1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

(مدعا علیہ کا مؤقف)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 25, 2015

  1. ‏ فروری 25, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (مدعا علیہ کا مؤقف)
    مدعا علیہ کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ قادیانی مذہب، مذہب اسلام سے کوئی مغائیر مذہب نہیں ہے۔ بلکہ اس مذہب کے صحیح اصولوں کی صحیح تعبیر ہے۔ اس تعبیر کے مطا بق عمل پیرا ہونے سے وہ خارج از اسلام نہیں ہوا۔ اس کا نکاح قائم ہے اور دعویٰ مدعیہ قابل اخراج ہے۔
    چنانچہ فریقین نے اپنے اپنے اس ادعا کے مطابق شہادت پیش کی ہے۔ جس پر آگے بحث کی جائے گی۔ مقدمہ ہذا میں ابتدائی تنقیحات جن کا اوپر ذکر کیا جاچکا ہے۔ چاہے جس شکل یا جن الفاظ میں وضع شدہ ہیں ان کا نفس معاملہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ ان کا مفہوم بھی ہے کہ کیا مدعا علیہ نے قادیانی یامرزائی مذہب اختیار کر لیا ہے اور کیا اس مذہب میں داخل ہونے سے ارتداد واقع ہو جاتا ہے اور کیا اس صورت میں مدعیہ کا نکاح فسخ سمجھا جائے گا۔ اس لئے ان تنقیحات کی ترمیم کے متعلق مدعا علیہ کے عذرات کو وزن دار خیال نہیں کیاگیا۔ اس لئے ان تنقیحات کے الفاظ میں کسی ردوبدل کی ضرورت نہیں سمجھی گئی اور خصوصاً ان میں ترمیم کی 2137ضرورت اس لئے بھی نہیں رہی کہ اگر مدعا علیہ کے ادعا کے مطابق یہی صورت تنقیحات قائم کی جاوے تو مسل پر اس قدر مواد آچکا ہے کہ اس کی رو سے اس صورت میں بھی بحث کی جاسکتی ہے۔ اس سوال پر اب چنداں بحث کی ضرورت نہیں رہی کہ آیا مدعا علیہ قادیانی مرزائی ہے یا نہ۔ کیونکہ اس نے اپنے اعتقادات کی جو فہرست پیش کی ہے۔ اس میں اس نے صاف طور پر درج کیا ہے کہ ’’وہ حضرت مرزاصاحب کو امتی نبی تسلیم کرتا ہے اور ان پر وحی اور الہام بابرکت حضرت نبی کریمa وارد ہوتے تھے۔‘‘ اس لئے اس سے یہ قراردیا جاسکتا ہے کہ وہ مرزاصاحب کے قادیانی متبعین میں سے ہے۔ اب بحث طلب صرف یہ امر ہے کہ آیا یہ عقیدہ کفریہ ہے اور اس عقیدہ کے رکھنے والا دائرہ اسلام سے خارج اور مرتد قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس سلسلہ میں مدعیہ کی طرف سے چھ گواہان ذیل مولوی غلام محمد صاحبؒ شیخ الجامعہ عباسیہ بہاول پور، مولوی محمد حسین صاحبؒ سکنہ گوجرانوالہ، مولوی محمد شفیع صاحبؒ مفتی دارالعلوم دیوبند، مولوی مرتضیٰ حسن صاحب چاند پوریؒ، سید محمد انور شاہ صاحب کشمیریؒ، مولوی نجم الدین صاحب پروفیسر اورینٹل کالج لاہور پیش ہوئے ہیں اور مدعا علیہ کی طرف سے دو گواہان مولوی جلال الدین صاحب شمس اور مولوی غلام احمد صاحب مجاہد پیش ہوئے ہیں۔ یہ ہر دو گواہان قادیانی مبلغین میں سے ہیں۔ ان جملہ گواہان کی شہادتیں کئی معاملات شرعی پر مشتمل ہیں اور بہت طویل ہیں۔ ان کا اگر معمولی اختصار بھی یہاں درج کیا جاوے تو اس سے نہ صرف فیصلہ کا حجم بڑھ جائے گا بلکہ اصل معاملہ کے سمجھنے میں بھی الجھن پیدا ہو جائے گی۔ اس لئے ان شہادتوں سے جو اصول اور دلائل اخذ ہوتے ہیں۔ وہ یہاں درج کئے جاتے ہیں اورزیادہ تر دربار معلی کی ہدایت کے مطابق ان شہادتوں کی رو سے یہ دیکھنا ہے کہ اسلام کے وہ کون سے بنیادی اصول ہیں کہ جن سے اختلاف کرنے سے ارتداد واقع ہو جاتا ہے۔ یا یہ کہ کن اسلامی عقائد کی پیروی نہ کرنے یا نہ ماننے سے ایک شخص مرتد سمجھا جاسکتا ہے اور کیا عقائد قادیانی سے ارتداد واقع ہو جاتا ہے، یا نہ؟

اس صفحے کی تشہیر