1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

محمدیہ پاکٹ بک

وحید احمد نے 'تحفظ ختم نبوت کتب' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اپریل 3, 2015

  1. ‏ جولائی 3, 2015 #181
    وحید احمد

    وحید احمد رکن ختم نبوت فورم

    گیارہویں آیت:
    یا ایھا الَّذِیْن امنوا اطیعوا اللّٰہ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم۔(۲۷)
    '' اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کی اور ان لوگوں کی اطاعت کرو جو تم میں سے اولی الامر ہیں۔''
    یہ آیت کریمہ حکم کرتی ہے کہ مسلمان اللہ تعالیٰ کی اطاعت کریں اور اس کے رسول یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کریں اور پھر خلفائے اسلام اور ارباب حکومت اسلامیہ کی اطاعت کریں۔
    جن لوگوں کو خدا نے عقل و فہم کا کوئی حصہ دیا ہے وہ ذرا غور کریں اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی تشریعی یا غیر تشریعی، ظلی یا بروزی نبی پیدا ہونے والا تھا تو کیا یہ ضروری نہ تھا کہ آپ کے بعد بجائے اولی الامر کی اطاعت کے اس نبی کی اطاعت کا سبق دیا جاتا۔ اور یہ عجیب تماشا ہے کہ قرآن عزیز لوگوں کو اولی الامر کی اطاعت کی طرف بلاتا ہے اور بعد میں آنے والے نبی کی اطاعت کا ذکر تک نہیں کرتا۔
    لہٰذا ثابت ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ظلی یا بروزی یا کسی اور قسم کا کوئی نبی ہرگز ہرگز اس امت میں پیدا نہیں ہوگا۔
    ------------------------------
    (۲۷) پ۵ النساء آیت نمبر۵۹
  2. ‏ جولائی 3, 2015 #182
    وحید احمد

    وحید احمد رکن ختم نبوت فورم

    بارہویں آیت:
    وَمَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ وَمَنْ تَوَلّٰی فَمَا اَرْسَلْنٰکَ عَلَیْھِمْ حَفِیْظًا۔(۲۸)
    '' جس نے رسول یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جس نے پشت پھیری (تو بلا سے) ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان پر محافظ بنا کر نہیں بھیجا۔''
    اس آیت میں بھی امت محمدیہ کے لیے صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو مطلقاً اللہ تعالیٰ کی اطاعت قرار دیا گیا ہے اور اگر کوئی نبی آپ کے بعد آنے والا ہوتا تو اس کے آنے کے بعد کوئی شخص اس وقت تک خدا کا مطیع کہلانے کا مستحق نہیں ہوسکتا تھا جب تک کہ وہ اس نبی کی اطاعت نہ کرے۔
    ----------------------------------------
    (۲۸) ایضاً آیت نمبر ۸۰
  3. ‏ جولائی 3, 2015 #183
    وحید احمد

    وحید احمد رکن ختم نبوت فورم

    تیرہویں آیت:
    ٰٓیاََیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ہَلْ اَدُلُّکُمْ عَلٰی تِجَارَۃٍ تُنْجِیْکُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ ۔تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَتُجَاہِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِاَمْوَالِکُمْ وَاَنفُسِکُمْ ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَکُمْ اِِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۔(۲۹)
    '' اے ایمان والو! میں بتاؤں تم کو ایک سوداگری کہ بچائے تم کو دردناک عذاب سے۔ ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مال سے اور جان سے۔'' (۳۰)
    اس آیۂ کریمہ میں جو منفعت بخش تجارت مسلمانوں کو سکھائی ہے وہ بھی یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئیں اور اسی ایمان کو عذابِ آخرت سے بچانے کا کفیل بتلایا ہے اور اس میں کہیں شرط نہیں کہ ایک بروزی، ظلی، یا لغوی نبی آئے گا اور اس پر ایمان لانا بھی شرطِ نجات ہے۔
    ----------------------------
    (۲۹) پ۲۸ الصف آیت نمبر ۱۰،۱۱
    (۳۰) براھین احمدیہ ص۲۳۴ و تفسیر مرزا ص۱۲۴، ج۸
  4. ‏ جولائی 3, 2015 #184
    وحید احمد

    وحید احمد رکن ختم نبوت فورم

    چودہویں آیت:
    وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اَلَیْکَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ وَبِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْنَ۔ اُولٰئِکَ عَلٰی ھُدًی مِّنْ رَبِّھِمْ وَاُولٰـئِٓکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۔(۳۱)
    '' اور جو ایمان لاتے ہیں اس (وحی) پر جو اتاری گئی تجھ پر (حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر) اور جو وحی کہ اتاری گئی تجھ سے پہلے اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے پائی ہے راہ اپنے رب کی اور وہی کامیاب ہیں۔''
    یہ آیت بھی دو طریق سے مطلقاً ختم نبوت کی روشن دلیل ہے۔ اول یہ آیت صاف طور سے اعلان کر رہی ہے کہ صرف اس وحی پر ایمان لانا کافی اور ہدایت و نجات کے لیے ضامن ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے انبیاء پر نازل ہوئی چنانچہ اس وحی پر ایمان رکھنے والوں کے لیے اُوْلٰئِکَ عَلٰی ھُدًی مِّنْ رَبِّھِمْ وَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ کی بشارت ہے۔
    ناظرین کرام غور فرمائیں کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی سلسلہ وحی جاری ہے اور خداوند عالم کے ارشادات اہل دنیا پر نازل ہوتے رہتے ہیں تو اس جدید وحی پر ایمان لانا بھی ایسا ہی فرض نہ ہونا چاہیے جیسا پہلے انبیاء علیہم السلام کی وحی پر اور کیا کوئی شخص جو اس پر ایمان نہ لائے تو ایمان بالبعض اور کفر بالبعض کا ٹھیک مصداق نہ ہوگا۔ پھر وہ کیسے ہدایت اور فلاح حاصل کرسکتا ہے۔
    لہٰذا صرف انبیائے سابقین اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی پر ایمان لانے کو قیامت تک مدار نجات اور ہدایت و فلاح کا کفیل قرار دینا اس بات کا نہایت واضح ثبوت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سلسلۂ وحی ختم ہوچکا ہے۔
    دوم: اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی وحی نبوت باقی تھی تو مِنْ قَبْلِکَکی تخصیص بے معنی ہو جائے گی۔
    اعتراض:
    آخرت سے مراد آخری وحی ہے۔
    الجواب:
    اس کا جواب تیرھویں تحریف میں درج ہے۔
    --------------------------------
    (۳۱) پ۱ البقرہ آیت نمبر ۴،۵
  5. ‏ جولائی 21, 2015 #185
    وحید احمد

    وحید احمد رکن ختم نبوت فورم

    پندرہویں آیت:
    (۱)اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ یعنی پرورش کرنے والا ہے بلا استثناء تمام مخلوقات کا رب ہے کوئی فرد بھی باہر نہیں۔ (۳۲)
    (۲) اِنَّ ھُوَ اِلاَّ ذِکَرٌ لِّلْعَالَمِیْنَ یہ قرآن مجید تمام جہانوں کے لیے ہے قرآن مجید تمام دنیا کے لیے ہدایت ہے کسی ملک یا قوم کے ساتھ مخصوص نہیں۔(۳۳)
    (۳) اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِع للنَّاس لَلَّذِیْ بِبَکّۃَ مُبَارَکًا وَّھُدًی لِّلْعٰلَمِیْنَ مکہ شریف تمام دنیا میں قیامت تک کے لیے مرکز ہے۔(۳۴)
    دنیا کا کوئی حصہ اس کی مرکزیت کو چھوڑ نہیں سکتا۔
    وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلاَّ رَحْمَۃً لِّلْعَلٰمِیْنَ ہم نے کسی خاص قوم پر رحمت کرنے کے لیے نہیں بلکہ اس لیے بھیجا ہے کہ تمام جہان پر رحمت کی جائے۔ (۳۵)
    نتیجہ:
    جس طرح سب جہان کا خدا ایک ہے۔
    قرآن سب دنیا کے لیے ایک ہے تا قیامت۔
    قبلہ ایک ہے تمام دنیا کے لیے تا قیامت۔
    نبی ایک ہے تمام دنیا کے لیے تا قیامت۔
    تشریح خود محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دی۔
    یٰاَیُھَا النّاسُ اِنَّ رَبَّکُمْ وَاحِدٌ وَّاَبَاکُمْ وَاحِدٌ وَدِیْنَکُمْ وَاحِدٌ وَنبیکُمْ واحد لا نَبیَّ بَعْدَیْ۔(کنزالعمال) (۳۶)
    '' کہ اے میری امت کے لوگو! یاد رکھو تمہارا خدا ایک ہے، تمہارا باپ ایک ہے تمہارا دین ایک ہے تمہارا نبی بھی ایک ہی ہے اور میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ ''
    معلوم ہوا کہ جب دوسرا نبی آجائے تو امت بھی اور ہو جاتی ہے۔ پہلے نبی کی امت نہیں رہتی۔ دوسرا نبی ماننا باعث اختلاف ہے۔
    نوٹ: نبی کے لیے ضروری ہے کہ اس کی امت اور کتاب ہو مرزا صاحب فرماتے ہیں:
    '' جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے گا اس دعویٰ میں ضروری ہے کہ وہ خدا کی ہستی کا اقرار کرے اور نیز یہ بھی کہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے پر وحی نازل ہوتی ہے اور خلق اللہ کو وہ کلام سنا دے جو اس پر خدا کی طرف سے نازل ہوا ہو اور ایک امت بناوے جو اس کو نبی سمجھتی اور اس کی کتاب کو کتاب اللہ جانتی ہو۔'' (۳۷)
    نتیجہ:
    جو شخص مرزا کو مانے گا وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی تعلق نہ رکھے گا۔
    -----------------------------------------------
    (۳۲) پ۱ الفاتحہ آیت نمبر ۲
    (۳۳) پ۷ الانعام آیت نمبر ۹۰
    (۳۴) پ۴ اٰل عمران آیت نمبر ۹۶
    (۳۵) پ۱۷ الانبیاء آیت نمبر ۱۰۷
    (۳۶) کنز العمال (۵۶۵۵)
    (۳۷) آئینہ کمالات اسلام ص۳۴۴
  6. ‏ جولائی 21, 2015 #186
    وحید احمد

    وحید احمد رکن ختم نبوت فورم

    اگرچہ قرآن پاک میں بیسیوں آیات اور بھی موجود ہیں جو ختم نبوت پر روشنی ڈال رہی ہیں۔ مگر ہم انہی پر اکتفا کرکے چند احادیث نبویہ درج کرتے ہیں۔
    پہلی حدیث:
    عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَثَلِیْ وَمَثلُ الْاَنْبِیَائِ کَمَثَلِ قَصْرٍ اُحُسِنَ بُنْیَانہٗ تُرِکَ مِنْہُ مَوْضِعُ لَبْنَۃٍ فَطَافَ بہ النظارُ یتحیون مِنْ حُسْنُ بنیانہ الا موضع تلک اللۃ فَکُنْتُ اَنَا سَدَدْتُ موضع اللبنۃ ختم لی البنیان وختم بی الرسل (۳۸) وفی روایۃ فانا اللبنۃ وانا خاتم النبیین۔(۳۹)
    '' ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری اور انبیاء کی مثال مانند ایک ایسے محل کے ہے کہ اچھی بنائی گئی ہو عمارت اس کی مگر اس میں ایک اینٹ کی جگہ خالی ہو لوگ گھومتے ہیں اس کے گرد اور تعجب کرتے ہیں اس کی حسن عمارت پر۔ مگر ایک اینٹ کی جگہ خالی دیکھ کر حیران ہوتے ہیں۔ سو میں ہوں وہ مبارک اینٹ جس نے اس جگہ کو پر کیا۔ ختم ہوگیا ہے میری ذات کے باعث نبوت کا محل۔ بدیں صورت ختم ہوگیا ہے میری ذات پر رسولوں کا سلسلہ۔ ایک روایت میں ہے کہ نبوت کی آخری اینٹ میں ہوں اور میں ہی نبیوں کا ختم کرنے والا ہوں۔''
    --------------------------
    (۳۸) متفق علیہ من حدیث جابر بن عبداللّٰہ رضی اللّٰہ عنہ اخرجہ البخاری فی الصحیح ص۵۰۱، ج۱ کتاب المناقب باب خاتم النبیین و مسلم فی الصحیح ص۲۴۸، ج۲ کتاب الفضائل باب زکر کونہ ﷺ خاتم النبیین واخرجہ مسلم ایضاً من حدیث ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ عنہ فی المصدر السابق
    (۳۹) متفق عن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ عنہ اخرجہ البخاری فی الصحیح فی المصدر السابق و مسلم فی الصحیح المصدر السابق واوردہ المصنف لفظ مصابیح السنہ ص۳۴،ج۴ باب فضائل سید المرسلین، واخرجہ البغوی بلفظہ التام باسنادہ فی شرح السنۃ ص۲۰۰، ج۱۳ کتاب الفضائل باب فضائل سید الاولین والاخرین محمدﷺ۔
  7. ‏ جولائی 21, 2015 #187
    وحید احمد

    وحید احمد رکن ختم نبوت فورم

    دوسری حدیث:
    وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ ﷺ قَالَ فُضِّلتُ عَلَی الانبیاء بست اعطیت جوامع الکلم ونصرت بالرعب واحلت لی الغنائم وجعلت لی الارض مسجداً وطھورًا واُرْسِلْتُ الی الخلق کافۃ وختم بی النبیون۔(۴۰)
    '' آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں چھ باتوں میں جملہ انبیاء پر فضیلت دیا گیا ہوں (۱)کلمات جامع مجھے ہی ملے (۲) فتح دیا گیا میں ساتھ رعب کے (۳) حلال کی گئیں میرے لیے غنیمتیں (۴) تمام زمین میرے لیے سجدہ گاہ پاک بنائی گئی (۵) رسول بنایا گیا ہوں میں تمام کافہ ناس کے لیے (۶) ختم کئے گئے میرے ساتھ انبیاء۔ ''
    ----------------------------------------------
    (۴۰) اخرجہ مسلم فی الصحیح ص۱۹۹، ج۱ کتاب المساجد ومواضع الصلوٰۃ والترمذی مع تحفہ ص۳۷۸،ج۲ کتاب السیر باب ماجاء فی الغنیمۃ وابن حبان فی الصحیح رقم الحدیث نمبر۲۳۰۹ واحمد فی مسندہٖ ص۴۱۲ ج۲ کلھم عن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ عنہ کما رواہ ابو یعلی، فیض القدیر ص۴۳۸،ج۴ واوردہ مرزا خدا بخش مرزائی القادیانی فی ، عسل مصفٰی ص۲۲۶،ج۱ و مرزا محمود فی تفسیرہٖ ص۱۲۱، ج۲ وایضاً ص۳۶۱، ج۷
  8. ‏ جولائی 21, 2015 #188
    وحید احمد

    وحید احمد رکن ختم نبوت فورم

    تیسری حدیث:
    عَنْ ثُوْبَانَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلَ اللّٰہ ﷺ وَاِنَّہٗ سیکون فِیْ اُمَّتِیْ کذَّابُوْنَ ثَلاَثُوْنَ کُلُّھُمْ یَزْعَمُ اَنَّہٗ نَبِیٌّ اللّٰہُ اَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لَا نَبِیّ بَعْدِیْ(۴۱) (ابوداؤد ، ترمذی، مشکوٰۃ کتاب الفتن)
    '' میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے۔ ہر ایک ان میں کا اپنے تئیں نبی ٹھہرائے گا۔ حالانکہ میں نبیوں کو ختم کرچکا ہوں، میرے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہوگا معلوم ہوا امت محمدیہ میں جو نبی پیدا ہوگا کذاب ہوگا۔ ''
    اسی باب میں دوسری روایت بخاری و مسلم کی میں ان دجالوں کذابوں کا قیامت تک ہونا فرمایا ہے۔
    ------------------------------
    (۴۱) اخرجہ احمد فی مسندہٖ ص۲۷۸، ج۸ و ابوداؤد فی السنن ص۲۳۴، ج۱ کتاب الفتن باب ذکر الفتن و دلائلھا والترمذی مع تحفہ ص۲۲۷،ج۳ کتاب الفتن باب ماجاء لا تقوم الساعۃ حتی یخرج کذابون وابن ماجہ ص۲۹۲ فی الفتن باب ما یکون من الفتن والحاکم فی المستدرک ص۴۴۹،ج۴، کتاب الفتن باب اذا وضع السیف فی امتی وقال صحیح علی شرط الشیخین وأقرہ الذھبی داوردہ مرزا خدا بخش القادیانی فی عسل مصفّٰی ص۲۰۳، ج۲
  9. ‏ جولائی 21, 2015 #189
    وحید احمد

    وحید احمد رکن ختم نبوت فورم

    چوتھی حدیث:
    عَنِ العِرْبَاضَ بْنِ سَارِیَۃَ ؓ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہ ﷺ انہ قال انی عند اللّٰہ مَکْتُوْبٌ خاَتِمٌ النبیین وَاِنَّ اٰدَم لمنجدل فی طینتہ۔(۴۲)
    '' آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدم علیہ السلام جس زمانے میں گوندھی ہوئی مٹی کی ہیئت میں تھے میں اس وقت بھی خدا کے نزدیک نبیوں کو بند کرنے والا لکھا تھا۔'' (شرح السنۃ واحمد در مشکوٰۃ باب فضائل سید المرسلین)
    ---------------------------
    (۴۲) اخرجہ احمد فی مسندہٖ ص۱۲۷،۱۱۸، ج۴ والبزار فی مسندہ اوردہ الھیثمی فی کشف الاستار ص۱۱۳،ج۳ کتاب علامات النبوۃ باب قدم نبوتہ وابن حبان فی صحیحہٖ رقم الحدیث ۶۳۷۰ والطبرانی فی معجم الکبیر ص۲۵۲،ج۱۸ الحدیث ۲۲۹۔ والحاکم فی المستدرک ص۶۰۰، ج۲ کتاب التاریخ باب ذکر اخبار سید المرسلین ﷺ وقال صحیح الاسناد وأقرہ الذھبی وابونعیم فی حلیۃ الاولیاء ص۸۹،ج۶ فی ترجمۃ ابوبکر الغسانی والبیھقی فی دلائل النبوۃ ص۱۳۰،ج۲ جماع ابواب المبعث باب الوقت الذی کتب فیہ محمدﷺ نبیاً واخرجہ البغدی فی شرح السنہ ص۲۰۷ ج۱۳ واوردہ القادیانی فی ملفوظاتہٖ ص۴۲۹، ج۱
  10. ‏ جولائی 21, 2015 #190
    وحید احمد

    وحید احمد رکن ختم نبوت فورم

    چوتھی حدیث:
    عَنِ العِرْبَاضَ بْنِ سَارِیَۃَ ؓ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہ ﷺ انہ قال انی عند اللّٰہ مَکْتُوْبٌ خاَتِمٌ النبیین وَاِنَّ اٰدَم لمنجدل فی طینتہ۔(۴۲)
    '' آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدم علیہ السلام جس زمانے میں گوندھی ہوئی مٹی کی ہیئت میں تھے میں اس وقت بھی خدا کے نزدیک نبیوں کو بند کرنے والا لکھا تھا۔'' (شرح السنۃ واحمد در مشکوٰۃ باب فضائل سید المرسلین)
    ---------------------------
    (۴۲) اخرجہ احمد فی مسندہٖ ص۱۲۷،۱۱۸، ج۴ والبزار فی مسندہ اوردہ الھیثمی فی کشف الاستار ص۱۱۳،ج۳ کتاب علامات النبوۃ باب قدم نبوتہ وابن حبان فی صحیحہٖ رقم الحدیث ۶۳۷۰ والطبرانی فی معجم الکبیر ص۲۵۲،ج۱۸ الحدیث ۲۲۹۔ والحاکم فی المستدرک ص۶۰۰، ج۲ کتاب التاریخ باب ذکر اخبار سید المرسلین ﷺ وقال صحیح الاسناد وأقرہ الذھبی وابونعیم فی حلیۃ الاولیاء ص۸۹،ج۶ فی ترجمۃ ابوبکر الغسانی والبیھقی فی دلائل النبوۃ ص۱۳۰،ج۲ جماع ابواب المبعث باب الوقت الذی کتب فیہ محمدﷺ نبیاً واخرجہ البغدی فی شرح السنہ ص۲۰۷ ج۱۳ واوردہ القادیانی فی ملفوظاتہٖ ص۴۲۹، ج۱

اس صفحے کی تشہیر