1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

لو عاش لکان صدیقا نبیا روایت اور قادیانی دجل کا جواب

اسامہ نے 'احادیثِ ختم نبوت ﷺ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اگست 14, 2019 2:42 شام

  1. ‏ اگست 14, 2019 2:42 شام #1
    اسامہ

    اسامہ رکن ختم نبوت فورم

    وَلَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا روایت اور قادیانی دجل کا جواب

    از
    محمد اسامہ حفیظ


    روایت


    حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ الْبَاهِلِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مِقْسَمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏صَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ لَهُ مُرْضِعًا فِي الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا، ‏‏‏‏‏‏وَلَوْ عَاشَ لَعَتَقَتْ أَخْوَالُهُ الْقِبْطُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا اسْتُرِقَّ قِبْطِيٌّ .

    جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم کا انتقال ہو گیا، تو آپ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی، اور فرمایا: جنت میں ان کے لیے ایک دایہ ہے، اور اگر وہ زندہ رہتے تو صدیق اور نبی ہوتے، اور ان کے ننہال کے قبطی آزاد ہو جاتے، اور کوئی بھی قبطی غلام نہ بنایا جاتا ۔
    (سنن ابن ماجہ حدیث نمبر 1511)
    قادیانی کہتے ہیں کہ اس روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر حضرت ابراہیم فوت نہ ہوتے تو نبی بن جاتے اس لئے امت میں نبوت جاری ہے۔


    جواب نمبر 1

    قادیانیوں نے یہ جو روایت پیش کی ہے یہ ضعیف ہے۔اس حدیث کی سند میں ایک راوی ہے جس کا نام ابراہیم بن عثمان ہے وہ ضعیف اور متروک الحدیث ہے اس کے بارے میں نسائی نے متروک الحدیث،ابن معین نے لیس بثقة،احمد نے ضعیف، قسطلانی نے ضعیف،ابو داؤد نے ضعیف، ترمذی نے منکر الحدیث،دولابی نے متروک الحدیث،ابو حاتم نے ضعیف الحدیث اور متروک الحدیث،امام صالح نے ضعیف اور ابو علی نیشاپوری نے لیس بقوی لکھا ہے ( اور بھی بہت سے محدثین کے اقوال ہیں ) اور اس روایت پر محدثین نے کلام کیا ہے۔
    (روح المعانی جلد 11 صفحہ 211{ دار الكتب العلمية بيروت}، ارشاد الساری لشرح صحیح البخاری جلد 9 صفحہ 113، مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد 10 صفحہ 495,496، لمعات التنقیح فی شرح مشکاۃ المصابیح جلد 9 صفحہ 315، مصباح الزجاجة جلد 2 صفحہ 33، المقاصد الحسنة جلد 1 صفحہ 548، المطالب العالیة جلد 5 صفحہ 411، الھدایة فی تخریج احادیث البدایة جلد 4 صفحہ 373، جامع الاحادیث جلد 9 صفحہ 242، الدرر السنیة جلد 10 صفحہ 93 ،تهذيب التهذيب جلد 1 صفحہ 76،77 )

    بعض قادیانی کہتے ہیں کہ اس روایت کی شہاب علی بیضاوی اور موضوعات میں ملا علی قاری نے تصحیح کی ہے۔
    تو جواب یہ ہے کہ
    محدثین کا اصول ہے کہ جرح تعدیل پر مقدم ہوگئی پس بعض محدثین کی تصریح جرح کو دفع نہیں کرسکتی
    جیسے فرمایا
    لا يخفي أن الجرح مقدم علي التعديل كما في النخبة فلا يدفعه تصحيح بعض المحدثين
    ( مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد 2 صفحہ 450)

    لا يخفي أن الجرح مقدم علي التعديل
    (شرح سنن ابن ماجہ للسیوطی جلد 1 صفحہ 39 ،عون المعبود وحاشیہ ابن القیم جلد 1 صفحہ 74)
    اب جو قادیانیوں نے یہ کہا کہ شہاب علی البیضاوی وغیرہ میں روایت کی تصحیح موجود ہے تو اول تو وہ نقاد حدیث سے نہیں ہیں دوم محدثین کے اصول کے مطابق ملا علی قاری وغیرہ کی تصحیح قابل حجت نہیں۔مولا علی قاری جہاں اس کو صحیح قرار دیتے ہیں پہلے خود مانتے ہیں کہ امام نووی، ابن حجر اور ابن عبد البر نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے۔

    بعض کم علم قادیانی کہتے ہیں کہ یہ روایت ابن ماجہ میں آئی ہے اور ابن ماجہ صحاح ستہ میں ہے اس لیے یہ روایت صحیح ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ
    ابن ماجہ تو بعد کے درجے کی کتاب ہے آپ کے مرزا صاحب تو صحیح مسلم کی حدیث کو بھی ضعیف کہتے ہیں
    "یہ حدیث وہ ہے جو صحیح مسلم میں امام مسلم صاحب نے لکھی ہے جس کو ضعیف سمجھ کر رئیس المحدثین امام محمد بن اسماعیل بخاری نے چھوڑ دیا ہے" ( روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 210)
    ہم محدثین کے اقوال پیش کر کے ایک ضعیف روایت کو ضعیف کہیں تو آپ ہم پر اعتراض کرتے ہیں کہ صحاح ستہ میں موجود کتاب کی روایت کو ضعیف کیوں کہتے ہو لیکن جب آپ کے مرزا صاحب صحیح مسلم کی صحیح روایت کو محدثین کے اقوال پیش کئے بغیر ضعیف کہتے ہیں تو ان پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاتا۔


    جواب نمبر 2

    قادیانی حضرات نے جو روایت پیش کی ہے اس سے پہلے ایک صحیح روایت موجود ہے جو قادیانیوں کے عقیدہ اجراء نبوت کو غلط ثابت کرتی ہے

    حدیث

    حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى:‏‏‏‏ رَأَيْتَ إِبْرَاهِيمَ ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ مَاتَ وَهُوَ صَغِيرٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلَوْ قُضِيَ أَنْ يَكُونَ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيٌّ لَعَاشَ ابْنُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنْ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ .

    میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحب زادے ابراہیم کو دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا: ابراہیم بچپن ہی میں انتقال کر گئے، اور اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کا نبی ہونا مقدر ہوتا تو آپ کے بیٹے زندہ رہتے، لیکن آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے
    (سنن ابن ماجہ حدیث نمبر 1510، صحیح بخاری حدیث نمبر 6194)
    اگر قادیانی دیانت سے کام لیتے تو وہ ایک ضعیف اور متروک الحدیث راوی کی روایت نہ لیتے بلکہ صحیح بخاری کی صحیح روایت لے لیتے۔


    جواب نمبر 3

    قادیانیوں نے جو یہ روایت پیش کی ہے اگر اس روایت کو صحیح بھی مان لیا جائے تب بھی یہ جراء نبوت ثابت نہیں کر سکتے کیونکہ قادیانیوں نے یہ جو روایت پیش کی ہے اس میں "لو" آیا ہے۔اور حرف "لو" اس جگہ استعمال ہوتا ہے جس جگہ یہ معنی ہو کے یہ کام ممکن نہیں ہے یعنی نہیں ہوسکتا لیکن بطور مثال بیان کیا گیا ہوں۔
    جیسے قرآن شریف میں ارشاد ہے
    لَوۡ کَانَ فِیۡہِمَاۤ اٰلِہَۃٌ اِلَّا اللّٰہُ لَفَسَدَتَا ۚ فَسُبۡحٰنَ اللّٰہِ رَبِّ الۡعَرۡشِ عَمَّا یَصِفُوۡنَ
    اگر آسمان اور زمین میں اللہ کے سوا دوسرے خدا ہوتے تو دونوں درہم برہم ہوجاتے ۔ لہذا عرش کا مالک اللہ ان باتوں سے بالکل پاک ہے جو یہ لوگ بنایا کرتے ہیں ۔
    (سورة انبیاء آیت نمبر 22)

    اس آیت میں بھی لفظ "لو" استعمال کیا گیا ہے۔
    آیت میں فرمایا گیا ہے کہ اگر زمین و آسماں میں اللہ کے علاوہ اور کوئی خدا ہوتے تو اس کا نظام درہم برہم ہو جاتا۔
    جس طرح اس آیت کو دیکھ کر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اللہ کے علاوہ اور بھی خدا ہو سکتے ہیں اسی طرح روایت کو دیکھ کر یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت جاری ہے۔

اس صفحے کی تشہیر