1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

(متعلقہ اتھارٹی کسی کے مسلم یا غیرمسلم ہونے کی تفتیش کر سکتی ہے)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ نومبر 23, 2014

  1. ‏ نومبر 23, 2014 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (متعلقہ اتھارٹی کسی کے مسلم یا غیرمسلم ہونے کی تفتیش کر سکتی ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: So, Sir, the point is that somebody can question his declaration if he says, "I am a Muslim?"
    (جناب یحییٰ بختیار: سوال یہ ہے کہ کوئی شخص پوچھ تو سکتا ہے۔ اس کے ڈکلیئریشن کو اگر وہ کہتا ہے میں مسلمان ہوں)
    Mirza Nasir Ahmad: The authority concerned, of course. (مرزاناصر احمد: متعلقہ اتھارٹی ہی پوچھے گی، ظاہر ہے)
    67Mr. Yahya Bakhtiar: So, then you agree that some authority, is there who can question a declaration about religion?
    (جناب یحییٰ بختیار: تو آپ مانتے ہیں نہ کہ ایک اتھارٹی ہے جو ڈکلیئریشن کے بارے میں پوچھنے کی مجاز ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: The authority which is concerned with a man who submits a false declaration.
    (مرزاناصر احمد: جو اس سے متعلق ہے جس نے جھوٹا ڈکلیئریشن دیا ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, Sir, ....
    Mirza Nasir Ahmad: Yes, of course.
    Mr. Yahya Bakhtiar: That is exactly what I say, Sir, that you agree that this right to announce what one's religion is, or the declaration what one's religion is, is subject to restriction?
    (جناب یحییٰ بختیار: جناب میں بھی تو یہی کر رہا ہوں۔ آپ کو تسلیم ہے کہ صحیح ہے۔ اب رہا سوال اس کا کہ اس کا مذہب کیا ہے یا مذہب کے بارے میں اس کا کیا ڈکلیئریشن ہے اس پر پابندی کا اطلاق ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: That is something else.... false declaration. To submit a false declaration, which is proved by investigation by the authority competent to do that, this is someting else.
    (مرزاناصر احمد: وہ دوسری بات ہے۔ غلط ڈکلیئریشن کرنا۔ ایک غلط ڈکلیئریشن کرنا۔ جس کو مجاز اتھارٹی تفتیش سے جھوٹ ثابت کر دے۔ یہ دوسری بات ہوئی)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, no. I will ask you again. Sir, I think I have not made myself clear. Do you agree that if a person makes a false declaration or any kind of declaration, somebody else has an authority to examine it, enquire into it, question it, about his religion? If I fill in a form....
    (جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں۔ میں پھر اپنا سوال دہراتا ہوں۔ کیونکہ میں سمجھتا ہوں میں نے شاید اپنے مدعا کو صاف بیان نہیں کیا۔ کیا آپ مانتے ہیں کہ ایک شخص جھوٹا ڈکلیئریشن کرتا ہے یا کسی قسم کا ڈکلیئریشن تو کوئی کوئی شخص یا اتھارٹی اس کی مجاز ہے کہ اس میں انکوائری کرے۔ سوال جواب کرے۔ اس کے مذہب کے بارے میں اگر فارم میں اس کا تذکرہ ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: No, not about his religion, but about his declaration.
    (مرزاناصر احمد: نہیں مذہب کی نہیں۔ صرف اس کے ڈکلیئریشن کے بارے میں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Yes, in the declaration a falsehood lies in the fact that he is not a Muslim and he says that he is a Muslim.
    (جناب یحییٰ بختیار: کیوں نہیں۔ ڈکلیئریشن میں ایک جھوٹ موجود ہے کہ وہ کہتا ہے میں مسلمان ہوں اور وہ مسلمان نہیں ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: The authority is concerned with the declaration, not with his faith.
    (مرزاناصر احمد: اتھارٹی کا تعلق اس کے ڈکلیئریشن سے ہے نہ کہ اس کے مذہب سے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, the authority is concerned that no non-Muslim should get in there.
    (جناب یحییٰ بختیار: اتھارٹی کا تعلق یہ ہے کہ اس کو فکر ہے کہ کوئی غیرمسلم وہاں داخل نہ ہو جائے)
    Mirza Nasir Ahmad: The authority is concerned with the man who submits a false declaration.
    (مرزاناصر احمد: اتھارٹی کا مقصد اس شخص سے ہے جس نے غلط ڈکلیئریشن دیا ہے)
    68Mr. Yahya Bakhtiar: Yes, because he is not a Muslim and he is entering.
    (جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ وہ مسلمان نہیں ہے اور داخل ہورہا ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: Whatever the case might be .
    (مرزاناصر احمد: جو بھی صورت ہو… )
    Mr. Yahya Bakhtiar: So ....
    Mirza Nasir Ahmad: .... we are least concerned. He declares himself a Muslim, he declares that he represents one of the very big firms who are doing some construction work in Saudi Arabia; he can do this; he can do that.
    (مرزاناصراحمد: ہمارے پاس ایک فہرست ہے۔ وہ شخص اپنے آپ کو مسلمان ڈکلیئر کرتا۔ وہ ڈکلیئر کرتا ہے کہ میں ایک بڑی تعمیراتی فرم جو سعودی عرب میں کنسٹرکشن کا کام کر رہی ہے نمائندہ ہوں۔ یہ بھی کر سکتا ہے وہ بھی کر سکتا ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, but ....
    Mirza Nasir Ahmad: He has to be questioned about the declaration which he makes ....
    (مرزاناصراحمد: اس سے سوال جواب ہوگا۔ اس ڈکلیئریشن کے بارے میں نہ کہ اس کے مذہب کے بارے میں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, ....
    Mirza Nasir Ahmad: .... which he makes to the authority, not about the faith which he has got.
    Mr. Yahya Bakhtiar: I put it in a different language. If a person goes to Saudi Arabia, who in fact, is a Christian or a Jew ....
    (جناب یحییٰ بختیار: میں دوسرے الفاظ میں کہتا ہوں۔ ایک شخص سعودی عرب جاتا ہے اور وہ دراصل ہے عیسائی یا یہودی)
    Mirza Nasir Ahmad: But how do you know?
    (مرزاناصر احمد: آپ کو کیسے معلوم؟)
    Mr. Yahya Bakhtiar: In fact, I said.
    )جناب یحییٰ بختیار: میں نے دراصل کہا۔ یہ مفروضہ ہے(
    Mirza Nasir Ahmad: No, ....
    Mr. Yahya Bakhtiar: This is presumed. So, when ....
    Mirza Nasir Ahmad: First you persume it. Then you put that gentleman before a court.
    (مرزاناصر احمد: اوّل آپ فرض کرتے ہیں پھر آپ اس شخص کو کورٹ میں لے جاتے ہیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Yes, that is what I say that it is presumed. It is a fact .... I am not talking personally of doubtful cases .... It is a fact that a person is a Christian or a Jew. But he says that since I have declared in my form that I 69am a Muslim, nobody should question my declaration; this is my human right.
    (جناب یحییٰ بختیار: یہی تو میں کہہ رہا ہوں کہ یہ مفروضہ ہے۔ یہ امر واقعہ ہے۔ میں کسی شبہ والے کیس کی بات نہیں کر رہا ہوں۔ یہ واقعہ ہے کہ ایک شخص عیسائی ہے یا یہودی لیکن وہ کہتا ہے کہ چونکہ میں نے اپنے فارم میں مسلمان ہونا ڈکلیئر کیا ہے۔ کوئی شخص میرے ڈکلیئریشن کو چیلنج نہیں کر سکتا۔ یہ میرا انسانی حق ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: What is the intention of goings there? Spying?
    (مرزاناصر احمد: وہاں جانے کی نیت کیا ہے۔ جاسوسی؟)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, not spying.
    (جناب یحییٰ بختیار: نہیں جاسوسی نہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: Curiosity?
    (مرزاناصر احمد: تجسس، شوق؟)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Out of curiosity, sight seeing. He knows that this is a very old and ancient religious centre and he would like to see it. But he knows that except Muslim nobody else is allowed ....
    (جناب یحییٰ بختیار: شوق کی بناء پر۔ سیر تفریح۔ اسے معلوم ہے کہ یہ ایک قدیم مذہبی سنٹر ہے اور وہ اس کو دیکھنے کا مشتاق ہے۔ لیکن یہ بھی وہ جانتا ہے کہ سوائے مسلمانوں کے کسی کو اجازت نہیں ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: In that case a conducted tour should be arranged to take him arround to see the old places and satisfy his curiosity.
    (مرزاناصر احمد: ایسی صورت میں سیاحوں کی جماعت کا کسی رہبر کی معیت میں انتظام ہونا چاہیئے جو اس کو تمام پرانی جگہ دکھائے اور اس کا شوق پورا کرے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, if he is not that all important that is should be arranged, supposing he makes a declaration of this sort, can U.N. Charter help him? Can he say that the Charter gives him the right to declare himself as a Muslim and nobody ....
    (جناب یحییٰ بختیار: نہیں! یہ اتنا اہم نہیں ہے کہ باقاعدہ انتظام کیا جائے۔ فرض کریں وہ اس نوعیت کا ڈکلیئریشن کرتا ہے اور اقوام متحدہ کا قانون اس کی مدد کرتا ہے۔ کیا وہ کہہ سکتا ہے کہ قانون اس کو اپنے کو مسلمان کہنے کا حق دیتا ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: Every Law, constitutional of otherwise pre-supposes good intentions.
    (مرزاناصر احمد: ہر قانون دستوری، غیردستوری، نیک نیتی پر شروع ہی سے مبنی ہوتا ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Exactly. That is what I was going to say. So you say that I announce I am a Muslim, I decide I am a Muslim, I declare I am a Muslim? That means that the declaration must be honest, must be bonafide, must be made in good faith.
    (جناب یحییٰ بختیار: بالکل! یہی بات میں کہنا چاہ رہا تھا۔ جب آپ کہتے ہیں کہ میں اعلان کرتا ہوں میں مسلمان ہوں میں طے کرتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں۔ میں ڈکلیئر کرتا ہوں میں مسلمان ہوں۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ میرا ڈکلیئریشن ایماندرانہ ہونا چاہئے۔ سچ مچ اصلی ہونا چاہئے۔ نیک نیتی پر مبنی ہونا چاہئے)
    Mirza Nasir Ahmad: Yes, I declare that I dont't submit any false declaration .....
    (مرزاناصر احمد: جی ہاں! میں نے ڈکلیئر کیا ہے۔ میں جھوٹے ڈکلیئریشن نہیں دیا کرتا…
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, no. So, anybody who makes the declaration ....
    (جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں۔ تو کسی کو جو اعلان کرتا ہے…)
    70Mirza Nasir Ahmad: .... I am not telling lies, so many declaration ....
    (مرزاناصراحمد: میں جھوٹ نہیں بول رہا۔ اس لئے میرے ڈکلیئریشن…)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, Sir, I am not talking about any particular person but anybody.
    (جناب یحییٰ بختیار: نہیں سر۔ میں کسی مخصوص شخص کی بات نہیں کر رہا ہوں۔ کوئی بھی ہوسکتا ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: No, no, anybody.
    (مرزاناصراحمد: نہیں، نہیں۔ کوئی بھی ہو)
    Mr. Yahya Bakhtiar: If he makes a declaration honestly, in good faith, only then a fundamental right is given to him, not if he makes if falsely, with ulterior motive, in bad faith, then the fundamental right is not for him. You agree with this proposition?
    (جناب یحییٰ بختیار: میں کسی مخصوص شخص کی بات نہیں کر رہا ہوں۔ کوئی بھی ہوسکتا ہے۔ اگر وہ ایماندرانہ ڈکلیئریشن کرتا ہے۔ نیک نیتی کے ساتھ تو صرف اتنی صورت میں اس کو بنیادی حق کی مدد حاصل ہے اور اگر وہ جھوٹ بول رہا ہے درپردہ مقاصد کے لئے بدنیتی کے ساتھ تو اس کو بنیادی حق کا سہارا حاصل نہیں ہے۔ میری اس تجویز سے آپ متفق ہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: I agree that exception can only prove the rule.
    (مرزاناصر احمد: میں اس سے متفق کہ استثناء سے صرف اصول ثابت ہوتا ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, not exception. It is the general proposition.
    (جناب یحییٰ بختیار: استثناء کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ عمومی اصول ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: This is my answer.
    (مرزاناصراحمد: یہی میرا جواب ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: A declaration that "I am a Muslim", I say, if I make it in good faith, if should be accepted?
    Mirza Nasir Ahmad: If I make ....
    Mr. Yahya Bakhtiar: If I make it in good faith?
    Mirza Nasir Ahmad: That means that I am honest to God. That is what I mean by this that if I make this in good faith, I am honest to God.
    (مرزاناصر احمد: کہ ایک ڈکلیئریشن ہے۔ جس میں یہ کہتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں۔ اگر میں نیک نیتی سے کہتا ہوں تو اس کو قابل قبول سمجھنا چاہئے اور اگر میں بدنیتی میں کہتا ہوں تو اس کے معنی ہوئے کہ میں نے خدا کے ساتھ بے ایمانی کری۔ یہ معنی ہیں اس کے کہ اگر میں یہ ڈکلیئریشن نیک نیتی سے دیتا ہوں تو میں خدا کا ایماندار ہوں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, but if I give an extreme example that the man was not honest to God or to the man?
    (جناب یحییٰ بختیار: میں تو انتہائی بات یہ کہتا ہوں کہ وہ شخص نہ خدا نہ آدمی کا کسی کا بھی سچا نہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: The extreme examples are exceptions and the exceptions can only prove the rule, that is the point.
    (مرزاناصر احمد: یہ انتہائی باتیں سب مستثنیات ہیں اور استثناء صرف قاعدے کو ثابت کرتا ہے۔ نکتہ یہ ہے)
    71Mr. Yahya Bakhtiar: They may or may not. But here a Christian boy is deprived of his seat if we accept your first proposition. But if we accept your second proposition, wherein you say that it should be made honestly, then the boy will not be deprived of his seat, but then the Principal will interfere.
    (جناب یحییٰ بختیار: نکتہ کی بات ہو یا نہ ہو۔ مختصر یہ کہ اگر ہم آپ کی بات قبول کر لیں تو ایک عیسائی لڑکا اپنی سیٹ سے محروم رہ جائے گا۔ ہاں اگر آپ کی دوسری بات مان لی جائے جو کہ آپ کہتے ہیں کہ ایماندرانہ ہونی چاہئے۔ تب وہ عیسائی لڑکا اپنی سیٹ سے محروم نہ ہوگا اور پرنسپل مداخلت کرے گا)
    Mirza Nasir Ahmad: Is he?
    وہ جو ہیں پرنسپل صاحب، ان سے غلطی نہیں ہوسکتی؟
    جناب یحییٰ بختیار: غلطی تو ہر ایک سے ہوسکتی ہے۔
    مرزاناصر احمد: ان سے بھی ہوسکتی ہے۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: I am talking on the basis of evidence.
    (جناب یحییٰ بختیار: میں شہادت کی بنیاد پر بات کر رہا ہوں)
    مرزاناصراحمد: Evidence (شہادت) جو ہے…
    Mr. Yahya Bakhtiar: If proved?
    (جناب یحییٰ بختیار: اگر ثابت ہو جائے)
    مرزاناصراحمد: دیکھیں ناں! Evidence جو ہے…
    Mr. Yahya Bakhtiar: If a person himself says? Sir, I am taking this example.
    (جناب یحییٰ بختیار: اگر ایک شخص خود کہتا ہے کہ میں بات کر رہا ہوں یہ اک مثال ہے جناب)
    Mirza Nasir Ahmad: This is a common fact you know in our courts; quite a few people are sent to the gallows without any murder committed by them, اور nobody to blame.
    (مرزاناصر احمد: ہماری کچہریوں میں یہ ایک عام حقیقت ہے۔ اکثر لوگ سولی پر لٹکادئیے جاتے ہیں۔ جب کہ انہوں نے قتل ہی نہیں کیا ہوتا۔ کیا کسی کو مورد الزام نہ بنائیں۔ کسی کو ذمہ دارانہ ٹھہرائیں؟ کیونکہ جج جو ہے اس نے شہادت کی رو سے کیا اور کرنا ہے۔ دیکھیں نہ جی!)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, Sir, I ....
    مرزاناصراحمد: کیونکہ جو Nobody is to blame اس واسطے جج ہے اس نے Evidence کے اوپر کرنا ہے۔
    72جناب یحییٰ بختیار: نہیں، دیکھیں ناں جی!
    This is a daily thing. When boys get admission, they get domicile certificates or a certificate of permanent residence. I belong to Quetta. Now if I want .......
    (یہ روز کا مشاہدہ ہے۔ جب لڑکے داخلہ لیتے ہیں وہ ڈومیسائل یا مستقل رہائش کا سرٹیفکیٹ حاصل کر لیتے ہیں۔ میں کوئٹہ کا رہنے والا ہوں۔ لیکن اگر میں چاہوں تو …)
    Mirza Nasir Ahmad: Now I tell you this thing that this thing can never happen in America.... false declaration to secure a seat in one of the educational institutions.
    (مرزاناصر احمد: میں آپ سے یہ کہتا ہوں کہ امریکہ میں کبھی ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ جھوٹے ڈکلیئریشن سے کسی تعلیمی ادارے میں سیٹ مل جائے) تو ہم اپنے آپ کو اتنا ایک Extreme example بنانے کے لئے اتنا Degrade کیوں کریں اپنی قوم کے نوجوان کو کہ وہ ایسا کرے گا۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی!
    I am giving you an example. I tell you another example. Now, if you think that degrading. For various destricts, in these colleges, some quotas are fixed for backward areas. Now Baluchistan has got about thirty seats in the Dow Medical College. And if people belonging to those areas get from the Deputy Commissioner the certificate of permanent residence and they file a declaration with it that. "I was born there and I am permanently settled in that destrict." On the basis of that they apply for admission. Now, supposing that he makes a false declaration.... and I can assure you Mirza Sahib there are many of them....
    (جناب یحییٰ بختیار: میں نے تو ایک مثال دی تھی۔ دوسری مثال دیتا ہوں۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ وہ ذلیل کرتی ہے۔ یہاں کے کالجوں میں مختلف اضلاع کے لئے کوٹے مقرر ہوئے ہیں۔ کم ترقی یافتہ طبقے کے لئے۔ کوٹے مقرر ہیں۔ اب بلوچستان کی تین سیٹ ہیں ڈاؤ میڈیکل کالج میں لیکن جو لوگ اس علاقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگر وہ ڈپٹی کمشنر سے مستقل رہائش کا سرٹیفکیٹ حاصل کر لیں اور یہ ڈکلیئریشن کریں کہ میں فلاں جگہ پیدا ہوا تھا اور فلاں ضلع کا مستقل رہائشی ہوں تو اس بناء پر وہ داخلے کے لئے درخواست دے گا۔ فرض کریں وہ جھوٹا ڈکلیئریشن داخل کرتا ہے اور میں یقین سے کہتا ہوں۔ مرزا صاحب کہ ان میں سے بہت کو…)
    Mirza Nasir Ahmad: .... and a false certificate is issued to him.... (مرزاناصر احمد: جھوٹا سرٹیفکیٹ دے دیا جاتا ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: ....for a few rupees....
    (جناب یحییٰ بختیار: چند روپیوں کے عوض)
    Mirza Nasir Ahmad: .... and false certificate has been issued to him ....
    (مرزاناصر احمد: اور وہ جھوٹا سرٹیفکیٹدیا گیا ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Yes.
    (جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں)
    Mirza Nasir Ahmad: .... by the District Magistrate .... (مرزاناصراحمد: ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی طرف سے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: ....on the basis of his declaration and oath he gets the certificate and he gets the admission.
    (جناب یحییٰ بختیار: اس لڑکے کے جھوٹے ڈکلیئریشن کی بنیاد پر حلف کے بعد اس کو سرٹیفکیٹ مل جاتا ہے اور داخلہ مل جاتا ہے)
    73Mirza Nasir Ahmad: We should condemn his acts .... (مرزاناصر احمد: اس کے ان افعال کی مذمت کرنی چاہئے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: I know, but will the Principal of court interfere or not? Or they should enter .....
    (جناب یحییٰ بختیار: جانتا ہوں۔ لیکن کیا کورٹ یا پرنسپل اس معاملہ میں مداخلت کریں گے یا وہ…)
    Mirza Nasir Ahmad: .... because the first depends on the evidence before the court ....
    (مرزاناصر احمد: یہ منحصر ہے شہادت پر کورٹ کے روبرو)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Yes. So it means that on evidence, if it is found false, the court can interfere?
    (جناب یحییٰ بختیار: ہاں! تو معنی ہوئے کہ شہادت اگر جھوٹی پائی جاتی ہے تو کورٹ مداخلت کرسکتی ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: If the evidence is there, they should decide accordingly.
    (مرزاناصر احمد: بشرطیکہ شہادت ہے۔ ان کو شہادت کی بنیاد پر فیصلہ کرنا چاہئے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: That means ....
    Mirza Nasir Ahmad: That is obvious.
    (مرزاناصراحمد: یہ بات ظاہر ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: So, someone has to enquire? You give this right to somebody to enquire into the fact whether this person has made a false declaration or a true declaration?
    (جناب یحییٰ بختیار: تو کوئی نہ کوئی کسی نہ کسی کو حق دے گا تحقیق کرنے کا۔ اس بات میں کہ اس شخص نے جھوٹا ڈکلیئریشن دیا ہے یا سچا)
    Mirza Nasir Ahmad: In some cases, yes.
    (مرزاناصر احمد: چند صورتوں میں ہاں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Yes?
    (جناب یحییٰ بختیار: ہاں؟)
    Mirza Nasir Ahmad: In some cases, yes.
    (مرزاناصراحمد: چند صورتوں میں ہاں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Yes. I do not say in every case. Normally it is not needed.
    (جناب یحییٰ بختیار: میں بھی نہیں کہتا کہ ہر صورت میں۔ بالعموم اس کی ضرورت نہیں پڑتی)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Now, Sir, I am sorry to bother you because you raised a question of fundamental right no.20 and the Constitution has got other fundamental rights also.
    (جناب یحییٰ بختیار: اب جناب میں آپ کو تکلیف دوں گا۔ کیونکہ آپ نے ایک سوال بنیادی حق نمبر۲۰ کے بارے میں اٹھایا تھا اور دستور میں دیگر بنیادی حقوق بھی ہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: Yes, yes.
    (مرزاناصر احمد: جی، جی)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Now. Article 18 deals with freedom of trade, profession end it reads:
    74"Subject to such qualification, if any, as may be prescribed by law, every citizen shall have the right to enter upon any lawful profession or occupation and to conduct any lawful trade or business."
    Now, this is also one of the rights just like freedom or religion, freedom of trade, profession and business.
    (جناب یحییٰ بختیار: دفعہ نمبر۱۸ آزادی تجارت وپیشہ سے متعلق ہے۔ الفاظ یہ ہیں:
    ’’ان قیود کی شرط کے ساتھ اگر کوئی ہوں جو قانون مقرر کرے ہر شہری کو حق حاصل ہوگا کہ وہ کوئی جائز پیشہ یا کام اختیار کرے یا کوئی مجاز تجارت یا بزنس کرے۔‘‘
    اب یہ حق بھی ایسا ہی حق ہے جیسے کہ مذہب اختیار کرنے کا حق ہے یا تجارت کاروبار، بزنس کرنے کی آزادی کا حق ہے)
    مرزاناصر احمد: اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی ڈاکٹری کا Profession اختیار کرنا چاہئے اور ڈاکٹری کا اس کے پاس ڈپلومہ نہ ہو تو Law اسے منع کر دے۔
    جناب یحییٰ بختیار: منع کر دے، Because this is subject to such qulification. (کیونکہ وہ ان قیود کے ساتھ مشروط ہے)
    مرزاناصر احمد: ہاں ہاں!
    Mr. Yahya Bakhtiar: Now, Sir, ....
    (جناب یحییٰ بختیار: اب جناب!…)
    Mirza Nasir Ahmad: Such very rational, very fundamental .... (مرزاناصراحمد: اس قسم کی کوئی معقول یا بنیادی…)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Yes.
    (جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں!)
    Mirza Nasir Ahmad: .... qualification we expect from ....
    (مرزاناصراحمد: قسم کی شرائط ہم مانتے ہیں…)
    Mr. Yahya Bakhtiar: I am just trying ....
    (جناب یحییٰ بختیار: میں صرف بتانا چاہ رہا ہوں)
    مرزاناصراحمد: ہاں۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... to show that fundamental rights are subject to certain ....
    (جناب یحییٰ بختیار: کہ بنیادی حقوق چند پابندیوں سے مشروط ہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: The fundamental?
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... restrictions, some qualification. They are not absolute. Now, Sir....
    (جناب یحییٰ بختیار: کچھ حدود ہیں۔ وہ مطلق العنان نہیں ہیں۔ اب جناب!)
    75Mirza Nasir Ahmad: No, no. That means they are absolute .... (مرزاناصراحمد: جی نہیں! وہ قطعاً مطلق ہیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: But, Sir, ....
    Mirza Nasir Ahmad: .... because these exceptions only prove that the rule, these exceptions you mentioned here only, prove that the rule is absolute.
    (مرزاناصر احمد: کیونکہ یہ مستثنیات صرف ضابطہ کو ثابت کرتی ہیں۔ لیکن جو مستثنیات یہاں مذکور ہیں وہ ثابت کرتی ہیں کہ ضابطہ مطلق کی حیثیت رکھتا ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, thousands of persons are not qualified; a few hundred are qualified. Only qualified can practise. So this is no exception to prove the rule. This a very strict qualification ....
    (جناب یحییٰ بختیار: جناب!ہزاروں لوگ مستند نہیں ہوتے۔ چند سو مستند ہوتے ہیں صرف مستند شخص ہی پریکٹس کر سکتا ہے تو ضابطہ کو ثابت کرنے کے لئے یہ کوئی استثناء نہ ہوا۔ یہ قطعاً سخت شرط ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: All right, let us ....
    (مرزاناصر احمد: ٹھیک ہے چلئے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... on medicine.
    Mirza Nasir Ahmad: .... not quarrel over these trifles. (مرزاناصراحمد: ان چھوٹی چھوٹی باتوں میں نہ الجھیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, now the next point is that the trade, it says, or business or profession is a any lawful proession, occupation or to conduct any lawful trade or business. Now, the trade and business is lawful to begin with.
    (جناب یحییٰ بختیار: جناب! اب اگلا پوائنٹ ہے تجارت، بزنس، پیشہ۔ کیا ناجائز طریق ایک جائز کاروبار کے چلانے کے لئے صحیح ہے۔ تجارت، بزنس شروع کرنا بالکل قانونی بات ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: Yes.
    (مرزاناصراحمد: جی ہاں!)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Now, if I start smuggling, I cannot say that this is my fundamental right?
    (جناب یحییٰ بختیار: جناب! اگر میں سمگلنگ شروع کر دوں تو میں نہیں کہہ سکتا کہ یہ میرا بنیادی حق ہے)
    مرزاناصر احمد: اس سے زیادہ اچھی مثال ہے جو انڈسٹری نیشنلائز ہوگئی ہے۔ اگر وہ کوئی چالاکی سے انڈسٹری Establish کرنا چاہیں تو وہ Illegal (غیرقانونی) ہے۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: But, apart from that.... Sir, I am going into a different field now.... even those trades which are lawful are subject ....
    (جناب یحییٰ بختیار: علاوہ ازیں جناب! میں دوسری اور مختلف تجارتوں کا ذکر کرتا ہوں۔ اگر وہ تمام کاروبار جو قانون میں مجاز ہیں اور مشروط …)
    76Mirza Nasir Ahmad: They have their own moral code.
    (مرزاناصر احمد: ہر کاروبار کے اپنے چھوٹے چھوٹے مورال کوڈ ہوتے ہیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No under the law because the law can make any trade legal or illegal. Now, selling of soap or selling of cars or selling sweats, these are lawful trades in our country at the moment. Now, Sir, you know there is a well known company.... Lever Brothers. They sell soap under the label of Lux, one of them sunlight.
    (جناب یحییٰ بختیار: نہیں قانون کی زد سے کوئی باہر نہیں چھوٹا یا بڑا۔ اگر قانون کسی کاروبار کو غیرقانونی قرار دیتا ہے یا قانونی قرار دیتا ہے مثلاً صابن کا بیچنا، کاروں کا بیچنا، مٹھائیوں کا بیچنا۔ یہ سب ہمارے ملک میں آجکل قانونی کاروبار ہیں۔ مثلاً لیوربرادرز ایک کمپنی ہے اور یہ صابن بیچتے ہیں۔ مختلف برانڈ نام میں مثلاً لکس، سن لائٹ وغیرہ)
    Mirza Nasir Ahmad: Yes.
    (مرزاناصر احمد: جی ہاں!)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Now Sir, supposing I start business and call myself.... because everybody is free to call his business with any name, there is no restriction....
    (جناب یحییٰ بختیار: اب بالفرض میں ایک کاروبار شروع کرتا ہوں اور چونکہ ہر شخص کو اجازت ہے کہ وہ اپنے بزنس کا کوئی نام رکھے تو کیا پابندی ہے؟)
    Mirza Nasir Ahmad: There is restriction.
    (مرزاناصراحمد: ہے نہ پابندی)
    Mr. Yahya Bakhtiar: That is another law. Under the fundamental rights ....
    (جناب یحییٰ بختیار: لیکن اس کے ساتھ ایک اور قانون ہے اور وہ ہے بنیادی حقوق کا ضابطہ)
    Mirza Nasir Ahmad: In the fundamental rights there is a restriction because this law.... the Constitution.... was framed for the honest people of Pakistan.
    (مرزاناصر احمد: بنیادی حقوق کے ضابطہ میں ایک پابندی ہے نہ۔ کیونکہ یہ قانون یہ دستور ایماندار پاکستانیوں کے لئے بنایا گیا تھا)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Honest people?
    (جناب یحییٰ بختیار: ایماندار آدمی؟)
    Mirza Nasir Ahmad: Yes, that is understood, you know.
    (مرزاناصر احمد: جی ہاں! ظاہر ہے ایمانداروں کے لئے بنایا گیا آپ جانتے ہیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, no. Supposing I say, Sir, I start business and I call myself Lever Brothers and I also produce soap and call it Lux soap, similar label, similar wraping ....
    (جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں۔ میں کہتا ہوں کہ فرض کریں میں ایک کاروبار شروع کرتا ہوں جس کا نام لیور برادرز رکھتا ہوں اور صابن کا کارخانہ لگا کر صابن کا نام لکس وغیرہ رکھتا ہوں اور ویسا ہی لیبل اور ویسا ہی اوپر کا کاغذ…)
    Mirza Nasir Ahmad: Has there been an example of this? (مرزاناصر احمد: کہیں اس کی کوئی مثال ہے کہ ایسا ہوا ہو؟)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Yes.
    (جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں!)
    Mirza Nasir Ahmad: There is?
    (مرزاناصر احمد: یہاں ہے؟)
    77Mr. Yahya Bakhtiar: Yes, yes.
    (جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں، جی ہاں!)
    Mirza Nasir Ahmad: So, I am asking this that we should be very careful.
    (مرزاناصراحمد: اس لئے تو ہم کو (نقالوں) سے ہوشیار رہنا چاہئے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: That is why I am giving you a concrete example.
    (جناب یحییٰ بختیار: میں نے تو آپ کو ایک محسوس نوعیت کی مثال دی ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: Yes.
    (مرزاناصراحمد: جی ہاں!)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Now, Sir, if I start selling soap in the name of Lever Brothers under their label....
    (جناب یحییٰ بختیار: اگر میں لیوربرادرز کے نام پر صابن بیچنا شروع کر دوں ان کا لیبل لگا کر)
    مرزاناصر احمد: ہوں۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... can the Lever Brothers go to court or not?
    (جناب یحییٰ بختیار: کیا لیور برادرز میرے خلاف کورٹ میں جائیں گے یا نہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: They should.
    (مرزاناصراحمد: ان کو جانا چاہئے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: And what will the court say? Change the label, change the label, change your name?
    (جناب یحییٰ بختیار: پھر کورٹ کیا کہے گا۔ لیبل تبدیل کرے گا، نام تبدیل کرے گا؟)
    Mirza Nasir Ahmad: The court would decide on the evidence. (مرزاناصر احمد: کورٹ شہادت پر فیصلہ دے گا)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Yes. Let us say Lever Brothers are already there.
    (جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں! چلئے لیور برادرز والے موجود ہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: ہاں if, the evidence proves it, yes. (مرزاناصراحمد: اگر شہادت سے ثابت ہو جائے تو ٹھیک ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: They are a firm or reputation for years. They have built up a reputation. That is their soap. You are trading in their name and, therefore, you must change the label, you must change the name of your firm, that they are registered. So, freedom or trade is limited by many considerations that you can't usurp someone else's right. You can't usurp someone else's trade.
    (جناب یحییٰ بختیار: اگر شہادت سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ مشہور فرم ہے اور تجارت میں یہ نام استعمال کرتے ہیں تو اس صورت میں آپ مجبور ہو جائیں گے کہ اپنی فرم کا نام تبدیل کریں۔ لیبل دوسرا کریں تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ تجارت وکاروباری آزادی کچھ باتوں کے پیش نظر مشروط ہے۔ کسی دوسرے کا حق آپ نہیں مار سکتے۔ کسی دوسرے کی تجارت کو ہڑپ نہیں کر سکتے)
    78Mirza Nasir Ahmad: Yes, if religion, say christionity, is the monopoly of a certain group then no other group ....
    (مرزاناصر احمد: جی ہاں! مذاہب میں لیجئے! اگر عیسائی مذہب کسی ایک خاص گروپ کی بلا شرکت غیرسے اجارہ داری ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, no ....
    (جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: .... can have the label of christianity.
    (مرزاناصراحمد: تو کیا کوئی اور گروپ عیسائی کا لیبل نہیں لگاسکتا)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, I am not insinuating anything, please I am just dealing with the restrictions on fundamental rights that, in principle, these rights are restricted by Law.
    (جناب یحییٰ بختیار: میں جناب کسی بات کی پیش بندی نہیں کر رہا ہوں۔ میں تو سردست پابندیوں کا ذکر کر رہا ہوں۔ بنیادی حقوق پر کہ اصول یہ ہے کہ بنیادی حقوق پر قانونی پابندیاں ہوا کرتی ہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: By rational law.
    (مرزاناصر احمد: لیوربرادرز کو اجارہ داری حاصل ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Naturally. Law is suppose to be rational. Till it is declared void by the Constitution or the court .... it is suppose to be rational.
    (جناب یحییٰ بختیار: قدرتی طور پر قانون معقول رہتا ہے تاوقتیکہ دستور یا کورٹ اس کو کالعدم قرار نہ دے دے۔ اس لئے قانون معقول ہی ہوا کرتا ہے۔ عقل پر اترنے والا)
    مرزاناصراحمد: ہوں۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... it is supposed to be rational.
    Now, law can impose restrictions on the right of tade, on the rights given in Article:20, that if a person .... now I will take ....
    (جناب یحییٰ بختیار: قانون معقول رہتا ہے تو جناب قانون کو اختیار ہے کہ تجارت کے حقوق پر پابندیاں عائد کرے اور جو حقوق کہ دفعہ نمبر:۲۰ کے تحت دئیے ہیں ان پر پابندیاں لگائے)
    Mirza Nasir Ahmad: Lever Brothers has got the monopoly to use that label.
    (مرزاناصر احمد: لیور برادرز کو اجارہ داری حاصل ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, but that is their patent. On that I say....
    (جناب یحییٰ بختیار: نہیں۔ لیکن اس کا بنانا گارنٹی شدہ اور مضبوط ہے)
    مرزاناصراحمد: ہوں، ہوں۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: I say but who made it patent? The law?
    (جناب یحییٰ بختیار: میں نے کہا اس کا بنانا گارنٹی ہے قانونی طور پر)
    Mirza Nasir Ahmad: The law, yes.
    (مرزاناصر احمد: جی ہاں! قانونی طور پر)
    79Mr. Yahya Bakhtiar: We are supposing the law....
    Mirza Nasir Ahmad: As far as one's faith is concerned, there is no group which has got monopoly of any faith.
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, Sir, I have not come to that. Yet I am just on the principle of restriction.
    (جناب یحییٰ بختیار: نہیں جناب! ابھی میں اس بات پر نہیں آیا۔ ابھی تو میں پابندیوں کے اصولی ضابطہ کی بات کر رہا ہوں)
    Mirza Nasir Ahmad: You are moving towards that direction on a very narrow and muddy road.
    (مرزاناصر احمد: آپ اسی طرف جارہے ہیں۔ ایک نہایت تنگ اور کیچڑ بھرے راستے سے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No. I am not. I have not gone that I may come to it; but it will not be in this form or this shape.
    (جناب یحییٰ بختیار: جی نہیں! میں اسی پر آؤں گا مگر اس شکل اور صورت میں نہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: All right.
    (مرزاناصر احمد: اچھا ٹھیک ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: I am just asking that, on principle, if a person takes advantage of somebody ....
    (جناب یحییٰ بختیار: میں صرف پوچھتا ہوں کیا اصول ہے اگر ایک شخص فائدہ اٹھاتا ہے کچھ لوگوں سے)
    Mirza Nasir Ahmad: You are right, you are perfectly right, but these examples, to my mind.... I am very humble; don't claim that I am on right.... but, to my mind, they are irrelevant.
    (مرزاناصر احمد: آپ صحیح ہیں۔ بالکل صحیح ہیں۔ لیکن یہ مثال، میں تو سیدھا آدمی ہوں۔ میں نہیں دعویٰ کرتا کہ میں صحیح ہوں۔ لیکن میری نظر میں یہ مثالیں غیرمتعلق ہیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: They are not irrelevant.
    (جناب یحییٰ بختیار: غیرمتعلق نہیں ہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: They are not relevant to the question we are discussing here.
    (مرزاناصر احمد: جو سوال زیربحث ہے۔ اس سے غیرمتعلق ہیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, this is for the Committee. I can't say anything, but ......
    (جناب یحییٰ بختیار: اب یہ کمیٹی پر ہے۔ میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ لیکن …)
    Mr. Chairman: It is for the Chair to decide whether a question is relevant or irrelevant.
    (جناب چیئرمین: یہ بات چیئرمین کے فیصلہ کرنے کی ہے کہ سوال غیرمتعلق ہے یا نہیں ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, it is for the Committee. It is not for me or for you to say which is relevant and which is not.
    (جناب یحییٰ بختیار: اس پر کمیٹی کو فیصلہ کرنا ہے۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ کون متعلق ہے کون غیرمتعلق)
    Mirza Nasir Ahmad: Which is certainly not for me. (مرزاناصر احمد: یقینا چیئرمین کو فیصلہ کرنا ہے)
    80Mr. Yahya Bakhtiar: Yes, not for ....
    Mirza Nasir Ahmad: I am a witness here.

اس صفحے کی تشہیر