1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

قومی اسمبلی میں سولہواں دن

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 3, 2015

لڑی کی کیفیت :
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
  1. ‏ مارچ 3, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    قومی اسمبلی میں سولہواں دن

    Saturday, the 31st August. 1974.
    (۳۱؍اگست ۱۹۷۴ئ، بروز ہفتہ)

    ----------
    The Special Committee of the Whole House met in Camera in the Assembly Chamber, (State Bank Building), Islamabad, at nine of the clock, in the morning. Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.
    (مکمل ایوان کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس اسمبلی چیمبر (سٹیٹ بینک بلڈنگ) اسلام آباد بند کمرے میں صبح ۹؍بجے چیئرمین جناب (صاحبزادہ فاروق علی) کی زیرصدارت منعقد ہوا)
    ----------
    (Recitation from the Holy Quran)
    (تلاوت قرآن شریف)

    ----------
    2390QADIANI ISSUE- GENERAL DISCUSSION
    جناب چیئرمین: مولانا عبدالحکیم!… کچھ کم کروالی ہیں، گالیوں والا چیپٹر حذف کرالیا ہے۔ یعنی پڑھے نہیں جائیں گے۔ ویسے اس میں شامل ہیں۔

  2. ‏ مارچ 3, 2015 #2
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    ختم نبوت
    مولانا عبدالحکیم: بسم اﷲ الرحمن الرحیم!
    تیرہ سو سال سے دنیا بھر کے مسلمان اس بات پر متفق تھے کہ سرور عالم ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا کفر ہے اور ہر زمانہ میں ایسے مدعیوں کو اتمام حجت کے بعد سزا دی گئی۔ اس مسئلہ میں مرزاقادیانی کے ادّعاء سے پہلے اہل علم اور عام اہل اسلام میں کوئی اختلاف نہ تھا۔
  3. ‏ مارچ 3, 2015 #3
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (۱)…مسیلمہ کذاب
    اسلام میں سب سے پہلا اجماع اسی مسئلہ ختم نبوت پر ہوا۔ جب کہ تمام مسلمانوں نے مسیلمہ کذاب مدعی نبوت کے مقابلے میں خلافت صدیقیہ میں جہاد بالسیف کیا۔ چونکہ اس نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور اپنے گرد ربیعہ قوم کی چالیس ہزار جماعت جمع کر دی تھی۔ تمام صحابہ کرامؓ انصار ومہاجرین نے اس سے جہاد کرنے پر اتفاق کیا اور ہزاروں صحابہؓ نے جام شہادت نوش کر کے مسیلمہ کذاب کی جھوٹی نبوت کا قلعہ مسمار کر دیا۔ نیز مسیلمہ کذاب کے علاوہ دوسرے مدعیان نبوت کے ساتھ بھی جہاد کیاگیا اور ہمیشہ کے لئے اہل اسلام کو عملی طور سے یہ تعلیم دی گئی کہ اسلام کا منشاء ہی یہی ہے کہ ان کے حدود اقتدار میں کوئی شخص دعویٰ نبوت نہیں کر سکتا اور یہ دعویٰ کفر صریح اور موجب جہاد ہے۔ چنانچہ بعد کے کسی زمانے میں بھی جس کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا تو اس کے دعویٰ کو برداشت نہیں کیاگیا۔ بلکہ اس کو سخت سزا دی گئی۔ کسی وقت کسی حاکم اور کسی عالم نے 2391مدعی نبوت سے یہ دریافت نہیں کیا کہ تمہارا دعویٰ کس قسم کی نبوت کا ہے۔ نبوت مستقلہ ہے یا غیرمستقلہ۔ تشریعی یا غیرتشریعی۔ مستقل نبی یا غیرمستقل، تابع نبی یا امتی نبی ہونے کا۔ بلکہ اس کا دعویٰ نبوت ہی اس کے مجرم ہونے کے لئے کافی تھا۔
    اس وقت سے یہ تفریق کسی کے ذہن میں نہ تھی کہ بروزی نبی آسکتے ہیں یا تشریعی یا غیرمستقل یا تابع نبی یا امتی نبی۔ یہ سب الفاظ دعویٰ نبوت کو ہضم کرنے کے لئے ہیں۔ جس کو امت نے تیرہ سو سال تک ناقابل برداشت قرار دیا اور ہر دور کی اسلامی حکومت نے ان کو سزائے موت دی۔
    ----------
    [At this stage Mr. Chairman vacated the Chair which was occupied by (Dr. Mrs. Ashraf Khatoon Abbasi)]
    (اس موقع پر مسٹر چیئرمین نے کرسی صدارت چھوڑ دی جسے مسز اشرف خاتون عباسی نے سنبھال لیا)
    مولانا عبدالحکیم:
  4. ‏ مارچ 3, 2015 #4
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    چند اور نظائیر
    ۲… اسود عنسی… نے یمن میں نبوت کا دعویٰ کیا۔ سرور عالم ﷺ کے حکم سے قتل ہوا اور آپ ﷺ نے وحی کے ذریعہ سے خبر پاکر صحابہ کرامؓ کو اطلاع کر دی۔ لیکن جب قاصد خوشخبری لے کر مدینہ طیبہ پہنچا تو سرور عالم ﷺ وفات پاچکے تھے۔
    (تاریخ طبری ج۲ ص۲۵۰ بیروت، ابن اثیر ج۲ ص۲۰۳،۲۰۴ بیروت، ابن خلدون ج۲ ص۳۹۵ بیروت)
    ۳… سجاح بنت الحارث… قبیلہ بنی تمیم کی ایک عورت تھی۔ نبوت کا دعویٰ کیا پھر مسیلمہ کذاب سے مل گئی۔ بعد ازاں مسلمانوں کے لشکر کے مقابلہ میں روپوش ہوگئی اور بالآخر مسلمان ہوکر فوت ہوگئی۔
    (ابن اثیر ج۲ ص۱۸۶تا۲۱۳)
    ۴… مختار بن ابی عبید ثقفی۔ اس نے دعویٰ نبوت کیا اور ۶۷ھ میں حضرت عبداﷲ ابن زبیرؓ کے حکم سے قتل ہوا۔
    (تاریخ الخلفاء ص۱۸۵)
    2392۵… حارث بن سعید کذاب دمشقی۔ اس کو عبدالملک بن مروانؒ نے قتل کر کے عبرت کے لئے سولی پر لٹکایا۔ (تاریخ ابن عساکر ج۶ ص۱۵۳، حالات حارث سعید الکذاب نمبر۱۰۱) عبدالملک بن مروان دمشقی خود تابعی اور سینکڑوں صحابہؓ کو انہوں نے دیکھا اور ان سے حدیثیں روایت کی تھیں۔
    ۶… مغیرہ بن سعید عجلی اور بنیان بن سمعان تمیمی… دونوں نے ہشام بن عبدالملک کے زمانۂ خلافت میں دعویٰ نبوت کیا۔ عراق میں ان کے امیر خالد بن عبداﷲ قسری نے ان کو قتل کیا۔ (تاریخ کامل، طبری ج۴ ص۱۷۴،۱۱۶) ہشام بن عبدالملک کی خلافت کے وقت جلیل القدر تابعین اور اجلہ علماء موجود تھے۔
  5. ‏ مارچ 3, 2015 #5
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    خیر القرون کے بعد
    خیرالقرون، صحابہؓ، تابعین اور تبع تابعین کے بعد دوسرے ادوار میں بھی مسلم حکمرانوں نے مدعیان نبوت کا یہی حشر کیا۔
    ایران… میں بہاء اﷲ کا انجام برا ہوا اور آج بھی وہاں بہائی فرقہ خلاف قانون ہے۔
    کابل… میں تو مرزائے قادیان کی نبوت کی تصدیق کرنے والے مولوی عبداللطیف کو بھی قتل کر دیا گیا۔
    سعودی عرب… میں قادیانیوں کے داخلے پر پابندی ہے۔
    بہرحال تمام عالم اسلام نے شام، عراق، حرمین شریفین، کابل، ایران اور مصر تک کے علماء کرام اور سلاطین عظام نے مدعیان نبوت کے قتل کی حمایت وتصویب کی۔ اس ملک میں مرزاقادیانی صرف انگریز کی پشت پناہی سے بچا رہا۔
  6. ‏ مارچ 3, 2015 #6
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    دلائل ختم نبوت
    مسئلہ ختم نبوت کے لئے دلائل کی ضرورت نہ تھی۔ کیونکہ یہ بدیہیات اور ضروریات دین میں سے ہے۔ سب جانتے تھے کہ سرور عالم ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں 2393بن سکتا اور جو دعویٰ کرے اس کی سزا موت ہے۔ انگریزی عملداری سے فائدہ اٹھا کر یا خود انگریزوں کے ایماء سے مرزاغلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ یہ دعویٰ بھی اس نے تدریجاً کیا۔ پہلے مبلغ اسلام بنا، پھر محدث بنا، پھر مثیل مسیح بنا اور بعد میں خود مستقل مسیح موعود بن بیٹھا اور مسیح موعود کی اصطلاح بھی خود اسی نے ایجاد کی ہے۔ پرانی کتابوں میں اس اصطلاح کا وجود ہی نہیں ہے۔ بعد ازاں نبی غیرتشریعی، نبی بروزی، نبی امتی ہونے کا دعویٰ کیا اور مجازی نبوت سے اصلی نبوت کی طرف ترقی کر لی۔ پھر صاحب شریعت نبی بن گیا۔ پھر خدا کا بیٹا ہونے کا الہام بھی اس کو ہوا اور آخر کار خواب میں خود خدا بن گیا اور زمین وآسمان پیدا کئے۔ یہ باتیں مرزاجی کی کتابوں میں پھیلی ہوئی اور عام شائع وذائع ہیں۔
    جب مرزاجی کو آنے والے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جگہ خود مسیح موعود کی اصطلاح گھڑ کر خود مسیح موعود بننے کی ضرورت محسوس ہوئی تو بات یوں بنائی۔ آنے والے کا مثیل یہی ذات شریف ہے۔ مگر وہ تو نبی تھے۔ یہاں تو انگریزی وفاداری ہی تھی۔
    ناچار نبی بننے کے لئے فناء فی الرسول ہونے کی آڑ لی اور خود عین محمد بن کر نبی کہلانے کی سعی کی۔ آخری سہارا جو مرزاجی نے لیا وہ امتی نبی کا ہے۔ جس کا معنی یہ ہے کہ پہلے پیغمبروں کو براہ راست نبوت ملتی تھی مگر مجھے سرور عالم ﷺ کی اتباع سے ملی ہے۔ یعنی نبوت تو ملی ہے مگر حضور ﷺ کی برکت سے۔ علماء کرام نے مرزاجی کی اس دلیل کے بھی پرخچے اڑا دئیے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی مسلمان سرور عالم ﷺ کے بعد کسی کا نبی بننا برداشت ہی نہیں کر سکتا۔ یہ مسئلہ ایسا ہے کہ جس پر ساری امت کا اجماع ہے۔
    اس مسئلہ کے تفصیلی دلائل کے لئے آپ مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ سابق مفتی دارالعلوم دیوبند کی کتابیں… ختم نبوت فی القرآن: ختم نبوت فی الحدیث اور ختم نبوت 2394فی الاثار مطالعہ کریں۔ جن کی کاپی لف ہذا ہے۔ یا پھر حضرت مولانا محمد ادریس صاحب کاندھلویؒ کی تصانیف ختم نبوت اور حضرت علامہ انور شاہ صاحبؒ کی کتابیں تو اس سلسلے میں لاجواب پرازمعلومات اور مرزائیوں پر حجت قاطع ہیں۔ ہم یہاں اسمبلی کی ضرورت کے تحت کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں…
  7. ‏ مارچ 3, 2015 #7
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    ختم نبوت کے سلسلہ میں بنیادی آیت کریمہ
    ’’ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اﷲ وخاتم النّبیین (احزاب:۴۰)‘‘
    {حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تم میں سے کسی مرد بالغ کے باپ نہیں ہیں۔ ہاں وہ اﷲتعالیٰ کے رسول اور خاتم النّبیین ہیں۔}
    آپ ﷺ کی صاحبزادیاں تھیں اور بیٹے بچپن ہی میں فوت ہو گئے تھے۔ حضرت زید بن حارثہؓ آپ کے غلام تھے۔ جس کو آپ ﷺ نے آزاد کر کے متبنّٰی بنا لیا تھا۔ چنانچہ لوگ ان کو زید بن محمد کہنے لگ گئے تھے۔ مگر قرآن پاک نے جو صرف اور صرف حقیقت پر لوگوں کو چلانا چاہتا ہے۔ ایسا کہنے سے روک دیا۔ اب لوگ ان کو زید بن حارثہؓ کہنے لگ گئے۔ حضور ﷺ نے ان کی شادی اپنی پھوپھی زاد بہن حضرت زینبؓ سے کرادی۔ لیکن خاوند بیوی میں اتفاق نہ ہوسکا۔ حضرت زیدؓ نے انہیں طلاق دے دی۔ اب ایک آزاد کردہ غلام سے ایک قریشی عورت کی شادی پھر طلاق۔ دو طرح سے حضرت زینبؓ پر اثر پڑا۔ پھر آپ ﷺ نے ان سے نکاح کر لیا۔ جس سے حضرت زینبؓ کی تمام کدورتیں دور ہوگئیں۔ مگر مخالفین نے بڑا پروپیگنڈا کیا کہ منہ بولے بیٹے کی بیوی سے آپ ﷺ نے نکاح کر لیا۔ اس پر اس آیت نے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیا۔ فرمایا کہ حضور ﷺ کسی مرد کے باپ نہیں ہیں۔ یعنی زبان سے کہہ دینے سے حضرت زیدؓ کے حقیقی باپ نہیں 2395بن سکتے کہ نکاح ناجائز ہو جائے۔ پھر پیغمبر کی شفقت بھی باپ سے زیادہ ہوتی ہے اور آپ ﷺ کی شفقت ساری امت کے لئے ہے کہ آپ ﷺ اﷲتعالیٰ کے رسول ہیں اور یہ شفقت کہیں ختم بھی نہ ہو گی۔ کیونکہ قیامت تک آپ ﷺ کے بعد کسی کو نبی بننا نہیں ہے۔ اس لئے آپ ﷺ قیامت تک کے لئے تمام امت کے روحانی باپ پیغمبر اور بہترین شفیق ہوئے اور یہ وہم کہ جب آپ ﷺ روحانی باپ ہوئے اور امت روحانی اولاد ہوئی تو روحانی وراثت یعنی نبوت بھی جاری رہ سکتی ہے۔ اس ارشاد سے وہ وہم بھی رفع ہوگیا۔ نیز اس فرمان سے کہ آپ ﷺ نبیوں کو ختم کرنے والے ہیں۔ یہ وراثت بھی نہیں رہے گی اور اسی لئے حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ نبی نہیں ہوئے۔
  8. ‏ مارچ 3, 2015 #8
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    آیت کا معنی
    آیت کا معنی اور مختصر مفہوم بیان ہو گیا۔ یہی آیت وہ مرکزی آیت ہے جس نے سرور عالم ﷺ کے بعد نبی بننے کے تمام دروازے بند کر دئیے ہیں۔ اگر کسی نے ان تمام آیات کا استیعاب کرنا اور پورا دیکھنا ہو تو ہم نے ختم نبوت فی القرآن ساتھ منسلک کر دی ہے۔ اس میں سو آیتوں سے یہ ثابت کیاگیا ہے کہ آپ ﷺ نے نبیوں کی تعداد پوری کر دی ہے اور آپ ﷺ خاتم النّبیین ہیں۔ ہم یہاں صرف مختصراً ایک آیت کریمہ پر بحث کریں گے۔
  9. ‏ مارچ 3, 2015 #9
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    قرآن کی تفسیر قرآن سے
    یہ قران کے معانی کے بیان کا مسلمہ اصول ہے کہ پہلے ہم یہ دیکھیں گے کہ قرآن کی اسی آیت کا معنی خود قرآن سے کیا معلوم ہوتا ہے تو اس اصول کے تحت اسی آیت ’’ولکن رسول اﷲ وخاتم النّبیین‘‘ کی دوسری قرأت جو حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ کی قرأت ہے اور تفاسیر میں درج ہے یہ ہے۔ ’’ولکن نبیا ختم النّبیین‘‘ {لیکن آپ ایسے نبی ہیں جنہوں نے تمام نبیوں کو ختم کر ڈالا۔}
    2396اس قرأت نے ’’ولکن رسول اﷲ وخاتم النّبیین‘‘ کا معنی بالکل واضح کر دیا کہ آپ ﷺ نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں۔ اس تفسیر سے ان تمام غلط تاویلوں کے راستے ہی بند ہو گئے کہ آپ ﷺ نبیوں کی مہر ہیں۔ آئندہ آپ ﷺ کی مہر سے نبی بنا کریں گے۔ کیونکہ اب معنی بالکل صاف ہوگیا کہ اس نبی نے تمام نبیوں کو ختم کر ڈالا۔ گویا خاتم کا معنی ختم کرنے والا ہوگیا۔
  10. ‏ مارچ 3, 2015 #10
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    سرور عالم ﷺ کی تفسیر
    ظاہر ہے کہ جس ذات مبارک پر قرآن نازل ہوا ان سے بڑھ کر اس قرآن کا معنی کون سمجھ سکتا ہے۔ یہ اصول بھی سب میں مسلم ہے۔ اب آپ حضور ﷺ کی تفسیر سنئے۔ ترمذی شریف کی حدیث ہے جس کی صحت میں کلام نہیں ہے۔
    ’’انہ سیکون فی امتی کذابون ثلثون کلہم یزعم انہ نبی وانا خاتم النّبیین لا نبی بعدی (ترمذی ج۲ ص۴۵، باب ماجاء لا تقوم الساعۃ حتی یخرج الکذابون)‘‘ {تحقیق بات یہ ہے کہ میری امت میں تیس کذاب (جھوٹے) ظاہر ہوں گے ہر ایک کا زعم یہ ہوگا کہ میں نبی ہوں۔ حالانکہ میں خاتم النّبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔}
    اس مبارک، صحیح اور کفر شکن حدیث سے چند باتیں معلوم ہوئیں۔
    ۱… کہ خاتم النّبیین کا معنی ہے لا نبی بعدی کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔
    ۲… اس کے کذاب ودجال ہونے کی نشانی ہی یہ ہوگی کہ وہ کہے گا کہ میں نبی ہوں اس کا یہ دعویٰ کرنا ہی اس کے جھوٹے اور دجال ہونے کے لئے کافی ہے۔
    ۳… وہ دجال وکذاب میری امت میں سے نکلیں گے۔ اپنے کو امتی نبی کہیں گے۔ اگر حضور ﷺ کی امت میں ہونے کا دعویٰ نہ کریں تو کون ان کی بات پر کان دھرے۔ ان الفاظ سے امتی نبی کے ڈھونگ کا پتہ بھی لگ گیا۔
    2397اس حدیث میں آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ میری امت میں بعض جھوٹے نبی آئیں گے اور بعض سچے بھی ہوں گے۔ دیکھنا ان کا انکار کر کے سب کے سب کافر نہ بن جانا۔ نہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بروزی، ظلی، عکسی اور غیرتشریعی نبی ہوں تو کذاب ودجال نہ کہنا۔
    نہ آپ ﷺ نے یہ فرمایا کہ تیرہ سو سال تک سب دجال ہوں گے۔ بعد والوں کو مان لینا اور اگر کوئی شخص نبوت کا دعویٰ کر کے انگریز کے خلاف لڑنے اور جہاد کو حرام کہہ کر ساری دنیا میں لٹریچر پہنچائے تو اس انگریزی نبی کو مان لینا اور یہ کہ تیرہ سو سال تک جھوٹی نبوت بند ہے۔ بعد میں آزادی ہے (معاذ اﷲ) بہرحال جناب خاتم النّبیین ﷺ کی اس پاک حدیث نے مخالفین ختم نبوت کے سارے وسوسے خاک میں ملا دئیے۔
لڑی کی کیفیت :
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

اس صفحے کی تشہیر