1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

قومی اسمبلی میں نواں دن

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جنوری 12, 2015

لڑی کی کیفیت :
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
  1. ‏ جنوری 12, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    قومی اسمبلی میں نواں دن

    Thursday, the 22th August. 1974.
    (کل ایوانی خصوصی کمیٹی بند کمرے کی کارروائی)
    (۲۲؍اگست ۱۹۷۴ئ، بروز جمعرات)
    ----------

    The Special Committee of the Whole House met in Camera in the Assembly Chamber, (State Bank Building), Islamabad, at ten of the clock, in the morning. Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.
    (مکمل ایوان کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس اسمبلی چیمبر (سٹیٹ بینک بلڈنگ) اسلام آباد صبح دس بجے جناب چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی) کی زیرصدارت منعقد ہوا)
    ----------
    (Recition from the Holy Quran)
    (تلاوت قرآن شریف)
    ----------

    Mr. Chairman: They may be called. I will request the honourable members to be attentive. The Delegation is coming.
    (جناب چیئرمین: انہیں بلال لیں (مداخلت) میں معزز اراکین سے درخواست کروں گا کہ وہ توجہ فرمائیں۔ وفد آرہا ہے)
    (Interruption)
    (The Delegation entered the Chamber)
    (وفد ہال میں داخل ہوا)
    ----------
    جناب چیئرمین: وہ ذرا پنکھے فٹ ہو رہے ہیں۔ (وقفہ)
    Mr. Chairman: The honourable members can shift to that side.
    So we start with the proceedings.
    (جناب چیئرمین: معزز اراکین اس طرف جا سکتے ہیں۔ تو اب ہم کارروائی کا آغاز کرتے ہیں)
    Mr. Attorney General. (مسٹر اٹارنی جنرل)
    ----------

  2. ‏ جنوری 12, 2015 #2
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    1104CROSS- EXAMINTION OF THE QADIANI GROUP DELEGATION
    (جہاد منسوخ کب تک؟)

    جناب یحییٰ بختیار (اٹارنی جنرل پاکستان ): مرزا صاحب کل آپ فرما رہے تھے کہ یہ جہاد ملتوی یا منسوخ مہدی کے زمانے کے لئے ہے۔ ان کا آپ پیریڈ متعین کر رہے تھے…
    مرزا ناصر احمد (گواہ سربراہ جماعت احمدیہ، ربوہ): نہیں ٹھیک ہے، آپ کرلیں بات، پھر ان سب سے…
    جناب یحییٰ بختیار: … اور اس کے بعد ان کی وفات کے بعد پھر ہوسکتا ہے جہاد، یہ آپ کہہ رہے تھے،…
    مرزا ناصر احمد: ہاں۔ ہوسکتا ہے، ٹھیک ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: …میں نے کہا حالات پر Depend کر رہا ہے، اگر شرائط پھر آگئیں تو پھر جہاد ہوسکتا ہے، مگر صرف یہ مرزا صاحب کی زندگی میں شرائط پوری نہیں ہوں گی؟
    مرزا ناصر احمد: شرائط پوری نہیں ہوں گی۔
    جناب یحییٰ بختیار: شرائط پوری نہیں ہوں گی اور وہاں یہ Suspended (معطل) سمجھئے یا ملتوی سمجھیں یا منسوخ سمجھیں؟
    مرزا ناصر احمد: نہ…
    جناب یحییٰ بختیار: ان کی زندگی میں؟
    مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، ہاں۔
    جناب یحییٰ بختیار: ’’حرام‘‘ بھی تو لفظ استعمال ہوا ہے؟
    مرزا ناصر احمد: یعنی ’’حرام‘‘ اس معنی میں…
    1105جناب یحییٰ بختیار: … کہ شرائط نہیں …
    مرزا ناصر احمد: … کہ شرائط نہ ہوں …
    جناب یحییٰ بختیار: … اور نہ ہوں گی۔
    مرزا ناصر احمد: اگر شرائط نہ ہوں اور جہاد کیا جائے تو وہ ایک حرام فعل ہوگا۔
    جناب یحییٰ بختیار: حرام ہوتا ہے تو اس لئے ان کی زندگی میں یہ حرام ہے، کیونکہ شرائط نہیں ہوں گی اور نہ ہوسکتی ہیں؟
    مرزا ناصر احمد: ان کے دعویٰ میں … پیدائش کے وقت نہیں… دعوائے مسیحیت اور وصال کے درمیان کے زمانے میں۔
    جناب یحییٰ بختیار: یہ Limited period (محدود وقت) ہوگا؟
    مرزا ناصر احمد: ہاں۔
  3. ‏ جنوری 12, 2015 #3
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (مرزاقادیانی نے دعویٰ مسیحیت کب کیا؟)
    جناب یحییٰ بختیار: اس پر مجھے یہ بھی یاد آگیا کہ ایک سوال ہے، یہاں آپ سے پوچھ لیتا ہوں، کہ مرزا صاحب نے دعوائے مسیحیت کب کیا؟
    مرزا ناصر احمد: ۱۸۹۱ء میں۔
    جناب یحییٰ بختیار: ۱۸۹۱؟
    مرزا ناصر احمد: ۱۸۹۱ء
    Mirza Nasir Ahmad: Eighteen ninety-one (1891)
    جناب یحییٰ بختیار: اور اس سے پہلے انہوں نے جو کوئی دعویٰ کیا، مجدد یا محدث کا Claim کیا؟
    مرزا ناصر احمد: اس سے پہلے، دو سال پہلے، Eighteen eighty nine (1889) بیعت کا سال ہے، یعنی جب جماعت بنائی، لیکن اس وقت دعویٰ کوئی نہیں تھا اور جو بیعت کی غرض تھی وہ یہی کہ ’’میں چاہتا ہوں کہ میرے ساتھ تعلق رکھ کے لوگ کچھ سچے اور پکے مسلمان بن جائیں اور خدمت اسلام کا ان سے کام لیا جا سکے۔‘‘
  4. ‏ جنوری 12, 2015 #4
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (امتی نبی کا دعویٰ کب کیا؟)
    1106جناب یحییٰ بختیار: اور امتی نبی کا دعویٰ کس Date کو ہوا ہے؟
    مرزا ناصر احمد: یہ جو مسیحیت ہے نا، مسیح کے متعلق ہی آنحضرتﷺ کا فرمان ہے کہ وہ امتی نبی ہوگا۔
    جناب یحییٰ بختیار: میں کہتا ہوں مرزا صاحب نے کب پہلے کہا کہ ’’میں اُمتی نبی ہوں‘‘؟
    مرزا ناصر احمد: ۱۸۹۱ء میں۔
    جناب یحییٰ بختیار: وہی ۱۸۹۱ء میں دونوں باتیں … اسی…
    مرزا ناصر احمد: وہی، میں نے کہا تھا، اُسی سے استدلال ہوتا ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: تو اس سے لے کر ان کی وفات تک انیس سو آٹھ ۱۹۰۸ء تک…
    مرزا ناصر احمد: ہاں۔
    جناب یحییٰ بختیار: … اس پریڈ میں جو ہے جہاد آپ کے نقطہ نظر سے شرائط اس کی نہیں ہوسکتی تھیں؟
    مرزا ناصر احمد: شرائط نہ ہوسکتی تھیں، نہ ہندوستان میں ہوئیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہ ہوئیں؟
    مرزا ناصر احمد: نہ، نہ۔
    جناب یحییٰ بختیار: اور باقی دنیا میں بھی نہیں ہوئیں؟ صرف آج کی دنیا میں ہوئیں؟
    مرزا ناصر احمد: باقی دنیا میں تو دنیا کی تاریخ دیکھیں گے تو فیصلہ کریں گے۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں نے تو کل یہی عرض کیا تھا، مرزا صاحب ! کہ ایک اور شخص نے دعویٰ کیا کہ وہ مہدی ہے۔ اُس نے جہاد کا اعلان بھی کیا۔ اب یہ میں کہتا ہوں کہ اسی پیریڈ میں ہے…
    1107مرزا ناصر احمد: میں کہتا ہوں اس پیریڈ میں نہیں ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: بس ٹھیک ہے، وہ تو Historical fact (تاریخی حقیقت) ہے۔
    مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، وہ تو Historical fact (تاریخی حقیقت) ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: تو آپ کا خیال ہے…
    مرزا ناصر احمد: تو آپ کو کل کسی نے یعنی … ٹھیک ہے، ہمارے لئے مشکل ہے، آپ کے لئے بھی مشکل ہے، کوئی وقت کی تعین نہیں ہوئی سوڈانی مہدی کی۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، میں نے کہا۔ آپ نے کہا کہ شاید تھوڑا پیریڈ ان کا Contemporary (ہم عصر، ہم زمانہ) ہو۔
    مرزا ناصر احمد: ہاں۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہ میں Definitely (یقین کے ساتھ) کہہ سکتا ہوں نہ آپ نے کہا۔
    مرزا ناصر احمد: ہاں۔
    جناب یحییٰ بختیار: میں نے کہا کہ تھوڑا پیریڈ Contemporary (ہم عصر، ہم زمانہ) ہو۔ ممکن ہے وہ پیریڈ وہ ہو جب انہوں نے دعویٰ نہ کیا ہو؟
    مرزا ناصر احمد: ہاں۔
    جناب یحییٰ بختیار: اور یہ ممکن ہے وہ ہو جو ان کی وفات کے بعد؟
    مرزا ناصر احمد: ہاں، لیکن یہ ہے کہ ہوسکتا ہے بالکل ہی اس پیریڈ میں دعویٰ کیا نہ ہو۔
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں، کیا ہی نہ ہو۔
    مرزا ناصر احمد: میں شاگرد بن کے علم حاصل کرنا چاہتا تھا۔ اگر کوئی آپ کے علم میں ہو تو آپ مجھے بتا دیں۱؎۔
    1108جناب یحییٰ بختیار: میں نے تو بہت کچھ سیکھا ہے، مجھے تو کسی چیز کا علم ہی نہیں تھا اس کا۔ تو مرزا صاحب ! پھر اس کا مطلب یہ ہوگیا کہ یہ شرائط جہاد کے بارے میں …
    مرزا ناصر احمد: (اپنے وفد کے ایک رکن سے) شرائط نکالو۔
    جناب یحییٰ بختیار: … مرزا صاحب کی وفات کے بعد …
    مرزا ناصر احمد: ہوسکتی ہیں اور پھر جو شرائط ہیں، ابھی ہم فلسفیانہ بات کر رہے ہیں تو ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ شرائط کے متعلق ہمارے دوسرے بھائیوں کا کیا فتویٰ ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، یہ تو … اس میں تو کوئی، جہاں تک مجھے…
    مرزا ناصر احمد: میں ایک منٹ میں بتا دیتا ہوں، یعنی لمبا نہیں، ایک منٹ میں۔ یہ ہے اہل حدیث کا فتویٰ … آپس میں اختلاف ہوسکتے ہیں … میں نے صرف مثال کے طور پر ایک لے لیا ہے۔ یہ کہتے ہیں کہ چار شرائط ہیں۔ اوّل یہ کہ امت مسلمہ کا … اوّل یہ شرط ہے کہ امت مسلمہ کا ایک امام اکبر ہو … یہ شرط ہے جہاد کی … امت مسلمہ میں ایک خلیفہ جو ساری دنیا کے مسلمان اس کو اپنا امام مانتے ہوں۔ پہلی شرط یہ ہے۔ دوسری شرط یہ ہے کہ جس قسم کی بھی جنگ ہو، اس کے لئے مناسب ہتھیار مہیا ہوسکیں اور ہوں۔ یہ شرط ’’فتاویٰ نظیریہ‘‘ میں ہے۔ مثلاً آج کی ایٹمی جنگوں میں ایٹمی ہتھیار ہونے چاہئیں، اس فتویٰ کی رو سے۔ اسباب لڑائی کا مثل ہتھیار وغیرہ کے مہیا ہو، میں یہ ایک ایک فقرہ لے رہا ہوں۔ اس کی اگر نہ سمجھ آئے تو میں کر دوں گا … دوسرا یہ کہ اسلامی دینی جہاد کے لئے ایک Base ہونی چاہئے، دینی کوئی ملک ہو جہاں سے سارا جہاد جو دنیا کا ہے، اس کو کنٹرول کیا جا سکے، رسد مہیا کی جا سکے، ہتھیار مہیا کئے جا سکیں، آدمی مہیا کئے جا سکیں۔ تیسری شرط … Base کا ہونا اور چوتھی شرط یہ ہے کہ مسلمانوں کا لشکر اتنا ہو کہ کفار کے مقابلہ میں مقابلہ کرسکتا ہو، یعنی 1109کفار کے لشکر سے آدھے سے کم نہ ہو۔ یہ جہاد کی چوتھی شرط اہل حدیث کے نزدیک ’’فتاویٰ نظیریہ‘‘ جلد سوم میں ہے۔ مثلاً اگر … ذرا میں مثال دے کر اس کو واضح کر دیتا ہوں … اگر بیس لاکھ کی فوج امریکہ کی مسلمان ملک پر حملہ آور ہو تو دینی جہاد کے لئے ضروری ہے کہ دس لاکھ کی فوج مسلمانوں کی بھی ہو ’’فتاویٰ نظیریہ‘‘ کے مطابق۔
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    ۱؎ شیخ سعدیؒ فرماتے۔ تھوڑے سے تصرف سے۔
    سعدی، شیرازی سبق مدہ کم زاد را
    مرزا شود گلہ کند استاذ را
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    جناب یحییٰ بختیار: یعنی دو کے مقابلے میں ایک؟
    مرزا ناصر احمد: ہاں دو کے مقابلے میں۔ انہوں نے آگے … میں نے مختصر بتایا ہے … کہ قرآن کریم سے استدلال کیا ہے، اپنے رنگ میں۔ یہ ضروری تھا کیونکہ ’’ہم جہاد، جہاد‘‘ کہتے ہیں، شرائط کا نام لیتے ہیں اور ہمارے ذہن میں رہنی چاہئیں شرائط۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ شرائط تو آنحضرتﷺ کے زمانے سے آرہی ہیں؟
    مرزا ناصر احمد: یہ شرائط؟
    جناب یحییٰ بختیار: میں ان کا نہیں خاص کر رہا، جو شرائط جہاد …
    مرزا ناصر احمد: جو ’’شرائط جہاد‘‘ کے نام سے آنحضرتﷺ کے زمانے سے…
    جناب یحییٰ بختیار: وہ تو اس زمانے سے ہیں۔ اس زمانے سے اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی؟
    مرزا ناصر احمد: مرزا صاحب نے ان شرائط میں جو آنحضرتﷺ کے زمانے سے آرہی ہیں، کوئی تبدیلی نہیں کی۔
    جناب یحییٰ بختیار: سوائے اس کے کہ ایک روایت یہ ہے کہ جب مہدی آئے گا جہاد ختم ہوگا؟
    مرزا ناصر احمد: ’’یضع الحرب‘‘ آپ نے فرمایا کہ حدیث میں ہے …
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں میں وہی کہہ رہا ہوں۔
    1110مرزا ناصر احمد: … کہ مہدی کی زندگی میں جہاد کی شرائط پوری نہیں ہوں گی، اور اس واسطے دینی جنگ جو ہے وہ نہیں ہوگی۔
    جناب یحییٰ بختیار: وہ نہیں ہوگی۔ اس کے بعد پھر ہوسکتی ہے؟
    مرزا ناصر احمد: ہوسکتی ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: تو جہاں تک احمدیہ طبقے کا تعلق ہے یا Community (جماعت) کا تعلق ہے، ان پر ابھی وہ جو مرزا صاحب کے قول ہیں کہ ’’جنگ حرام ہے‘‘ ’’جہاد حرام ہے‘‘ وہ ابھی نہیں Apply (لاگو) کرتا آپ پہ؟
    مرزا ناصر احمد: یہ ہوسکتا ہے کہ ہماری زندگیوں میں یا ہمارے بچوں کی زندگیوں یا ان بچوں کے بچوں کی زندگیوں میں یا آئندہ آنے والی کسی نسل میں جو جماعت احمدیہ اور بانی سلسلہ احمدیہ کی طرف منسوب ہونے والی ہے، شرائط جہاد پوری ہوجائیں اور اس وقت وہ سارے مسلمانوں کے ساتھ مل کر دینی جہاد میں شامل ہوں۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ پوچھنا چاہتا تھا، مرزا صاحب ! یہ Directives (حکم نامہ) جو ہیں مرزا صاحب کے، وہ اپنی Community (جماعت) یا فرقے یا احمدی، ان سے کہہ رہے ہیں … ممکن ہے سب مسلمانوں کو کہہ رہے ہوں… مگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ…
    مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں ٹھیک ہے، اپنے آپ کو، تو ٹھیک ہے۔
    [At this stage Mr. Chairman vacated the chair which was occupied by Prof. Ghafoor Ahmad.]
    (اس موقع پر جناب چیئرمین نے کرسی صدارت پروفیسر غفور احمد کے سپرد کی)
    جناب یحییٰ بختیار: ان کو یہ ہدایت کر رہے ہیں، ان کو یہ Instructions دے رہے ہیں، ان کو Directions دے رہے ہیں کہ یہ آپ کے لئے ملتوی یا منسوخ ہے یا حرام ہے؟
    1111مرزا ناصر احمد: جی۔
    جناب یحییٰ بختیار: تو یہ جو ہے ۱۹۰۸ء تک تھا، اس کے بعد آپ پر حرام نہیں ہے، اگر حالات آگئے تو؟
    مرزا ناصر احمد: بجائے اس کے کہ میں جواب دوں، بانی سلسلہ احمدیہ نے اس کے متعلق جو لکھا ہے وہ میں پڑھ کر سنا دیتا ہوں۔
  5. ‏ جنوری 12, 2015 #5
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (مرزاغلام احمدقادیانی کی عبارتوں کے اقتباسات)
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں سنا دیجئے۔
    مرزا ناصر احمد: اور یہ ذرا دو چار منٹ لگیں گے، تشریف رکھیں: ’اس زمانے میں جہاد روحانی صورت سے رنگ پکڑ گیا ہے، یعنی جہاد صغیر سے جہاد کبیر کی شکل…‘‘
    اس کے بعد آخری فقرہ آپ کا یہ ہے: ’’جب تک یہی جہاد ہے کہ خدا تعالیٰ کوئی دوسری صورت دنیا میں ظاہر کردے…‘‘ اور یہ ’’ضمیمہ تحفہ گولڑویہ‘‘ میں عربی کی عبارت ہے، بڑی واضح ہے۔‘‘ (اس میں کوئی شک نہیں کہ شرائط جہاد، وجوہ جہاد اس زمانے میں اور ان ملکوں میں، معدوم ہیں)
    ’’فاالیوم …‘‘ اس لئے کیونکہ شرائط جہاد معدوم ہیں اس لئے مسلمانوں کے لئے یہ حرام ہے کہ وہ دین کی جنگ، جہاد کریں۔ وہ جو میں نے آپ کو بات کہی تھی نا، آنحضرت کی زندگی میں اور رسول کریمﷺ نے فرمایا ہے کہ نزول مسیح کے وقت جہاد کی شرائط جو ہیں وہ نہیں پائی جائیں گی: 1112یہ وہ زمانہ ہے جس میں کوئی حکومت مسلمانوں پر مسلمان ہونے کی وجہ سے… ویسے تو بڑی ظالم حکومتیں تھیں … لیکن یہ وہ زمانہ ہے جس میں کوئی ملک ایسا نہیں جس میں مسلمان پر اس کے اسلام کی وجہ سے ظلم کیا جاتا ہو۔اور نہ کوئی حاکم پایا جاتا ہے جو اسلام، جو اس کا دین ہے، اس کی وجہ سے اس کے خلاف کچھ احکام جاری کر رہا ہو۔اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے شرائط کے نہ پورا ہونے کی وجہ سے اس زمانے میں اپنے حکم کو دوسرا رنگ دیا ہے۔
    اس زمانے میں … بڑی واضح ہے یہ عبارت… حضرت بانی سلسلہ احمدیہ اس زمانے کے متعلق پھر آپ ایک نظم میں لکھتے ہیں:
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    ’’فرما چکا ہے سید کونین مصطفی
    عیسیٰ مسیح ہی جگہوں کا کر دے گا التوا‘‘
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ویسے وہ ’’حرام‘‘ کا لفظ وہ پہلے میں ہے، اور بڑی وضاحت سے وہ ’’حرام‘‘ کے معنی ہمیں بتا رہا ہے۔ پھر آپ اپنی ایک دوسری کتاب میں تحریر فرماتے ہیں: صحیح بخاری کی …
    ’’بلکہ خدا کا یہی ارادہ ہے۔ صحیح بخاری کی اس حدیث کو سوچو جہاں مسیح موعود کی تعریف میں لکھا ہے: یعنی مسیح جب آئے گا تو دینی جنگوں کا خاتمہ کردے گا۔ تو میں حکم دیتا ہوں کہ جو میری فوج میں داخل ہیں وہ ان خیالات کے مقام سے پیچھے ہٹ جائیں، دلوں کو پاک کریں اور اپنے انسانی ذہن کو ترقی دیں اور دردمندوں 1113کا ہمدرد بنیں، زمین پر صلح پھیلا دیں کہ اس سے ان کا دین پھیلے گا اور اس سے تعجب مت کریں کہ ایسا کیونکر ہوگا۔ کیونکہ جیسا کہ خدا نے بغیر توسط معمولی اسباب کے…‘‘
    وہ مثال دی ہے۔ یہ ہے جہاد پر آپ کی کتاب: ’’…قرآن میں صاف حکم ہے کہ دین کے پھیلانے کے لئے تلوار مت اٹھاؤ اور دین کی ذاتی خوبیوں کو پیش کرو۔ نیک نمونوں سے اپنی طرف کھینچو اور یہ مت خیال کرو کہ ابتداً میں اسلام میں تلوار کا حکم ہوا تھا۔ کیونکہ وہ تلوار دین کے پھیلانے کے لئے نہیں کھینچی گی تھی، بلکہ دشمنوں کے حملوں سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے یا امن قائم کرنے کے لئے کھینچی گئی تھی۔ مگر دین کے لئے جبر کرنا کبھی مقصد نہ تھا۔‘‘
    پھر آپ فرماتے ہیں کہ: ’’میں نہیں جانتا کہ ہمارے مخالفوں نے کہاں سے اور کس سے سن لیا کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے۔‘‘
    ظاہر ہے یہاں ’’مخالف‘‘ عیسائی وغیرہ ہیں جو اعتراض کرتے ہیں: خدا تو قرآن شریف میں فرماتا ہے: ’’یعنی دین اسلام میں جبر نہیں۔ تو پھر کس نے جبر کا حکم دیا اور جبر کے کون سے سامان تھے۔ کیا وہ لوگ جو جبر سے مسلمان کئے جاتے ہیں ان کا یہی صدق اور یہی ایمان ہوتا ہے کہ بغیر کسی تنخواہ پانے کے، باوجود دو تین سو آدمی ہونے کے ہزاروں کا مقابلہ کریں اور جب ہزار تک پہنچ جائیں تو لاکھ دشمنوں کو شکست دے دیں اور دین کو دشمن کے حملہ سے بچانے کے لئے 1114بھیڑوں اور بکریوں کی طرح سر کٹا دیں اور اسلام کی سچائی پر اپنے خون سے مہر کردیں اور خدا کی توحید کو پھیلانے کے لئے ایسے عاشق ہوں کہ درویشانہ طور پر سختی اٹھا کر افریقہ کے ریگستان تک پہنچتے ہیں اور اس ملک میں اسلام کو پھیلا دیں اور پھر ہر ایک قسم کی صعوبتیں اٹھا کر چین تک پہنچیں، نہ جنگ کے طور پر بلکہ درویشانہ طور پر اس ملک میں پہنچ کر دعوت اسلام کریں، جس کا نتیجہ یہ ہو کہ ان کے بابرکت واسطے کئی کروڑ مسلمان اس زمین میں پیدا ہوجائیں اور پھر ٹاٹ پوش درویشوں کے رنگ میں ہندوستان میں آئیں۔ بہت سے حصہ آریہ ورتھ کو اسلام سے مشرف کردیں اور یورپ کی حدود تک لا الہ الا اللہ کی آواز پہنچا دیں۔ تم ایماناً کہو، کیا یہ کام ان لوگوں کا ہے جو جبراً مسلمان کئے جاتے ہیں، جن کا دل کافر اور زبان مومن ہوتی ہے۔ بلکہ یہ ان لوگوں کے کام ہیں جن کے دل نور ایمان سے بھر جاتے ہیں اور جن کے دلوں میں خدا ہی خدا ہوتا ہے۔‘‘ (پیغام صلح)
    پھر آپ فرماتے ہیں: ’’مسیح دنیا میں آیا تاکہ دین کے نام سے تلوار اٹھانے کے خیال کو دور کرے اور اپنے حجج اور براہین سے ثابت کردکھائے کہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو اپنی اشاعت کے لئے تلوار کی مدد کا ہرگز محتاج نہیں بلکہ اس کی تعلیم کی ذاتی خوبیاں اور اس کے حقائق و معارف و حجج و براہین اور خدا تعالیٰ کی زندہ تائیدات اور نشانات اور اس کا ذاتی جذب ایسی چیزیں ہیں جو ہمیشہ اس کی ترقی اور اشاعت کا موجب ہوئی ہیں۔ اس لئے وہ تمام لوگ آگاہ رہیں جو اسلام کے بزور شمشیر پھیلائے جانے کا اعتراف کرتے ہیں کہ وہ 1115اپنے اس دعویٰ میں جھوٹے ہیں۔ اسلام کی تاثیرات اپنی اشاعت کے لئے کسی جبر کی محتاج نہیں۔ اگر کسی کو…‘‘
    آگے آپ نے فرمایا: ’’اب تلوار کے ذریعے اسلام کی اشاعت کا اعتراض کرنے والے سخت شرمندہ ہوں گے۔‘‘ ’’یہ ملفوظات‘‘
    پھر آپ فرماتے ہیں کہ: ’’پس جس حالت میں اسلام میں یہ ہدایت ہی نہیں کہ کسی جبر و قتل کی دھمکی سے دین میں داخل کیا جائے تو کسی خونی مہدی یا خونی مسیح کا انتظار کرنا سراسر لغو اور بیہودہ ہے کیونکہ ممکن نہیں کہ قرآنی تعلیم کے برخلاف کوئی ایسا انسان بھی دنیا میں آوے جو تلوار کے ساتھ لوگوں کو مسلمان کرے۔‘‘
    پھر آپ فرماتے ہیں: ’’جبکہ یہ سنت اللہ کہ یعنی تلوار سے ظالم اور منکروں کو ہلاک کرنا … قدیم سے یہ سنت اللہ ہے، یعنی تلوار سے ظالم، منکروں کو ہلاک کرنا، قدیم سے چلی آتی ہے تو قرآن شریف پر کیوں خصوصیت کے ساتھ اعتراض کیا جاتا ہے۔ کیا موسیٰ کے زمانے میں خدا کوئی اور تھا اور اسلام کے زمانے میں کوئی اور ہوگیا۔ یا خدا تعالیٰ کو اس وقت لڑائیاں پیاری لگتی تھیں اور اب بری دکھائی دیتی ہیں۔ اسلام نے صرف ان لوگوں کے خلاف تلوار اٹھانے کا حکم فرمایا ہے جو اول آپ پر تلوار اٹھائیں اور ان ہی کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے جو اول آپ کو قتل کریں۔ یہ حکم ہرگز نہیں دیا کہ تم ایک کافر بادشاہ کے تحت 1116میں ہو اور اس کے عدل و انصاف سے فائدہ اٹھا کر اسی پر باغیانہ حملہ کرو۔ قرآن کی رو سے یہ بدمعاشوں کا طریق ہے نہ کہ نیکوں کا۔ لیکن تورات نے یہ فرق کسی جگہ نہیں کھول کر بیان فرمایا۔ اس سے ظاہر ہے کہ قرآن شریف اپنے جلالی اور جمالی احکام میں اس خط مستقیم، عدل اور انصاف، رحم اور احسان پر چلتا ہے جس کی نظیر دنیا میں کسی کتاب میں موجود نہیں۔‘‘
    پھر آپ فرماتے ہیں:’’کہ ان لوگوں کے خلاف اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے مؤمنوں پر کہ ان سے لڑائی کریں جو جبراً، اپنے مذہب میں داخل کرتے ہیں اور مؤمنوں کو ان کی عبادات سے روکتے ہیں…‘‘ یہ لمبی عبارت ہے۔ اگر آپ کہیں تو میں اس کا ترجمہ کردیتا ہوں اور بد ایک اور … ہاں، یہ ترجمہ ہے۔ لیکن یہ ترجمہ اس کے ساتھ میں نے کیا، کروایا ہوا ہے۔ لیکن ویسے بھی کرسکتا تھا یہ رکھا بھی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جہاد کے متعلق جو فرمایا بڑا واضح ہے۔ یہاں شرائط کا حکم کس معنوں میں ہے، وہ میں نے پڑھ دیا ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں وہ آپ نے سنا دیا ایک بات جو میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اس پر مرزا صاحب ! کوئی سوال ہی نہیں آیا۔ آپ کے سامنے، نہ کوئی Dispute (تنازع) ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے کوئی پھیلانا چاہتا ہے۔ یہ غلط Conception (تصور) ہے۔ سب مسلمان جانتے ہیں، سب مانتے ہیں کہ اسلام میں Defensive war (دفاعی جنگ) ہے۔
    1117مرزا ناصر احمد: ہاں، یعنی …
    جناب یحییٰ بختیار: آپ نے بڑا Emphasize (تاکید) کیا کہ تلوار کے زور سے پھیلا۔ میں اس کی بات ہی نہیں کرتا۔
    مرزاناصر احمد: نہیں، نہیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: یہ بات عیسائی کہتے ہوں گے۔
    مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔
    جناب یحییٰ بختیار: کوئی مسلمان عالم جو ہے وہ جانتا ہے کہ تلوار کے زور سے اسلام کبھی نہیں پھیلایا جا سکتا۔
    مرزا ناصر احمد: الاّ ماشاء اللہ!
    جناب یحییٰ بختیار: کوئی Compulsion (مجبوری) نہیں ہے۔ اس پر تو کوئی Dispute (تنازع) نہیں ہے۔ Dispute (تنازع) تو اس بات کا ہے کہ جب جہاد لازم ہو، شرائط موجود ہوں، آپ فرماتے ہیں کہ مہدی کے زمانے میں وہ نہیں ہوگا کیونکہ مہدی کی موجودگی میں شرائط ختم ہوجاتی ہیں۔ یہ بھی وجہ آپ نے بتائی ہے۔
    مرزا ناصر احمد: …آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ … ایسا نہیں ہوں گی۔
    جناب یحییٰ بختیار: وہی میں کہہ رہا ہوں۔
    مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، نہیں، کہاں، کہیں ہوئیں؟
  6. ‏ جنوری 12, 2015 #6
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (حضرت مسیح جہاد کا خاتمہ کر دے گا)
    جناب یحییٰ بختیار: تو آپ نے جو حدیث بخاری شریف پڑھ کر سنائی، وہ تو کہتے ہیں کہ وہ جہاد کا خاتمہ کردے گا، جو آپ کے Words (الفاظ) ہیں۔ تو اس کے بعد تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ پھر بھی شرائط آئیں گی۔ یہ ذرا آپ Explain (واضح) کردیں۔
    1118مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، ٹھیک ہے… ’’خاتمہ کردے گا۔‘‘ دوسری تحریر آپ…
    جناب یحییٰ بختیار: ’’خاتمہ‘‘ سے میرا مطلب اٹھارہ سال کے لئے یا سترہ سال کے لئے، یہ تو نہیں ہے۔
    مرزا ناصر احمد: میں جواب دے دوں۔ ’’خاتمہ کردے گا‘‘ کے معنی اور بانی سلسلہ احمدیہ کی دوسری تحریرات اور ارشادات ’’خاتمہ کردینے‘‘ کے معنی کرتے ہیں کہ اپنی زندگی کے متعلق وہ یہ کہے گا کہ ’’میرے زمانے میں ایسا نہیں ہوگا۔‘‘
    جناب یحییٰ بختیار: یعنی ۱۸۹۱ء سے لے کر۱۹۰۸ء تک، اس زمانے کے لئے؟
    مرزا ناصر احمد:
    جناب یحییٰ بختیار: یہ بخاری کی حدیث جو ہے اس کا Application (نفاذ) اسی زمانے کے لئے ہے؟
    مرزا ناصر احمد: اسی زمانے کے متعلق ہے۔
  7. ‏ جنوری 12, 2015 #7
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (مسیح کے زمانہ میں صلح پھیل جائے گی)
    جناب یحییٰ بختیار: اور زمین میں جو صلح پھیل جائے گی وہ بھی اسی زمانے کے لئے ہے؟
    مرزا ناصر احمد: ’’زمین میں صلح پھیل جائے گی‘‘ یہ جو ہے، یعنی جو… اس کے ایک تو معنی یہ ہیں کہ نوع انسانی کا دماغ Theoretically (نظری طور پر) اس نتیجے پر پہنچ جائے گا کہ عقائد کو جبر سے نہیں بدلا جا سکتا۔ اس لحاظ سے صلح پھیل گئی۔ جہاں تک ہمارے قابل احترام ہمسایہ ملک چین کے صدر چیئرمین ماؤزے تنگ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے … جیسا کہ میرے خطبے میں بھی ہے…
    جناب یحییٰ بختیار: آپ کے خطبے میں ہے؟
    1119مرزا ناصر احمد: جبر کے ساتھ دل کے عقائد کو بدلنے کا تصور احمقانہ ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: وہ تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
    مرزا ناصر احمد: ہاں۔ ’’تو صلح پھیل گئی‘‘ کے ایک معنی یہ ہیں کہ دنیا اپنے لمبے تجربے کے بعد… اس کا کئی صدیوں میں… عیسائیت میں فرقہ وارانہ فساد ہوئے اور Inquisitions ہوئیں بڑی Horrible (خوفناک) وہ زمانہ ہے عیسائی دنیا کا۔ لیکن ان سارے زمانہ میں انسان ان زمانوں میں سے گزر کر اس نتیجے تک پہنچ گیا، انسان بحیثیت مجموعی، کہ اب ہمیں یہ تسلیم کرلینا چاہئے کہ انسان نے جبر سے عقائد تبدیل کرنے کے لئے جو ہزاروں سال کوششیں کیں اس کا نتیجہ کچھ نہیں نکلا۔ اس لئے عقائد کی تبدیلی کے لئے جبر نہیں کیا جانا چاہئے۔ یہ ایک صلح ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: اب، ہاں، دنیا اس نتیجے پر پہنچ گئی آپ کے نقطہ نظر سے، کہ دین کے معاملے میں وہ جبر نہیں کرتے تو اس لئے ۱۹۰۸ء کے بعد بھی یہ حالات موجود ہیں پھر؟
    مرزا ناصر احمد: موجود ہیں، لیکن بدلنے کا امکان بھی ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: یعنی مطلب یہ ہے کہ وہ …
    مرزا ناصر احمد: ابھی تو موجود ہیں، ہمارے نزدیک، لیکن بدلنے کا امکان ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: یہ جو مرزا صاحب کی Direction (حکم) ہے کہ ’’آپ کے لئے حرام ہے‘‘ یہ آپ کہتے ہیں کہ یہ سارا سترہ اٹھارہ سال کے پیریڈ کے لئے ہے، بعد میں حالات Change (تبدیل) ہوسکتے ہیں کہ جہاد جائز ہوسکتا ہے؟
    مرزا ناصر احمد: میں یہ کہتا ہوں کہ جو یہ فرمایا کہ ’’تمہارے لئے حرام ہے‘‘ اس پر بھی … اس پر عمل کرنا چاہئے اور اتنا ہی عمل اس پر کرنا چاہئے۔ ’’جب حالات بدل جائیں اور شرائط پوری ہوجائیں تو تمہارے اوپر فرض ہے کہ تم جہاد کرو‘‘ … ابھی میں نے پڑھا ہے۔
    (مرزاقادیانی کا کہنا کہ جہاد حرام بھی ہے اور آئندہ بھی اس کا انتظار نہ کریں)
    1120جناب یحییٰ بختیار: وہ ابھی آپ نے پڑھ دیا۔ نہیں، میرے سامنے ایک اور حوالہ تھا کہ جس میں کہتے ہیں کہ ’’حرام بھی ہے اور آئندہ کے لئے بھی آپ اس کا انتظار نہ کریں۔‘‘ تو اس لئے میری یہ وہ Difficulty (مشکل) آگئی تھی۔ میں پڑھ کر سناتا ہوں: ’’یاد رہے کہ مسلمانوں کے لئے…‘‘ یہ ہے جی ’’اشتہار واجب الاظہار … اپنی جماعت کے لئے اور گورنمنٹ عالیہ کی توجہ کے لئے‘‘… ’’تریاق القلوب‘‘ ہے میرے خیال میں…
    مرزا ناصر احمد: ہاں اپنے وفد کے ایک رکن سے ’’تریاق القلوب‘‘ ہے آپ کے پاس؟
    Mr. Yahya Bakhtiar: Page 332.
    (جناب یحییٰ بختیار: صفحہ ۳۳۲)
    مرزا ناصر احمد: یہ دیکھتے ہیں، اگر ہو تو ابھی …
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں آپ کو یہ دے دیتا ہوں۔
    مرزا ناصر احمد: ہاں ہاں، دے دیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: تو کوئی پرابلم نہیں ہوگا۔
    [At this stage Prof. Ghafoor Ahmad vecated the chair which was occoupied by Dr. Mrs. Ashraf Khatoon Abbasi.]
    (اس مرحلہ پر پروفیسر غفور احمد نے کرسی صدارت چھوڑ دی اور ڈاکٹر مسز اشرف خاتون عباسی نے کرسی ٔ صدارت سنبھال لی)
    جناب یحییٰ بختیار: ’’یاد رہے کہ مسلمانوں کے فرقوں میں سے یہ فرقہ جس کا ’’خدا نے مجھے امام‘‘ پیشوا اور رہبر مقرر فرمایا ہے، ایک بڑا امتیازی نشان اپنے ساتھ رکھتا ہے …‘‘
    Now this applies to the whole Firqua (فرقہ)
    (چنانچہ یہ تمام فرقہ پر لاگو ہوتا ہے)
    1121’’… اس فرقے میں تلوار کا جہاد بالکل نہیں اور نہ اس کی انتظار ہے بلکہ یہ مبارک فرقہ نہ ظاہر طور پر اور نہ پوشیدہ طور پر جہاد کی تعلیم کو ہرگز جائز نہیں سمجھتا۔‘‘
    (اشتہار واجب الاظہار ص۱، ملحقہ تریاق القلوب خزائن ج۱۵ ص۵۱۷)
    مرزا ناصر احمد: اپنے زمانے کے لئے ہے۔ اس میں تو کہیں نہیں لکھا ہوا ہے ’’قیامت تک کے لئے۔‘‘
    جناب یحییٰ بختیار: یعنی یہ اپنے زمانے کے لئے تھا؟ جب انہوں نے فرمایا یہ ۱۹۰۸ء تک کے لئے ہے؟
    مرزا ناصر احمد: یعنی وہ ایک فقرہ ہمارے ذہن میں ہو ناں کہ ’’آپ کے زمانہ میں جہاد کی شرائط پوری نہیں ہوں گی…‘‘
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں سمجھ گیا ہوں۔
    مرزا ناصر احمد: … حدیث کے مطابق اور بعد میں ہوسکتا ہے کہ کسی وقت پوری ہوجائیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: جب یہ کہتے ہیں کہ ’’نہ انتظار ہے‘‘ یہ ۱۹۰۸ء تک اس کے بعد بے شک انتظار کی گھڑیاں ختم ہیں؟
    مرزا ناصر احمد: ’’خونی مہدی کا انتظار‘‘ جو ہے، ایسا مہدی پیدا ہوگا کہ جو اپنی زندگی میں اس حدیث کے باوجود جہاد کا اعلان کرے گا، اس کا انتظار نہیں ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: ایک یہ مطلب نہیں لیا جاتا … بعض مسلمانوں کا یہ خیال ہے، میری سمجھ کے مطابق … کہ جب مہدی آئے گا اسلام پھیل جائے گا۔ چونکہ جہاد کفار کے خلاف ہوتا ہے، اس لئے کوئی ضرورت نہیں ہوگی جہاد کی؟
    مرزا ناصر احمد: وہی پھر کہ اسلام کو تلوار کی ضرورت ہے اپنی اشاعت کے لئے!
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں میں تلوار کی بات نہیں کر رہا ہوں۔
    1122مرزا ناصر احمد: ہاں جی۔
    جناب یحییٰ بختیار: کہ جب مہدی آئے گا تو اس کے بعد اسلام پھیل جائے گا ساری دنیا میں۔
    مرزا ناصر احمد: کس طرح پھیلے گا؟ … وہاں وہ لکھا ہوا ہے وہیں…
    جناب یحییٰ بختیار: تلوار کے۔
    مرزا ناصر احمد: جبر کے ساتھ۔ وہیں یہ لکھا ہوا ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آپ کا Concept (تصور) تو یہ ہے ناں جی کہ جبر کے ساتھ نہیں ہوگا…
    مرزا ناصر احمد: ہمارا Concept (تصور)
    جناب یحییٰ بختیار: … یعنی تبلیغ سے ہوگا …
    مرزا ناصر احمد: ہمارا Concept (تصور) وہ ہے یعنی…
    جناب یحییٰ بختیار: … لیکن اسلام پھیل جائے گا جی ہاں اس سے؟
    مرزا ناصر احمد: کیا؟
    جناب یحییٰ بختیار: اسلام پھیل جائے گا؟
    مرزا ناصر احمد: تین صدیوں کے اندر۔
    جناب یحییٰ بختیار: تو یہ مرزا صاحب کا جو زمانہ ہے، جہاں تک جہاد کا تعلق ہے، صرف ۱۸ سال کے لئے ہے یا ۱۷ سال کے لئے، ویسے یہ تین سو سال کے لئے ہے؟
    مرزا ناصر احمد: جو ہے جہاد کا، یہ پیش گوئی حدیث میں جو آئی ہے کہ اس زمانے… وہ ان کا … آپ کی زندگی کے ساتھ تعلق رکھتا ہے کہ آپ کی زندگی میں شرائط جہاد نہیں ہوں گی۔
    1123جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہی سوال آپ سے پوچھنا…
    مرزا ناصر احمد: ہاں جنہیں، میں، میں آگے کر رہا ہوں ناں۔ وہ Link (ملانا) کرنا ہے ناں اس کو اور آپ کے وصال کے بعد اس کا امکان ہے کہ شرائط جہاد ہوجائیں اور اس وقت حکم یہ ہے کہ ہر احمدی قرآن کریم کی ہدایت کے مطابق شرائط جہاد کے موجود ہونے کے وقت جہاد کرے، اسی طرح جس طرح پہلوں نے کہا یہ اپنا مسئلہ علیحدہ ہے۔ ایک ہے، اسلام کی جدوجہد، جس میں صرف یہ جہاد صغیر نہیں، بلکہ …
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں، وہ تو قلم کا جو ہے، تبلیغ کا …
    مرزا ناصر احمد: … تینوں جہاد جس میں ہیں…
    جناب یحییٰ بختیار: … تبلیغ کا جہاد جو ہے …
    مرزا ناصر احمد: تبلیغ کا جہاد اور نفس کی اصلاح کا جہاد، جس کا مطلب یہ ہے کہ نبی اکرمa کے اسوۂ کے مطابق اپنی زندگیاں ڈھالو اور اس دنیا کے لئے جس میں تم رہتے ہو، اسی طرح نمونہ بنو جس طرح نبی اکرمa رہتی دنیا تک اسوۂ حسنہ ہیں۔ آپa کے اخلاق کا رنگ اپنے اوپر چڑھاؤ۔
    جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب ! تو اس نتیجہ پر ہم پہنچے ہیں کہ جب ہم کہتے ہیں کہ ’’مرزا صاحب کا زمانہ‘‘ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جب اسلام ساری دنیا پر حاوی ہوگا، سب مسلمان ہوں گے۔ ’’زمانے‘‘ سے مطلب تین سو سال ان کی زندگی کے بعد کے بھی آئیں گے، زندگی سے لے کر یا دعویٰ انہوں نے کیا اس پیریڈ سے لے کر تین سو سال تک کا زمانہ ہے وہ۔ دوسرے ’’زمانے‘‘ سے مطلب … جب جہاد سے تعلق رکھتا ہے … تو ۱۸۹۱ء سے لے کر ۱۹۰۸ء تک، یہ اس کے ’’زمانے‘‘ کا مطلب ہے؟
    1124مرزا ناصر احمد: ’’زمانہ‘‘ جو ہے ناں…
    جناب یحییٰ بختیار: اس Sense (معنی) میں؟
    مرزا ناصر احمد: نہیں، اس Sense (معنی) میں ’’زمانہ‘‘ جو ہے وہ Confusing (خلط ملط) ہے۔ Word (لفظ)
    جناب یحییٰ بختیار: نہ، اس واسطے کہ دونوں Sense (معنی) میں آچکا ہے۔
    مرزا ناصر احمد: نہیں، حدیث کہتی ہے کہ مہدی… یضع الحرب… حرب کو، جنگ کو، جہاد صغیر کو، رکھ دے گا۔ ’’یضع‘‘ کا بتا رہا ہے کہ پھر اس کا استعمال ممکن ہے، خود یہ عربی کا لفظ جو ہے اور مہدی کی زندگی کے لئے یہ یقینی ہے کہ اس کی زندگی میں شرائط جہاد معدوم ہوں گی لیکن آپ کے مرنے کے بعد، وصال کے بعد اس کا امکان ہے کہ شرائط موجود ہوں اور اس کے لئے یہ حکم یہاں آپ کی تحریروں میں ہے کہ اس وقت فرض اور واجب ہے کہ احمدی جہاد میں شامل ہوں۔ یہ ہے جہاد کا … اس کو ایک اور تصور کے ساتھ ملانے سے Confusion (شک و شبہ) پیدا ہوتا ہے۔
  8. ‏ جنوری 12, 2015 #8
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (تین یا دو سوسال میں اسلام دنیا پر غالب ہو جائے گا)
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں، یہ میں نے …
    مرزا ناصر احمد: یعنی یہ میں … ہاں، ایک ہے نبی کریمﷺ اور سلف صالحین کے سیکڑوں حوالے اور قرآن کریم کی آیات سے استدلال اور ’’یظہرہ علی الدین کلّہ‘‘ تو یہ قرآن کریم کی آیت ہے … پہلے سلف صالحین نے کہا ہے… کہ مہدی کا زمانہ، مہدی کا زمانہ، نبی اکرمﷺ کے کئی وہ زمانہ ہے۔ میں نے کل بتایا تھا بڑا کہ ’’آنحضرتﷺ کا زمانہ‘‘ اسے بھی ہم ’’حضرت عمر ؓ کا زمانہ، حضرت ابوبکرؓ کا زمانہ‘‘ کہتے ہیں۔ تو آنحضرتa ہی کا زمانہ ہے۔ لیکن اس کا جماعت … مہدی کی جماعت جو 1125ہے، وہ تین سو سال کی یا آپ نے ارشاد کیا کہ تمہیں تین سو سال انتظار نہیں کرنا پڑے گا… میرا اندازہ یہ ہے، یہ میرا اپنا ذوق ہے … کہ دو سو سال کے اندر انشاء اللہ تعالیٰ اسلام دنیا پر غالب آجائے گا۱؎۔
    اور میرا ذوق … پھر بھی میں اپنے اوپر … میری یہ ذمہ داری ہے … یہ کہتا ہے کہ اس کے آثار ہمیں ۱۵،۱۶ سال کے اندر نظر آنے لگ جائیں گے اور پھر وہ ایک بڑا جہاد ہے اور جو ہمیں کرنا پڑے گا، تمام مسلمانوں کو جو اسلام کا غلبہ چاہتے ہیں اور اس میں یہ ساری ذمہ داری جو ڈالی گئی ہے وہ مہدی کی جماعت پر ہے اور آپ کی جماعت غلبہ اسلام کی کوششوں کے لئے بنائی گئی ہے اور ان کو کسی اور طرف نگاہ نہیں کرنی چاہئے اور آپ کی جماعت پھر رہے گی جب تک وہ کفار نہیں آجاتے جن پر قیامت نے آنا ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب ! یہی میں عرض کر رہا تھا کہ یہ Direction (ہدایت) جماعت کو ہے اور یہ Directions (ہدایات) جو مرزا صاحب کی ہیں کہ: ’’یاد رہے کہ مسلمانوں کے فرقوں میں سے یہ فرقہ جن کا خدا نے مجھے امام پیشوا اور رہبر مقرر فرمایا ہے، ایک بڑا امتیازی نشان اپنے ساتھ رکھتا ہے اور وہ یہ کہ اس فرقے میں تلوار کا جہاد بالکل نہیں ہے اور نہ اس کا انتظار ہے۔‘‘ (حوالہ بالا)
    یہ فرقے کے لئے ایک Direction (ہدایت) آپ کہتے ہیں کہ Direction (ہدایت) جو ہے وہ صرف ۱۹۰۸ء تک کے لئے ہے اور میں کہتا ہوں، مجھے میرا مطلب ہے کہ یہ ہمیشہ کے لئے ہے۔ تو یہ تو ٹھیک ہے، آپ کہہ رہے ہیں…
    مرزا ناصر احمد: دیکھیں ناں، ایک فرق کرنا چاہئے ہمیں۔ یہ کہنا کہ ’’آئندہ جہاد کی شرائط کے موجود ہونے کا امکان ہے‘‘ یہ بالکل اور معنی ہے اور یہ کہنا کہ ’’تم جہاد کے 1126لئے تلوار
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۱؎ ۱۹۰۸ء میں مرزا قادیانی کی وفات ہے۔ ۱۹۷۴ء میں مرزا کو فوت ہوئے سو سال بھی نہیں ہوئے کہ پہلے رابطہ عالم اسلامی کے اجلاس میں دنیا بھر کے نمائندگان نے ان کے کفر پر اجماع منعقد کرلیا۔ ۱۹۷۴ء میں پاکستان کی اسمبلی نے ان کو کافر قرار دیا۔ مرزا ناصر کے ذوق کی خوب تسکین ہو رہی ہے اور خوب ترقی ہوئی، اس کو ترقی کہتے ہیں تو تنزلی کیا ہوگی؟
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    کی جنگ کا انتظار کرو‘‘ یہ بالکل اور معنی ہے۔ تو انتظار نہیں کرنا ہے لیکن ذہنی طور پر اس بات کے لئے تیار رہنا ہے۔ انتظار نہیں کرنا، لیکن ذہنی طور پر اس بات کے لئے تیار رہنا ہے کہ شرائط جہاد ہوں تو جہاد کریں گے۔
    جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب ! جب میرے لئے ایک چیز حرام ہے، ایک چیز میرے لئے حرام ہے، نہ میں ابھی اس کو کھا سکتا ہوں، نہ کرسکتا ہوں اور نہ کل کرسکتا ہوں۔ پھر کہتے ہیں کہ ’’یہ حرام ہے‘‘ اور ’’اس کا انتظار بھی مت کرو۔‘‘ آپ کہتے ہیں کہ ’’ذہنی طور پر تیار ہوجاؤ۔‘‘
    مرزا ناصر احمد: ’’انتظار مت کرو‘‘ ہے وہاں؟
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔
    مرزا ناصر احمد: وہاں لفظ کیا ہے … ’’نہ انتظار ہے۔‘‘
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔
    مرزا ناصر احمد: یہ تو نہیں کہا کہ ’’نہ انتظار کرو۱؎۔‘‘
    جناب یحییٰ بختیار: انتظار تو Future (مستقبل) کا ہی ہوتا ہے ہاں جی۔
    مرزا ناصر احمد: اوہ ہو ! Future (مستقبل) کا ہوتا ہے، مختلف معانی میں ہوتا ہے۔
  9. ‏ جنوری 14, 2015 #9
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (قادیانیوں کے نزدیک تلوار کا جہاد بالکل نہیں؟)
    جناب یحییٰ بختیار: ’’اس فرقے میں تلوار کا جہاد بالکل نہیں اور نہ اس کا … اس کی انتظار ہے۔‘‘
    مرزا ناصر احمد: ’’نہ اس کا انتظار ہے۔‘‘ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ سختیوں کو اپنے لئے پیدا نہ کیا کرو اور وہ امید میں نہ رہا کرو۔ قرآن کریم کا یہ حکم ہے، حدیث کا یہ حکم ہے ’’نہ اس کا انتظار ہے‘‘ … میں تو اپنا مذہب بتا رہا ہوں …
    1127جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، آپ کا اپنا …
    مرزا ناصر احمد: … جماعت کا مذہب یہ ہے کہ نبی اکرمﷺ کی وہ احادیث جن میں یہ ذکر ہے کہ مہدی … ‘‘یضع الحرب‘‘ … جنگ کو رکھ دے گا اس کا وجوب ہے مہدی کی حیات تک، یعنی اس زمانہ میں۔ اس صادق بزرگ نے یہ پیش گوئی کی تھی کہ مہدی کی زندگی میں شرائط جہاد نہیں موجود ہوں گی …
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۱؎ قادیانیو! مرزا ناصر احمد کا یہ فلسفہ ’’نہ انتظار ہے‘‘ ’’نہ انتظار کرو‘‘ لفظوں کے ہیر پھیر سے ڈوبتے کو تنکے کا سہارا والا نظریہ ہے یا نہیں۔
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    جناب یحییٰ بختیار: یہ تو آپ نے فرمایا بڑی تفصیل سے…
    مرزا ناصر احمد: …اور اور …
    جناب یحییٰ بختیار: … اور پھر آپ نے فرمایا کہ مہدی کا زمانہ، میں نے کہا کہ اس کے بعد تو آخری زمانہ ہوتا ہے۔ آپ نے کہا کہ ’’نہیں، تین سو سال تک چلتا ہے۔‘‘
    مرزا ناصر احمد: میں کہتا ہوں جب تک میں نے یہ کہا کہ ’’تین سو سال‘‘ نہیں، مجھے تو غیب کا علم نہیں ہے… جب تک جماعت احمدیہ اس دور میں داخل نہیں ہوجاتی جس کے متعلق احادیث میں آیا ہے کہ دنیا میں کفر بڑا سخت پھیلے گا اور پھر قیامت آجائے گی۔ یہ حدیث کی خبریں ہیں… تو ایک وقت تک پورا جہاد کرنا ہے، جہاد کبیر، دنیا میں اسلام کو غالب کرنے کے لئے اور اس کے بعد ایک اور جہاد کبیر ہوتا ہے، جس کا تعلق بڑا ہے جہاد اکبر کے ساتھ، کہ جو مسلمان ہیں ان کی صحیح تربیت کی جائے۔ اب آپ اپنی پچھلی تاریخ کے اوپر دیکھیں…
    جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب ! وہ تو آپ فرما چکے ہیں، وہ تو آپ نے کہا کہ ہر وقت ان کی شرائط موجود ہیں، جہاد کبیر کی، کل آپ نے فرمایا…
    1128مرزا ناصر احمد: ہاں۔ جب شرائط موجود ہوں گی …
    جناب یحییٰ بختیار: … آپ نے فرمایا ہر وقت موجود رہتی ہیں۔
    مرزا ناصر احمد: کیا چیز؟
    جناب یحییٰ بختیار: جہاد کبیر کی شرائط۔
    مرزا ناصر احمد: ہاں، وہ تو ہر وقت جہاد کبیر … جہاد اکبر کی شرائط ہر وقت موجود ہوتی ہیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: ہر وقت موجود ہوتی ہیں تو جہاد تو ہر وقت جہاں تک کبیر کا تعلق ہے … موجود ہیں شرائط …
    مرزا ناصر احمد: … جہاد کبیر کی۔
  10. ‏ جنوری 15, 2015 #10
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (مہدی کے آنے پر جہاد کبیر کی شرائط ختم ہوجائیں گی؟)
    جناب یحییٰ بختیار: مہدی جب آئے گا، یہ جہاد کبیر کی بھی شرائط ختم ہو جائیں گی؟
    مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، نہیں، نہیں …
    جناب یحییٰ بختیار: یہ رہیں گی؟
    مرزا ناصر احمد: ’’یضع الحرب‘‘ اس جہاد کی بات ہو رہی ہے جس کا حرب کے ساتھ تعلق ہے، یعنی تلوار کے ساتھ لڑائی کے ساتھ، یعنی جہاد صغیر۔ ’’یضع الحرب‘‘ جہاد صغیر۔
    جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب ! یہ تو میں سمجھ گیا۔ میرا اپنا Impression (تأثر) یہ تھا کہ جب مہدی آئے گا۔ اس کے بعد وہ جہاد کی ضروریات کو ختم کردے گا کیونکہ سب مسلمان ہوجائیں گے تو نہ کبیر کا سوال ہوگا نہ صغیر کا سوال ہوگا یہ Impression (تاثر) جو مجھے دیا گیا ہے سوال سے…
    مرزا ناصر احمد: ہاں نہیں ہمارا نہیں ہے یہ۔
    1129جناب یحییٰ بختیار: … آپ کا یہ نہیں ہے۔ آپ کا یہ خیال ہے کہ وہ جو ہے، اسلام کا غلبہ تین سو سال تک۱؎…
    مرزا ناصر احمد: یعنی دو سو تین سو سال کے اندر ساری دنیا یعنی نوع انسانی اسلام کے جھنڈے تلے جمع ہوجائے گی۔
    جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب کی زندگی …
    مرزا ناصر احمد: … سے اس کی ابتدا ہوئی۔
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں، اس سے لے کر کے دو سو سال تک، تین سو سال تک، ان کا زمانہ ہے یہ…
    مرزا ناصر احمد: ہاں، یہ غلبہ اسلام کے لئے ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: غلبۂ اسلام کے لئے۔
    مرزا ناصر احمد: ہمارا وہ نہیں ہے کہ پھونک سے ساروں کو ختم کردے گا۔
    جناب یحییٰ بختیار: وہ کسی کا بھی نہیں ہے، مرزا صاحب !
    مرزا ناصر احمد: ابھی آپ نے کہا کہ آپ کو کچھ Impression (تاثر) دیا گیا۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں۔
    مرزا ناصر احمد: اچھا میں نہیں سمجھا۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں کسی کا نہیں۔ میں تو شروع سے کہہ رہا ہوں کہ جہاں تک مذہب میں جبر کا تعلق ہے یہ کسی کا عقیدہ نہیں ہے۔ دین کے معاملے کو ’’اسلام تلوار سے پھیلاؤ‘‘ یہ کسی مسلمان فرقے کا …
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۱؎ مہدی کے آنے کے بعد تین سو سال میں غلبۂ اسلام ہوگا۔ کائنات کی کسی صحیح روایت میں اس کا ثبوت دے سکتے ہیں؟ قادیانیوں سے عاجزانہ استدعا ہے۔
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    مرزا ناصر احمد: اور مہدی آئے گا اور سارے مسلمان ہوجائیں گے !
    1130جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب ! مہدی آئیں گے اور سارے مسلمان ہوں گے۔ یہی جو عقیدہ ہے، اس کا آپ سمجھتے ہیں کہ ’’صلیب کو توڑ دے گا، خنزیر کو قتل کردے گا‘‘ یہ … Physically, Metaphorically (جسمانی طور پر، مجازی طور پر) جو بھی اس کا Interpretation (مطلب) ہے، وہ جو بھی ہوسکتا ہے، اس کا اخذ یہ ہوسکتا ہے کہ سب مسلمان ہوجائیں گے۔
    مرزا ناصر احمد: کتنے عرصے میں؟
    جناب یحییٰ بختیار: میرا تو یہ خیال ہے کہ وہ اپنی زندگی میں کرکے ختم کردیں گے۔ آپ کہتے ہیں کہ وہ زندگی جو ہے، نہیں، وہ تین سو سال تک ہے۔
    مرزا ناصر احمد: یہ تو اختلاف ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: یعنی میرا اپنا ہے۔ میں نہیں جانتا، وہ علماء جانتے ہوں گے کہ کیا پیریڈ ہے۔
    مرزا ناصر احمد: بہرحال یہ تو اپنا اپنا ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔ اور مرزا صاحب ! ابھی یہ کچھ مرزا صاحب کے شعر ہیں:

    ’’اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال
    دین کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال‘‘
    تو یہ وہ ۱۷ سال کے پیریڈ کے لئے Apply (لاگو) ہوتا ہے؟
    مرزا ناصر احمد: یہ جو ہے ناں شعر … کتنے شعر لکھے ہوئے ہیں آپ نے۔
    جناب یحییٰ بختیار: میں سب سنائے دیتا ہوں۔ تین چار ہیں۔
    مرزا ناصر احمد: اچھا، سنا دیں۔
    1131جناب یحییٰ بختیار:

    اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال
    دین کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال

    اب آ گیا مسیح جو دین کا امام ہے
    دین کی تمام جنگوں کا اب اختتام ہے

    اب آسمان سے نور خدا کا نزول ہے
    اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے

    دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد
    منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد

    (ضمیمہ تحفۂ گولڑویہ ص۲۶، خزائن ج۱۷ ص۷۷،۷۸)


    اب مرزا صاحب ! یہ جو ہیں…
    مرزا ناصر احمد: آگے دو شعر ہیں، وہ نہیں لکھے ہوئے؟
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میرے پاس نہیں ہیں۔
    مرزا ناصر احمد: اچھا میں پڑھ دیتا ہوں۔
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں، پڑھ دیں۔
    مرزا ناصر احمد: اسی کی Continuation (تسلسل) میں:

    کیوں نہیں بھولتے ہو تو ’’یضع الحرب‘‘ کی خبر
    کیا یہ نہیں بخاری میں دیکھو تو کھول کر

    فرما چکا ہے سید کونین مصطفیٰؐ
    عیسیٰ مسیح جنگوں کا کر دے گا التوا
    (ایضاً)


    1132Mr. Yahya Bakhtiar: Exactly this is the point. Mirza Sahib.
    کہ ’’وہ جنگوں کو ختم کردے گا۔‘‘
    مرزا ناصر احمد: کہ ’’وہ جنگوں کا التوا کردے گا۔‘‘
لڑی کی کیفیت :
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

اس صفحے کی تشہیر