کہ ان کی عداوت کیوں کی جاتی ہے۔ لوگ چڑتے ہیں کہ انہیں دکھ کیوں دیا جاتا ہے۔ لیکن اگر گالیاں دینے اور دکھ دینے کی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ ہمارا (یعنی اسلام کا) شکار ہیں تو پھر ہمیں گھبرانانہیں چاہئے اور نہ کسی قسم کا فکر کرنا چاہئے، بلکہ ہمیں خوش ہونا چاہئے کہ دشمن یہ محسوس کرتا ہے (دشمن اسلام)کہ اگر ہمیں کوئی نئی حرکت پیدا ہوئی تو اس کے مذہب کو کھاجائیں گے۔‘‘
    تو سارا یہ بیان جو ہے نبیﷺ کے متعلق ہے۔
  6. ‏ دسمبر 3, 2014 #6
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (۱۹۴۹ء میں یہ بات کیوں؟)
    جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! ۱۹۴۹ء میں کیوں؟ کوئی عیسائی مشنریوں نے کوئی انکوائری شروع کی تھی، اسلام کے خلاف جب انہوں نے یہ بات کہی؟
    مرزا ناصر احمد: ۱۹۴۹ء میں؟
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔
    مرزا ناصر احمد: چودہ سو سال سے آج کے دن تک۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں…
    869مرزا ناصر احمد: اس وقت تک وہ تو تحریک جاری ہے۔
  7. ‏ دسمبر 3, 2014 #7
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (دشمن کون تھے؟)
    جناب یحییٰ بختیار: اس مضمون کا ، جو وہ کہہ رہے ہیں ’’دشمن‘‘ کہہ رہے ہیں، میں یہ آپ سے پوچھ رہا ہوں کہ ۱۹۴۹ء میں کون سا حادثہ تھا جو انہوں نے کہا؟ ’’دشمن‘‘ کون تھے؟
    مرزا ناصر احمد: نبی اکرمﷺ کے دشمن۔ اتنی وضاحت سے یہ اس میں الفاظ آئے ہوئے ہیں۔ اس میں تو کوئی ابہام باقی نہیں رہا۔
    جناب یحییٰ بختیار: وہ کچھ Confusion (ابہام ) ہے، کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ: ’’میں فنا فی الرسول ہوں۔ میں محمد ہوں۔‘‘
    مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، وہ تو بالکل…
    جناب یحییٰ بختیار: ’’تو ہم دشمن سے یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ…‘‘اپنی طرف سے ’’محمد‘‘ کہہ رہے ہیں۔
    مرزا ناصر احمد: میں یہ کہتا ہوں کہ اپنی طرف سے نہیں کہہ رہے اور نہ کہنے والے اپنی طرف سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ تو خلیفہ ثانی ہیں۔
  8. ‏ دسمبر 3, 2014 #8
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (کون اسلام کے دشمن تھے؟)
    جناب یحییٰ بختیار: کون اسلام کے دشمن تھے؟ کون آنحضرتﷺ پر حملہ کررہے تھے، جن کی طرف یہ اشارہ ہے؟ آپ کچھ کہہ سکتے ہیں؟
    مرزا ناصر احمد: عیسائی۔
    جناب یحییٰ بختیار: عیسائی کہاں کررہے تھے؟
    مرزا ناصر احمد: ہاں۔
    جناب یحییٰ بختیار: کوئی Instance (مثال) بتادیجئے آپ کہ کسی عیسائی نے کوئی مضمون لکھا، کوئی تقریر کی، پاکستان میں، دنیا میں، جس کی طرف اشارہ ہو؟
    مرزا ناصر احمد: آپ مجھے دو گھنٹہ پڑھنے کی اجازت دیں تو میں ساری گالیاں سنادوں گا ۔ جو عیسائیوں نے نبی اکرمﷺ کو دی ہیں۱؎۔
    870جناب یحییٰ بختیار: میرا سوال ہے ناں، مرزا صاحب! کہ ۱۹۴۹ء میں مرزا صاحب نے یہ خطبہ دیا اور کہتا ہے کہ ’’دشمن گھبراتے ہیں۔ دشمن ہمارا شکار ہے۔‘‘ وہ ’’دشمن ‘‘ کون تھے؟ کیا ضرورت تھی اس کی کہ انہوں نے خطبے میں ذکر کیا؟ کیونکہ مرزا صاحب سوچ کر بات کرتے تھے۔ تو خاص پرابلم ہوگا، کوئی ایشو ہوگا۔ میں وہ پوچھنا چاہتا ہوں۔
    مرزا ناصر احمد: حضرت خلیفہ ثانی نے عیسائیوں کے خلاف ساری دنیا میں ایک مہم جاری کی ہوئی تھی اور جس وقت حضرت خلیفہ ثانی یا کوئی اور خلیفہ جماعت احمدیہ کا --- ہم ویسے ہی امام جماعت احمدیہ کہہ دیتے ہیں، لیکن آپ کہتے ہیں ’’نہیں،آپ اپنا ہی وہ لیا کریں Designation (لقب)‘‘
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، میں نے صرف ایک سوال پوچھا ہے آپ سے…
    مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، میں بتاتاہوں…
    جناب یحییٰ بختیار: کہ کوئی خاص Incident (واقعہ) بتاسکتے ہیں، کوئی Statement (بیان) عیسائیوں کا، کوئی تقریر، کوئی تحریر، اس زمانے میں، جس کے جواب میں کہہ رہے ہیں کہ…
    مرزا ناصر احمد: ہر وقت وہ ہے۔ یعنی یہ کہ یہ ۲۵؍ جولائی کو کوئی واقعہ ہوا؟
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، دو مہینے پہلے، دو دن پہلے، دو ہفتے پہلے۔
    مرزا ناصر احمد: ساری صدی میں ہوتا رہا۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، صدی کی بات نہیں
    مرزا ناصر احمد: وہ جو پہلی صدی میں باتیں ہوئی ہیں، جواب نہیں دینا چاہئے۔
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۱؎ حد ہوگئی۔ کیا کہا؟ قادیانی توجہ فرمائیں؟ مرزا قادیانی یا کسی قادیانی کو کوئی گالی دے تو وہ گالی خوشی سے کوئی قادیانی نقل نہیں کرے گا، لیکن قادیانیوں کو دیکھیں کہ بلاتکلف ان کا سربراہ کہہ رہا ہے کہ ’’عیسائیوں نے جو آنحضرتﷺ کو گالیاں دیں وہ ساری گالیاں سنادوں گا۔‘‘ مرزا ناصر کو یہ سبق اپنے دادا ملعون قادیان مرزا قادیانی سے ملا ہے۔ مرزا قادیانی نے (کتاب البریہ ص۹۴تا۱۱۸، خزائن ج۱۳ص۱۲۰تا۱۴۶) ۲۶صفحات پرمسلسل آنحضرتﷺ کے بارہ میں صریح بیہودہ اور کمینہ گالیاں جو عیسائیوں نے دیں وہ مرزا نے جمع کردی ہیں۔ (معاذ اللہ ثم معاذ اللہ ) یہ ہے قادیانی کفر کی اندرونی کیفیت۔
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    جناب یحییٰ بختیار: صدی کی بات نہیں ہے۔
    Mr. Chairman: The question of Attorney- General is. (جناب چیئرمین: اٹارنی جنرل صاحب کا سوال ہے)
    جناب یحییٰ بختیار: میں یہ کہتا ہوں کہ کوئی Incident (واقعہ) بتاسکتے ہیں؟
    871Mr. Chairman: The questin of the Attorney- General is. (جناب چیئرمین: اٹارنی جنرل صاحب کا سوال ہے)
    جناب یحییٰ بختیار: یہ جنرل وہ ہورہی ہے…
    Mr. Chairman: Just a minute. The question of the Attorney- General is: the immediate cause for this, for delivery of this. The witness is requested to confine himself...
    (جناب چیئر مین: صرف ایک منٹ۔اٹارنی جنرل کا سوال ہے کہ یہ خطبہ دینے کی فوری وجہ یا سبب کیا تھا۔ گواہ سے گزارش ہے کہ وہ اپنے (جواب کو) محدود رکھے…)
    جناب یحییٰ بختیار: آپ کوئی Incident (واقعہ) بتاسکتے ہیں…
    Mr. Chairman: .... to this question only.
    (جناب چیئرمین: صرف اس سوال تک )
    جناب یحییٰ بختیار: جس کی وجہ سے انہوں نے یہ کہا؟
    Mr. Chairman: ہاںNot a general reply but regarding this specific question.
    (جناب چیئرمین: جواب عام قسم کا نہ ہو، بلکہ خاص طور پر اس سوال کا جواب ہو)
    مرزا ناصر احمد: وہ جو ہے ناں اس کا ، وہ اسی میں وہ بھی موجود ہے، لیکن قریباً پونے چودہ سو سال کا عرصہ ہوچکا دشمن آپa کی مخالفت کرنے اور آپ کے متعلق بغض اور کینہ رکھنے سے باز نہیں آتا، یہاں جو آپ کا سوال ہے، اس کا جواب یہ فقرہ ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: اس جگہ کوئی نہیں!
    مرزا ناصر احمد: ہزاروں ہیں۔ لیکن میں اس وقت نہیں بتاسکتا۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اس ، اس واقعہ کے؟
    مرزا ناصر احمد: میں اس وقت نہیں بتاسکتا۱؎۔
    جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے۔
    مرزا ناصر احمد: میں کل صبح بتاؤں گا آپ کو، اگر یہی کرنا ہے۔ یعنی ایک مضمون بالکل صاف ہے…
    872جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! مضمون بالکل صاف آپ کو معلوم ہورہا ہے۔ مگر میری یہ ڈیوٹی ہے کہ… مجھے صاف نہیں معلوم ہورہا ہے…
    مرزا ناصر احمد: جی، ٹھیک ہے۔
  9. ‏ دسمبر 3, 2014 #9
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (آپ دشمن کس کو سمجھتے ہیں؟)
    جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ ابھی جو ہماری Arguments (دلائل ) ہورہی ہیں، یا جو سوالات پوچھ کے جواب پوچھ رہا ہوں، اس کے مطابق جو میرا Conception (تصور) ہے اسلام کا، وہ مختلف ہوگیا۔ جو میرا Conception (تصور) تھا نبی کا، وہ مختلف ہوگیا۔ تو اس لئے میں پوچھ رہا ہوں آپ ’’دشمن‘‘ کس کو سمجھتے ہیں؟…
    مرزا ناصر احمد: اس Context (سیاق وسباق) میں…
    جناب یحییٰ بختیار: آپ نے کہا ’’عیسائی‘‘ تو میں نے کہا ’’کوئی عیسائیوں…‘‘
    مرزا ناصر احمد: غیر مسلم، اصل میں حملہ آور یہ تھا ہندو اور آریہ خصوصاً ان میں سے اور عیسائی اور اس وقت دہریہ بھی بیچ میں اس حملے میں شامل ہوگئے۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ آپ درست فرمارہے ہیں، مرزا صاحب! ۱۹۴۹ء میں پاکستان بن چکا تھا، نہ کسی ہندو کی ہمت تھی، نہ کسی عیسائی کی کہ آنحضرتﷺ کی، پاکستان میں آپﷺ کی شان میں کسی قسم کی گستاخی کرتا…
    مرزا ناصر احمد: یہ یہ پرابلم ہے آپ کا؟
    جناب یحییٰ بختیار: تو اس واسطے میں…
    مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، ہاں، نہیں، اس کا جواب یہ ہے کہ پاکستان بن چکنے کے بعد بھی جو غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا جہاد تھا، وہ اسی طرح جاری تھا جس طرح پاکستان بننے سے پہلے۔
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۱؎ چاروں شانے چت۔
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  10. ‏ دسمبر 3, 2014 #10
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (دشمنوں کو کھا جائیں گے؟)
    جناب یحییٰ بختیار: کہ دشمنوں کو کھاجائیں گے؟
    مرزا ناصر احمد: اسلام کھاجائے گا۔
    جناب یحییٰ بختیار: یعنی ہم ہندوؤں کو کھاجائیں گے؟
    873مرزا ناصر احمد: اسلام… اسلام اپنی روحانی برتری سے کھاجائے گا۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ جو فقیروں کا ایک گروہ ہے۔ جو انسان کا گوشت کھاتا ہے، اس طرح کھاجائیں گے۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، وہ میں نہیں کہہ رہا۔
    مرزا ناصر احمد: جی۔
    جناب یحییٰ بختیار: اچھا جی۔ اب اور کوئی جوابات ہیں؟
لڑی کی کیفیت :
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

اس صفحے کی تشہیر