1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

(مرزاغلام احمد قادیانی کے نامناسب رویے)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 28, 2015

  1. ‏ مارچ 28, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (مرزاغلام احمد قادیانی کے نامناسب رویے)
    اور یہی وجہ تھی جس کی وجہ سے وہ عیسائیوں کے اسلام اور حضرت محمد ﷺ پر حملوں کو پسپا کرنے کے لئے میدان میں آئے۔ یہی مباحثے اور مناظرے مرزاغلام احمد سمیت ان تمام مسلمانوں کی ہردلعزیزی کا باعث بنے۔ وہ مسلمانوں کے ہیرو بن گئے اور ایسا معلوم ہوتا ہے۔ اسلام کے خلاف حملوں کی پسپائی میں مرزاغلام احمد ہردلعزیزی میں سرفہرست تھا۔ گویہ بات شہادت سے بالکل عیاں ہوتی ہے کہ ان حملوں کی پسپائی کے لئے جو طریقے اختیار کئے گئے۔ ان میں سے چند ایک نامناسب بلکہ قابل اعتراض تھے۔ مثلاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جس طرح توہین کی گئی۔ یہ نہ صرف آج بھی قابل اعتراض ہے۔ بلکہ اس دور میں مسلمانوں نے اس پر اعتراضات کئے تھے۔ اس دور میں بھی مرزاغلام احمد کو باربار وضاحتیں کرنا پڑتی تھیں۔ میں اس تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔ یہ غالباً اس ہردلعزیزی کا ہی نتیجہ تھا کہ ۱۸۸۹ء میں مرزاغلام احمد نے ۵۴سال کی عمر میں اپنے پیروکاروں اور معتقدین سے بیعت لینے کا فیصلہ کیا۔ پتہ چلتا ہے کہ مرزاغلام احمد نے ’’براہین احمدیہ‘‘ میں پہلے ہی ذکر کر دیا ہوا تھا کہ اس کا اﷲتعالیٰ سے رابطہ قائم ہے اور اسے الہامی پیغامات موصول ہوتے ہیں۔ یہ سب کو معلوم تھا۔ دسمبر ۱۸۸۹ء میں مرزاغلام احمد کے بیٹے یعنی خلیفہ دوئم جماعت احمدیہ ربوہ یا قادیان کے مطابق۔ مرزاغلام احمد نے اس تحریک کی بنیاد رکھی۔ مارچ ۱۸۸۹ء میں حقیقتاً اس تحریک کی بنیاد رکھی گئی۔ تحریک کی ابتداء میں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس نے نبی یا مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ تاہم یہ ذکر ملتا ہے کہ مرزاغلام احمد نے اپنے پیروکاروں سے بیعت لینا شروع کر دیا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کو پیروکار ملتے رہے۔ وجہ یہ تھی کہ مرزاغلام احمد ایک قابل انسان تھا۔ جس کی تحریروں میں بلا کی روانی اور طاقت تھی۔ وہ روانی کے ساتھ عربی، فارسی اور اردو میں لکھتا تھا۔ ہاں! ایک حقیقت کو ذہن میں رکھیں کہ ۱۸۸۹ء میں اس بارے میں کچھ شبہ ہے۔ ایک جگہ دسمبر ۱۸۸۹ء کا ذکر ہے۔ مرزاغلام احمد کو الہام ہوا کہ وہ مسیح موعود ہے۔ کہیں اس نے اس کا اظہار یا اعلان نہیں کیا۔ بلکہ وہ قادیان سے لدھیانہ گیا اور اپنے پیروکاروں سے بیعت لی۔ ایسا کیوں ہوا؟ اس نے اس کا اعلان قادیان میں کیوں نہ کر دیا۔ اس کا فیصلہ آپ پر منحصر ہے۔ مرزابشیرالدین محمود احمد کی کتاب ’’احمدیت اور سچا اسلام‘‘ (ص۱۰) سے مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ وہاں بیعت لینے گیا تھا۔ دوسری جگہ کسی اور اسلامی ادب میں میں نے پڑھا ہے کہ مسیح موعود اپنے مسیح موعود ہونے کا اعلان ’’لد‘‘ نامی جگہ پر کرے گا۔غالباً اس کے پیش نظر مرزاغلام احمد نے ’’لدھیانہ‘‘ جانا مناسب خیال کیا کہ وہاں جاکر ہی بیعت لینا چاہئے۔ اس نے اس کا آغاز قادیان سے نہیں کیا۔ یہ بات میں آپ کو خصوصی طور پر گذارش کرنا چاہتا ہوں۔ عیسائیوں کے ساتھ مناظروں کے بارے میں میں مزید تفصیلات بعد میں عرض کروں گا۔

اس صفحے کی تشہیر