1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

(متفقہ قرارداد چھ اراکین کی جانب سے)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 28, 2015

  1. ‏ مارچ 28, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (متفقہ قرارداد چھ اراکین کی جانب سے)
    یہ قرارداد میں اپنی طرف سے اور مولانا مفتی محمود، مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی، پروفیسر غفور احمد، جناب غلام فاروق، چوہدری ظہور الٰہی اور سردار مولا بخش سومرو کی جانب سے پیش کرتا ہوں۔ اس قرارداد میں ہماری تجاویز کا مسودہ موجود ہے۔ اب اس میں تجاویز موجود ہیں۔ اسے آئین میں ترمیمی بل کے ساتھ تقسیم کر دیا جائے۔
    جناب چیئرمین: اسے بھی تقسیم کیا جارہا ہے۔
    جناب عبدالحفیظ پیرزادہ: اسے علیحدہ طور پر تقسیم نہ کیا جائے۔ جناب! اب میرے پاس اصل نسخہ موجود ہے۔ میں اسے ریکارڈ کے مقصد کے لئے رکھنا چاہوں گا۔ جناب والا! ہم کمیٹی کے غور اور منظوری کے لئے سفارشات کی شکل میں ایک قرارداد پیش کر رہے ہیں۔ جس میں آئینی، قانونی، انتظامی اور ضابطہ جاتی امور شامل ہیں اور اس میں پاکستان کے تمام شہریوں، قطع نظر اس بات سے کہ ان کا تعلق کس گروہ سے ہے، ان کی زندگی، آزادی، جائیداد، عزت اور بنیادی حقوق کے تحفظ کی یاد دہانی موجود ہے۔ دستوری ترامیم کی میں وضاحت کروں گا اور ان کے ساتھ ساتھ قانونی اور ضابطہ جاتی ترامیم کی بھی جو ہم تجویز کر رہے ہیں۔ اس کارروائی سے قبل میں یہ کہنا چاہوں گا کہ جیسے ہی یہ معزز ایوان ان تجاویز کو منظور کرتا ہے اور میں پر اعتماد ہوں کہ یہ منظوری اتفاق رائے سے ہوگی۔ جیسا کہ قرارداد پیش کرتے وقت ابھی ظاہر ہوجائے گا۔ ہم کمیٹی کی حیثیت کو فوراً قومی اسمبلی کی حیثیت سے بدل دیں گے اور میں کمیٹی کی سفارشات کو قومی اسمبلی کے سامنے پیش کروں گا۔ ان سفارشات کی قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد ہم دستور میں ترمیم کا بل لا سکیں گے۔ ہمیں امید ہے کہ آج کی نشست میں دستور میں ترمیم کا بل منظور کر لیں گے اور اسے سینٹ بھیج دیا جائے گا اور ہمیں توقع ہے کہ سینٹ بھی اسے آج ہی منظور کر لے گا اور اس طرح آج یہ باب بند ہو جائے گا۔
    اب جناب میں اپنی اور اپنے دوستوں کی جانب سے جن دستوری ترامیم کی سفارش کرتا ہوں، وہ دو ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ دستوری ترمیم کے ذریعے اس شخص کی تعریف متعین کر دی جائے۔ جو مسلمان نہیں ہے یہ تعریف آرٹیکل ۲۶۰ میں ایک شق کے اضافے کی صورت میں ہوگی۔ آئین کے آرٹیکل ۲۶۰ کی دو شقیں ہیں۔ یہ آرٹیکل تعریف سے متعلق ہے اور ہم اس آرٹیکل میں شق نمبر۳ کے اضافے کے ذریعے ’’غیرمسلم‘‘ کی حسب ذیل تعریف کا اضافہ کریں گے۔
    ’’(۳) ایسا شخص جو خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ کی حتمی اور غیرمشروط ختم نبوت کو نہیں مانتا، یا لفظ کے کسی بھی مفہوم اور وضاحت میں حضرت محمد ﷺ کے بعد نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، یا ایسے دعویدار کو نبی یا مذہبی مصلح مانتا ہے، اس آئین یا قانون کے مقاصد کے لحاظ سے وہ مسلمان نہیں ہے۔‘‘
    جناب والا! ہماری تجویز کردہ دوسری ترمیم آئین کے آرٹیکل ۱۰۶ کی شق نمبر۳ میں ہے۔ اس کا تعلق صوبائی اسمبلیوں میں عمومی نشستوں کے علاوہ مختلف گروہوں کی مخصوص نشستوں سے ہے اور آرٹیکل ۱۰۶ کی شق نمبر۳ میں تجویز کردہ ترمیم یہ ہے کہ لفظ گروہ کے بعد یا اس کے آخر میں حسب ذیل الفاظ کا اضافہ کر دیا جائے: ’’گروہ اور قادیانی گروپ کے افراد یا لاہوری گروپ جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں۔‘‘ یہ دوسری ترمیم ہے۔
    جناب والا! مجھے یہاں بالکل واضح کر دینا چاہئے کہ ہمارے دستور کا آرٹیکل۲۰ اپنے مذہب کا اعلان کرنے، تبلیغ کرنے اور عمل کرنے کی آزادی کا بنیادی حق دیتا ہے اور ہر مذہبی گروہ کو یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ اپنے مذہب کا اعلان کرے، تبلیغ کرے اور اس پر عمل کرے۔ لیکن جیسا کہ میں نے پہلے کہا مسلمانوں کا ختم نبوت کا عقیدہ، جس کی تعریف آئین کے آرٹیکل۲۰ میں متعین ہوگی۔ بنیادی نوعیت کا عقیدہ ہے۔ لہٰذا ہم تجویز پیش کرتے ہیں کہ تعزیرات پاکستان میں اس طرح ترمیم کی جائے کہ دفعہ ۲۹۵(الف) میں ایک وضاحت کا اضافہ کیا جائے۔ تعزیرات پاکستان میں پہلے سے ایک شق موجود ہے جو مذہب کی اس انداز میں تبلیغ کی ممانعت کرتی ہے جو دوسروں کے مذہبی عقائد پر حملہ ہو۔ اس لئے تمام مسلمان… کیونکہ ہم دوسروں کو ان کے اپنے مذہب کا اعلان کرنے، عمل کرنے اور تبلیغ کرنے سے نہیں روک سکتے۔ لیکن اگر کوئی شخص مسلمان ہے تو ہمیں یہ دیکھنا پڑے گا کہ تمام ایسے مسلمان، جو عقیدہ ختم نبوت، جیسا کہ آرٹیکل ۲۶۰ شق نمبر۳ میں اس کی وضاحت کر دی گئی ہے، کے خلاف اعلان، عمل یا تبلیغ کرتے ہیں تو وہ اس دفعہ کے زیرتحت واجب التعزیر ہوں گے۔
    جناب والا! ان ترامیم کے نتیجے میں فطری طور پر متعلقہ ضابطوں، قوانین اور قانونی رواج میں تبدیلی کرنا ہوگی۔ مثلاً نیشنل رجسٹریشن ایکٹ اور الیکٹورال رولز وغیرہ اور ہم غور کے لئے تجویز کرتے ہیں کہ دستوری ترمیم کے نتیجے میں ہونے والی یہ قانونی تبدیلیاں حکومت مناسب وقت پر کرتی رہے۔ کیونکہ ایسے قوانین بھی ہوسکتے ہیں۔ جن میں لوگوں کی طرف سے انداراج کی تبدیلی ہونا ہو اور آخر میں جناب میں یہ کہنا چاہوں گا کہ یہ آئین ہمارے اتفاق رائے سے بنا ہے۔ اس آئین میں ہم نے شہریوں کو نہ صرف بنیادی حقوق دئیے ہیں بلکہ ہم نے ان حقوق کی گارنٹی دی ہے اور یہ قوم اور ریاست دونوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی شخص کی ذات، مذہب اور عقیدے سے قطع نظر اس کی جائیداد، آزادی، زندگی اور آبرو اور دستور میں دئیے گئے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔لامحالہ اس تنازعے کا اختتام ہوچکا ہے اور اس کے ساتھ ہی بھیانک خواب بھی ختم ہو رہا ہے۔ اس لئے ہم سب شہریوں کو حاصل شدہ ان حقوق کے مکمل تحفظ کی تلقین بھی کریں اور ہمارا عمل بھی ان حقوق کی کامل پاسداری کرے گا۔ یہ تھی ہماری کل تجویز۔
    آپ کا بہت شکریہ!
    جناب چیئرمین: کیا مکمل ایوان کی یہ کمیٹی قرارداد اور سفارشات کو منظور کرتی ہے؟
    تمام ارکان: جی ہاں!

اس صفحے کی تشہیر