1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

قومی اسمبلی میں پندرواں دن

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 14, 2015

لڑی کی کیفیت :
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
  1. ‏ فروری 14, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    قومی اسمبلی میں پندرواں دن

    Friday, the 30th August. 1974.
    (۳۰؍اگست ۱۹۷۴ئ، بروز جمعہ)
    ----------

    The Special Committee of the Whole House met in Camera in the Assembly Chamber, (State Bank Building), Islamabad, at nine of the clock, in the morning. Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.
    (مکمل ایوان کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس اسمبلی چیمبر (سٹیٹ بینک بلڈنگ) اسلام آباد بند کمرے میں صبح ۹؍بجے چیئرمین جناب (صاحبزادہ فاروق علی) کی زیرصدارت منعقد ہوا)
    ----------
    (Recitation from the Holy Quran)
    (تلاوت قرآن شریف)
    ----------

    1928QADIANI ISSUE- GENERAL DISCUSSION
    جناب چیئرمین: مولوی مفتی محمود!

  2. ‏ فروری 14, 2015 #2
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    لاہوری جماعت کی حقیقت
    مولوی مفتی محمود:
    مرزائی صاحبان کی لاہوری جماعت، جس کے بانی محمد علی لاہوری صاحب تھے۔ بکثرت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ مرزاغلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتی۔ بلکہ مسیح موعود مہدی اور مجدد مانتی ہے۔ اس لئے اس پر ختم نبوت کی خلاف ورزی کے الزام میں کفر عائد نہیں ہونا چاہئے۔ اس کا مختصر سا جواب تو یہ ہے کہ جس شخص کا جھوٹا دعویٔ نبوت ثابت ہوچکا ہو۔ اسے صرف نبی ماننا ہی نہیں، سچا ماننا اور واجب الاطاعت سمجھنا بھی کھلا کفر ہے۔ چہ جائیکہ اسے مسیح موعود، مہدی اور مجدد اور محدث (صاحب الہام) قرار دیا جائے۔ جیسا کہ پیچھے بیان کیا جاچکا ہے۔ کسی شخص کا دعویٔ نبوت جو دو حریف مذہب پیدا کرتا ہے، وہ اسے سچا ماننے والوں اور جھوٹا ماننے والوں پر مشتمل ہوتے ہیں جو جماعت اسے سچا قرار دیتی ہے وہ ایک مذہب کی پیروقرار پاتی ہے اور جو جماعت اس کی تکذیب کرتی ہے وہ دوسرے مذہب میں شامل ہوتی ہے۔ لہٰذا جب مرزاغلام احمد قادیانی کا مدعی نبوت ہونا روز روشن کی طرح ثابت ہو چکا تو اب اس کو پیشوا ماننے والی تمام جماعتیں ایک ہی مذہب میں داخل ہوں گی، خواہ وہ اسے نبی کا نام دیں، یا مسیح موعود، مہدی معہود اور مجدد کا، لیکن اس مختصر جواب کے ساتھ لاہوری جماعت کی پوری حقیقت واضح کردینا بھی مناسب ہوگا۔
    واقعہ یہ ہے کہ عقیدہ ومذہب کے اعتبار سے ان دونوں جماعتوں میں عملاً کوئی فرق نہیں۔ بلکہ مرزاغلام احمد قادیانی کی زندگی میں اور ان کے بعد ان کے خلیفہ اوّل حکیم نورالدین کے انتقال تک جماعت قادیان اور جماعت لاہور کوئی الگ جماعتیں نہ تھیں۔ اس پورے عرصہ میں مرزاغلام احمد قادیانی کے تمام متبعین خواہ مرزابشیرالدین ہوں یا محمد علی لاہوری، پوری آزادی کے 1929ساتھ مرزاغلام احمد قادیانی کو ’’نبی‘‘ اور ’’رسول‘‘ کہتے اور مانتے رہے۔ محمد علی لاہوری صاحب عرصۂ دراز تک مشہور قادیانی رسالے ’’ریویو آف ریلیجنز‘‘ کے ایڈیٹر رہے اور اس عرصہ میں انہوں نے بے شمار مضامین میں نہ صرف مرزاصاحب کے لئے ’’نبی‘‘ اور ’’رسول‘‘ کا لفظ استعمال کیا، بلکہ ان کے لئے نبوت ورسالت کے تمام لوازم کے قائل رہے، ان کے ایسے مضامین کو جمع کیا جائے تو ایک پوری کتاب بن سکتی ہے۔ تاہم یہاں محض نمونے کے طور پر ان کی چند تحریریں پیش کی جاتی ہیں:

    ۱۳؍مئی ۱۹۰۴ء کو گورداسپور کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی عدالت میں ایک بیان دیا جس کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ جو شخص مرزاصاحب کی تکذیب کرے وہ ’’کذاب‘‘ ہوتا ہے۔ چنانچہ ایسے شخص کو اگر مرزاصاحب نے کذاب لکھا تو ٹھیک کہا۔ اس بیان میں وہ لکھتے ہیں: ’’مکذب مدعی نبوت کذاب ہوتا ہے۔ مرزاصاحب ملزم مدعی نبوت ہے، اس کے مرید اس کو دعویٰ میں سچا اور دشمن جھوٹا سمجھتے ہیں۔‘‘
    (حلفیہ شہادت بعدالت ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گورداسپور مورخہ ۱۳؍مئی ۱۹۰۴ء منقول از ماہنامہ فرقان قادیان، ج۱ نمبر۱، ماہ جنوری ۱۹۴۲ء ص۱۵)
    ’’آنحضرتﷺ کے بعد خداوند تعالیٰ نے تمام نبوتوں اور رسالتوں کے دروازے بند کر دئیے۔ مگر آپﷺ کے متبعین کامل کے لئے جو آپﷺ کے رنگ میں رنگین ہوکر آپﷺ کے اخلاق کاملہ سے نور حاصل کرتے ہیں، ان کے لئے یہ دروازہ بند نہیں ہوا۔‘‘
    (ریویو آف ریلیجنز ج۴ ص۱۸۶، بحوالہ تبدیلی عقائد از محمد اسماعیل قادیانی ص۲۲)
    ’’جس شخص کو اﷲتعالیٰ نے اس زمانے میں دنیا کی اصلاح کے لئے مامور اور نبی کر کے بھیجا ہے وہ بھی شہرت پسند نہیں، بلکہ ایک عرصہ دراز تک جب تک اﷲتعالیٰ 1930نے یہ حکم نہیں دیا کہ وہ لوگوں سے بیعت توبہ لیں۔ آپ کو کسی سے کچھ سروکار نہیں تھا اور سالہا سال تک گوشۂ خلوت سے باہر نہیں نکلے۔ یہی سنت قدیم سے انبیاء علیہم السلام کی چلی آئی ہے۔‘‘

    (ریویو ج۵ ص۱۳۲)
    ’’مخالف خواہ کوئی ہی معنی کر لے، مگر ہم تو اسی پر قائم ہیں کہ خدا نبی پیدا کر سکتا ہے، صدیق بنا سکتا ہے اور شہید اور صالح کا مرتبہ عطا کر سکتا ہے۔ مگر چاہیے مانگنے والا… ہم نے جس کے ہاتھ میں ہاتھ دیا (یعنی مرزاغلام احمد صاحب) وہ صادق تھا۔ خدا کا برگزیدہ اور مقدس رسول تھا۔‘‘
    (تقریر محمد علی الحکم مورخہ ۱۸؍جولائی ۱۹۰۸ء بحوالہ ماہنامہ فرقان قادیان جنوری ۱۹۴۲ء ج۱ ص۱۱)
    یہ اقتباسات تو محض بطور نمونہ محمد علی لاہوری صاحب بانی جماعت لاہور کی تحریروں سے پیش کئے گئے ہیں۔ لیکن یہ صرف انہی کا عقیدہ نہ تھا۔ بلکہ پوری جماعت لاہور نے اپنے ایک حلفیہ بیان میں انہی عقائد کا اقرار کیا ہے۔
  3. ‏ فروری 14, 2015 #3
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    لاہوری جماعت کا حلفیہ بیان
    ’’پیغام صلح‘‘ جماعت لاہور کا مشہور اخبار ہے۔ اس کی ۱۶؍اکتوبر۱۹۱۳ء کی اشاعت میں پوری جماعت کی طرف سے یہ حلفیہ بیان شائع ہوا:
    ’’معلوم ہوا ہے کہ بعض احباب کو کسی نے غلط فہمی میں ڈال دیا ہے کہ اخبار ہذا کے ساتھ تعلق رکھنے والے احباب یا ان میں سے کوئی ایک سید ناوھا دینا حضرت مرزاغلام احمد صاحب مسیح موعود، مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مدارج عالیہ کو اصلیت سے کم یا استخفاف کی نظر سے دیکھتا ہے۔ ہم تمام احمدی جن کا کسی نہ کسی 1931صورت سے اخبار پیغام صلح کے ساتھ تعلق ہے۔ خداتعالیٰ کو جو دلوں کے بھید جاننے والا ہے۔ حاضر وناظر جان کر علی الاعلان کہتے ہیں کہ ہماری نسبت اس قسم کی غلط فہمی پھیلانا محض بہتان ہے۔ ہم حضرت مسیح موعود ومہدی معہود کو اس زمانہ کا نبی، رسول اور نجات دھندہ مانتے ہیں۔‘‘
    (پیغام صلح ۱۶؍اکتوبر ۱۹۱۳ء ص۲، بحوالہ ماہنامہ فرقان قادیان جنوری ۱۹۴۲ء ص۱۳،۱۴)
    اس حلفیہ بیان کے بعد لاہوری جماعت کے اصل عقائد سے ہر پردہ اٹھ جاتا ہے۔ لیکن جب مرزائیوں کے خلیفہ اوّل حکیم نورالدین کا انتقال ہوتا ہے اور خلافت کا مسئلہ اٹھتا ہے تو محمد علی لاہوری صاحب مرزابشیرالدین محمود کے ہاتھ بیعت کرنے اور خلیفہ تسلیم کرنے سے انکار کر کے قادیان سے لاہور چلے آتے ہیں اور یہاں اپنی الگ جماعت کی داغ بیل ڈالتے ہیں۔ ۱۴؍مارچ ۱۹۱۴ء کو مرزابشیرالدین خلیفہ دوم مقرر کئے گئے اور ۲۲؍مارچ ۱۹۱۴ء کو اس فیصلے سے اختلاف کرنے والی جماعت لاہور کا پہلا جلسہ ہوا۔ اس جلسے میں جو قرارداد منظور کی گئی وہ یہ تھی:
    ’’صاحبزادہ صاحب (مرزابشیرالدین) کے انتخاب کو اس حد تک ہم جائز سمجھتے ہیں کہ وہ غیراحمدیوں سے احمد کے نام پر بیعت لیں۔ یعنی اپنے سلسلۂ احمدیہ میں ان کو داخل کر لیں۔ لیکن احمدیوں سے دوبارہ بیعت لینے کی ہم ضرورت نہیں سمجھتے۔ اس حیثیت میں ہم انہیں امیر تسلیم کرنے کے لئے تیار ہیں۔ لیکن اس کے لئے بیعت کی ضرورت نہ ہوگی اور نہ ہی امیر اس بات کامجاز ہوگا کہ جو حقوق واختیارات صدر انجمن احمدیہ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیئے ہیں اور اس کو اپنا جانشین قرار دیا ہے۔ اس میں کسی قسم کی دست اندازی کرے۔‘‘
    (ضمیمہ پیغام صلح ۲۴؍مارچ ۱۹۱۴ء بحوالہ فرقان قادیان جنوری ۱۹۴۲ء ص۷)
    اس قرارداد سے واضح ہے کہ لاہوری جماعت کو اس وقت نہ جماعت قادیان کے عقائد پر اعتراض تھا اور نہ وہ مرزابشیرالدین کو خلافت کے لئے نااہل قرار دیتے تھے۔ جھگڑا تھا تو اس بات 1932پر تھا کہ تمام اختیارات انجمن احمدیہ کو دئیے جائیں نہ کہ خلیفہ کو، لیکن جب مرزابشیرالدین محمود نے اس تجویز کو منظور نہ کیا تو محمد علی لاہوری نے لکھا:
    ’’خلافت کا سلسلہ صرف چند روزہ ہوتا ہے تو کس طرح تسلیم کر لیا جائے کہ اگر ایک شخص کی بیعت کر لی تو اب آئندہ بھی کرتے جاؤ۔‘‘
    (پیغام صلح ۲؍اپریل ۱۹۱۴ء منقول از فرقان حوالہ بالا ص۷)
    یہ تھا قادیانی اور لاہوری جماعتوں کا اصل اختلاف جس کی بناء پر یہ دونوں پارٹیاں الگ ہوئیں۔ اس سیاسی اختلاف کی بناء پر جب قادیانی جماعت نے لاہوری جماعت پر عرصۂ حیات تنگ کر دیا تو لاہوری گروپ مسلمانوں کی ہمدردی حاصل کرنے پرمجبور ہوا۔ چنانچہ جب جماعت لاہور نے اپنا الگ مرکز قائم کیا تو کچھ اپنی علیحدگی کو خوبصورت بنانے کی تدبیر، کچھ قادیانی جماعت کے بغض اور کچھ مسلمانوں کی ہمدردی حاصل کرنے کی فکر کی وجہ سے اس جماعت نے اپنے سابقہ عقائد اور تحریروں سے رجوع اور توبہ کا اعلان کئے بغیر، یہ کہنا شروع کر دیا کہ ہم مرزاغلام احمد کو نبی نہیں بلکہ مسیح موعود، مہدی اور مجدد مانتے ہیں۔
  4. ‏ فروری 14, 2015 #4
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    قادیان اور لاہور کی جماعتوں میں کوئی فرق نہیں
    لیکن اگر لاہوری جماعت کے ان عقائد کو بھی دیکھا جائے جن کا اعلان انہوں نے ۱۹۱۴ء کے بعد کیا ہے۔ تب بھی یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ان کا یہ مؤقف محض ایک لفظی ہیرپھیر ہے اور حقیقت کے اعتبار سے ان کے اور قادیانی جماعت کے درمیان کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ جس طرح وہ مرزاغلام احمد کے الہام کو حجت اور واجب الاتباع مانتے ہیں۔ اسی طرح یہ بھی اسے حجت اور واجب الاتباع سمجھتے ہیں۔ جس طرح وہ مرزاصاحب کی تمام کفریات کی تصدیق کرتے ہیں۔ اسی طرح یہ بھی اسے واجب التصدیق قرار دیتے ہیں۔ جس طرح وہ مرزاصاحب کی تمام کتابوں کو اپنے لئے الہامی سند اور مذہبی اتھارٹی سمجھتے ہیں۔ اسی طرح یہ بھی انہیں مذہبی ماخذ کی 1933حیثیت دیتے ہیں۔ جس طرح وہ مرزاصاحب کے مخالفین کو کافر کہتے ہیں۔ اسی طرح یہ بھی مرزاصاحب کو کافر اور جھوٹا قرار دینے والوں کے کفر کے قائل ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ قادیانی جماعت مرزاصاحب کے لئے لفظ نبی استعمال کرنے کو علی الاطلاق جائز سمجھتی ہے اور لاہوری جماعت مرزاصاحب کے لئے اس لفظ کے استعمال کو صرف لغوی یا مجازی حیثیت میں جائز قرار دیتی ہے۔
    اس حقیقت کی تشریح اس طرح ہوگئی کہ لاہوری جماعت جن بنیادی عقیدوں میں اپنے آپ کو قادیانی جماعت سے ممتاز قرار دیتی ہے وہ دو عقیدے ہیں:
    ۱… مرزاغلام احمد قادیانی کے لئے لفظ نبی کا استعمال۔
    ۲… غیراحمدیوں کا کافر کہنا۔
    لاہوری جماعت کا دعویٰ ہے کہ وہ مرزاصاحب کو نبی نہیں مانتی بلکہ صرف مجدد مانتی ہے اور غیراحمدیوں کو کافر کے بجائے صرف فاسق قرار دیتی ہے۔ اب ان دونوں باتوں کی حقیقت ملاحظہ فرمائیے:
    (اگلی پوسٹ میں)
  5. ‏ فروری 14, 2015 #5
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    نبی نہ ماننے کی حقیقت
    لاہوری جماعت اگرچہ اعلان تو یہی کرتی ہے کہ ہم مرزاصاحب کو نبی نہیں مانتے۔ بلکہ ’’مجدد‘‘ مانتے ہیں۔ لیکن ’’مجدد‘‘ کا مطلب کیا ہے؟ بعینہ وہ جسے قادیانی جماعت ظلی اور بروزی نبی کہتی ہے۔ چنانچہ محمد علی لاہوری صاحب اپنی کتاب ’’النبوۃ فی الاسلام‘‘ میں جو جماعت لاہور کی علیحدگی کے بہت بعد کی تصنیف ہے۔ لکھتے ہیں:
    ’’انواع نبوت میں سے وہ نوع جو محدث کو ملتی ہے وہ چونکہ بباعث اتباع اور فانی الرسول کے ملتی ہے۔ جیسا توضیح المرام میں لکھا تھا کہ وہ نوع مبشرات ہے۔ اس لئے وہ تحدید ختم نبوت سے باہر ہے اور یہ حضرت مسیح موعود ہی نہیں کہتے بلکہ 1934حدیثوں نے صاف طور پر ایک طرف محدثوں کا وعدہ دے کر اور دوسری طرف مبشرات کو باقی رکھ کر یہی اصول قرار دیا ہے۔ گویا نبوۃ تو ختم ہے۔ مگر ایک نوع نبوت باقی ہے اور وہ نوع نبوت مبشرات ہیں۔ وہ ان لوگوں کو ملتی ہے جو کامل طور پر اتباع حضرت نبی کریمﷺ کا کرتے ہیں اور فنافی الرسول کے مقام تک پہنچ جاتے ہیں۔ اب بعینہ اسی اصول کو چشمہ معرفت میں جو آپ (یعنی مرزاغلام احمد صاحب) کی سب سے آخری کتاب ہے۔ بیان کیا ہے، دیکھو ص۳۲۴۔ تمام نبوتیں اس پر ختم ہیں اور اس کی شریعت خاتم الشرائع ہے۔ مگر ایک قسم کی نبوت ختم نہیں، یعنی وہ نبوت جو اس کی کامل پیروی سے ملتی ہے اور جو اس کے چراغ میں سے نور لیتی ہے وہ ختم نہیں۔ کیونکہ وہ محمدی نبوت ہے، یعنی اس کا ظل ہے اور اس کے ذریعہ سے ہے اور اسی کا مظہر ہے۔‘‘
    اب دیکھو کہ یہاں بھی نبوت کو تو ختم ہی کہا ہے۔ لیکن ایک قسم کی نبوت باقی بتائی ہے اور وہ وہی ہے جو آنحضرتﷺ کی کامل پیروی سے ملتی ہے اور اسی کتاب کے صفحہ۱۸۲ پر یہ بھی صاف لکھ دیا ہے کہ:
    ’’وہ نبوت جس کو ظلی نبوت یا نبوت محمدیہ وہ وہی مبشرات والی نبوت ہے۔‘‘
    (النبوۃ فی الاسلام ص۱۵۰، مطبوعہ لاہور)
    آگے مرزاغلام احمد قادیانی کی عبارتوں کی تشریح کرتے ہوئے اور انہیں درست قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
    ’’درحقیقت جو کچھ فرمایا ہے (یعنی مرزاغلام احمد صاحب نے جو کچھ کہا ہے) اگر اس کے الفاظ میں تھوڑا تھوڑا تغیر ہو، مگر ماحصل سب کا ایک ہی ہے، یعنی یہ کہ اوّل فرمایا کہ صاحب خاتم ہونے کے معنی یہ ہیں کہ بجز اس کی مہر کے کوئی فیض کسی کو نہیں پہنچ سکتا۔ پھر فرمایا کہ صاحب خاتم ہونے سے یہ مراد ہے کہ اس کی مہر سے 1935ایک ایسی نبوت بھی مل سکتی ہے جس کے لئے امتی ہونا لازمی ہے۔ اب امتی ہونے کے معنی یہی ہیں کہ کامل اطاعت آنحضرتﷺ کی کی جائے اور اپنے آپ کو آنحضرتﷺ کی محبت میں فنا کردیا جائے تب آپﷺ کے فیض سے ایک قسم کی نبوت بھی مل سکتی ہے۔ وہ نبوت کیا ہے؟ اس کو آخر میں جاکر صاف حل کر دیا ہے کہ وہ ایک ظلی نبوت ہے۔ جس کے معنی ہیں فیض محمدی سے وحی پانا اور یہ بھی فرمایا کہ وہ قیامت تک باقی رہے گی۔‘‘
    (النبوۃ فی الاسلام از محمد علی لاہوری صاحب ص۱۵۳)
    محمد علی لاہوری صاحب کی ان عبارتوں کو اہل قادیان اور اہل ربوہ کے ان عقائد سے ملا کر دیکھئے جو پیچھے بیان ہوچکے ہیں۔ کیا کہیں کوئی فرق نظر آتا ہے؟ لیکن آگے فرق ظاہر کرنے کے لئے لفظوں کا یہ کھیل بھی ملاحظہ فرمائیں:
    ’’حضرت مسیح موعود نے اپنی پہلی اور پچھلی تحریروں میں ایک ہی اصول باندھا ہے اور وہ اصول یہ ہے کہ باب نبوت تو مسدود ہے۔ مگر ایک نوع کی نبوت مل سکتی ہے۔ یوں نہیں کہیں گے کہ نبوت کا دروازہ کھلا ہے۔ بلکہ یہ کہیں گے نبوت کا دروازہ بند ہے۔ مگر ایک نوع کی نبوت باقی رہ گئی ہے اور قیامت تک رہے گی۔ یوں نہیں کہیں گے کہ ایک شخص اب بھی نبی ہوسکتا ہے۔ یوں کہیں گے کہ ایک نوع کی نبوۃ اب بھی آنحضرتﷺ کی پیروی سے حاصل ہوسکتی ہے۔ اس کا نام ایک جگہ مبشرات، ایک جگہ جزوی نبوت، ایک جگہ محدثیت، ایک جگہ کثرت مکالمہ رکھا ہے۔ مگر نام کوئی بھی رکھا ہو، اس کا بڑا نشان یہ قرار دیا ہے کہ وہ ایک انسان کامل محمد رسول اﷲﷺ کی اتباع سے مل سکتی ہے۔ وہ فنا فی الرسول۱؎ سے حاصل ہوتی ہے۔ وہ 1936نبوت محمدیہ کی مستفاض ہے، وہ چراغ نبویؐ کی روشنی ہے، وہ اصلی کوئی چیز نہیں، ظل ہے۔‘‘
    (حوالہ بالا ص۱۵۸)
    کیا یہ لفظوں کے معمولی ہیرپھیر سے ظل وبروز کا بعینہ وہی فلسفہ نہیں ہے جو مرزا صاحب اور قادیانی جماعت کے الفاظ میں پیچھے بیان کیا جاچکا ہے؟ اگر ہے اور یقینا ہے تو حقیقت کے لحاظ سے قادیانی جماعت اور لاہوری جماعت میں فرق کیا رہ گیا؟ اور یہ صرف محمد علی لاہوری صاحب ہی کا نہیں، پوری لاہوری جماعت کا عقیدہ ہے۔ چنانچہ قادیانی جماعت اور لاہوری جماعت کے درمیان جو مباحثہ راولپنڈی میں ہوا اور جسے دونوں جماعتوں نے مشترک خرچ پر شائع کیا، اس میں لاہوری جماعت کے نمائندے نے صراحتاً کہا کہ:
    ’’حضرت (یعنی مرزاغلام احمدصاحب) آنحضرتﷺ کے اظلال میں ایک کامل ظل ہیں۔ پس ان کی بیوی اس لئے ام المؤمنین ہے اور یہ بھی ظلی طور پر مرتبہ ہے۔‘‘
    (مباحثہ راولپنڈی ص۱۹۶)
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۱؎ فنا فی الرسول سے نبوت مل جاتی ہے تو شاید فنافی اﷲ سے خدائی بھی مل جاتی ہوگی۔
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    نیز اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ: ’’حضرت مسیح موعود نبی نہیں، بلکہ آنحضرتﷺ کی نبوت ان میں منعکس ہے۔‘‘
    (مباحثہ راولپنڈی ص۱۵۳)
    یہ سب وہ عقائد ہیں جنہیں لاہوری جماعت اب بھی تسلیم کرتی ہے۔ اس سے واضح ہوگیا کہ مرزاغلام احمد کی نبوت کے مسئلہ میں قادیانی جماعت اور لاہوری جماعت میں صرف لفظی ہیرپھیر کا اختلاف ہے۔ لاہوری جماعت اگرچہ مرزاصاحب کا لقب مسیح موعود اور مجدد رکھتی ہے۔ لیکن ان الفاظ سے ان کی مراد بعینہ وہ ہے جو قادیانی جماعت ظلی، بروزی یا غیرتشریعی یا امتی نبی کے الفاظ سے مراد لیتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ لاہوری جماعت کا مسلک یہ ہے کہ 1937مسیح موعود، مجدد اور مہدی کا یہ مقام جسے مرزاصاحب نے ہزارہا مرتبہ لفظ نبی سے تعبیر کیا اور جس کے لئے وہ خود ۱۹۱۴ء تک بلاتکلف یہی لفظ استعمال کرتے رہے۔ خلافت کا نزاع پیدا ہونے کے بعد اس کے لئے ’’نبوت‘‘ کا لفظ اور صرف لفظ مجازی یا لغوی قرار پاگیا۔ جسے مرزاصاحب کی عبارتوں کی تشریح کے لئے اب بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن عام تحریروں میں اس کا استعمال مصلحتاً ترک کر دیا گیا ہے۔ شاعر مشرق علامہ اقبال مرحوم نے بالکل صحیح بات کہی تھی کہ: ’’تحریک احمدیت دو جماعتوں میں منقسم ہے جو قادیانی اور لاہوری جماعتوں کے نام سے موسوم ہیں۔ اوّل الذکر جماعت بانی احمدیت کو نبی تسلیم کرتی ہے۔ آخر الذکر نے اعتقاداً یا مصلحتاً قادیانیت کی شدت کو کم کر کے پیش کرنا مناسب سمجھا۔‘‘
    (حرف اقبال ص۱۴۹، المنار اکادمی مطبوعہ ۱۹۴۷ئ)
    یہاں یہ حقیقت بھی واضح کر دینا مناسب ہے کہ لاہوری صاحبان نے جو تاویل کی ہے کہ مرزاصاحب نے ہر جگہ اپنے لئے لفظ نبی مجازی یا لغوی طور پر استعمال کیا ہے۔ حقیقت نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۱؎۔ اس تاویل کے لئے انہوں نے حقیقت نبوت کی ایک مخصوص اصطلاح گھڑی ہے جو شرعی اصطلاح سے بالکل الگ ہے۔ اس حقیقت نبی کے لئے انہوں نے بہت سی شرائط عائد کی ہیں جن میں سے چند یہ بھی ہیں:
    ۱… ’’حقیقی نبی صرف وہ ہوگا جس پر حضرت جبرائیل علیہ السلام وحی لے کر آئے ہوں۔ نزول جبرائیل کے بغیر کوئی حقیقی نبی نہیں ہوسکتا۔‘‘
    (النبوۃ فی الاسلام از محمد علی لاہوری ص۲۸، ملخص)
    ۲… ’’حقیقی نبوت کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ سابقہ شریعت کو منسوخ یا اس میں ترمیم کر سکے۔‘‘
    (النبوۃ فی الاسلام ص۴۷ ملخص)
    ۳… ’’حقیقی نبی کی وحی عبادات میں پڑھی جاتی ہے۔‘‘
    (النبوۃ فی الاسلام ص۵۶)
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۱؎ اگرچہ مرزاقادیانی کی بے شمار تحریریں اس دعویٰ کی بھی تردید کرتی ہیں۔
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    1938۴… ’’ہر حقیقی نبی کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ کتاب لائے۔‘‘
    (النبوۃ فی الاسلام ص۶۰ ملخص)
    حقیقی نبوت کے لئے اس طرح کی بارہ شرائط عائد کرنے کے بعد انہوں نے ثابت کیا ہے کہ چونکہ یہ شرائط مرزاصاحب کی نبوت میں نہیں پائی جاتیں۔ اس لئے ان پر حقیقی معنی میں لفظ نبی کا اطلاق درست نہیں۔ اب ظاہر ہے کہ شریعت کی معروف اصطلاح میں نبی کے لئے نہ کتاب لانا ضروری ہے، نہ یہ ضروری ہے کہ اس کی وحی عبادتوں میں ضرور ہی پڑھی جائے۔ نہ یہ لازمی ہے کہ نبی اپنے سے پہلی شریعت کو ہمیشہ منسوخ ہی کر دے اور نہ نبوت کی تعریف میں یہ بات داخل ہے کہ اس میں وحی لانے والے ہمیشہ جبرائیل علیہ السلام ہی ہوں۔ لہٰذا ’’حقیقی نبوت‘‘ صرف اسی نبوت کو قرار دینا جس میں یہ ساری شرائط موجود ہوں۔ محض ایک ایسا حیلہ ہے جس کے ذریعہ کبھی مرزاصاحب کونبی قرار دینا اور کبھی ان کی نبوت سے انکار کرنا آسان ہو جائے۔ کیونکہ یہ شرائط عائد کرکے تو بہت سے انبیائے بنی اسرائیل کے بارے میں بھی یہی کہا جاسکتا ہے کہ وہ ’’حقیقی نبی‘‘ نہیں تھے۔ کیونکہ نہ ان پر کتاب اتری نہ ان کی وحی کی تلاوت کی گئی اور نہ وہ کوئی نئی شریعت لے کر آئے لیکن وہ انبیاء تھے۔
  6. ‏ فروری 14, 2015 #6
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    تکفیر کا مسئلہ
    لاہوری جماعت جس بنیاد پر اپنے آپ کو اہل قادیان سے ممتاز قرار دیتی ہے، وہ اصل میں تو نبوت ہی کا مسئلہ ہے جس کے بارے میں پیچھے واضح ہو چکا کہ وہ صرف لفظی ہیرپھیر کا فرق ہے۔ ورنہ حقیقت کے اعتبار سے دونوں ایک ہیں۔ دوسرا مسئلہ جس کے بارے میں جماعت لاہوری کا دعویٰ ہے کہ وہ جماعت قادیان سے مختلف ہے۔ تکفیر کا مسئلہ ہے۔ یعنی لاہوریوں کا دعویٰ یہ ہے کہ وہ غیراحمدیوں کو مسلمان قرار دیتی ہے۔ لیکن یہاں بھی بات اتنی سادہ نہیں جتنی بیان کی 1939جاتی ہے۔ اس مسئلہ پر امیر جماعت محمد علی لاہوری صاحب نے ایک مستقل کتاب ’’رد تکفیر اہل قبلہ‘‘ کے نام سے لکھی ہے۔ اس کتاب کو بغور پڑھنے کے بعد ان کا جو نقطۂ نظر واضح ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ مرزاغلام احمد کو مسیح موعود نہ ماننے والوں کی دو قسمیں ہیں:
    ۱… ’’وہ لوگ جو مرزاغلام احمد کے ہاتھ پر بیعت نہیں کرتے۔ مگر انہیں کافر اور کاذب بھی نہیں کہتے۔ ایسے لوگ ان کے نزدیک بلاشبہ کافر نہیں ہیں بلکہ فاسق ہیں۔‘‘
    (النبوۃ فی الاسلام ص۲۱۵ ملخص)
    ۲… وہ لوگ جو مرزاغلام احمد کو کافر یا کاذب کہتے ہیں، ان کے بارے میں ان کا مسلک بھی یہی ہے کہ وہ ’’کافر‘‘ ہیں۔ چنانچہ محمد علی صاحب لکھتے ہیں:
    ’’گویا آپ (یعنی مرزاغلام احمد) کی تکفیر کرنے والے اور وہ منکر جو آپ کو کاذب یعنی مفتری بھی قرار دیتے ہیں، ایک قسم میں داخل ہیں اور ان کا حکم ایک ہے اور دوسرے منکروں کا حکم الگ ہے۔‘‘
    (رد تکفیر اہل قبلہ ص۴۰)
    آگے پہلی قسم کا حکم بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
    ’’حضرت مسیح موعود نے اب بھی اپنے انکار یا اپنے دعویٰ کا انکار کو وجہ کفر قرار نہیں دیا۔ بلکہ وجہ کفر صرف اسی بات کو قرار دیا ہے کہ مفتری کہہ کر اس نے مجھے کافر کہا۔ اس لئے اسی حدیث کے مطابق جو کافر کہنے والے پر کفر لوٹاتی ہے، اس صورت میں بھی کفر لوٹا۔‘‘
    (رد تکفیر اہل قبلہ ص۴۲)
    مزید لکھتے ہیں:
    ’’چونکہ کافر کہنے والا اور کاذب کہنے والا معناً یکساں ہیں، یعنی مدعی (مرزاصاحب) کی دونوں تکفیر کرتے ہیں۔ اس لئے دونوں اس حدیث کے ماتحت خود کفر کے نیچے آجاتے ہیں۔‘‘
    (ردتکفیر اہل قبلہ مصنف محمد علی لاہوری صاحب ص۴۲، طبع ۱۹۵۰ئ)
    1940نیز لاہوری جماعت کے معروف مناظر اختر حسین گیلانی لکھتے ہیں:’’جو (مرزاصاحب) کی تکذیب کرنے والے ہیں ان کے متعلق ضرور فرمایا کہ ان پر فتویٰ کفر لوٹ کر پڑتا ہے۔ کیونکہ تکذیب کرنے والے حقیقتاً مفتری قرار دے کر کافر ٹھہراتے ہیں۔‘‘
    (مباحثہ راولپنڈی ص۲۵۱، مطبوعہ قادیان)
    اس سے صاف واضح ہے کہ جو لوگ مرزاغلام احمد قادیانی کو اپنے دعوؤں میں کاذب (جھوٹا) قرار دیتے ہیں یا انہیں کافر کہتے ہیں۔ ان کو لاہوری جماعت بھی کافر تسلیم کرتی ہے۔ صرف تکفیر کی وجہ کا فرق ہے۔ جو لوگ لاہوریوں کے نزدیک کفر کے فتوے سے مستثنیٰ اور صرف فاسق ہیں وہ صرف ایسے غیراحمدی ہیں جو مرزاصاحب کو کاذب یا کافر نہیں کہتے۔ اب غور فرمائیے کہ عالم اسلام میں کتنے لوگ ایسے ہیں جو مرزاغلام احمد صاحب کی تکذیب نہیں کرتے؟ ظاہر ہے کہ جتنے مسلمان مرزاصاحب کو نبی یا مسیح موعود نہیں مانتے، وہ سب ان کی تکذیب ہی کرتے ہیں۔ لہٰذا وہ سب لاہوری جماعت کے نزدیک بھی فتوائے کفر کے تحت آجاتے ہیں۔ کیونکہ مرزاصاحب کو مسیح موعود نہ ماننا اور ان کی تکذیب کرنا عملاً ایک ہی بات ہے خود مرزاصاحب لکھتے ہیں:
    ’’جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ اسی وجہ سے نہیں مانتا کہ وہ مجھے مفتری قرار دیتا ہے۔‘‘
    (حقیقت الوحی ص۱۶۳، خزائن ج۲۲ ص۱۶۷)
    منیر انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں جج صاحبان نے بھی یہی نتیجہ اخذ کیا ہے کہ مرزاصاحب کو نہ ماننا اور ان کی تکذیب کرنا ایک ہی بات ہے۔ لہٰذا جو فتویٰ تکذیب کرنے والوں پر لگے گا، وہ درحقیقت تمام غیراحمدیوں پر عائد ہوگا۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
    ’’نماز جنازہ کے متعلق احمدیوں نے ہمارے سامنے بالآخر یہ مؤقف اختیار کیا کہ مرزاغلام احمد کا ایک فتویٰ حال ہی میں دستیاب ہوا ہے جس میں انہوں نے احمدیوں کو اجازت دی ہے کہ وہ ان مسلمانوں کی نماز جنازہ میں شریک ہو سکتے ہیں 1941جو مرزاصاحب کے مکذب اور مکفر نہ ہوں لیکن اس کے بعد بھی معاملہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔ کیونکہ اس فتویٰ کا ضروری مفہوم یہی ہے کہ اس مرحوم کی نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی جو مرزاصاحب کو نہ مانتا ہو۔ لہٰذا اس اعتبار سے یہ فتویٰ موجودہ طرز عمل ہی کی تائید وتصدیق کرتا ہے۔‘‘
    (رپورٹ تحقیقاتی عدالت پنجاب ۱۹۵۴ء ص۲۱۲)
    اب غور فرمائیے کہ فتویٔ کفر کے اعتبار سے عملاً لاہوری اور قادیانی جماعتوں میں کیا فرق رہ گیا؟ قادیانی کہتے ہیں کہ تمام مسلمان غیراحمدی ہونے کی بناء پر کافر ہیں اور لاہوری جماعت والے کہتے ہیں کہ مرزاصاحب کو کاذب کہنے کی وجہ سے کافر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مرزاصاحب کو نہ ماننے کی وجہ سے کافر ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ فتوائے کفر کے لوٹ کر پڑنے کی وجہ سے کافر ہیں۔ اب اس اندرونی فلسفے کو وہ خود طے کریں کہ مسلمانوں کو کافر کہنے کی وجہ کیا ہے؟ لیکن عملی اعتبار سے مسلمانوں کے لئے اس کے سوا اور کیا فرق پڑا کہ ؎

    ستم سے باز آکر بھی جفا کی
    تلافی کی بھی ظالم نے تو کیا کی
    بعض مرتبہ لاہوری جماعت کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ ہم مرزاصاحب کی تکذیب کرنے والوں کو جو کافر قرار دیتے ہیں۔ اس سے مراد ایسا کفر نہیں جو دائرۂ اسلام سے خارج کر دے۔ بلکہ ایسا کفر ہے جو ’’فسق‘‘ کے معنی میں بھی استعمال ہو جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر کفر سے ان کی مراد ’’فسق‘‘ ہی ہے تو پھر جو غیراحمدی مرزاصاحب کو کافر یا کاذب نہیں کہتے، ان کے لئے اس لفظ ’’کفر‘‘ کا استعمال کیوں درست نہیں؟ جبکہ وہ بھی لاہوریوں کے نزدیک ’’فاسق‘‘ ضرور ہیں۔
    (النبوۃ فی الاسلام ص۲۱۵، طبع دوم ومباحثہ راولپنڈی ص۲۴۷)
  7. ‏ فروری 14, 2015 #7
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    1942لاہوری جماعت کی وجوہ کفر
    مذکورہ بالا تشریحات سے یہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ قادیانی جماعت اور لاہوری جماعت کے درمیان بنیادی عقائد کے اعتبار سے کوئی عملی فرق نہیں۔ فرق اگر ہے تو وہ الفاظ واصطلاحات اور فلسفیانہ تعبیروں کا فرق ہے اور ان کی تاریخ سے واقفیت رکھنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ یہ فرق لاہوری جماعت نے ضرور تہً اور مصلحتاً پیدا کیا ہے۔ اسی لئے ۱۹۱۴ء کے تنازعۂ خلافت سے پہلے اس کا کوئی نشان نہیں ملتا۔ اب منقّح طور پر ان کے کفر کی وجوہ درج ذیل ہیں:
    ۱… قرآن وحدیث، اجماع امت، مرزاغلام احمد کے عقائد اور ذاتی حالات کی روشنی میں یہ بات قطعی اور یقینی ہے کہ مرزاغلام احمد ہرگز وہ مسیح نہیں جس کا قرب قیامت میں وعدہ کیاگیا ہے اور ان کو مسیح موعود ماننا قرآن کریم، متواتر احادیث اور اجماع امت کی تکذیب ہے۔ لاہوری مرزائی چونکہ مرزاغلام احمد کو مسیح موعود مانتے ہیں۔ اس لئے کافر اور دائرۂ اسلام سے اسی طرح خارج ہیں جس طرح قادیانی مرزائی۔
    ۲… مرزاغلام احمد قادیانی کا دعوائے نبوت قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہوچکا ہے۔ لہٰذا اس کو کافر کہنے کی بجائے اپنا دینی پیشوا قرار دینے والا مسلمان نہیں ہوسکتا۔
    ۳… پیچھے بتایا جاچکا ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی کی سینکڑوں کفریات کے باوجود لاہوری جماعت اس بات کی قائل ہے کہ (معاذ اﷲ) وہ آنحضرتﷺ کا بروز تھا اور آنحضرتﷺ کی نبوت اس میں منعکس ہوگئی تھی اور اس اعتبار سے اسے نبی کہنا درست ہے، یہ عقیدہ دائرۂ اسلام میں کسی طرح نہیں کھپ سکتا۔
    ۴… دعوائے نبوت کے علاوہ مرزاغلام احمد قادیانی کی تصانیف بے شمار کفریات سے لبریز ہیں (جن کی کچھ تفصیل آگے آرہی ہیں) لاہوری جماعت مرزاصاحب کی تمام تحریروں کو حجت اور واجب الاطاعت قرار دے کر ان تمام کفریات کی تصدیق کرتی ہے۔ محمد علی لاہوری 1943صاحب لکھتے ہیں:
    ’’اور مسیح موعود کی تحریروں کا انکار درحقیقت مخفی رنگ میں خود مسیح موعود کا انکار ہے۔‘‘
    (النبوۃ فی الاسلام ص۱۱۱، طبع دوم لاہور)
    یہاں یہ واضح رہنا بھی ضروری ہے کہ اسلام میں ’’مجدد‘‘ کا مفہوم صرف اتنا ہے کہ جب اسلام کی تعلیمات سے روگردانی عام ہوجاتی ہے تو اﷲتعالیٰ کا کوئی بندہ پھر سے لوگوں کو اسلامی تعلیمات کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ ان مجدددین کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی۔ نہ ان کی کسی بات کو شرعی حجت سمجھا جاتا ہے۔ نہ وہ اپنے مجدد ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور نہ لوگوں کو یہ دعوت دیتے ہیں کہ انہیں ضرور مجدد مان کر ان کے ہاتھ پر بیعت کریں۔ بلکہ یہ بھی ضروری نہیں کہ لوگ انہیں مجدد کی حیثیت سے پہچان بھی جائیں۔ چنانچہ چودہ سو سالہ تاریخ میں مجددین کے ناموں میں بھی اختلاف رہا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص انہیں مجدد تسلیم نہ کرے تو شرعاً وہ گنہگار بھی نہیں ہوتا، نہ وہ اپنے تجدیدی کارنامے الہام کی بنیاد پر پیش کرتے ہیں اور نہ ان کے الہام کی تصدیق شرعاً واجب ہوتی ہے۔ اس کے بالکل برخلاف لاہوری جماعت مرزاصاحب کے لئے ان تمام باتوں کی قائل ہے۔ لہٰذا اس کا یہ دعویٰ کہ ’’ہم مرزاصاحب کو صرف مجدد مانتے ہیں۔‘‘ مغالطے کے سوا کچھ نہیں۔
    ----------
  8. ‏ فروری 14, 2015 #8
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    1944مرزائی نبوت کی جھلکیاں … ایک نظر میں
    ہم نے اپنی قرارداد میں کہا ہے کہ:
    ’’ہر گاہ کہ نبی ہونے کا اس کا جھوٹا اعلان، بہت سی قرآنی آیات کو جھٹلانے کی کوششیں اسلام کے بڑے بڑے احکام کے خلاف غداری تھیں۔‘‘
    (آئندہ پوسٹس میں اس کی تشریح پیش کی جارہی ہے)
  9. ‏ فروری 14, 2015 #9
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    1945مرزائیوں کے مزید کفریات اور گستاخیاں
    عقیدۂ ختم نبوت کی صریح خلاف ورزی کے علاوہ مرزاصاحب کی تحریریں اور بہت سی کفریات سے بھری ہوئی ہیں۔ یہاں تمام کفریات کا ذکر کرنا تو مشکل ہے۔ لیکن نمونے کے طور پر چند مثالیں پیش خدمت ہیں۔
  10. ‏ فروری 14, 2015 #10
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    اﷲتعالیٰ کے بارے میں
    مرزاغلام احمد صاحب نے اپنے آپ کو آنحضرتﷺ کا بروز تو قرار دیا ہی تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے متعدد مقامات پر اپنے آپ کو خدا کا بروز بھی قرار دیا۔ چنانچہ ۱۵؍مارچ ۱۹۰۶ء کے خود ساختہ الہامات میں ایک الہام یہ بھی تھا کہ انت منی بمنزلۃ بروزی یعنی
    ’’تو مجھ سے میرے بروز کے رتبے میں ہے۔‘‘
    (تذکرہ ص۶۰۴، طبع سوم، ریویو آف ریلیجنز ج۵ نمبر۵، ماہ اپریل ۱۹۰۶ء ص۲۲)
    نیز انجام آتھم میں اپنے الہامات بیان کرتے ہوئے لکھا ہے؟
    انت منی بمنزلۃ توحیدی وتفریدی
    ’’تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میری توحید اور تفرید۔‘‘
    (تذکرہ ص۲۲۰، اربعین نمبر۳ ص۲۳، خزائن ج۱۷ ص۴۱۰، انجام آتھم ص۵۱، خزائن ج۱۱ ص ایضاً)
    نیز لکھتے ہیں:
    ’’میں نے اپنے کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ میں وہی ہوں۔‘‘
    (کتاب البریہ ص۸۵، خزائن ج۱۳ ص۱۰۳، طبع دوم قادیان ۱۹۳۲ئ، آئینہ کمالات اسلام ص۵۶۴ طبع جدید ربوہ)
    مزید کہتے ہیں:
    ’’اور دانی ایل نبی نے اپنی کتاب میں میرا نام میکائیل رکھا ہے اور عبرانی میں لفظی معنی میکائیل کے ہیں۔ خدا کی مانند، یہ گویا اس الہام کے مطابق ہے جو براہین احمدیہ میں ہے۔ انت منی بمنزلۃ توحیدی وتفریدی‘‘
    (اربعین نمبر۳ ص۲۵، خزائن ج۱۷ ص۴۱۳ حاشیہ)
لڑی کی کیفیت :
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

اس صفحے کی تشہیر