1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

قھر الدّیان علٰی مرتَدٍّ بقادیان(قادیانی مرتد پر قہر خداوندی)

حمزہ نے 'تحفظ ختم نبوت کتب' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اگست 30, 2014

  1. ‏ اگست 30, 2014 #1
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    قھر الدّیان علٰی مرتَدٍّ بقادیان
    (قادیانی مرتد پر قہر خداوندی)

    تحریر: احمد رضا خاں المعروف اعلیٰ حضرت
    اس رسالہ کو پی ڈی ایف(PDF)میں یہاں سے ڈاؤنلوڈ کرسکتے ہیں۔

    الحمدﷲ وکفٰی، سمع اﷲ لمن دعا، لیس وراء اﷲ منتھٰی، ان ربی لطیف لما یشاء، صلوات العلی الاعلٰی، وتسلیماتہ المنزھۃ عن الانتھاء، وبرکاتہ التی تنمی وتنمٰی، علی خاتم النبیین جمیعا، فمن تنبّأ بعدہ تامّا اوناقصا فقد کفر وغوٰی، اﷲ اکبر علٰی من عاث وعتا، ومرد وعصٰی، وفی ھوۃ ھواہ ھوٰی، اللھم اجرنا من ان نذل ونخزٰی، او نزلّ ونشقٰی، ربنا وانصرنا بنصرک علٰی من طغٰی وبغٰی،و ضل واضل عن سبیل الاھتداء، صل علی المولٰی واٰلہ وصحبہ ابدا ابدا، واشھد ان لا الٰہ اِلَّا اﷲ وحدہ لا شریک لہ احدا صمدا، وان محمدا عبدہ ورسولہ بالحق ودین الھدٰی، صلی اﷲ تعالٰی علیہ وعلٰی اٰلہ وصحبہ دائما سرمدا۔
    تمام تعریفیں اﷲ تعالٰی کے لئے، دعا کرنے والے کیلئے کفایت فرماتا اور سنتا ہے، اﷲ تعالٰی کے بغیر کو منتہٰی نہیں بیشک میرارب جس پر چاہے لطف فرماتا ہے، اﷲ تعالٰی کی صلوٰتیں، تسلیمات اور برکتیں جو بڑھتی ہیں اور انتہا سے پاک ہیں تمام انبیاء کے خاتم پر، تو جو آپ کے بعد تام یا ناقص نبوت کا مدعی ہوا تو وہ کافر ہوا اور گمراہ، اﷲ تعالٰی ہر سرکش، باغی، کھلے نافرمان اور اپنی خواہش کے گڑھے میں گرنے والے پر غالب و بلند ہے، اے باری تعالٰی! ہمیں ذلّت، رسوائی، پھسلنے اور بدبختی سے محفوظ فرما۔یا اﷲ! ہماری اپنی خاص مدد فرما ہر باغی اور سرکش اور جو بھی گمراہ ہو اور گمراہ کرتا ہو سیدھے طریقے سے ان سب کے خلاف۔ اور رحمت نازل فرما ہمارے آقا پر اور ان کی آل واصحاب پر ہمیشہ ہمیشہ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ کے سوا کوئی برحق معبود نہیں، وہ وحدہ لا شریک احد صمد ہے اور یہ کہ محمدصلی اللہ تعالی علیہ وسلم اس کے خاص بندے اور برحق رسول ہیں اور اس کا دین ہدایت ہے۔ اﷲ تعالٰی کی رحمت نازل ہو ان پر اور ان کے آل و اصحاب پر دائمی۔ت اﷲ اکبر علٰی من عتا وتکبر (اﷲ تعالٰی ہر سرکش اور متکبر پر غالب وبلند ہے۔ت)

    مدّتے ایں مثنوی تا خیر شُد مُہلتے بایست تاخُوں شیر شد

    (اس مثنوی کو ایک مدّت تاخیر ہوئی، خون کے دودھ بننے کے لئے مدت چاہیے۔ت)
    اﷲ عزوجل اپنے دین کا ناصر، اپنے بندوں کا کفیل، وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل، رسالہ ماہواری رَدِّ قادیانی کی ابتداء حکمتِ الہٰیہ نے اس وقت پر رکھی تھی کہ یہاں دو چار جاہلان محض اس کے مرید ہو آئے، مسلمانوں نے حسب حکم شرع شریف ان سے میل جول، ارتباط، سلام، کلام یک لخت ترک کردیا۔ دین میں فساد، مسلمانوں میں فتنہ پیدا کرنے والوں نے یہ

    العذاب الادنٰی دون العذاب الاکبر (القرآن الکریم ۳۲/ ۲۱)
    (بڑے عذاب سے قبل دنیاوی چھوٹا عذاب چکھا) مسلمانوں پر حملے میں اپنی چلتی میں کوئی گئی نہ کی، بس نہ چلا تو متواتر عرضیاں دیں کہ ہمارا پانی بند ہے، ہم پر زندگی تلخ ہے، بیدار مغز حکومت ایسی لغویات کو کب سنتی، ہر بار جواب ملا کہ مذہبی امور میں دست اندازی نہ ہوگی، سائلان آپ اپنا انتظام کریں، آخر بحکم آنکہ

    ع دست بگیرد سرِ شمشیر تیز (تیز تلوار کا سرا ہاتھ میں پکڑا۔ت)

    ایک بے قید پرچے روہیل کھنڈ گزٹ میں اشتہار چھاپا کہ عمائدِ شہر اگر علمائے طرفین سے مناظرہ کرائیں اور وہ بھی اس شرط پر کہ دونوں طرف سے خود وہی منتظم رہیں تو ہمیں اطلاع دیں کہ ہم بھی مرزائی ملانوں کو بلا لیں اور اس میں علمائے اہلسنّت کی شان میں کوئی دقیقہ بد زبانی واکاذیب بہتانی وکلماتِ شیطانی کا اٹھا نہ رکھا، یہ حرکت نہ فقط ان بے علم بے فہم مرزائیوں بلکہ بعونہ تعالٰی خود مرزا کے حق میں کالباحث عن حتفہ بظلفہٖ (اس کی طرح جو اپنی موت اپنے کھُر سے کرید کر نکالے۔ت) سے کم نہ تھی ؎
    ست باز و بجہل میفگند
    پنجہ با مردِ آہنیں چنگال
    (ہر فاہم و جاہل کو چھیڑا،

    آہنی پنجے والے مرد سے پنجہ آزمائی کی۔ت)مگر از انجا کہ عسٰی ان تکرھوا شیئا وھو خیر لکم۔ قریب ہے کہ تم ناگوار سمجھو گے بعض چیزیں اور وہ تمہارے لئے بہتر ہوں گی۔ت)(القرآن الکریم ۲/ ۲۱۶)

    ع خدا شرّے بر انگیز د کہ خیر مَا دراں باشد

    (اﷲ تعالٰی ایسا شر لاتا ہے جس میں ہماری خیر ہو۔ت)
    یہ ایک غیبی تحریک خیر ہوگئی جس نے اس ارادہ رسالہ کی سلسلہ جنبانی فرمادی، اشتہار کا جواب اشتہاروں سے دیا گیا۔ مناظرہ کے لئے ابکار افکار مرزا قادیانی کو پیام دیا، اس کے ہولناک اقوال ادِّعائے رسالت و نبوت وافضلیت من الانبیاء وغیرہا کفر وضلال کا خاکہ اڑایا، گالیوں کے جواب میں گالی سے قطعی احتراز کیا، صرف اتنا دکھا دیا کہ تمہاری آج کی گالی نرالی نہیں، قادیانی تو ہمیشہ سے اﷲ ورسول وانبیائے سابقین وائمہ دین سب کو گالیاں سناتا رہا ہے، ہر عبارت اس کی کتابوں سے بحوالہ صفحہ مذکور ہوئی، مضمون کثیر تھا، متعدد پرچوں میں اشاعت منظور ہوئی، ''ہدایت نوری بجواب اطلاع ضروری'' نام رکھا گیا، اس میں دعوتِ مناظرہ، شرائط مناظرہ، طریق مناظرہ، مبادی مناظرہ سب کچھ موجود ہے۔
    اس مختصر تحریر نے اپنی سلک منیر میں متعدد سلاسل لئے، سلسلہ د شنام ہائے قادیانی بر حضرتِ ربّانی و رسولانِ رحمانی ومحبوبانِ یزدانی، سلسلہ کفریات وضلالاتِ قادیانی، سلسلہ تناقضات وتہافتات قادیانی، سلسلہ دجّالی و تلبیساتِ قادیانی، سلسلہ جہالات وبطالاتِ قادیانی، سلسلہ تاصیلات، سلسلہ سوالات اور واقعی وقتی ضرورات مختلف مضامین پر کلام کی مقتضی ہوتی ہیں اور اس کے اکثر رسائل الٹ پھیر کر انہیں ڈھاک کے تین پات کے حامل، لہٰذا ہر رسالے کے جدا گانہ رو سے انہیں سلاسل کا انتظام احسن واولٰی۔
    اب بعونہٖ تعالٰی اسی ہدایت نوری سے ابتدائے رسالہ ہے اور مولٰی تعالٰی مدد فرمانے والا ہے، اس کے بعد وقتاً فوقتاً رسائل و مضامین میں حسبِ حاجت اندراج گزین مناسب، کہ جو کلام جس سلسلے کے متعلق آتا جائے بہ شمار سلسلہ اسی کی سلک میں انسلاک پائے جو نیا کلام اس سلاسل سے جدا شروع ہو اس کے لئے تازہ سلسلہ موضوع ہو۔ اعتراضات کے تازیانے جن کا شمار خدا جانے اوّل تا آخر ایک سلسلہ میں منضود اور ہر اعتراض حاشیہ پر تازیانہ یا اس کی علامت ''ت'' لکھ کر جُدا معدود۔
    مسلمانوں سے تو بفضلہٖ تعالٰی یقینی امید مدد و موافقت ہے، مرزائی بھی اگر تعصّب چھوڑ کر خوف خدا اور روز جزاء سامنے رکھ کر دیکھیں تو بعونہٖ تعالٰی امید ہدایت ہے وما توفیقی الاَّ باﷲ علیہ توکّلت والیہ انیب وصلی اﷲ تعالٰی علٰی سیدنا محمد واٰلہِ وصحبہ انہ ھو القریب المجیب۔

    ہدایت نوری بجواب اطلاعِ ضروری
    بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
    نحمدہ و نصلی علٰی رسولہ الکریم خاتم النبیین واٰلہ وصحبہ اجمعین ط
    اس میں قادیانی کو دعوتِ مناظرہ اور اس کے بعض سخت ہولناک اقوال کا تذکرہ ہے۔
    اﷲ عزوجل مسلمانوں کو دین حق پر استقامت اور اعدائے دین پر فتح و نصرت بخشے، آمین!

    روہیل کھنڈ گزٹ مطبوعہ یکم جولائی۱۹۰۵ء فقیرغفرلہ میں تصور حسین نیچہ بند کے نام سے ایک مضمون بعنوان ''اطلاع ضروری'' نظر سے گزرا جس میں اوّلاً علمائے اہلسنّت نصرھم اﷲ تعالٰی پر سخت زبان درازی و افتراء پردازی کی ہے، کوئی دقیقہ توہین کا باقی نہ رکھا اور آخر میں عمائدِ شہر کو ترغیب دی ہے کہ علمائے طرفین میں مناظرہ کرادیں کہ حق جس طرف ہو ظاہر ہوجائے۔
    ہر ذی عقل جانتا ہے کہ نیچہ بند صاحب جیسے بے علم فاضل، کیا کلام و خطاب کے قابل، بلکہ فوج کی اگاڑی آندھی کی پچھاڑی مشہور ہے، جس فوج کی یہ اگاڑی یہ ہر اوّل، اس کی پچھاڑی معلوم از اوّل، مگر اپنے دینی بھائیوں سے دفعِ فتنہ لازم، لہٰذا دونوں باتوں کے جواب کو یہ ہدایت نوری دو عدد پر منقسم، آئندہ حسبِ حاجت اس کے شمار کا اﷲ عالم (پہلے عددمیں) ان گالیوں کا جوابِ متین جو علمائے اہلسنّت کو دی گئیں۔
    پیارے بھائیو! عزیز مسلمانو! کیا یہ خیال کرتے ہو کہ ہم گالیوں کا جواب گالیاں دیں؟ حاشاﷲ ہر گز نہیں بلکہ ان دل کے مریضوں اور ان کے ساختہ مسیح مرزا قادیانی کو گالی کے جواب میں یہ دکھائیں گے، ان کی آنکھیں صرف اتنا دکھا کر کھولیں گے کہ شُستہ دہنو! تمہاری گندی گالی تو آج کی نئی نرالی نہیں، قادیانی بہادر ہمیشہ سے علماء وائمہ کو سڑی گالیاں دینے کا دھنی ہے، استغفراﷲ! علماء وائمہ کی کیا گنتی، وہ کون سی شدید خبیث ناپاک گالی ہے جو اس نے اﷲ کے محبوبوں، اﷲ کے رسولوں بلکہ خود اﷲ واحد قہار کی شان میں اٹھا رکھی ہے، یہ اطلاع ضروری کی پہلی بات کا جواب ہوا۔
    (دوسرے عدد) میں بعونہ تعالٰی قادیانی مرزا کو دعوتِ مناظرہ ہے، اس میں شرائط مناظرہ مندرج ہیں اور نیز اس کا طریق مذکور ہے جو نہایت متین ومہذّب اور احتمالِ فتنہ سے یکسر دور ہے اس میں قادیانی کی طرح فریق مقابل پر شرائط میں کوئی سختی نہ رکھی گئی بلکہ قادیانی کی باگ ڈھیلی کی اور اس کی تنگی کھول دی گئی ہے، اس میں بحولہٖ تعالٰی شرائط کے ساتھ مبادی بھی ہیں جو کمال تہذیب و متانت سے ضلالتِ ضال کے کاشف اور مناظرہ حسنہ کے بادی بھی ہیں۔
    ایک مُدعی وحی کو لازم کہ اپنے وحی کنندوں کو جو رات دن اس پر اترتے رہتے ہیں جمع کر رکھے اور اپنی حال کی اور پچھلی قوت سب حق کا وارسہارنے کے لئے ملا لے۔ ہاں ہاں قادیانی کو تیار ہورہنا چاہیے اس سخت وقت کے لئے جب واحد قہار اپنی مدد مسلمانوں کے لئے نازل فرمائے گا اور جھوٹی مسیحی جھوٹی وحی کا سب جال پیچ بعونہٖ کھل جائے گا۔
    وما ذٰلک علی اﷲ بعزیز لقد عز نصر من قال وقولہ الحق ان جندنا لھم الغٰلبون ولن یجعل اﷲ للکٰفرین علی المؤمنین سبیلا والحمد ﷲ ربّ العٰلمین۔(اور یہ اﷲ تعالٰی پر گراں نہیں، اس ذات کی مد د غالب جس نے فرمایا اور اس کا فرمان برحق ہے کہ ہمارا تیار کردہ لشکر ہی ان پر غالب رہے گا، اور اﷲ تعالٰی کا فروں کو مومنوں پر ہر گزر اہ نہ دے گا، الحمد ﷲ رب العالمین۔ت) یہ دوسرا عدد بحولہٖ تعالٰی اس کے متصل ہی آتا ہے، اب بعونہٖ تعالٰی پہلے عدد کا آغاز ہوتا ہے۔ وما توفیقی الاّ باﷲ علیہ توکلت والیہ انیب۔ (اور مجھے صرف اﷲ تعالٰی سے توفیق ہے اور اسی پر بھروسا ہے اور اسی کی طرف میرا لوٹنا ہے۔ت)
    • Like Like x 1
    • Winner Winner x 1
    • Dumb Dumb x 1
  2. ‏ اگست 30, 2014 #2
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    عددِ اوّل
    اﷲ کے محبوبوں، اﷲ کے رسولوں حتٰی کے خود اﷲ عزوجل پر قادیانی کی لچھے دار گالیاں
    مسلمانو! اﷲ تعالٰی تمہارا مالک و مولٰی تمہیں کفر و کافرین کے شر سے بچائے، قادیانی نے سب سے زیادہ اپنی گالیوں کا تختہ مشق رسول اﷲ وکلمۃ اﷲ و روح اﷲ سیدنا عیسٰی بن مریم علیہما الصلوٰۃ والسّلام کو بنایا ہے اور واقعی اسے اس کی ضرورت بھی تھی، وہ مثیل عیسٰی بلکہ نزول عیسٰی یا دوسرے لفظوں میں عیسٰی کا اتار بنا ہے، عیسٰی کے تمام اوصاف اپنے میں بتاتا ہے اور حقیقت دیکھئے تو مسیح صادق کی جمیع اوصاف حمیدہ سے اپنے آپ کو خالی اور اپنے تمام شنائع ذمیمہ سے اس پاک مبارک رسول کو منزّہ پاتا ہے لہٰذا ضرور ہوا کہ ان کے معجزات، ان کے کمالات سے یک لخت انکار اور اپنی تمام شنیع خصلتوں، ذمیم حالتوں کی ان پر بوچھاڑ کرے جب تو اتار بننا ٹھیک اترے۔ میں یہاں اس کی گالیاں جمع کروں تو دفتر ہو لہٰذا اس کی خروار سے مُشتِ نمونہ پیش نظر ہو۔
    فصلِ اوّل
    رسول اﷲ عیسٰی بن مریم اور انکی ماں علیہما الصلوٰۃ والسلام پر قادیانی کی گالیاں
    تازیانہ ۱تا۳(۱): اعجاز احمدی ص۱۳ پر صاف لکھ دیا کہ:''یہود عیسٰی کے بارے میں ایسے قوی اعتراض رکھتے ہیں کہ ہم بھی جواب میں حیران ہیں، بغیر اس کے کہ یہ کہہ دیں کہ ضرور عیسٰی نبی ہے کیونکہ قرآن نے اس کو نبی قرار دیاہے اور کوئی دلیل ان کی نبوت پر قائم نہیں ہوسکتی بلکہ ابطالِ نبوت پر کئی دلائل قائم ہیں۔ یہاں عیسٰی کے ساتھ قرآن عظیم پر بھی جڑ دی کہ وہ ایسی باطل بات بتا رہا ہے جس کے ابطال پر متعدد دلائل قائم ہیں''۔
    تازیانہ ۴ و ۵ ۔(۲) : ایضاً ص ۲۴: ''کبھی(عہ) آپ کو شیطانی الہام بھی ہوتے تھے۔''
    عہ: یہ خود ان کا اپنا عقیدہ ہے بظاہر انجیل کے سر تھوپا ہے، خود اسے اپنے یہاں حدیث سے ثابت مانتاہے۔اس کا بیان ان شاء اﷲ آگے آتا ہے۔
    تازیانہ ۶۔(۳) :ایضاً ص ۲۴: ''ان کی اکثر پیشگوئیاں غلطی سے پر ہیں۔'' یہ بھی صراحۃً نبوت عیسٰی سے انکار ہے کیونکہ قادیانی خود اپنی ساختہ کشتی ص ۵ پر کہتا ہے:'' ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیشین گوئیاں ٹل جائیں۔''
    تازیانہ۷: نیز پیشگوئی لیکھرام آخر دافع الوساوس ص ۷ پر کہتا ہے: ''کسی انسان کا اپنی پیشگوئی میں جھوٹا نکلنا تمام رسوائیوں سے بڑھ کر رسوائی ہے۔''
    تازیانہ ۸:ضمیمہ انجام آتھم ص۲۷ پر کہا:'' کیا اس کے سوا کسی اور چیز کا نام ذلت ہے کہ جو کچھ اس نے کہا وہ پورا نہ ہوا۔''
    تازیانہ ۹ :اور کشتی ساختہ میں اپنی نسبت یوں لکھتا ہے ص۶:''اگر کوئی تلاش کرتا کرتا مر بھی جائے تو ایسی کوئی پیشگوئی جو میرے منہ سے نکلی ہو اسے نہیں ملے گی جس کی نسبت وہ کہہ سکتا ہو کہ خالی گئی۔'' تو مطلب یہ ہوا کہ اس کے لئے تو بھاری عزت ہے اور سیدنا عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے وہ خواری و ذلّت ہے جس سے بڑھ کر کوئی رسوائی نہیں۔ الا لعنۃ اﷲ علی الظّٰلمین۔
    تازیانہ۱۰ تا ۱۲(۴):دافع البلاء ٹائیٹل پیج ص ۳: ''ہم مسیح کو بیشک راستباز آدمی جانتے ہیں کہ اپنے زمانہ کے اکثر لوگوں سے البتہ اچھا تھا ،واﷲ اعلم، مگر وہ حقیقی منجی نہ تھا''۔
    رسول اﷲ اور وہ بھی ان پانچ مرسلین اولوالعزم سے کہ تمام رسولوں سے افضل ہیں یعنی ابراہیم و نوح وموسٰی و عیسٰی و محمدصلی اللہ علیہ وعلیہم وسلم اس کی صرف اتنی قدر ہے کہ ایک راستباز آدمی تھا جو ان کی خاک پاکے ادنٰی غلاموں کا بھی پورا وصف نہیں تو بات کیا، وہی کہ عیسٰی کی نبوّت باطل ہے فقط ایک نیک شخص تھا وہ بھی نہ ایسا کہ دوسرے کو نجات ملنے کا واقعی سبب ہوسکے بلکہ حقیقی نجات دہندہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم تھے، اور اب قادیانی ہے کہ اسی کے متصل کہتا ہے کہ ''حقیقی منجی وہ ہے جو حجاز میں پیدا ہوا تھا اور اب آیا مگر بروز کے طور پر خاکسار غلام احمد از قادیان''۔
    تازیانہ۱۳۔(۵):پھر یہاں تک تو عیسٰی کا ایک راستباز آدمی اور اپنے بہت اہل زمانہ سے اچھا ہونا یقینی تھا کہ بیشک اور البتہ کے ساتھ کہا، نوٹ میں چل کر وہ یقین بھی زائل ہوگیا، اسی صفحہ پر کہا''یہ ہمارا بیان محض نیک ظنی کے طور پر ہے ورنہ ممکن ہے کہ عیسٰی کے وقت میں بعض راستباز اپنی راستبازی میں عیسٰی سے بھی اعلٰی ہوں۔''اے سبحٰن اﷲ!
    ایماں یقین شعار باید حسنِ ظن تو چکار آید (پختہ ایمان انسان کا شعار ہونا چاہیے صرف اچھا گمان تیرے کیا کام آئے گا۔ت)

    تازیانہ۱۴۔(۶):پھر ساتھ لگے خدا کی شریعت بھی ناقص وہ تمام ہوگئی، اسی کے ص۴ پر کہا''عیسٰی کوئی کامل شریعت نہ لائے تھے''۔
    تازیانہ۱۵تا۱۷۔(۷): عیسٰی کی راستبازی پر شراب خوری اور انواع انواع بد اطواری کے داغ بھی لگ گئے،ایضا ص ۴۔مسیح کی راستبازی اپنے زمانے میں دوسرے راستبازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی بلکہ یحیٰی کو اس پر ایک فضیلت ہے کیونکہ وہ (یعنی یحیٰی) شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہ سنا کہ کسی فاحشہ عورت نے اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھایا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی، اسی وجہ سے قرآن میں یحیٰی کا نام حصُور رکھا گیا مگر مسیح کا نہ رکھا کیونکہ ایسے قصّے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔
    تازیانہ۱۸تا۲۰۔(۸):اسی ملعون قصے کو اپنے رسالہ ضمیمہ انجام آتھم ص ۷ میں یوں لکھا: ''آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدّی مناسبت درمیان ہے (یعنی عیسٰی بھی ایسوں ہی کی اولاد تھے) ورنہ کوئی پرہیزگار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ و ہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگاوے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے، سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہوسکتا ہے۔''
    تازیانہ۲۱تا۳۶:اسی رسالہ ص ۴ سے ص ۸ تک مناظرہ کی آڑلے کر خوب ہی جلے دل کے پھپھولے پھوڑے ہیں۔ اﷲ عزوجل کے سچے مسیح عیسٰی بن مریم کو نادان(۹) اسرائیلی، شریر(۱۰)،مکار(۱۱)،بدعقل(۱۲) ،زنا نے خیال والا(۱۳) فحش گو(۱۴)، بدزبان(۱۵)،کٹیل(۱۶)،جھوٹا(۱۷)،چور(۱۸)،علمی (۱۹)عملی (۲۰)قوت میں بہت کچا،خلل دماغ والا(۲۱)،گندی گالیاں دینے والا(۲۲)، بدقسمت(۲۳)، نرافریبی(۲۴)، پیروِ شیطان(۲۵) وغیرہ وغیرہ خطاب اس قادیانی دجّال نے دئیے۔
    تازیانہ ۳۷(۲۶):صاف لکھ دیاص ۶ ''حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہ ہوا۔''
    تازیانہ۳۸(۲۷):''اس زمانے میں ایک تالاب سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے، آپ سے کوئی معجزہ ہوا بھی ہو تو آپ کا نہیں اس تالاب کا ہے، آپ کے ہاتھ میں سوا مکرو فریب کے کچھ نہ تھا۔''
    تازیانہ۳۹و۴۰۔ (۲۸): انتہاء یہ کہ ص ۷ پر لکھا: آپ کا خاندان بھی نہایت پاک و مطہر ہے، تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ہوا۔ انّا ﷲ وانّا الیہ راجعون۔ خدائے قہار کا حلم کہ رسول اﷲ کو بحیلہ(عہ) وبے حیلہ یہ ناپاک گالیاں دی جاتی ہیں اور آسمان نہیں پھٹتا۔ ان شدید ملعون گالیوں کے آگے ان لچھے دار شرافتوں کا کیا ذکر جو نیچہ بند صاحب نے علماء اہلسنّت کو دیں ان کا پیر تو نانی دادی تک کی دے چکا۔ الا لعنۃ اﷲ علی الظّٰلمین۔
    عہ: خبیث حیلہ مناظرہ کا ہے اس کا رد عنقریب آتاہے ۔
    تازیانہ ۴۱تا۴۴۔(۲۹):وہ پاک کنواری مریم صدیقہ کا بیٹا کلمۃ اﷲ جسے اﷲ نے بے باپ کے پیدا کیا نشان سارے جہان کے لئے۔ قادیانی نے اس کے لئے دادیاں بھی گنا دیں، اور ایک جگہ اس کا دادا بھی لکھا ہے اور اس کے حقیقی بھائی سگی بہنیں بھی لکھی ہیں، ظاہر ہے کہ دادا،دادی،حقیقی بہنیں،سگے بھائی اسی کے ہوسکتے ہیں جس کے لئے باپ ہو، جس کے نطفے سے وہ بنا ہو، پھر بے باپ کے پیدا ہونا کہاں رہا؟ یہ قرآن عظیم کی تکذیب اور طیبہ طاہرہ مریم کو سخت گالی ہے۔
    تازیانہ۴۵ :کشتی ساختہ ص ۱۶ پر لکھا: ''مسیح تو مسیح ہیں اس کے چاروں بھائیوں کی بھی عزت کرتا ہوں۔ مسیح کی دونوں ہمشیروں کو بھی مقدسہ سمجھتا ہوں''، اور خود ہی اس کے نوٹ میں لکھا ''یسوع مسیح کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں، یہ سب یسوع مسیح کے حقیقی بھائی اور حقیقی بہنیں تھیں یعنی یوسف اور مریم کی اولاد تھے۔''
    تازیانہ۴۶ : دیکھو کیسے کھلے لفظوں میں یوسف بڑھئی کو سیدنا عیسٰی کلمۃ اﷲ کا باپ بنا دیا اور اس صریح کفر میں صرف ایک پادری کے لکھ جانے پر اعتماد کیا۔ ہاں ہاں یقین جانو آسمانی قہر سے واحد قہار سے سخت لعنت پائے گا اور جو ایک پادری کی بے معنی ز ٹل سے قرآن کو رد کرتا ہے۔
    تازیانہ۴۷۔(۳۰) : نیز اسی دافع البلاء کے ص ۱۵ پر لکھا''خدا ایسے شخص(یعنی عیسٰی) کو کسی طرح دوبارہ دنیا میں نہیں لاسکتا جس کے پہلے فتنے نے ہی دنیا کو تباہ کردیا۔'' یہ ان گالیوں کے لحاظ سے عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ایک ہلکی سی گالی ہے کہ اس کے فتنے نے دنیا تباہ کردی مگر اس میں دو شدید گالیاں اور ہیں کہ ان شاء اﷲ تعالٰی فصل سوم میں مذکور ہوں گی۔
    تازیانہ۴۸(۳۱):اربعین نمبر ۲ ص ۱۳ پر لکھا''کامل مہدی نہ موسٰی تھا نہ عیسٰی۔ ان مرسلین اولوالعزم کا کامل ہادی ہونا بالائے طاق، پورے مہدی بھی نہ ہوئے، اور کامل کون ہیں، جناب قادیانی۔'' دیکھو اسی کا ص۱۲ و ۱۳۔
    تازیانہ۴۹ و۵۰ (۳۲) مواہب الرحمن پر صاف لکھ دیا کہ عیسٰی یہودی تھا لو قدر اﷲ رجوع عیسی الذی ھو من الیھود لرجع العزۃ الٰی تلک الیوم (اگر اﷲ تعالٰی نے یہودی عیسٰی کا دوبارہ آنا مقدر کیا تو عزت اس دن لوٹ آئے گی۔) ت۱۵ ظاہر ہے کہ یہودی مذہب کا نام ہے نہ کہ نسب کا، کیا مرزا کہ پارسیوں کی اولاد ہے مجوسی ہے۔
    قادیانی نے حضرت عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تکفیر کردی۔
    تازیانہ۵۲ (۳۳) :حدیہ کہ عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تکفیر کردی۔ مسلمانو! وہ اتنا احمق نہیں کہ صاف حرفوں میں لکھ دے عیسٰی کافر تھا بلکہ اس کے مقدمات متفرق کر کے لکھے، یہ تودشنام سوم میں سن چکے کہ عیسٰی کی سخت رسوائیاں ہوئیں، اور کشتی ساختہ ص ۱۸ پر کہتا ہے'' جو اپنے دلوں کو صاف کرتے ہیں ممکن نہیں کہ خدا ان کو رسوا کرے، کون خدا پر ایمان لایا صرف وہی جو ایسے ہیں''دیکھو کیسا صاف بتادیا کہ جسے خدا پر ایمان ہے ممکن نہیں کہ اسے خدا رسوا کرے لیکن عیسٰی کو رسوا کیا تو ضرور اسے خدا پر ایمان نہ تھا اور کیا کافر کہنے کے سر پر سینگ ہوتے ہیں۔ الا لعنۃ اﷲ علی الکفرین۔
    قصد تھا کہ فصل اوّل یہیں ختم کی جائے کہ اتنے میں قادیانی کی ''ازالۃ الاوہام'' ملی، اس کی برہنہ گوئیاں بہت بے لاگ اور قابلِ تماشا ہیں۔
    آخری تدوین : ‏ اگست 31, 2014
    • Like Like x 1
    • Winner Winner x 1
    • Dumb Dumb x 1
  3. ‏ اگست 31, 2014 #3
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    معجزات مسیح کی تحقیر وانکار
    تازیانہ۵۳تا۵۷ (۳۴) :یہ جو مثیل مسیح بنا اور اس پر لوگوں نے مسیح کے معجزے مثلاً مردے جِلانا اس سے طلب کئے تو صاف جواب دیتا ہے ص ۳ ''احیاء جسمانی کچھ چیز نہیں، احیاء روحانی کے لئے یہ عاجز آیا ہے''۔ دیکھو وہ ظاہر باہر قاہر معجزہ جسے قرآن عظیم نے جا بجا کمال تعظیم کے ساتھ بیان فرمایا اور آیۃ اﷲ ٹھہرایا، قادیانی کیسے کھلے لفظوں میں اس کی تحقیر کرتا ہے کہ وہ کچھ نہیں، پھر اس کے متصل کہتا ہے ص۴،۔ ''ما سوائے اس کے اگر مسیح کے اصلی کاموں کو ان حواشی سے الگ کر کے دیکھا جائے جو محض افتراء یا غلط فہمی سے گھڑے ہیں تو کوئی اعجوبہ نظر نہیں آتا بلکہ مسیح کے معجزات پر جس قدر اعتراض ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ کسی اور نبی کے خوارق پر ایسے شبہات ہوں، کیا تالاب کاقصہ مسیحی معجزات کی رونق دور نہیں کرتا''۔
    دیکھو''کوئی اعجوبہ نظر نہیں آتا'' کہہ کر ان کے تمام معجزات سے کیسا صاف انکار کیا اور تالاب کے قصّے سے اور بھی پانی پھیر دیا اور آخر میں لکھا ص ۴ و ۵ ''زیادہ تر تعجب یہ ہے کہ حضرت مسیح معجزہ نمائی سے صاف انکار کر کے کہتے ہیں کہ میں ہر گز کوئی معجزہ دکھا نہیں سکتا مگر پھر بھی عوام الناس ایک انبار معجزات کا ان کی طرف منسوب کررہے ہیں۔''
    غرض اپنی مسیحیت قائم رکھنے کو نہایت کھلے طور پر تمام معجزاتِ مسیح وتصریحاتِ قرآن عظیم سے صاف منکر ہے اور پھر مہدی و رسول و نبی ہونے کا ادّعا، مسلمان تو مکذّبِ قرآن کو مسلمان بھی نہیں کہہ سکتے، قطعاً کافر مرتد زندیق بے دین ہے نہ کہ نبی ورسول بن کر اور کفر پر کفر چڑھے الا لعنۃ اﷲ علی الکفرٰین (خبردار! کا فروں پر اﷲ کی لعنت ہے۔ت) اور اس کذاب کا کہنا کہ مسیح علیہ الصلوٰۃ و السلام خود اپنے معجزے سے منکر تھے، رسول اﷲ پر محض افتراء اور قرآنِ عظیم کی صاف تکذیب ہے، قرآنِ عظیم تو مسیح صادق سے یہ نقل فرماتا ہے کہ: انی قد جئتکم باٰیۃ من ربکم انی اخلق لکم من الطین کھیئۃ الطیرفانفخ فیہ فیکون طیرا باذن اﷲ وابری الاکمہ والابرص واحی الموتٰی باذن اﷲ وانبئکم بما تاکلون وما تدخرون فی بیوتکم ان فی ذٰلک لاٰیۃ لکم ان کنتم مؤمنین ۱؎(۱؂ القرآن الکریم ۳/ ۴۹)بیشک میں تمہارے پاس تمہارے رب سے یہ معجزے لے کر آیا ہوں کہ میں تمہارے لئے مٹی سے پرند کی سی صورت بنا کر اس میں پھونک مارتا ہوں، وہ خدا کے حکم سے پرند ہوجاتی ہے اور میں بحکم خدا مادر زاد اندھے اور بدن بگڑے کو اچھا کرتا اور مردے زندہ کرتا ہوں، اور تمہیں خبر دیتا ہوں جو تم کھاتے اور جو گھروں میں اٹھا رکھتے ہو، بیشک اس میں تمہارے لئے بڑا معجزہ ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو۔
    پھر مکرّر فرمایا:وجئتکم بایۃ من ربکم فاتقوا اﷲ واطیعون۱؂ میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے بڑے معجزات لے کر آیا تو اﷲ سے ڈرو اور میرا حکم مانو اور یہ قرآن کا جھٹلانے والا ہے کہ انہیں اپنے معجزات سے انکار تھا۔
    کیوں مسلمانو! قرآن سچا یا قادیانی؟ضرور قرآن سچا ہے اور قادیانی کذّاب جھوٹا، کیوں مسلمانو! جو قرآن کی تکذیب کرے وہ مسلمان ہے یا کافر؟ضرور کافر ہے، ضرور کافر بخدا۔(۱؂ القرآن الکریم ۳/ ۵۰)
    تازیانہ۵۸و۵۹(۳۵) : اسی بکر فکر قادیانی کے ازالہ شیطانی میں آخر ص ۱۶۱ سے آخر ۱۶۲ تک تو نوٹ میں پیٹ بھر کر رسول اﷲ و کلمۃ اﷲ کو وہ گالیاں دیں اور آیات اﷲ و کلام اﷲ سے وہ مسخریاں کیں جن کی حد ونہایت نہیں، صاف لکھ دیا کہ جیسے عجائب انہوں نے دکھائے عام لوگ کرلیتے تھے، اب بھی لوگ ویسی باتیں کردکھاتے ہیں۔
    تازیانہ۶۰(۳۶) : بلکہ آجکل کے کرشمے ان سے زیادہ بے لاگ ہیں۔
    تازیانہ ۶۱ و ۶۲(۳۷): وہ معجزے نہ تھے، کل کا دَور تھا عیسٰی نے اپنے باپ بڑھئی کے ساتھ بڑھئی کا کام کیا تھا، اس سے یہ کلیں بنانی آگئی تھیں۔
    تازیانہ۶۳(۳۸):عیسٰی کے سب کرشمے مسمریزم سے تھے۔(۳۹) : وہ جھوٹی جھلک تھی۔(۴۰) : سب کھیل تھا، لہو ولعب تھا۔
    تازیانہ۶۴(۴۱) : سامری جادوگرکے گئوسالے کے مانند تھا۔
    تازیانہ ۶۵(۴۲) : بہت مکروہ و قابلِ نفرت کام تھے۔
    تازیانہ۶۶ (۴۳) : اہل کمال کوایسی باتوں سے پرہیز رہا ہے۔
    تازیانہ۶۷ (۴۴) : عیسٰی روحانی علاج میں بہت ضعیف اورنکمّا تھا۔
    تازیانہ۶۸:وہ ناپاک عبارات بروجہ التقاط یہ ہیں ص ۱۵۱: انبیاء کے معجزات دو قسم ہیں، ایک محض سماوی جس میں انسان کی تدبیر و عقل کو کچھ دخل نہیں جیسے شق القمر، دوسرے عقلی جو خارقِ عادت عقل کے ذریعہ سے ہوتے ہیں جو الہام سے ملتی ہے جیسے سلیمان کا معجزہ صرح ممرد من قواریر (القرآن الکریم ۲۷/ ۴۴) ( شیشے جڑا صحن ہے۔ت)
    بظاہر مسیح کا معجزہ سلیمان کی طرح عقلی تھا۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ ان دونوں میں ایسے امور کی طرف لوگوں کے خیالات جھکے ہوئے تھے جو شعبدہ بازی اور دراصل بے سود اور عوام کو فریفتہ کرنے والے تھے، وہ لوگ جو سانپ بنا کر دکھلادیتے اور کئی قسم کے جانور تیار کر کے زندہ جانوروں کی طرح چلادیتے، مسیح کے وقت میں عام طور پر ملکوں میں تھے سو کچھ تعجب نہیں کہ خدائے تعالٰی نے مسیح کو عقلی طور سے ایسے طریق پر اطلاع دے دی ہو جو ایک مٹی کا کھلونا کسی کل کے دبانے یا پھونک مارنے پر ایسا پرواز کرتا ہو جیسے پرندہ یا پیروں سے چلتا ہو کیونکہ مسیح اپنے باپ (عہ۱) یوسف کے ساتھ بائیس (۲۲) برس تک نجاری کرتے رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ بڑھئی کا کام درحقیقت ایسا ہے جس میں کلوں کے ایجاد میں عقل تیز ہوجاتی ہے پس کچھ تعجب نہیں کہ مسیح نے اپنے دادا(عہ۲) سلیمان کی طرح یہ عقلی معجزہ دکھلایا ہو، ایسا معجزہ عقل سے بعید بھی نہیں، حال کے زمانہ میں اکثر صنّاع ایسی چڑیا ں بنالیتے ہیں کہ بولتی بھی ہیں، ہلتی بھی ہیں۔ دم بھی ہلاتی ہیں، اور میں نے سنا ہے کہ بعض چڑیاں کل کے ذریعہ سے پرواز بھی کرتی ہیں، بمبئی اور کلکتے میں ایسے کھلونے بہت بنتے ہیں اور ہر سال نئے نئے نکلتے آتے ہیں (عہ۳) ماسوا اس کے یہ قرین قیاس ہے کہ ایسے ایسے اعجاز عمل الترب یعنی مسمریزی طریق سے بطور لہو ولعب نہ بطور حقیقت ظہور میں آسکیں کیونکہ مسمریزم میں ایسے ایسے عجائبات ہیں،سو یقینی طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ اس فن میں مشق والا مٹی کا پرند بنا کر پرواز کرتا دکھادے تو کچھ بعید نہیں کیونکہ کچھ اندازہ کیا گیا کہ اس فن کی کہاں تک انتہا ہے(عہ۴) سلبِ امراض عمل الترب (مسمریزم) کی شاخ ہے، ہر زمانے میں ایسے لوگ ہوتے رہے ہیں اور اب بھی ہیں جو اس عمل سے سلب امراض کرتے ہیں اور مفلوج مبروص ان کی توجہ سے اچھے ہوتے ہیں، بعض نقشبندی وغیرہ نے بھی ان کی طرف بہت توجہ کی تھی، محی الدین ابن عربی کو بھی اس میں خاص مشق تھی، کاملین ایسے عملوں سے پرہیز کرتے رہے ہیں، اور یقینی طور پر ثابت ہے کہ مسیح بحکم الہٰی اس عمل (مسمریزم) میں کمال رکھتے تھے مگر یاد رکھنا چاہیے کہ یہ عمل ایسا قدر کے لائق نہیں جیسا کہ عوام الناس اس کو خیال کرتے ہیں، اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابلِ نفرت نہ سمجھتا تو ان عجوبہ نمائیوں میں ابن مریم سے کم نہ رہتا، اس عمل کا ایک نہایت برا خاصہ یہ ہے کہ جو اپنے تئیں اس مشغولی میں ڈالے وہ روحانی تاثیروں میں جو روحانی بیماریوں کو دور کرتی ہیں، بہت ضعیف اور نکما ہوجاتا ہے یہی وجہ ہے کہ گو مسیح جسمانی بیماریوں کو اس عمل (مسمریزم) کے ذریعہ سے اچھا کرتے رہے مگر ہدایت و توحید اور دینی استقامتوں کے دلو ں میں قائم کرنے میں ان کا نمبر ایسا کم رہا کہ قریب قریب ناکام رہے، جب یہ اعتقاد رکھا جائے کہ ان پرندوں میں صرف جھوٹی حیات جھوٹی جھلک نمودار ہوجاتی تھی تو ہم اس کو تسلیم کرچکے ہیں، ممکن ہے کہ عمل الترب (مسمریزم) کے ذریعہ سے پھونک میں وہی قوت ہوجائے جو اس دخان میں ہوتی ہے جس سے غبارہ اوپر کو چڑھتا ہے۔ مسیح جو جو کام اپنی قوم کو دکھلاتا تھا وہ دعا کے ذریعہ سے ہرگز نہ تھے بلکہ وہ ایسے کام اقتداری طور پر دکھاتا تھا۔ خدا تعالٰی نے صاف فرمادیا ہے کہ وہ ایک فطری طاقت تھی جو ہر فردِ بشر میں ہے، مسیح کی کچھ خصوصیت نہیں، چنانچہ اس کا تجربہ اس زمانے میں ہورہا ہے، مسیح کے معجزات تو اس تالاب کی وجہ سے بے رونق و بے قدر تھے جو مسیح کی ولادت سے پہلے مظہرِ عجائبات تھا جس میں ہر قسم کے بیمار اور تمام مجذوم مفلوج مبروص ایک ہی غوطہ مار کر اچھے ہوجاتے تھے لیکن بعض بعد کے زمانوں میں جو لوگوں نے اس قسم کے خوارق دکھلائے، اس وقت تو کوئی تالاب بھی نہ تھا، یہ بھی ممکن (عہ) ہے کہ مسیح ایسے کام کے لئے اس تالاب کی مٹی لاتا تھا جس میں روح القدس کی تاثیر تھی، بہرحال یہ معجزہ صرف ایک کھیل تھا جیسے سامر ی کا گوسالہ۔
    عہ۱: اس کا باپ، دیکھئے مسیح و مریم دونوں کو سخت گالی ہے۔
    عہ۲: اس کا دادا، دیکھئے وہی مسیح و مریم کو گالی ہے۔
    عہ ۳: یہاں تک تو مسیح کا معجزہ کل دبانے سے تھا، اب دوسرا پہلو بدلتا ہے کہ مسمریزم تھا۔
    عہ۴ : یہاں تک مسیح علیہ الصلوٰۃ و السلام کے پرند بنانے پر استہزاء تھے اب اندھے اور کوڑھی کو اچھا کرنے پر مسخرگی کرتا ہے۔
    عہ:یہ تیسرا پہلو ہے کہ حضرت مسیح اس مٹی کے پرند میں تالاب کی مٹی ڈال دیتے جس میں روح القدس کا اثر تھا، اس کے زور سے حرکت کرتا جیسے سامری نے اسپِ روح القدس کے پاؤں تلے کی خاک بچھڑے میں ڈال دی بولنے لگا۔

    مسلمانو! دیکھا کہ اس دشمن اسلام نے اﷲ عزوجل کے سچے رسول کو کیسی مغلظ گالیاں دیں، کون سی ناگفتنی اس ناشد نی نے ان کے حق میں اٹھا رکھی، ان کے معجزوں کو کیسا صاف صاف کھیل اور لہو ولعب و شعبدہ و سحر ٹھہرایا، ابرائے اکمہ وابرص کو مسمریزم پر ڈھالا اور معجزہ پرند میں تین احتمال پیدا کئے، بڑھئی کی کل یا مسمریزم یا کراماتی تالاب کا اثر،اور اسے صاف سامری کا بچھڑا بتادیا بلکہ اس سے بدتر کہ سامری نے جو اسپِ جبریل کی خاکِ سُم اٹھائی وہ اسی کو نظر آئی دوسرے نے اطلاع نہ پائی،
    قال اﷲ تعالٰی: قال بصرت بما لم یبصروا بہ فقبضت قبضۃ من اثر الرسول فنبذتھا وکذٰلک سوّلت لی نفسی۔۱؂ سامری نے کہا میں نے وہ دیکھا جو انہیں نظر نہ آیا تو میں نے اسپِ رسول کی خاکِ قدم سے ایک مٹھی لے کر گوسالے میں ڈال دی کہ وہ بولنے لگا نفسِ امّارہ کی تعلیم سے مجھے یونہی بھلا معلوم ہوا۔(۱؂ القرآن الکریم ۲۰/ ۹۶)
    مگر مسیح کاکرتب ایک دست مال تھا جس سے دنیا جہان کوخبر تھی، مسیح پیدا بھی نہ ہوئے تھے جب تالاب کی کرامات شہرہ آفاق تھیں، تو اﷲکا رسول یقینا اس کافر جادوگر سے بہت کم رہا، اور مزہ یہ ہے کہ مسیح کے وقت میں بھی ایسے شعبد ے تماشے بہت ہوتے تھے پھرمعجزہ کدھر سے ہوا، اﷲ اﷲ رسولوں کو گالیاں، معجزات کے انکار،قرآن کی تکذیبیں اور پھر اسلام باقی ہے۔

    ع چوں وضوئے محکم بی بی تمیزہ (جیسے تمیزہ بی بی کا وضوئے محکم ہو۔ت)

    اس سے تعجب نہیں کہ ہر مرتد جو اتنے بڑے دعوے کر کے اٹھے اسے ایسے کفروں سے چارہ نہیں، اندھے تو وہ ہیں جو یہ کچھ دیکھتے ہیں پھر اتنے بڑے مکذبِ قرآن و دشمنِ انبیاء وعدوّ الرحمن کو امامِ وقت مسیح و مہدی مان رہے ہیں۔

    ع گر مسیح ایں ست لعنت برمسیح(اگر یہی مسیحیت ہے ایسی مسیحیت پر لعنت۔ت)

    اور ان سے بڑھ کر اندھا وہ ہے جو شد بد پڑھ لکھ کر اس کے ان صریح کفروں کو دیکھ بھال کر کہے میں جناب (عہ) مرزا صاحب کو کافر نہیں کہتا خطا پر جانتا ہوں، ہاں شاید ایسوں کے نزدیک کافر وہ ہوگا جو انبیاء اﷲ کی تعظیم کرے ، کلام اﷲ کی تصدیق وتکریم کرے ولا حول ولا قوۃ الاّ باﷲ العلی العظیم۔ کذٰلک یطبع اﷲ علی کل قلب متکبر جبار۔ اﷲ یوں ہی مہر کردیتا ہے متکبر سرکش کے سارے دل پر۔۱؂(۱؂ القرآن الکریم ۴۰/ ۳۵)
    عہ: ایسوں کو شایداتنی بھی خبر نہیں کہ جو مخالفِ ضروریات دین کو کافر نہ جانے خود کافر ہے۔
    من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۲؂۔جس نے اس کے کفر اور عذاب میں شک کیا وہ خود کافر ہے۔(۲ ؎ درمختار باب المرتد ، مطبع مجتبائی دہلی، ۱/ ۳۵۶)
    جب تکذیب قرآن و سب وشتم انبیاء کرام بھی کفر نہ ٹھہرے تو خدا جانے آریہ وہنود ونصارٰی نے اس سے بڑھ کر کیا جرم کیا ہے کہ وہ کفار ٹھہرائے جائیں، یا شاید ایسوں کے دھرم میں تمام دنیا مسلمان ہے کافر کوئی تھا نہ ہے نہ ہو، یہ بھی معجزاتِ مسیح کی طر ح قرآن کے بے اصل کہ فلانا مسلم فلاناکافر، ولا حول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
    تنبیہ

    ان عباراتِ ازالہ سے بحمداﷲ تعالٰی اس جھوٹے عذر معمولی کاازالہ بھی ہوگیا جو عبارات ضمیمہ انجام آتھم کی نسبت بعض مرزائی پیش کرتے ہیں کہ یہ تو عیسائیوں کے مقابلہ میں حضرت عیسٰی علیہ الصلوٰۃ و السلام کو گالیاں دی ہیں۔
    اوّلاً:ان عبارات کے علاوہ جو گالیاں اس کے اور رسائل مثل اعجاز احمدی ودافع البلاء وکشتی نوح و اربعین ومواہب الرحمن وغیرہ میں اہلی وگہلی پھر رہی ہیں، وہ کس عیسائی کے مقابلہ میں ہیں، مثل مشہور ہے، دلہن کا منہ کالا، مشاطہ کب تک ہاتھ دئے رہے گی۔
    ثانیا:کس شریعت نے اجازت دی ہے کہ کسی بد مذہب کے مقابل اﷲ کے رسولوں کو گالیاں دی جائیں؟
    ثالثاً:مرزا کو ادّعا ہے کہ اگرچہ اس پر وحی آتی ہے مگر کوئی نیا حکم جو شریعتِ محمدیہ سے باہر ہو، نہیں آسکتا، ہم تو قرآن عظیم میں یہ حکم پاتے ہیں کہ: لا تسبوا الذین یدعون من دون اﷲ فیسبوا اﷲ عدوا بغیر علم۔۱؂ کافروں کے جھوٹے معبودوں کو گالی نہ دو کہ وہ اس کے جواب میں بے جانے بوجھے دشمنی کی راہ سے اﷲ عزوجل کی جناب میں گستاخی کریں گے۔(۱؂ القرآن الکریم ۶/ ۱۰۸)مرزا اپنی وہ وحی بتائے جس نے قرآن کے اس حکم کو منسوخ کردیا۔
    رابعاً:مرزا کو ادّعا ہے کہ وہ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے قدم بقدم چل رہا ہے، التبلیغ ص ۴۸۳ پر لکھتا ہے: من اٰیات صدقی انہ تعالٰی وفقنی باتباع رسولہ واقتداء نبیہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فما رأیت اثرا من اٰثار النبی الاقفوتہ۔ (میری سچائی کی نشانی یہ ہے کہ اﷲ تعالٰی نے مجھے اپنے رسول کی اتباع اور نبی کی اقتداء پر توفیق دی میں نے نبی کا جو بھی نشان دیکھا اس پر قدم رکھا۔ت)
    بتائے تو کہ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کس دن عیسائیوں کے مقابل معاذ اﷲ عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام او ر ان کی والدہ ماجدہ کو گالیاں دی ہیں۔
    خامساً: مرزا کے ازالہ نے مرزائیوں کی اس بکر فکر کا کامل ازالہ کردیا، ازالہ کی یہ عبارتیں تو کسی عیسائی کے مقابل نہیں، ان میں وہ کون سی گالی ہے جو ضمیمہ انجام آتھم سے کم ہے حتی کہ چو ر اور ولد الزنا کا بھی اثبات ہے وہاں چوری کسی مال کی نہ بتائی تھی بلکہ علم کی، ضمیمہ انجام ص۶،نہایت شرم کی یہ بات ہے کہ آپ نے پہاڑی تعلیم کو یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا ہے اور پھر ایسا ظاہر کیا کہ گویا یہ میری تعلیم ہے۔
    ازالہ میں اس سے بدتر چوری معجزہ کی چوری مانی کہ تالاب کی مٹی لاکر بے پر کی اڑاتے اور اپنا معجزہ ٹھہراتے، رہی ولادتِ زنا وہ اس نے اس بائیبل محرف کے بھروسے پر لکھی، برائے نام کہہ سکتا تھاکہ عیسائیوں پر الزاماً پیش کی اگرچہ مرزا کی عملی کارروائی صراحۃً اس کی مکذّب تھی کہ وہ اپنے رسائل میں بکثرت مسلمانوں کے مقابل اسی بائیبل محرف کو نزول الیاس و غیر ہ کے مسئلہ میں پیش کرتا ہے مگر ازالہ میں تو صاف تصریح کردی کہ قرآن عظیم اسی بائیبل محرف کی طرف رجوع کرنے اور اس سے علم سیکھنے کا حکم دیتا ہے، ازالہ ص ۳۰۸ ''آیت ہے فاسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون یعنی تمہیں علم نہ ہو تو اہل کتاب کی طرف رجوع کرو، ان کی کتابوں پر نظر ڈالو، اصل حقیقت منکشف ہو،ہم نے موافق حکم اس آیت کے یہود و نصارٰی کی کتابوں کی طرف رجوع کیا تو معلوم ہوا کہ مسیح کے فیصلے کا ہمارے ساتھ اتفاق ہے دیکھو کتاب سلاطین و کتاب ملاکی نبی اور انجیل''۔تو ثابت ہوا کہ یہ توریت و انجیل بلکہ تمام بائیبل موجودہ اس کے نزدیک سب بحکم قرآن مستند ہیں توجو کچھ اس سے لکھا ہر گز الزاماً نہ تھابلکہ اس کے طور پر قرآن سے ثابت، اور خود اس کا عقیدہ تھا، اور اﷲ تعالٰی دجّالوں کا پردہ یونہی کھولتا ہے والحمد ﷲ رب العٰلمین۔
    • Like Like x 1
    • Winner Winner x 1
    • Dumb Dumb x 1

اس صفحے کی تشہیر