1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

(مرزاقادیانی کا دعویٰ نبوت)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 28, 2015

  1. ‏ مارچ 28, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (مرزاقادیانی کا دعویٰ نبوت)
    جہاں تک پہلے متنازعہ امر کا تعلق ہے۔ یعنی کیا مرزاغلام احمد نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا یا نہیں۔ اس سلسلے میں مرزاغلام احمد کی زندگی، تصانیف اور احمدیہ تحریک کے بارے میں اختصار کے ساتھ ذکر کرنا سود مند ہوگا۔ اس طرح حقیقت میں میں دراصل پہلے متنازعہ امر کا احاطہ ہی کروں گا۔ مرزاناصر احمد نے مرزاغلام احمد کے زندگی کے مختصراً حالات اس طرح بیان کئے: ’’آپ ۱۳؍فروری ۱۸۳۵ء کو قادیان میں پیدا ہوئے۱؎۔ آپ کے والد صاحب کا نام غلام مرتضیٰ صاحب تھا۔ آپ کی ابتدائی تعلیم چند استادوں کے ذریعے سے گھرپر ہی ہوئی۔ آپ کے اساتذہ کے نام فضل الٰہی، فضل احمد اور گل محمد تھے۔ جن سے آپ نے فارسی، عربی اور دینیات کی ابتدائی تعلیم حاصل کی اور علم طب اپنے والد صاحب سے پڑھا۔
    آپ شروع سے ہی اسلام کا درد رکھتے تھے اور دنیا سے کنارہ کش تھے۔ آپ کا ایک شعر ہے ؎
    دگر استاد را نامے ندانم
    کہ خواندم در دبستان محمدؐ

    آپ نے عیسائیوں اور آریوں کے ساتھ ۱۸۷۶ء کے قریب اسلام کی طرف سے مناظرے اور مباحثے بھی کئے اور ۱۸۸۴ء میں اپنی شہرۂ آفاق کتاب ’’براہین احمدیہ‘‘ کی اشاعت کی۔ جو قرآن کریم آنحضرت ﷺ اور اسلام کی تائید میں ایک بے نظیر کتاب مانی گئی ہے۔ ۱۸۸۹ء میں آپ نے باذن الٰہی سلسلہ بیعت کا آغاز کیا اور ۱۸۹۱ء میں خداتعالیٰ سے الہام پاکر ’’مسیح موعود‘‘ ہونے کا دعویٰ کیا۔
    آپ کی تمام عمر اسلام کی خدمت میں گذری اور آپ نے ۸۰ کے قریب کتابیں تصنیف فرمائیں جو عربی، فارسی اور اردو تینوں زبانوں میں ہیں اور ان تینوں زبانوں میں آپ کا منظوم کلام بھی ملتا ہے۔ آپ کا اور آپ کی جماعت کا واحد مقصد دنیا میں اسلام کی اشاعت وتبلیغ تھا اور ہے۔ ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو آپ کی وفات ہوئی اور ملک کے اخباروں، رسالوں نے آپ کی اسلامی خدمات کا پرزور الفاظ میں اعتراف کیا۔
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    ۱؎ مرزاناصر احمد کا کذب محض اور خالص دجل ہے۔ مرزاقادیانی ۱۹۳۵ء میں نہیں بلکہ ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء میں پیدا ہوا۔ جیسا کہ مرزاقادیانی کی اپنی تحریرات اس پر گواہ ہیں۔ تفصیل گذر چکی ہے۔
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    آپ کی وفات کے وقت آپ کے چار بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں اور اس وقت آپ کے خاندان کے افراد کی تعداد دوسو کے قریب ہے۔‘‘
    محترم! مرزاغلام احمد کی زندگی کے بارے میں میں کچھ مزید تفصیلات بیان کروں گا جو کہ مجھے ان دستاویزات سے حاصل ہوئی ہیں جو مجھے دیکھنے کا موقع ملا۔
    مرزاغلام احمد کا تعلق پنجاب کے معروف اور معزز ’’مغل خاندان‘‘ سے تھا جو کہ مغل بادشاہ بابر کے زمانے میں سمرقند سے ہندوستان نقل مکانی کر کے آیا تھا۔ مرزاغلام احمد کے اجداد میں سے ہندوستان آنے والے پہلے شخص کا نام مرزا ہادی بیگ تھا۔ Laquel Griffin ’’لیکل گرفن‘‘ نے اپنی کتاب ’’پنجاب چیف‘‘ میں لکھا ہے کہ: ’’مرزاہادی بیگ کو قادیان کے گردوپیش ستر(۷۰) دیہاتوں پر قاضی یا مجسٹریٹ تعینات کیاگیا تھا۔ قادیان جسے مرزاہادی بیگ نے آباد کیا، کا پہلا نام ’’اسلام پور قاضی‘‘ تھا۔ جو بعد میں بدلتے بدلتے قادیان بن گیا۔ کئی نسلوں تک یہ خاندان سرکاری عہدوں پر فائز رہا۔ جب سکھ اقتدار میں آئے تو یہ خاندان کسمپرسی اور غربت کا شکار ہوگیا۔‘‘
    اس کے بعد میں جسٹس منیر احمد (مرحوم) کی انکوائری کمیٹی ۵۴۔۱۹۵۳ء کی رپورٹ سے اقتباس عرض کروں گا۔ مرزاغلام احمد کے متعلق کورٹ آف انکوائری رپورٹ میں درج ذیل ہے: ’’مرزاغلام مرتضیٰ جو کہ سکھ دربار کا جرنیل تھا، کا پوتا۔ اس نے فارسی اور عربی زبان کی تعلیم گھر پر حاصل کی۔ مگر کوئی مغربی تعلیم حاصل نہ کی۔ ۱۸۶۴ء میں اس نے ضلع کچہری سیالکوٹ میں کوئی ملازمت حاصل کی اور چارسال ملازمت میں گذارے۔ اپنے والد کے انتقال کے بعد وہ دل وجان سے مذہبی ادب کی طرف متوجہ ہوا اور ۸۴۔۱۸۸۰ء کے درمیان مشہور زمانہ کتاب ’’براہین احمدیہ‘‘ چار جلدوں میں تصنیف کی۔ اس کے بعد اور کتابیں تصنیف کیں۔ اس زمانے میں شدید مذہبی تکرار اور مناظرے ہورہے تھے۔ اسلام پر نہ صرف عیسائیوں بلکہ آریہ سماج کی طرف سے باربار حملے ہورہے تھے۔ آریہ سماج ایک ہندو تحریک تھی جو کہ ان دنوں ہردلعزیز بنتی جارہی تھی۔‘‘
    میرے خیال میں جسٹس منیر احمدکا یہ کہنا درست نہیں کہ مرزاغلام احمد، مرزاغلام مرتضیٰ کا پوتا تھا۔ اسی کی وجہ یہ ہے کہ مرزاناصر احمد نے کہا ہے کہ مرزاغلام مرتضیٰ، مرزاغلام احمد کے والد کا نام ہے۔ (نہ کہ دادا کا) ایوان میں مرزاناصر احمد کے بیان کے مطابق ۸۰۔۱۸۶۰ء کے درمیان انگریز اپنے ساتھ پادریوں کی ایک فوج ظفرموج لائے تھے۔ جن کی تعداد کوئی ستر کے لگ بھگ تھی۔ جس کے باعث شدید قسم کے مذہبی مناظرے شروع ہوگئے۔ ان پادریوں نے اعلان کر دیا تھا کہ وہ ہندوستان کے مسلمانوں کو عیسائی بنادیں گے۔ ان پادریوں کے اسلام اور حضرت محمد ﷺ پر حملوں کے بارے میں مرزاناصر احمد نے کہا: ’’حکومت کے بل بوتے پر انہوں نے یہ کیا اور کر رہے تھے۔‘‘
    مرزاناصر احمد کے مطابق چند علماء اور اسلام کا درد رکھنے والے رہنما عیسائیوں کے حملوں کو روکنے کے لئے آگے بڑھے ایسے لوگوں میں نواب صادق (صدیق) حسن خان، مولوی آل حسن، مولوی رحمت اﷲ مہاجر دہلوی، احمد رضا صاحب اور مرزاغلام احمد شامل تھے۔ مرزاناصر احمد نے کہا کہ میں ان سب کو تو نہیں جانتا تاہم میرا ایمان صرف مرزاغلام احمد پر ہی نہیں ان سب پر ہے۔ ’’اﷲ نے فراست دی تھی، اسلام کا پیار دیا تھا۔‘‘

اس صفحے کی تشہیر