1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

لااکراہ فی الدین کے قرآنی ارشاد سے دھوکہ

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 2, 2015

  1. ‏ مارچ 2, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    لااکراہ فی الدین کے قرآنی ارشاد سے دھوکہ
    مرزا ناصر احمد صاحب نے اپنے سارے بیان میں یہی ایک بات صحیح کی کہ کسی کا مذہب جبراً تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ آیت کا مفہوم بھی یہی ہے۔ مگر اپنے روایتی فریب کو یہاں بھی کام میں لائے کہ زبردستی کسی مسلمان کو غیر مسلم قرار دینا بھی جبکہ وہ اسلام پرشرح صدر رکھتا ہو۔ اس آیت کی نافرمانی میں داخل ہے۔ یہاں آیت کریمہ بھی قطعی ہے اور اس کا مطلب بھی واضح ہے۔ بھلا جس شخص نے دل سے اسلام کو قبول نہیں کیا۔ اس کو مسلمان بناکر کیا کریں گے اور وہ مسلمان کیسے ہوگا؟ یہ درست ہے۔ مگر ہم نے کب کہا کہ مرزائیوں کو جبراً مسلمان کرو۔ آپ اپنی مرزائیت پر رہ کر 2356اپنا شوق پورا کرتے رہیں۔ ہم آپ کو قطعاً تبدیل مذہب کے لئے مجبور نہ کریں گے۔
    لیکن آپ کو مسلمان نہ سمجھنا یہ ہمارا اعتقاد اورمذہب ہے۔ کیا آپ اکثریت کو اس کے اپنے اعتقاد پر رہنے اورقانونی طور پر اس کی اشاعت کی اجازت نہیں دیتے؟ یہ سوچنا قومی اسمبلی کا کام ہے۔ جس کے سامنے سب سے پہلا اور بڑا کام قانون شریعت ہے کہ آیا آپ جیسی اقلیت کو مسلمان کے نام سے اکثریت کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت دے یا آپ کو اسلام کی روشنی میں آپ کے ہی اقوال اوراعتقادات کے پیش نظر غیر مسلم اقلیت قراردے کر ۹۹ فیصد کے حقوق غصب کرنے سے روک دے اور اس دھوکہ سے کہ نکاح،جنازہ وغیرہ کے احکام میں کھلم کھلا اسلامی اصول کی خلاف ورزی ہو۔ قوم کو نکال دے۔ اگر آپ اپنے کافرانہ مذہب پر قائم رہیں ہم آپ پرجبر نہ کریں گے۔ مگر ہمیں اپنے اصول کے تحت نبوت کے مدعیوں اور ان کے پیروکاروں اور اس کو مجدد ماننے والوں کو غیر مسلم تصور کرنے دیں۔ کیا دنیا بھر کے مسلمان، مرزائیوں کو اسلام سے خارج نہیں کہتے؟
    اورکیا آپ کے مرزا جی کو تکفیر عمومی کا یہ شوق نہیں چرایا، پھر بات تو ختم ہے۔ اب صرف بات اس قدر ہے آپ چاہتے ہیں کہ اسی طرح دو قومیں ہوتے ہوئے ہم مسلمان کے نام سے ان کے حقوق پر ڈاکے ڈالتے رہیں اور ملک میں نفاق اورفساد جاری رہے۔ پھر کیوں نہ اس کو قانونی جامہ پہنا کر ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا جائے؟ پھر آپ اپنے لئے آزادی چاہتے ہیں اور ہمارے لئے پابندی۔ ہم سرور کائنات ﷺ کی معراج جسمانی، حیات عیسیٰ علیہ السلام اور ختم نبوت کے منکر کو مسلمان کہنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ کیا آپ ہم کو اپنا عقیدہ بدلنے کے لئے مجبور کرکے قرآن پاک کی مذکورہ آیت کے خلاف نہیں کررہے؟

اس صفحے کی تشہیر