1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

لبرل ازم سیکولرازم الحاد لادینیت کو فروغ دینے کے مقاصد کا تحقیقی جائزہ

محمد المکرم نے 'مستشرقین کے اسلام پر اعتراضات کے جوابات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 8, 2018

  1. ‏ فروری 8, 2018 #1
    محمد المکرم

    محمد المکرم رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ دسمبر 10, 2015
    مراسلے :
    39
    موصول پسندیدگیاں :
    41
    نمبرات :
    18
    جنس :
    مذکر
    پیشہ :
    Student
    #آپریشن_الحاد
    لبرل ازم سیکولرازم الحاد لادینیت کو فروغ دینے کے مقاصد کا تحقیقی جائزہ

    تحریرازقلم : محمّد المکرّم

    معاشرے میں انسان کی پہچان اس کے اپنے نظریات اور انکی تہذیب و تمدن سے ہوتی ہے لیکن ہمارے یہاں معملا اس کے برعکس نظر آتا ہے آج کل انسان کی پہچان اس کے مغربی نظریات کا حامی ہونے سے کی جاتی ہے ساتھ ہی ایک اور عجیب معملا چل پڑا ہے کہ دو چار انگریزی جملے رٹ کر کوئی بھی اپنے اپ کو ترقی یافتہ نام نہاد موڈرن روشن خیال انگریز کا مثل باور کروانے کی کوشش میں لگا رہتا ہے اور مغربی افکار کی تعریفیں اس کا معمول بنی نظر آتی ہیں ساتھ ہی دوسروں پہ بھی اپنی منفی سوچ کے اثرات کو زبردستی مسلط کرنے پہ تلا نظر آتا ہے -اس کی بابت ایسے مغرب زدہ نظریات کے حامی افراد سے کہا جائے کہ اپنی پہچان کو چھوڑ کر دوسروں کی پہچان اپنے سے کیوں منصوب کرتے ہیں تو فرماتے ہیں کہ جناب آپکو کیا پتا دنیا نے کتنی ترقی کر لی ہے اور اپ اب تک ایسے دقیانوسی سوالات کے پیچھے پڑے ہیں دیکھیں ذرا مغربی اقوام کہاں سے کہاں پہنچ گئیں اور اپ ابھی تک ان فرسودہ باتوں میں الجھے ہیں - بلکل درست کہا جناب نے کہ مغربی اقوام اپنے مسخ شدہ نظریات کی حدوں کو پار کرتی کرتی اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ ان کے نزدیک نہ خدا کا کوئی تصور ہے نہ ہی مذہب کا اور جنسی جنونیت کا عالم یہ ہے کہ ان کی نظر میں نہ ماں ماں ہے نہ بہن بہن ہے نہ بیٹی بیٹی ہے -عورت صرف ایک سیکس ٹول ہے چاہے وہ ماں بہن بیٹی ہی کیوں نہ ہو سیکس کی ضرورت کو ان سے پورا کیا جا سکتا ہے ایسا میں اپنی طرف سے نہیں لکھ رہا یہ لبرل ازم سیکولر ازم اور الحاد جیسے نظریات کا سب سے اہم نکتہ ہے کیوں کہ ان تمام باطل نظریات کو پیدا کرنے کا مقصد ہی عورت کے حصول کو آسان بنانا ہے چاہے عورت ماں ہو بہن ہو بیٹی ہو اس سے کوئی سروکار نہیں ہے عورت تو صرف عورت ہے اور عورت ان کی نظر میں ایک جنسی ٹول یعنی کھلونا ہے - ان ناجائز نظریات کو پروان چڑھانے کے لئے پلاننگ کے تحت ایسا راستہ اپنایا گیا کہ 'نہ رہے بانس نہ بجے بانسری' ان باطل نظریات اور ناجائز تعلقات کے حصول کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مذہب ہے مذاہب کے کانٹے کو نکلنے کے لئے مذہب مخالف سرگرمیاں شروع کی گئیں مسیحیت ہندومت اور دیگر مذاھب تو ان نظریات کے آگے بآسانی ڈھیر ہوگئے مگر دین حق اسلام جو ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ان ناجائز نظریات اور ناجائز تعلقات کو ہر گز ہر گز برداشت نہیں کرتا اور ان کا بھر پور رد کرتا ہے اس لئے پوری دنیا میں اسلام مخالف پروپیگنڈا عام کیا گیا اور لوگوں کو اسلام سے بیزار کرنے کی ناکام کوششیں کی گئیں بات اس سے نہ بن سکی تو پھر مسلمانوں کی صفوں میں الحاد لبرل ازم سیکولر ازم اور دیگر لادینی نظریات و سوچ کے حامل افراد کو باقاعدہ تیار اور اسلام مخالف مواد فراہم کر کے داخل کیا گیا اور ایسے پیڈ افراد نے مسلم دنیا میں خود ساختہ بے بنیاد اعتراضات اٹھا کے ایک تاثر عام کرنا شروع کیا کہ کوئی خدا نہیں ہے 'معاذ الله ' انسان خود بخود کہیں سے اچانک پیدا ہوگیا اور کائنات بھی خود بخود وجود میں آگئی وغیرہ وغیرہ مزے کی بات تو یہ ہے کہ جنھیں سائنس کا س نہیں پتا ہوتا وہ لوگ سائنس کا راگ الاپتے نظر اتے ہیں لیکن اگر ان سے کوئی صاحب علم مسلمان سائنسی دلائل سے بات کرے اور انہیں جوابات دے تو ان جاہل افرادوں پہ مشتمل الحادی ٹولہ بجاے بات کو تسلیم کرنے کے بونگیاں شروع کر دیتا ہے اور آخری حربہ ان کا گستاخی پہ مبنی مواد پیش کر کے مسلمانوں کے جذبات کو مجرو کرنا ہوتا ہے لیکن ان جاہلوں کو علم نہیں ہے کہ اسلام سے ٹکر الحاد نے اپنی موت کو دعوت دی ہے -الحمدوللہ اسلام دین حق ہے ان باطل نظریات کے سامنے ایک مضبوط سیسہ پلائی دیوار ثابت ہو رہا ہے ایسی دیوار کہ جس سے جو بھی باطل عقیدہ یا نظریہ ٹکرانے کی کوشش کرتا ہے وہ خود ہی پاش پاش ہوجاتا ہے-ان شاءللہ عنقریب الحاد سیکولر ازم لبرل ازم کے تابوت میں آخری کیل مسلمان ہی ٹھونکیں گے -الحمدوللہ

    منسلک فائلیں :

اس صفحے کی تشہیر