1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

لو کان موسیٰ وعیسیٰ حیین لما وسعھما الاتباعی

خادمِ اعلیٰ نے 'حیات عیسیٰ علیہ السلام پر شبہات کے جوابات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اپریل 7, 2015

  1. ‏ اپریل 7, 2015 #1
    خادمِ اعلیٰ

    خادمِ اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    قادیانی : یہ روایت" لو کان موسیٰ وعیسیٰ حیین لما وسعھما الاتباعی " الیوقیت والجواہر ، ابن کثیر، شرح فقہ اکبر مصری نسخہ میں ہے ، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ اسلام فوت ہو گئے ہیں .
    جواب
    یہ غلط اور مردود قول ہے ، کسی حدیث کی کتاب میں نہیں ہے ، آج تک کوئی مرزائی بھی اس کی سند نہیں پیش کرسکا ، جن تینوں کتابوں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں سے کوئی بھی احادیث کی کتاب نہیں ، یہ حدیثیں دوسروں سے روایت کرتے ہیں ، اگر یہ حدیث ہوتی تو کسی حدیث کی کتاب میں موجود ہوتی .
    ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ باسند روایت کرتے ہیں مگر انہوں نے بھی اسکو بے سند لکھا ہے .
    یہ کہ ابن کثیر میں بااسناد صحیحہ متعدد مقامات پر احادیث صحیحہ ونصوص قطعیہ سے حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کی حیات کو بیان کیا گیا ہے ، یہ دلیل اس بات کی ہے کہ اس بے سند قول کو نقل کرتے ہوۓ ان سے سہو ہوا ہے .
    الیوقیت والجواہر نے فتوحات مکیہ کا حوالہ دیا ہے ، اب اگر قادیانیوں میں کوئی دیانت نام کی کوئی چیز ہے تو فیصلہ آسان ہے کہ الیوقیت والجواہر نے جو ماخذ دیا ہے اس کو دیکھ لینا چاہیے سو فتوحات مکیہ میں
    " لوکان موسیٰ حیاََ " ہے یہ دلیل اس امر کی ہے کہ الیوقیت والجواہر میں سہو سے عیسیٰ علیہ اسلام کا نام آگیا ہے .
    اس طرح شرح فقہ اکبر کے صرف مصری نسخہ میں حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کا نام ہے ، ہندوپاک ودیگر دنیا بھر کے نسخوں میں عیسیٰ علیہ اسلام کا نام نہیں ، اسی شرح فقہ اکبر میں حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کی حیات کا مسئلہ ہے جو دلیل ہے اس امر کی کہ اس نسخہ میں غلطی اور سہو سے عیسیٰ علیہ اسلام کا نام آگیا ہے .
    شرح فقہ اکبر کی اس روایت کا بھی قادیانیوں میں اگر دیانت نام کی چیز ہوتی تو فیصلہ آسان ہو جاتا ہے اس لئے کہ شرح فقہ اکبر میں ملا علی قاری رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں مصری نسخہ کے مطابق " لوکان عیسیٰ حیاََ لما وسعه الا اتباعی وبینت وجه ذالک عند قوله فاذ اخذ اللہ فی شرح شفاء "
    ( شرح فقہ اکبر صفحہ 99 مصری طبع )
    " لوکان عیسیٰ حیا لما وسعه الا اتباعی "
    کی تشریح ہم نے فاذا اخذ اللہ کی بحث میں شرح شفاء کر دی ہے
    اب شرح شفاء کو دیکھ لیتے ہیں کہ اس میں کیا ہے تو شرح شفاء جلد اول فصل سات میں آیت " اذا اخذ اللہ میثاق النبیین " کے تحت لکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو تورایت پڑھتے دیکھا تو فرمایا " لوکان موسیٰ حیا ما وسعه الا اتباعی "
    (شرح شفاء جلد 1 ص 115 )
    اب یہ مسلہ واضح ہو گیا کہ مصری نسخہ فقہ اکبر میں " لوکان موسیٰ " کی جگہ " لوکان عیسیٰ " غلطی اور سہو کاتب سے لکھا گیا ہے . اب ذیل میں ملا علی قاری رحمتہ اللہ علیہ کی تصریحات حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کی حیات پر ملاخط فرمائیں :
    " موضوعات کبیر جو 1289ھ میں طبع ہو تھی حدیث " لو عاش ابراھیم لوکان صدیقاََ نبیا " پر بحث کرتے ہوۓ اس حدیث پر ختم کرتے ہیں " " لوکان موسیٰ حیا ما وسعه الا اتباعی " ( ص 67 )
    مرقاة شرح مشکوة مطبوعہ مصر جلد اول صفحہ 251
    میں تحریر فرماتے ہیں " " لوکان موسیٰ حیاََ "
    " فینزل عیسیٰ ابن مریم علیہ اسلام من السماء " ( مرقاة جلد 5 ص 160 )
    " نزول عیسیٰ ابن مریم علیہ اسلام من السماء " ( فقہ اکبر صفحہ 202 )

    اسی طرح تفسیر ابن کثیر ، الیوقیت والجواہر ، فتوحات مکیہ کے لکھنے والے تمام حضرات کا اسی متذکرہ کتب میں صراحت سے حیات عیسیٰ علیہ اسلام کا ذکر کرنا اور مرزائیوں کا اسے تسلیم نہ کرنا اور بے سند مردود قول سے استدلال کرنا یہ اس امر کو واضح کرتا ہے کہ صرف اعتراض برائے اعتراض برائے مغالطہ برائے شبہ ان کا مقصد ہے ، اگر دیانت نام کی کوئی چیز ان میں ہوتی تو یہ پیش نہ کرتے .


    اصل واقعہ


    اب اصل واقعہ کو ملاخط فرمائیں جس سے تمام استدلال کی حقیقت واضح ہو جائے گی ، ایک دن رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ آئے ، انہیں کہیں سے تورایت کے چند اوراق ملے تھے ، انہوں نے رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا ، اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی منشاء قبول ہونے سے پہلے ان کی تلاوت کرنا شروع کر دی ، اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت پر یہ گراں گزرا ، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ جو رمز شناش نبوت تھے اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا تأثر کرکے فوراََ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ٹوکا ، اور کہا " رضیت باللہ ربا وباالاسلام دینا و بمحمد نبیا " اس پر اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر " لوکان موسیٰ حیا لما وسعه الا اتباعی " تورایت کی بات نہیں اگر آج صاحب تورایت حضرت موسیٰ علیہ اسلام بھی زندہ ہوتے تو ان کو بھی میری اتباع کے بغیر چارہ کار نہ ہوتا ، صحیح روایت یہ ہے
    ( رواه احمد والبہقی فی شعب الایمان مشکوة صفحہ 30 باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ )

    موسیٰ علیہ اسلام زندہ ہوتے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے جیسا کہ معراج کی رات اتباع کی ، حضرت عیسیٰ علیہ اسلام زندہ ہیں وہ تشریف لائیں گے تو اتباع کریں گے " یحکم بشر عنا لا بشرعة "
    پھر دیکھئے قادیانیوں کی بدبختی کی انتہا کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں عیسیٰ علیہ اسلام زندہ ہیں ، بدبخت مرزا قادیانی کہتا ہے کہ وہ فوت ہو گئے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ موسیٰ علیہ اسلام فوت ہو گئے ہیں ، لیکن مرزا کہتا ہے وہ زندہ ہیں ، مرزا موسیٰ علیہ اسلام کے بارے میں کہتا ہے کہ :
    " وفرض علینا ان نؤمن انه حی فی السماء ولم یمت ولیس من المیتین " اور ہم پر فرض ہو گیا کہ ہم اس بات پر ایمان لائیں کہ وہ ( موسیٰ علیہ اسلام ) آسمانوں میں زندہ ہیں اور ان پر موت نہیں آئی اور وہ مردوں میں سے نہیں
    ( خزائن جلد 8 ص 68،69 )
    مرزائی جس روایت کو بیان کرتے ہیں مرزا کے حوالے نے اس کی تردید کردی .
    پس یہ روایت مرزائیوں کے لئے بھی وجہ استدلال نہیں بن سکتی ، کیونکہ وہ اس بے سند اور مردود قول سے حضرت موسیٰ علیہ اسلام اور حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کی وفات ثابت کرتے ہیں ، مرزا کے حوالے نے موسیٰ علیہ اسلام کی حیات ثابت کردی ، اور حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کی حیات قران وحدیث نے بیان کردی .
    12.jpg
    مدیر کی آخری تدوین : ‏ جولائی 27, 2016
    • Like Like x 2
  2. ‏ جولائی 7, 2016 #2
    ضیاء رسول امینی

    ضیاء رسول امینی منتظم اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    مزے کی بات الیواقیت والجواہر کا جوحوالہ دیتے ہیں اس حوالے کی اگلی لائینوں میں ہی لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب نازل ہوں گے تو شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ہی فیصلے فرمائیں گے
    13585222_10154302931199099_3750222803909866795_o.jpg
    • Winner Winner x 1

اس صفحے کی تشہیر