1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

لَوْعَاشِ ابْرَاھِیْمُ لَکَانَ صِدِّیْقًا نَبِیًّا۔

خادمِ اعلیٰ نے 'اجرائے نبوت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جولائی 2, 2014

  1. ‏ جولائی 2, 2014 #1
    خادمِ اعلیٰ

    خادمِ اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    لَوْعَاشِ ابْرَاھِیْمُ لَکَانَ صِدِّیْقًا نَبِیًّا۔
    '' اگر میرا بیٹا ابراہیم زندہ رہتا تو نبی ہوتا۔''
    معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا امکان ہے۔(احمدیہ پاکٹ بک ص۴۷۸) (ابن ماجہ کتاب الجنائز)
    جواب:
    اول تو یہ حدیث ہی باطل ہے، جہاں سے مرزائیوں نے یہ نقل کی یعنی ابن ماجہ سے، وہیں اس کے حاشیہ پر لکھا ہوا ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔ اس کا راوی ابوشیبہ ابراہیم بن عثمان عبسی بھی متروک ہے، اسی طرح حافظ ابن حجر نے تقریب میں لکھا ہے کہ یہ شخص متروک الحدیث ہے(تقریب التھذیب ص۱۴ طبعہ دہلی ۱۲۹۰ھ) اور تہذیب التہذیب میں محدثین کے بہت سے اقوال اس کی تضعیف میں نقل کیے ہیں(تھذیب التھذیب ص۱۴۴،ج۱)، غالباً اسی بناء پر علامہ نووی نے اس روایت کو باطل قرار دیا ہے(تھذیب الاسماء واللغات ص۱۰۳،ج۱ و موضوعات کبیر ص۹۹)۔ اور مدارج النبوت (شیخ عبدالحق) میں ہے ''اعتبار سے ندارد۔''(مدارج النبوت ص۲۶۷،ج۲) جن لوگوں نے اس کی تائید کی ہے، اوّل تو وہ نقاد حدیث نہیں ان کا پلہ اور درجہ اس فن میں ہلکا و کمتر ہے۔ لہٰذا یہ روایت قابل اعتبار نہیں۔
    ۱۔ صحیح الفاظ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرزند کی وفات کے متعلق منقول ہیں یہ ہیں لَوْقُضِیَ اَنْ یَّکُوْنَ بَعْدَ مُحَمد ﷺ نَبِیٌّ عَاشَ ابْنُہٗ وَلٰکِنْ لاَّ نَبِیَّ بَعْدَہٗ(اخرجہ البخاری فی الصحیح ص۹۱۴،ج۲ کتاب الادب باب من سمی باسماء الانبیاء من حدیث ابن ابی اوفی رضی اللّٰہ عنہ وابن ماجہ فی السنن ص۱۰۹ تا ۱۱۰ کتاب الجنائز باب ماجاء فی الصلوٰۃ علی ابن رسول اللّٰہ ﷺ وزکرو فاتہ)۔یعنی اگر قضائے الٰہی میں یہ بات ہوتی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی ہو تو آپ کا بیٹا (ابراہیم) زندہ رہتا، لیکن آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ یہ حدیث صحیح بخاری میں بھی ہے اور ابن ماجہ میں بھی۔
    پھر اس کا جھوٹی اور مردود ہونا یوں بھی ظاہر ہے کہ یہ قرآن پاک کے نصوص صریحہ کے مخالف ہے اور صدہا احادیث صحیحہ نبویہ مندرجہ صحاح ستہ مسلمہ فریقین و مقبولہ مرزا کے خلاف ہے۔
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار فرما دیا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور حدیث لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ۔ ایسی مشہور تھی کہ کسی کو اس کی صحت میں کلام نہ تھا، اور قرآن شریف میں جس کا لفظ قطعی ہے اپنی آیت کریمہ ولٰکن رسول اللّٰہ وخاتم النبیین سے بھی اس بات کی تصدیق کرتا تھا کہ فی الحقیقت ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم ہوچکی ہے۔(کتاب البریہ ص۱۸۴ و روحانی ص۲۱۸،ج۱۳ و تفسیر مرزا ص۵۸،ج۷)
    اعتراض:
    یہ حدیث ابن ماجہ میں ہے جو صحاح ستہ میں سے ہے، لہٰذا یہ حدیث صحیح ہے۔ (احمدیہ پاکٹ بک ص۴۷۹)
    الجواب:
    سبحان اللہ! کیا علمیت ہے کہ حدیث کی صحت کی دلیل یہ ہے کہ یہ ابن ماجہ میں ہے، صاحب علم حضرات سے مخفی نہیں کہ صحاح ستہ میں بھی بہت سی ضعیف روایات موجود ہیں۔
    ابن ماجہ کا تو چھٹا درجہ ہے (بلکہ بعض لوگ مثلاً علامہ ابن اثیر صحاح ستہ میں سنن ابن ماجہ کو شمار ہی نہیں کرتے، بلکہ مؤطا مالک کو شمار کرتے ہیں) مرزا صاحب بخاری اور مسلم میں بھی ضعیف حدیثیں بتاتے ہیں، مثلاً صحیح مسلم میں دمشقی منارے والی حدیث (جس کو تو اس بن سمعان نے بیان کیا ہے) کو ضعیف شمار کرتے ہیں:
    '' یہ حدیث وہ ہے جو صحیح مسلم میں امام مسلم صاحب نے لکھی ہے، جس کو ضعیف سمجھ کر رئیس المحدثین امام محمد بن اسماعیل بخاری نے چھوڑ دیا ہے۔'' (ازالہ اوہام ص۲۲۰ و روحانی ص۲۰۹،ج۳)
    صحیح بخاری میں ہے کہ مجھ کو یونس بن متیٰ پر فضیلت مت دو مرزا صاحب اس کو ضعیف قرار دیتے ہیں۔ (آئینہ کمالات اسلام ص۱۶۳ و روحانی ص۱۶۳،ج۵)
    بخاری اور مسلم میں حدیث ہے کہ کفار نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کر دیا تھا، مرزا صاحب اس کو ضعیف قرار دیتے ہیں۔ (الحکم جلد ۱۱نمبر۴۰ مورخہ ۱۰؍ نومبر ۱۹۰۷ء ص۸ و ملفوظات مرزا ص۳۴۸ و تفسیر مرزا ص۳۱ ،ج۶ فرمودہ، ۲۳؍ اکتوبر ۱۹۰۷ء بلکہ خود ملک عبدالرحمن مرزائی مؤلف احمدیہ پاکٹ بک نے ص۱۱۰۲ میں اسے توہین پر محمول کرکے اس کی تضعیف کردی ہے۔)
    لہٰذا ثابت ہوا کہ کسی حدیث کا ابن ماجہ میں ہونا اس کی صحت کی دلیل نہیں۔
    اعتراض:
    اس حدیث کے متعلق شہاب علی البیضاوی میں لکھا ہے کہ اس حدیث کی صحت میں کوئی شبہ نہیں، کیونکہ اس کو ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور نیز ملا علی قاری نے اس کی تصحیح کی ہے۔ (احمدیہ پاکٹ بک ص۴۷۹)
    الجواب:
    اول تو وہ نقاد حدیث سے نہیں ہیں، ان کا مرتبہ اس فن میں کم تر ہے ائمہ حدیث مثلاً حافظ ابن حجر عسقلانی، حافظ ابن عبدالبر اور امام نووی اس کو ضعیف قرار دیتے ہیں، بلکہ امام نووی تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بہتان عظیم ہے۔(موضوعات کبیر ص۹۹) ابراہیم بن عثمان عبسی راوی کو ائمہ حدیث نے مجروح قرار دیا ہے۔ ملا علی قاری فرماتے ہیں:
    لَا یَخْفٰی اَنَّ الْجَرْحَ مُقَدَّمٌ عَلَی التَّعَدِیْلِ کَمَا فِی النُّخْبَۃِ فَلَا یَدْفَعُہٗ تَصْحِیْحُ بَعْضِ الْمُحَدِّثِیْنَ۔(مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ص۳۴۲،ج۱ طبعہ قدیم مصر ۱۳۰۹ھ)
    جرح تعدیل پر مقدم ہوگی جیسا کہ نخبہ میں ہے، پس بعض محدثین کی تصحیح اس کی جرح کو دفع نہیں کرسکتی۔
    اس لیے ملا علی قاری وغیرہ کی تصحیح قابل حجت نہیں۔ ملا علی قاری جہاں اس کو صحیح قرار دیتے ہیں، پہلے خود مانتے ہیں کہ امام نووی، ابن حجر اور ابن عبدالبر نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے۔
    باقی رہا یہ اعتراض کہ شہاب علی البیضاوی میں لکھا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے تو یہ کافی نہیں کیونکہ تصحیح حدیث کے لیے پہلے جرح کا اطلاق مقدم ہے، صرف ابن ماجہ میں حدیث کا مذکور ہونا صحت حدیث کی دلیل نہیں۔
    نیز بحث صورت مقدرہ میں ہے، یعنی اگر یہ حدیث صحیح ہو، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ختم نبوت کے منافی ہے جیسے لوکان موسیٰ حیا لما وسعہ الا اتباعی میں(باب ھذا کا حاشیہ نمبر ۶۳ دیکھئے) ۔ کیونکہ اس سے ہرگز یہ مقصود نہیں کہ موسیٰ علیہ السلام حضور کے بعد تشریف لاسکتے ہیں بلکہ یہ محض مفروضہ ہے، مقصد یہ ہے کہ حضور کے مرتبہ نبوت کو بیان کیا جائے، اسی طرح لَوْعَاشَ اِبْرَاھِیْمُ سے مراد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی فضیلت بیان کرتا ہے، نہ امکان نبوت، کیونکہ ملا علی قاری صاف فرماتے ہیں۔
    دعوی النبوۃ بعد نبینا ﷺ کفر بالاجماع۔(شرح فقہ اکبر ص۱۵۰)
    '' آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا بالاجماع کفر ہے۔'' فافھم
    ----------------------------------------------------
    • Like Like x 1
    • Bad Spelling Bad Spelling x 1
  2. ‏ اگست 7, 2014 #2
    دین محمد

    دین محمد رکن ختم نبوت فورم

    ماشاء اللہ بہت محققانہ گفتگو تھی طبیعت صاف تو پہلے تھی اب شفاف ہوگی۔ اللہ اپ کو ترقی عطا کرے ۔ اور کالم سے مردہ دلوں کو حیات نصیب ہو۔(امین)
    • Dumb Dumb x 1

اس صفحے کی تشہیر