1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

محمدی بیگم کے متعلق قادیانیوں سے دس سوالات

محمدابوبکرصدیق نے 'منکوحہ آسمانی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ نومبر 5, 2015

  1. ‏ نومبر 5, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    محمدی بیگم کے متعلق قادیانیوں سے دس سوالات

    سوال:۱…آپ نے قول نمبر۵۵ میں فرمایا ہے کہ اس پیش گوئی کے ساتھ ایک شرط بھی تھی جو اسی وقت شائع کر دی گئی تھی۔ جہاں تک میں نے آپ کی کتابوں کا مطالعہ کیا ہے۔ آپ نے پیش گوئی کے اشتہارات میں کہیں اس فقرہ کو محمدی بیگم کے ساتھ نکاح والی پیش گوئی کے لئے شرط قرار نہیں دیا۔ اگر ایسا ہے تو براہ کرم پیش گوئی کے ساتھ اس کا بطور شرط شائع ہونا ثابت کریں۔ ہم آپ کے بہت ہی ممنون ہوں گے۔ کیونکہ آپ ہمارے علم میں اضافہ کا باعث ہوں گے۔
    سوال:۲… ’’توبی توبی‘‘ توبہ کر، اے عورت! توبہ کر، اے عورت! ’’ان البلاء علیٰ عقبک‘‘ بے شک بلا تیرے پیچھے لگی ہوئی ہے۔ ’’ای علیٰ بنتک وبنت بنتک‘‘ یعنی بلا تیری بیٹی (احمد بیگ کی بیوی) اور تیری بیٹی کی بیٹی (محمدی بیگم) کے پیچھے لگی ہوئی ہے۔‘‘

    (انجام آتھم ص۲۱۴، خزائن ج۱۱ ص ایضاً)
    آپ فرماتے ہیں کہ یہ شرط تھی جو اسی وقت شائع کر دی گئی تھی۔ اگر یہ شرط موجود تھی تو پیش گوئی مشروط ہوئی۔ اگر پیش گوئی مشروط تھی تو آپ نے اپنے مذکورہ بالا بیسیوں اقوال میں کیوں اس پیش گوئی کو تقدیر مبرم قرار دیا۔ کیا یہ محض دھوکا اور جھوٹ ثابت نہیں ہوتا؟
    سوال:۳… اگر مان لیا جائے کہ انہوں نے توبہ کی اور عذاب میں تاخیر ہوگئی۔ مگر خود آپ قول نمبر۵۲ میں اعلان کر رہے ہیں کہ وہ پھر توبہ توڑ چکے ہیں اور عنقریب عذاب کا شکار ہوں گے۔ پس جب وہ توبہ توڑ چکے ہیں تو پیش گوئی کا پورا ہونا ضروری تھا۔ اب تو یہ عذر بھی نہ رہا کہ وہ توبہ کر رہے ہیں۔
    سوال:۴… ان کا گناہ تو محمدی بیگم کا آپ سے چھین لینا تھا۔ جب انہوں نے محمدی بیگم کو آپ کے نکاح میں نہ دیا تو توبہ کہاں ہوئی۔ پس جب تو بہ ہی ثابت نہیں تو عذاب کیوں نہ آیا؟
    سوال:۵… شرط توبی توبی سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر وہ توبہ نہ کرتے تو پھر محمدی بیگم ضرور آپ کے نکاح میں آجاتی۔ چونکہ انہوں نے توبہ کر لی۔ اس واسطے ان کی توبہ کی وجہ سے محمدی بیگم آپ کے نکاح میں آنے سے بچ گئی۔ پس صاف ثابت ہوا کہ توبہ نہ کرنے کی صورت میں ان پر بلا نازل ہو جاتی۔ گویا محمدی بیگم کا آپ کے نکاح میں آنا محمدی بیگم کے لئے ایک ذلت والا عذاب تھا جو ان کی توبہ سے ٹل گیا۔ مگر یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ ایک ’’نبی‘‘ کے نکاح میں آنا تو رحمت ہوتا ہے۔ عذاب کیوں کر ہوگیا۔ ہمارا خیال تو یہ ہے کہ ان کی توبہ اس طرح تھی کہ وہ محمدی بیگم آپ کو دے دیتے۔ پھر وہ عذاب سے بچ جاتے۔ مگر آپ اس کے خلاف نادانستہ طور پر خود اپنی توہین کر رہے ہیں کہ ان کی توبہ سے محمدی بیگم آپ سے بچ گئی۔ اگر یہ صحیح ہے تو واقعی پھر محمدی بیگم اور اس کے اقارب قابل تبریک ہیں کہ وہ آپ کے نکاح میں آنے کے عذاب سے بچ گئی۔
    سوال:۶… آپ اپنے قول نمبر۲۰ میں فرمارہے ہیں کہ یہ نکاح محمدی بیگم اور اس کے اقارب کے لئے ایک رحمت کا نشان ہوگا۔ مگر قول نمبر۵۵ میں محمدی بیگم کا آپ سے بچ نکلنا باعث رحمت قرار دیا جارہا ہے۔ جس کی وجہ سے ان کی توبہ تھی۔ پس آپ کا کون سا قول سچا سمجھا جائے۔
    سوال:۷… آپ نے تسلیم کیا ہے کہ خود خدا نے آپ کا نکاح آسمان پر محمدی بیگم کے ساتھ باندھ دیا تھا۔ یہ بھی آپ تسلیم کرتے ہیں کہ پھر سلطان محمد نے اس کو اپنے نکاح میں لے لیا۔ اب سوال یہ ہے کہ آیا سلطان محمد کا نکاح محمدی بیگم کے ساتھ جائز تھا یا ناجائز؟ ہمارے خیال میں آسمانی نکاح زمینی نکاح سے زیادہ مضبوط اور پکا ہونا چاہئے۔
    پس سوال یہ ہے کہ باوجود محمدی بیگم کے سلطان محمد کے ساتھ آباد ہونے کے وہ آپ کی منکوحہ بھی تھی یا نہ۔ اگر منکوحہ تھی تو آپ نے اس کا بازو لینے کی کوئی قانونی جارہ جوئی کیوں نہ کی؟
    سوال:۸… ’’نکاح فسخ ہوگیا یا تاخیر میں پڑ گیا۔‘‘ فسخ ہونا اور تاخیر میں پڑ جانا دو متضاد چیزیں ایک واقعہ پر کس طرح منطبق ہوسکتی ہیں؟ کیونکہ نکاح فسخ اس وقت ہوسکتا ہے کہ جب پہلے نکاح ہو بھی چکا ہو۔ پس اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا نکاح ہوچکا تھا۔ تاخیر میں پڑ گیا سے ظاہر ہوتا ہے کہ نکاح ابھی ہونا تھا۔ ملتوی ہوگیا۔ یعنی نکاح ابھی ہوا ہی نہیں تھا۔ پس یہ تو بتلائیے کہ کون سا پہلو سچا ہے؟
    سوال:۹… جب آپ کا نکاح محمدی بیگم کے ساتھ ہوچکا تھا۔ اس کے بعد سلطان محمد نے جبراً نکاح پر نکاح پڑھا لیا۔ باوجود اپنی منکوحہ ہونے کے آپ محمدی بیگم کی بیوگی کا انتظار کیوں کرتے رہے؟ وہ تو آپ کی بیوی بن چکی تھی۔ دیکھئے رسول کریمﷺ کا نکاح بھی حضرت زینبؓ کے ساتھ خدا نے انہیں الفاظ سے پڑھایا تھا۔ جن الفاظ کو آپ خدا کی طرف منسوب کر رہے ہیں۔ یعنی ’’زوجنا کھا‘‘ وہ تو فوراً زمین پر وقوع پذیر ہوگیا۔ مگر محمدی بیگم کے ساتھ اسی قسم کا نکاح آپ کے ساتھ بیس سال تک رہا اور آپ اس سے استفادہ نہ کر سکے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟
    سوال:۱۰… اگر فرض کر لیا جائے کہ نکاح فسخ ہوگیا تو اس کی وجہ جو آپ نے بیان فرمائی ہے۔ وہ تو جیسا کہ ہم اوپر بیان کر آے ہیں۔ بالکل عقل ونقل کے خلاف ہے۔ ہاں فسخ نکاح کی اور بھی کئی صورتیں ہیں۔ غور کیجئے! شاید ان میں سے کوئی وجہ واقع ہوگئی ہو اور جناب کو اس کے سمجھنے میں اجتہادی غلطی لگ گئی ہو۔
    اوّل… نان ونفقہ نہ دینے سے نکاح فسخ کرایا جاسکتا ہے۔
    دوم… مرد کو کوئی متعددی خبیث بیماری لگی ہو تو عورت نکاح فسخ کراسکتی ہے۔
    سوم… اگر خاوند نامرد ہو جائے تو عورت غالباً نکاح فسخ کراسکتی ہے۔
    چہارم… مرد اگر مرتد ہو جائے تو نکاح فسخ ہو جاتا ہے۔ کیا آپ مہربانی کر کے فرمائیں گے کہ ان وجوہات میں سے تو کوئی وجہ نہیں ہے؟
    تلک عشرۃ کاملۃ!
    • Like Like x 1

اس صفحے کی تشہیر