1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

محکمات و متشابہات

مبشر شاہ نے 'تحفظ ختم نبوت کتب' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ دسمبر 4, 2014

لڑی کی کیفیت :
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
  1. ‏ دسمبر 4, 2014 #1
    مبشر شاہ

    مبشر شاہ رکن عملہ منتظم اعلی

    محکمات و متشابہات

    پیشکش: شعبہ تحریر، تبیان

    فہرست

    قرآن مجید کی آیات میں محکم اور متشابہ سے کیا مراد ہے؟
    قرآن کے حروف مقطّعات سے کیا مراد ہے؟
    کیوں بعض قرآنی آیات متشابہ ہیں؟
    • Like Like x 1
  2. ‏ دسمبر 4, 2014 #2
    مبشر شاہ

    مبشر شاہ رکن عملہ منتظم اعلی

    قرآن مجید کی آیات میں محکم اور متشابہ سے کیا مراد ہے؟


    جیسا کہ ہم سورہ آل عمران میں پڑھتے ہیں:

    < ہُوَ الَّذِی اٴَنْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتَابَ مِنْہُ آیَاتٌ مُحْکَمَاتٌ ہُنَّ اٴُمُّ الْکِتَابِ وَاٴُخَرُ مُتَشَابِہَاتٌ>[1]
    ‘’اس نے آپ پر وہ کتاب نازل کی ہے جس میں سے کچھ آیتیں محکم ہیں جو اصل کتاب ہیں اور کچھ متشابہ ہیں’‘۔
    یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ‘’محکم’‘ اور ‘’متشابہ’‘ سے کیا مراد ہے؟


    لفظ ‘’محکم’‘ کی اصل ‘’احکام’‘ ہے اسی وجہ سے مستحکم اور پائیدار موضوعات کو ‘’محکم’‘ کھا جاتا ہے، کیونکہ وہ خود سے نابودی کے اسباب کو دور کرتے ہیں، اور اسی طرح واضح و روشن گفتگوجس میں احتمال خلاف نہ پایا جاتا ہو اس کو ‘’محکم’‘ کھا جاتا ہے، اس بنا پر ‘’محکمات’‘ سے وہ آیتیں مراد ہیں جن کا مفہوم اور معنی اس قدر واضح اور روشن ہو کہ جس کے معنی میں بحث و گفتگو کی کوئی گنجائش نہ ہو، مثال کے طور پر درج ذیل آیات :

    <قُلْ ھُوَ اللهُ اٴحدٌ >
    <لَیْسَ کَمِثْلِہِ شَیءٌ>
    <اللهخَالِقُ کُلّ شَیءٍ>

    <لِلذَکَرِ مِثْلُ حَظَّ الاٴنْثَیَینِ>


    اور اس کی طرح دوسری ہزاروں آیات جو عقائد، احکام، وعظ و نصیحت اور تاریخ کے بارے میں موجود ہیں یہ سب آیات ‘’محکمات’‘ ہیں، ان محکم آیات کو قرآن کریم میں ‘’امّ الکتاب’‘ کا نام دیا گیا ہے، یعنی یہی آیات اصل ،اور مرجع و مفسر ہیں اور یہی آیات دیگر آیات کی وضاحت کرتی ہیں۔

    لفظ ‘’متشابہ’‘ کے لغوی معنی یہ ہیں کہ اس کے مختلف حصے ایک دوسرے کے شبیہ اور مانند ہوں، اسی وجہ سے ایسے جملے جن کے معنی پیچیدہ ہوں اور جن کے بارے میں مختلف احتمالات دئے جاسکتے ہوں ان کو ‘’متشابہ’‘ کھا جاتا ہے، اور قرآن کریم میں بھی یہی معنی مراد ہیں، یعنی ایسی آیات جن کے معنی ابتدائی نظر میں پیچیدہ ہیں شروع میں کئی احتمالات دئے جاتے ہیں اگرچہ آیات ‘’محکمات’‘ پر توجہ کرنے سے اس کے معنی واضح اور روشن ہو جاتے ہیں۔

    اگرچہ ‘’محکم’‘ اور ‘’متشابہ’‘ کے سلسلہ میں مفسرین نے بہت سے احتمالات دئے ہیں لیکن ہمارا پیش کردہ مذکورہ نظریہ ان الفاظ کے اصلی معنی کے لحاظ سے بھی مکمل طور پر ہم آہنگ ہے اور شان نزول سے بھی، آیت کی تفسیر کے سلسلہ میں بیان ہونے والی روایات سے بھی،اور محل بحث آیت سے بھی، کیونکہ مذکورہ آیت کے ذیل میں ہم پڑھتے ہیں کہ بعض خود غرض لوگ ‘’متشابہ’‘ آیات کو اپنی دلیل قرار دیتے تھے، یہ بات واضح ہے کہ وہ لوگ آیات سے ناجائز فائدہ اٹھانا چاہتے تھے کہ متشابہ آیات سرسری نظر میں متعدد معنی کئے جانے کی صلاحیت رکھتی ہیںجس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ‘’متشابہ’‘ سے وہی معنی مراد ہیں جو ہم نے اوپر بیان کئے ہیں۔

    ‘’متشابہ’‘ وہ آیات ہیں جو خداوند عالم کے صفات اور معاد کی کیفیت کے بارے میں ہیں ہم یہاں پر چند آیات کو نمونہ کے طور پر بیان کرتے ہیں:<یَدُ اللهِ فُوقَ اَیْدِیْہِم> (خدا کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہے) جو خداوند عالم کی قدرت کے بارے میں ہے، اسی طرح <وَاللهُ سَمِیْعُ عَلِیْمُ> (خدا سننے والا اور عالم ہے) یہ آیت خداوند عالم کے علم کے بارے میں دلیل ہے، اسی طرح <وَنَضَعُ المَوَازِینَ القِسْطِ لِیَومِ القَیَامَةِ>( ہم روزِ قیامت عدالت کی ترازو قائم کریں گے) یہ آیت اعمال کے حساب کے بارے میں ہے۔یہ بات ظاہر ہے کہ نہ خداوند عالم کے ہاتھ ہیں اور نہ ہی وہ آنکھ اور کان رکھتا ہے، اور نہ ہی اعمال کے حساب و کتاب کے لئے ہمارے جیسی ترازو رکھتا ہے بلکہ یہ سب خداوند عالم کی قدرت اور اس کے علم کی طرف اشارہ ہیں۔


    یہاں اس نکتہ کی یاد دھانی کرانا ضروری ہے کہ قرآن مجید میں محکم اور متشابہ دوسرے معنی میں بھی آئے ہیں جیسا کہ سورہ ہود کے شروع میں ارشاد ہوتا ہے: <کتاب احکمت آیاتہ>اس آیت میں تمام قرآنی آیات کو ‘’محکم’‘ قرار دیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کی آیات آپس میں ایک دوسرے سے تعلق رکھتی ہیں ،اور سورہ زمر میں آیت نمبر ۲۳ میں ارشاد ہوتا ہے: <کتاباً متشابھاً۔۔۔>اس آیت میں قرآن کی تمام آیات کو متشابہ قرار دیا گیا ہے کیونکہ یہاں متشابہ کے معنی حقیقت ،صحیح اور درست ہونے کے لحاظ سے تمام آیات ایک دوسرے جیسی ہیں۔


    لہٰذا محکم اور متشابہ کے حوالہ سے ہمارے بیان کئے ہوئے مطالب کے پیش نظر معلوم ہو جاتا ہے ایک حقیقت پسند اور حق تلاش کرنے والے انسان کے لئے خداوند عالم کے کلام کو سمجھنے کا یہی ایک راستہ ہے کہ تمام آیات کو پیش نظر رکھے اور ان سے حقیقت تک پہنچ جائے ،چنانچہ اگر بعض آیات میں ابتدائی لحاظ سے کوئی ابہام اور پیچیدگی دیکھے تو دوسری آیات کے ذریعہ اس ابہام اور پیچیدگی کو دور کر کے اصل تک پہنچ جائے، درحقیقت ‘’آیات محکمات’‘ ایک شاہراہ کی طرح ہیں اور ‘’آیات متشابہات’‘ فرعی راستوں کی طرح ہیں ، کیونکہ یہ بات واضح ہے کہ اگر انسان فرعی راستوں میں بھٹک جائے تو کوشش کرتا ہے کہ اصلی راستہ پر پہنچ جائے، اور وہاں پہنچ کر صحیح راستہ کو معین کر لے۔


    چنانچہ آیات محکمات کو ‘’امّ الکتاب’‘ کھا جانا بھی اس حقیقت کی تاکید کرتا ہے، کیونکہ عربی میں لفظ ‘’امّ’‘ کے معنی ‘’اصل اور بنیاد’‘ کے ہیں، اور اگر ماں کو ‘’امّ’‘ کھا جاتا ہے تو اسی وجہ سے کہ بچوں کی اصل اور اپنی اولاد کی مختلف مشکلات اور حوادث میں پناہ گاہ ہوتی ہے، اسی طرح آیات محکمات دوسری آیات کی اصل اور ماں شمار ہوتی ہیں۔[2]

    حوالے:

    [1] سورہ آل عمران ، آیت ۷۔
    [2] تفسیر نمونہ ، جلد ۲، صفحہ ۳۲۰۔
  3. ‏ دسمبر 4, 2014 #3
    مبشر شاہ

    مبشر شاہ رکن عملہ منتظم اعلی

    قرآن کے حروف مقطّعات سے کیا مراد ہے؟


    قرآن مجید کے ۲۹ سوروں کے شروع میں حروف مقطّعات آئے ہیں، اور جیسا کہ ان کے نام سے ظاہر ہے کہ یہ الگ الگ حروف ہیں اور ایک دوسرے سے جدا دکھائی دیتے ہیں، جس سے کسی لفظ کا مفہوم نہیں نکلتا۔

    قرآن مجید کے حروف مقطّعات، ہمیشہ قرآن کے اسرار آمیز الفاظ شمار ہوئے ہیں، اور مفسرین نے اس سلسلہ میں متعدد تفسیریں بیان کی ہیں، آج کل کے دانشوروں کی جدید تحقیقات کے مد نظر ان کے معنی مزید واضح ہو جاتے ہیں۔

    یہ بات قابل توجہ ہے کہ کسی بھی تاریخ نے بیان نہیں کیا ہے کہ دورِ جاہلیت کے عرب یا مشرکین نے قرآن کے بہت سے سوروں میں حروف مقطّعات پر کوئی اعتراض کیا ہو، یا ان کا مذاق اڑایا ہو، جو خود اس بات کی بہترین دلیل ہے کہ وہ لوگ حروف مقطّعات کے اسرار سے بالکل بے خبر نہیں تھے۔

    بہر حال مفسرین کی بیان کردہ چند تفسیریں موجود ہیں، سب سے زیادہ معتبراوراس سلسلہ میں کی گئی تحقیقات سے ہم آہنگ دکھائی دینے والی تفاسیرکی طرف اشارہ کرتے ہیں:

    ۱۔ یہ حروف اس بات کی طرف اشارہ ہیں کہ یہ عظیم الشان آسمانی کتاب کہ جس نے تمام عرب اور عجم کے دانشوروں کو تعجب میں ڈال دیا ہے اور بڑے بڑے سخنور اس کے مقابلہ سے عاجز ہو چکے ہیں، نمونہ کے طور پر یہی حروف مقطّعات ہیں جو سب کی نظروں کے سامنے موجود ہیں۔

    جبکہ قرآن مجید انہیں الفابیٹ اور معمولی الفاظ سے مرکب ہے، لیکن اس کے الفاظ اتنے مناسب اور اتنے عظیم معنی لئے ہوئے ہے جو انسان کے دل و جان میں اثر کرتے ہیں، روح پر ایک گھرے اثر ڈالتے ہیں ، جن کے سامنے افکار اور عقول تعظیم کرتی ہوئی نظر آتی ہیں، اس کے جملے عظمت کے بلند درجہ پر فائز ہیں اور اپنے اندر معنی کا گویا ایک سمندر لئے ہوئے ہیں جس کی کوئی مثل و نظیر نہیں ملتی۔

    حروف مقطّعات کے سلسلے میں اس بات کی تائید یوں بھی ہوتی ہے کہ قرآن مجید کے جہاں سوروں کے شروع میں حروف مقطّعات آئے ہیں ان میں سے ۲۴ مقامات پر قرآن کی عظمت بیان کی گئی ہے، جو اس بات کی بہترین دلیل ہے کہ ان دونوں (عظمت قرآن اور حروف مقطّعہ) میں ایک خاص تعلق ہے۔

    ہم یہاں پر چند نمونے پیش کرتے ہیں:

    ۱۔ <اٰلٰرٰ۔ کِتَابٌ اٴُحْکِمَتْ آیَاتُہُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَدُنْ حَکِیمٍ خَبِیر>[1]

    الرٰ یہ وہ کتاب ہے جس کی آیتیں محکم بنائی گئی ہیں اور ایک صاحب علم و حکمت کی طرف سے تفصیل کے ساتھ بیان کی گئی ہیں’‘۔


    ۲۔ <طٰس۔ تِلْکَ آیَاتُ الْقُرْآنِ وَکِتَابٍ مُبِینٍ >[2]

    ‘’طٰس ،یہ قرآن اور روشن کتاب کی آیتیں ہیں’‘۔

    ۳۔ <اٰلٰم۔تِلْکَ آیَاتُ الْکِتَابِ الْحَکِیمِ >[3]

    ‘’ الم ، یہ حکمت سے بھری ہوئی کتاب کی آیتیں ہیں’‘۔

    ۴۔ <اٰلٰمص۔ کِتَابٌ اٴُنزِلَ إِلَیْکَ>[4]


    ‘’المص، یہ کتاب آپ کی طرف نازل کی گئی ہے’‘۔

    ان تمام مقامات اور قرآن مجید کے دوسرے سوروں کے شروع میں حروف مقطّعہ ذکر ہونے کے بعد قرآن اور اس کی عظمت کی گفتگو ہوئی ہے۔[5]

    ۲۔ ممکن ہے قرآن کریم میں حروف مقطّعات بیان کرنے کا دوسرا مقصد یہ ہو کہ سننے والے متوجہ ہو جائیں اور مکمل خاموشی کے ساتھ سنےں، کیونکہ گفتگو کے شروع میں اس طرح کے جملے عربوں کے درمیان عجیب و غریب تھے، جس سے ان کی توجہ مزید مبذول ہو جا تی تھی، اور مکمل طور سے سنتے تھے، اور یہ بھی اتفاق ہے کہ جن سوروں کے شروع میں حروف مقطّعات آئے ہیں وہ سب مکی سورے ہیں، اور ہم جانتے ہیں کہ وہاں پر مسلمان اقلیت میں تھے، اور پیغمبر اکرم (ص)کے دشمن تھے، آپ کی باتوں کو سننے کے لئے بھی تیار نہیں تھے، کبھی کبھی اتنا شور و غل کیا کرتے تھے کہ پیغمبر اکرم (ص)کی آواز تک سنائی نہیں دیتی تھی، جیسا کہ قرآن مجید کی بعض آیات (جیسے سورہ فصلت ، آیت نمبر ۲۶) اسی چیز کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔

    ۳۔ اہل بیت علیھم السلام کی بیان شدہ بعض روایات میں پڑھتے ہیں کہ یہ حروف مقطّعات، اسماء خدا کی طرف اشارہ ہیں جیسے سورہ اعراف میں ‘’المص’‘ ، ‘’انا الله المقتدر الصادق’‘ (میں صاحب قدرت اور سچا خدا ہوں) اس لحاظ سے چاروں حرف خداوند عالم کے ناموں کی طرف اشارہ ہیں۔

    مختصر شکل ( یا کوڈ ورڈ) کو تفصیلی الفاظ کی جگہ قرار دینا قدیم زمانہ سے رائج ہے، اگرچہ دور حاضر میں یہ سلسلہ بہت زیادہ رائج ہے، اور بہت ہی بڑی بڑی عبارتوں یا اداروں اور انجمنوں کے نام کا ایک کلمہ میں خلاصہ ہو جاتا ہے۔

    ہم اس نکتہ کا ذکر ضروری سمجھتے ہیں کہ ‘’حروف مقطّعات’‘ کے سلسلہ میں یہ مختلف معنی آپس میں کسی طرح کا کوئی ٹکراؤ نہیں رکھتے، اور ممکن ہے کہ یہ تمام تفسیریں قرآن کے مختلف معنی کی طرف اشارہ ہوں۔[6]

    ۴۔ ممکن ہے کہ یہ تمام حروف یا کم از کم ان میں ایک خاص معنی اور مفہوم کا حامل ہو، بالکل اسی طرح جیسے دوسرے الفاظ معنی و مفہوم رکھتے ہیں۔


    اتفاق کی بات یہ ہے کہ سورہ طٰہٰ اور سورہ یٰس کی تفسیر میں بہت سی روایات اور مفسرین کی گفتگو میں ملتا ہے کہ ‘’طٰہ’‘ کے معنی یا رجل (یعنی اے مرد) کے ہیں ، جیسا کہ بعض عرب شعرا کے شعر میں لفظ طٰہ آیا ہے اور اے مرد کے مشابہ یا اس کے نزدیک معنی میں استعمال ہوا ہے ، جن میں سے بعض اشعار یا تو اسلام سے پھلے کے ہیں یا آغاز اسلام کے ۔[7]

    یہاں تک کہ ایک صاحب نے ہم سے نقل کیا کہ مغربی ممالک میں اسلامی مسائل پر تحقیق کرنے والے دانشوروں نے اس مطلب کو تمام حروف مقطّعات کے بارے میں قبول کیا ہے اوراس بات کا اقرار کیا ہے کہ قرآن مجید کے سوروں کی ابتداء میں جو حروف مقطّعات بیان ہوئے ہیں وہ اپنے اندر خاص معنی لئے ہوئے ہیں جو گزشتہ زمانہ میں متروک رہے ہیں، اور صرف بعض ہم تک پہنچے ہیں، ورنہ تو یہ بات بعید ہے کہ عرب کے مشرکین حروف مقطّعات کو سنےں اور ان کے معنی کو نہ سمجھیں اور مقابلہ کے لئے نہ کھڑ ے ہوں، جبکہ کوئی بھی تاریخ یہ بیان نہیں کرتی کہ ان کم دماغ والے اور بہانہ باز لوگوں نے حروف مقطّعات کے سلسلہ میں کسی ردّ عمل کا اظہار کیا ہو۔

    البتہ یہ نظریہ عام طور پر قرآن مجید کے تمام حروف مقطّعات کے سلسلے میں قبول کیا جانا مشکل ہے، لیکن بعض حروف مقطّعات کے بارے میں قبول کیا جاسکتا ہے، کیونکہ اسلامی منابع و مصادر میں اس موضوع پر بحث کی گئی ہے۔

    یہ مطلب بھی قابل توجہ ہے کہ حضرت امام صادق علیہ السلام سے منقول ایک حدیث میں بیان ہوا ہے کہ ‘’طٰہ’‘ پیغمبر اکرم (ص)کا ایک نام ہے ،جس کے معنی ‘’یا طالب الحق، الھادی الیہ’‘ ( اے حق کے طالب اور حق کی طرف ہدایت کرنے والے)

    اس حدیث سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ لفظ ‘’طٰہٰ ‘‘ دو اختصاری حرف سے مرکب ہے ایک ‘’طا’‘ جو ‘’طالب الحق’‘ کی طرف اشارہ ہے اور دوسرے ‘’ھا’‘ جو ‘’ھادی الیہ’‘ کی طرف اشارہ ہے۔

    اس سلسلہ میں آخری بات یہ ہے کہ ایک مدت گزرنے کے بعد لفظ ‘’طٰہ’‘ ، لفظ ‘’یٰس’‘ کی طرح آھستہ آھستہ پیغمبر اکرم (ص)کے لئے ‘’اسم خاص’‘ کی شکل اختیار کر گیا ہے، جیسا کہ آل پیامبر (ص)کو ‘’آل طٰہ’‘ بھی کھا گیا، جیسا کہ دعائے ندبہ میں حضرت امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ ‘ کو ‘’یابن طٰہ’‘ کہا گیا ہے۔[8]

    ۵۔ علامہ طباطبائی ( علیہ الر حمہ) نے ایک دوسرا احتمال دیا ہے جس کو حروف مقطّعات کی ایک دوسری تفسیر شمار کیا جاسکتا ہے، اگرچہ موصوف نے اس کو ایک احتمال اور گمان کے عنوان سے بیان کیا ہے۔

    ہم آپ کے سامنے موصوف کے احتمال کا خلاصہ پیش کر رہے ہیں:


    جس وقت ہم حروف مقطّعات سے شروع ہونے والے سوروں پر غور و فکر کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ مختلف سوروں میں بیان ہوئے حروف مقطّعات سورہ میں بیان شدہ مطالب میں مشترک ہیں مثال کے طور پر جو سورے ‘’حم’‘ سے شروع ہوتے ہیں اس کے فوراً بعد جملہ <تَنْزِیْلُ الکِتَابِ مِن الله> (سورہ زمر آیت۱) یا اسی مفہوم کا جملہ بیان ہوتا ہے اور جو سورے ‘’الر’‘ سے شروع ہوتے ہیں ان کے بعد <تِلْکَ آیاتُ الکتابِ> یا اس کے مانند جملے بیان ہوئے ہیں۔

    اور جو سورے ‘’الم’‘ سے شروع ہوتے ہیں اس کے بعد ٰلک الکتابُ لاریبَ فِیْہ> یا اس سے ملتے جلتے کلمات بیان ہوئے ہیں۔

    اس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حروف مقطّعات اور ان سوروں میں بیان ہوئے مطالب میں ایک خاص رابطہ ہے مثال کے طور پر سورہ اعراف جو ‘’اٴلمٰص’‘ سے شروع ہوتا ہے اس کا مضمون اور سورہ ‘’الم’‘ اور سورہ ‘’ص’‘ کا مضمون تقریباً ایک ھی ہے۔
    البتہ ممکن ہے کہ یہ رابطہ بہت عمیق اور دقیق ہو، جس کو ایک عام انسان سمجھنے سے قاصر ہو۔
    اور اگر ان سوروں کی آیات کو ایک جگہ رکھ کر آپس میں موازنہ کریں تو شاید ہمارے لئے ایک نیا مطلب کشف ہو جائے۔[9]([10])

    حوالے:
    [1] سورہ ہود ، آیت ۱۔
    [2] سورہٴ نمل ، آیت ا۔
    [3] سورہٴ لقمان ، آیت ۱و۲۔
    [4] سورہٴ اعراف ، آیت ۱و۲۔
    [5] تفسیر نمونہ ، جلد اول، صفحہ ۶۱۔
    [6] تفسیر نمونہ ، جلد ۶، صفحہ ۷۸۔
    [7] تفسیر مجمع البیان ،سورہٴ طہ کی پھلی آیت کے ذیل میں۔
    [8] تفسیر نمونہ ، جلد ۱۳، صفحہ ۱۵۷۔
    [9] تفسیر المیزان ، جلد ۱۸، صفحہ ۵و۶۔
    [10] تفسیر نمونہ ، جلد ۲۰، صفحہ ۳۴۶۔
  4. ‏ دسمبر 4, 2014 #4
    مبشر شاہ

    مبشر شاہ رکن عملہ منتظم اعلی

    کیوں بعض قرآنی آیات متشابہ ہیں؟


    لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآن مجید میں متشابہ آیات کی وجہ کیا ہے؟ جبکہ قرآن مجید نور، روشنی، کلام حق اور واضح ہے نیز لوگوں کی ہدایت کے لئے نازل ہوا ہے تو پھر قرآن مجید میں اس طرح کی متشابہ آیات کیوں ہیں اور قرآن مجید کی بعض آیات کا مفہوم پیچیدہ کیوں ہے کہ بعض اوقات شرپسندوں کو ناجائز فائدہ اٹھانے کا موقع مل جا تا ہے ؟

    یہ موضوع در حقیقت بہت اہم ہے جس پر بھر پور توجہ کرنے کی ضرورت ہے، کلی طور پر درج ذیل چیزیں قرآن میں متشابہ آیات کا راز اور وجہ ہو سکتی ہیں:

    ۱۔ انسان جو الفاظ اور جملے استعمال کرتا ہے وہ صرف روز مرّہ کی ضرورت کے تحت ہوتے ہیں ، اسی وجہ سے جب ہم انسان کی مادی حدود سے باہر نکلتے ہیں مثلاً خداوند عالم جو ہر لحاظ سے لا محدود ہے، اگر اس کے بارے میں گفتگو کر تے ہیں تو ہم واضح طور پر دیکھتے ہیں کہ ہمارے الفاظ ان معانی کے لئے کما حقہ پورے نہیں اترتے، لیکن مجبوراً ان کو استعمال کرتے ہیں ، کہ الفاظ کی یہی نارسائی قرآن مجید کی بہت سی متشابہ آیات کا سرچشمہ ہیں ،

    <یَدُ اللهِ فَوقَ اٴیدِیھم>[1] یا
    <الرَّحمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ استَویٰ>[2] یا
    <إلیٰ رَبِّہَا نَاظِرَةِ>[3]


    یہ آیات اس چیز کا نمونہ ہیں نیز ‘’سمیع’‘ اور ‘’بَصِیرٌ’‘ جیسے الفاظ بھی اسی طرح ہیں کہ آیات محکمات پر رجوع کرنے سے ان الفاظ اور آیات متشابہات کے معنی بخوبی واضح اور روشن ہو جاتے ہیں۔


    ۲۔ بہت سے حقائق دوسرے عالم یا ماورائے طبیعت سے متعلق ہوتے ہیں جن کو ہم سمجھنے سے قاصر ہیں، چونکہ ہم زمان و مکان میں مقید ہیں لہٰذا ان کی گھرائی کو سمجھنے سے قاصر ہیں، اور ہمارے افکار کی نارسائی اور ان معانی کا بلند و بالا ہونا ان آیات کے تشابہ کا باعث ہے جیسا کہ قیامت وغیرہ سے متعلق بعض آیات موجود ہیں۔

    یہ بالکل اسی طرح ہے کہ اگر کوئی شخص شکم مادر میں موجود بچہ کو اس دنیا کے مسائل کی تفصیل بتانا چاہے، تو بہت ہی اختصار اور مجمل طریقہ سے بیان کرنے ہوں گے کیونکہ اس میں صلاحیت اور استعداد نہیں ہے۔


    ۳۔ قرآن مجید میں متشابہ آیات کا ایک راز یہ ہو سکتا ہے کہ اس طرح کا کلام اس لئے پیش کیا گیا تاکہ لوگوں کی فکر و نظر میں اضافہ ہو ، اور یہ دقیق علمی اور پیچیدہ مسائل کی طرح ہیں تاکہ دانشوروں کے سامنے بیان کئے جائیں اور ان کے افکار پختہ ہوں اور مسائل کی مزید تحقیق کریں ۔

    ۴۔قرآن کریم میں متشابہ آیات کے سلسلہ میں ایک دوسرا نکتہ یہ ہے کہ جس کی تائید اہل بیت علیھم السلام کی احادیث سے بھی ہوتی ہے:قرآن مجید میں اس طرح کی آیات کا موجود ہونا انبیاء اور ائمہ علیھم السلام کی ضرورت کو واضح کرتا ہے تاکہ عوام الناس مشکل مسائل سمجھنے کے لئے ان حضرات کے پاس آئیں، اور ا ن کی رہبری و قیادت کو رسمی طور پر پہچانیں، اور ان کے تعلیم دئے ہوئے دوسرے احکام اور ان کی رہنمائی پر بھی عمل کریں ، اور یہ بالکل اس طرح ہے کہ تعلیمی کتابوں میں بعض مسائل کی وضاحت استاد کے اوپر چھوڑ دی جا تی ہے تاکہ شاگرد استاد سے تعلق ختم نہ کرے اور اس ضرورت کے تحت دوسری چیزوں میں استاد کے افکار سے الہام حاصل کرے ، خلاصہ یہ کہ قرآن کے سلسلہ میں پیغمبر اکرم (ص)کی مشہور وصیت کے مصداق پر عمل کریں کہ آنحضرت (ص)نے فرمایا:


    ‘’إنِّی َتارکٌ فِیکُمُ الثَّقلین کتابَ اللهِ وَ اٴھلَ َبیتی وَ إنّھما لن یَفترقا حتّٰی یَرِدَا عَلیَّ الْحَوضِ’‘۔

    ‘’ یقیناً میں تمھارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں: ایک کتاب خدا اور دوسرے میرے اہل بیت، اور (دیکھو!) یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس پہنچ جائیں’‘[4] ([5])


    حوالے:
    [1] سورہ فتح۱۰۔
    [2] سورہ طٰہ۵۔
    [3] سورہ قیامت ۲۳۔
    [4] مستدرک حاکم ، جلد ۳، صفحہ ۱۴۸۔
    [5] تفسیر نمو نہ ، جلد ۲،صفحہ ۳۲۲۔

    ٭٭٭
لڑی کی کیفیت :
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

اس صفحے کی تشہیر