1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

مرتد کی سزا موت (قتل) ہے مرزائی خلیفہ اول حکیم نور الدین کے فتوے

محمدابوبکرصدیق نے 'قادیانی خلیفہ اول حکیم نور الدین' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 6, 2015

  1. ‏ فروری 6, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    مرتد کے متعلق قتل کے مرزائی خلیفہ اول حکیم نور الدین کے فتوے
    مجھے ( حکیم نور الدین صاحب کو )خدا نے خلیفہ بنایا ہے اور نہ تمہارے کہنے سے معزول ہو سکتا ہوں اور نہ کسی میں اتنی طاقت ہے کہ وہ معزول کر دے اگر تم زیادہ زور دوگے تو یاد رکھو میرے پاس ایسے خالد بن ولید ہیں جو تمہیں مرتدوں کی طرح سزا دیں گے ۔
    رسالہ تشحیدذ الاذہان قادیان جلد ۹ نمبر ۱۱ص ۱۴ بابت ماہ نومبر ۱۹۱۴؁ء ۔ اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ خلیفہ نورا لدین صاحب کے نزدیک بھی مر تد کی سزا قتل ہے اس لئے مخالفین کو خالد بن ولید کی اتباع میں اس سنت کے جاری کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں ۔
    حضور ﷺ کے وصال کے بعد امت محمدیہ میں جو سب سے پہلے اجماع ہوا وہ اسی مسئلہ پر ہوا کہ جو شخص محمد رسول ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کر ے اس کو قتل کیا جائے ۔ اسود عنسی نے حضور ﷺ کے زمانہ حیات میں دعویٰ نبوت کیا حضور ﷺ نے ایک صحابی کو اسکے قتل کیلئے روانہ فر مایا صحابی نے جاکر اسود عنسی کا سر قلم کیا۔ مسیلمہ کذاب نے بھی دعویٰ نبوت کیا صدیق اکبر نے نے خلافت کے بعد سب سے پہلا کام جوکام کیا وہ یہ تھا کہ مسیلمہ کذاب کے قتل اور اسکی جماعت کے مقابلہ اور مقابلہ کیلئے خالد بن سیف اللہ کی سر کردگی میں صحابہ کرام کا ایک لشکر روانہ کیا کسی صحابی نے مسیلمہ سے یہ سوال نہیں کیا کہ تو کسی قسم کی نبوت کا دعویٰ کرتا ہے ، مستقل نبوت کا مدعی ہے یا ظلی اور بروزی نبوت کا مدعی ہے اور نہ کسی نے مسیلمہ کذاب سے اس نبوت کے دلائل اور برا ہین پو چھے اور نہ کو ئی معجزہ دکھلانے کا سوال کیا ۔ صحابہ کرام کا لشکر میدان کا رزار میں پہو نچا مسیلمہ کذاب کیساتھ چالیس ہزار جوان تھے خالد بن ولید سیف اللہ نے جب تلوار پکڑی تو مسیلمہ کے اٹھائیس ہزار جوان مارے گئے اور خود مسیلمہ مارا گیا خالد بن ولید مظفر ومنصورمدینہ منورہ واپس ہو ئے اور مال غنیت مجاہدین پر قسیم کیا گیا ۔ مسیلمہ کے بعد طلیحہ نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اس کے قتل کیلئے بھی حضر ت خالد رضی اللہ عنہ کو روانہ کیا ۔ فتوح الشام ص ۱۰۲
    اسکے بعد خلیفہ عبد الملک عہد میں حارث نامی ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا خلیفہ وقت نے علماء صحابہ وتابعین کے متفقہ فتوے سے اس کو قتل کر کے سولی پر چڑھا دیا اور کسی نے اس سے دریافت نہ کیا کہ تیری نبوت کی کیا دلیل ہے اور نہ کوئی بحث اور نہ کوئی مناظرہ کی نوبت اور نہ معجزات اور دلائل طلب کئے ۔
    قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ شفا ء میں ایک واقعہ کو نقل کر کے لکھتے ہیں ۔
    وفعل ذلک غیر واحذ من الخلفا والملوک ۔ بہت سے خلفا ء اور سلاطین نے مدعیان نبوت کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کیا ہے ۔ خلیفہ ہارون رشید کے زمانہمیں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ، خؒیفہ ہارون رشید نے علماء کے متفقہ فتوے سے اسکو قتل کیا ۔ خلاصہ یہ کہ قرون اولیٰ سے لے کر اس وقت تک تمام اسلامی عدالتوں اور درباروں کا یہی فیصلہ رہا ہے کہ مدعی نبوت اور اسکے ماننے والے کافر اور مرتد اور واجب القتل ہیں اب بھی مسلمانان پاکستان کی وزرا ، حکومت سے استدعا ہے کہ خلفا ئے راشدین اور سلاطین اسلام کی سنت پر عمل کر کے دین اور دنیا کی عزت حاصل کریں۔
    عزیز یکہ از در گہش سر بتافت ۔۔۔۔۔۔ بہر در کہ شد ہیچ عزت نیافت


اس صفحے کی تشہیر