1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

مرزا غلام احمد قادیانی کا الہام و وحی کا ایک معیار

محمود بھائی نے 'متفرق مقالات وتحاریر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جون 3, 2016

  1. ‏ جون 3, 2016 #1
    محمود بھائی

    محمود بھائی پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    مرزا غلام احمد قادیانی رحمانی اور شیطانی الہام کے بارے میں لکھتے ہیں
    "اور نیز یاد رہے کہ خدا کے مکالمات ایک خاص برکت اور شوکت اور لذّت اپنے اندر رکھتے ہیں۔ اور چونکہ خدا سمیع وعلیم و رحیم ہے اس لئے وہ اپنے متقی اور راستباز اور وفادار بندوں کو اُن کے معروضات کا جواب دیتا ہے اور یہ سوال وجواب کئی گھنٹوں تک طول پکڑ سکتے ہیں جب بندہ عجزو نیاز کے رنگ میں ایک سوال کرتا ہے تو اس کے بعد چند منٹ تک اس پر ایک ربودگی طاری ہو کر اس ربودگی کے پردہ میں اُس کو جواب مل جاتا ہے۔ پھر بعد اس کے بندہ اگر کوئی سوال کرتا ہے تو پھر دیکھتے دیکھتے اس پر ایک اور ربودگی طاری ہو جاتی ہے اور بدستور اس کے پردہ میں جواب مل جاتا ہے۔ اور خدا ایسا کریم اور رحیم اور حلیم ہے کہ اگر ہزار دفعہ بھی ایک بندہ کچھ سوالات کرے تو جواب مل جاتا ہے۔ مگر چونکہ خدا تعالیٰ بے نیاز بھی ہے اور حکمت اور مصلحت کی بھی رعایت رکھتا ہے اِس لئے بعض سوالات کے جواب میں اظہار مطلوب نہیں کیا جاتا اور اگر یہ پوچھا جاوے کہ کیونکر معلوم ہو کہ وہ جوابات خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں نہ شیطان کی طرف سے۔ اِس کا جواب ہم ابھی دے چکے ہیں۔ ما سوا اس کے شیطان گُنگا ہے اپنی زبان میں فصاحت اور روانگی نہیں رکھتا اور گُنگے کی طرح وہ فصیح اور کثیر المقدار باتوں پر قادر نہیں ہو سکتا صرف ایک بد بو دار پیرایہ میں فقرہ دوفقرہ دل میں ڈال دیتا ہے۔ اس کو ازل سے یہ توفیق ہی نہیں دی گئی کہ لذیذ اور باشوکت کلام کر سکے اور یا چند گھنٹہ تک سلسلہ کلام کا سوالات کے جواب دینے میں جاری رکھ سکے۔ اور وہ بہرہ بھی ہے ہر ایک سوال کا جواب نہیں دے سکتا۔ اور وہ عاجز بھی ہے اپنے الہامات میں کوئی قُدرت اور اعلیٰ درجہ کی غیب گوئی کا نمونہ دکھلا نہیں سکتا"(روحانی خزائن جلد 22 ص 143)

    " افسوس یہ لوگ چھوٹے چھوٹے معمولی الہامی ٹکروں اور خوابوں پر اترائے بیٹھے ہیں، اور سمجھ نہیں سکتے کسی الہام کو خدا کی طرف سے ہونے اور دخل شیطان سے پاک ہونے کا کیا معیار ہے ؟معیار یہی ہے کہ اس ( خدائی الہام ) کے ساتھ نصرت الہی ہو اور اقتداری علم غیب اور قاہر پیشگوئی اس کے ساتھ ہو، ورنہ وہ فضول باتیں ہے ہیں جو نافع الناس نہیں ہو سکتی ، مرزا صاحب مزید تشریح کرتے اسی صفحہ پر فرماتے ہے ، اگر میرے الہامات بھی ویسے ہی معمولی اور فضول ٹکڑے ہوتے اور ہر ایک میں علم غیب اور اقتداری پیشگوئیاں نہ ہوتیں تو میں ان محض ہیچ سمجھتا . میرے الہاموں سے قوم کا فائدہ اور اسلام کا فائدہ ہوتا ہے اور یہی معیار بڑا بھاری معیار ہے جو میرے الہامات کے منجانب اللہ ہونے پر دلالت کرتا ہے" ملفوظات جلد 5 ص 347)

    ناظرین کرام ! ملاحظہ فرمائیں مرزا قادیانی نے کتنے واضح طور پر رحمانی اور شیطانی الہام کےدرمیان خط امتیاز کھینچ دیا ہے ۔
    اب اس معیار پر مرزا قادیانی کے الہمات کو پرکھ لیں کہ آیا وہ رحمانی ہیں یا شیطانی ؟


    1۔’’تین استرے،عطر کی شیشی‘‘۔(تذکرہ ص 774)
    2۔’’کچلہ،کونین فولاد،یہ ہے دوائے ہمزاد‘‘۔(تذکرہ ص792)
    3۔’’واللہ واللہ سدھا ہویا اولا‘‘۔(تذکرہ ص746)
    4۔’’کشتیاں چلتی ہیں تاہوں کشتیاں‘‘۔(تذکرہ ص615)
    5۔’’خطرناک‘‘۔(تذکرہ ص756)
    6۔’’ایک الہام جس کے اظہار کی اجازت نہیں‘‘(راقم :غالباً رجولیت کے متعلق ہے)۔(تذکرہ ص741)
    7۔’’تائی آئی،تار آئی‘‘۔(تذکرہ ص781)
    8۔’’تحفتہ الملوک‘‘۔(تذکرہ ص 699)
    9۔’’امین الملک جے سنگھ بہادر‘‘۔(تذکرہ ص672)
    10۔’’خاکسار پیپرمنٹ‘‘۔(تذکرہ ص527)
    11۔’’غلام احمد کی جے‘‘۔(تذکرہ ص723)
    12۔عمارت تو مفت میں تھک گئی‘‘(راقم : اتنا ترس آ رہا تھا تو کرائے پر لے لیتے)۔(تذکرہ ص563)
    13۔’’بجلی کی طرح تیز الہام‘‘۔(تذکرہ ص463)
    14۔’’ایک دانہ کس کس نے کھایا‘‘۔(تذکرہ ص 595)
    15۔’’لائف‘‘(تذکرہ ص 593)
    16۔’’یہوداہ اسکریوتی‘‘۔(تذکرہ ص29)
    17۔’’غثم،غثم،غثم۔اے ورڈ اینڈ ٹو گرلز‘‘۔(تذکرہ ص 593)
    18۔’’آئی لو یو‘‘۔(تذکرہ ص 63)
    19۔’’موتا موتی لگ رہی ہے‘‘۔(براہین پنجم ص 5،خزائن ج 21ص157)
    20۔’’دو شہتیر ٹوٹ گئے‘‘۔(البشریٰ ج 2ص100،تذکرہ ص 566)
    21۔’’آتش فشاں،مصالح العرب ،مسیر العرب‘‘۔(تذکرہ ص 563)
    22۔’’ایسوسی ایشن‘‘۔(البشریٰ ج 2ص132،تذکرہ ص 724)
    23۔’’بامراد،ردبلا‘‘۔(البشریٰ ج 2ص100،تذکرہ ص 563-564)
    24۔’’ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں‘‘۔(البشریٰ ج 2ص105،تذکرہ ص 591)
    25۔’’کرنسی نوٹ دیکھو میرے دوستو‘‘۔(البشریٰ ج 2ص 107،تذکرہ ص 596)
    26۔’’بشیر الدولہ‘‘۔(البشریٰ ج 2ص100،تذکرہ ص 598)
    27۔’’عورت کی چال،ایلی ایلی لما سبقتانی‘‘۔(تذکرہ ص 597)
    28۔’’خدا نکلنے کو ہے‘‘۔(البشریٰ ج 2ص109،تذکرہ ص 604)
    29۔’’کلیسا کی طاقت کا نسخہ‘‘۔(البشریٰ ج 2ص114،تذکرہ ص 615)
    30۔’’ہرمکان سے خیردعاء ہے‘‘۔(البشریٰ ج 2ص123،تذکرہ ص 693)
    31۔’’بشیر الدولہ،عالم کباب،شادی خان،کلمتہ اللہ خان‘‘۔(تذکرہ ص 636)
    32۔’’مبارک‘‘(شاید ہیضہ کی)۔(البشریٰ ج 2ص222،تذکرہ ص 683)
    33۔’’لائف آف پین‘‘۔(راقم :غالباً رجولیت کے وقت ہوا تھا)(البشریٰ ج 2ص128،تذکرہ ص 712)
    34۔’’راز کھل گیا‘‘۔(راقم :غالباً یہ بھی رجولیت کے بارے میں ہے)۔(البشریٰ ج 2ص129،تذکرہ ص 712)
    35۔’’بلاء دمشق ،سرک سری،ایک اور بلا برپا ہوئی‘‘۔(تذکرہ ص 714)
    36۔’’پوری ہو گئی‘‘۔(البشریٰ ج 2ص130،تذکرہ ص 717)
    37۔’’زلزلہ اس طرف چلا گیا‘‘۔(البشریٰ ج 2ص130،تذکرہ ص 715)
    38۔’’عبرت بخش سزائیں دی گئیں‘‘۔(البشریٰ ج 2ص132،تذکرہ ص 726)
    39۔’’سرنگ‘‘۔(البشریٰ ج 2ص141،تذکرہ ص 755)
    40۔’’بستر عیش‘‘۔(البشریٰ ج 2ص88،تذکرہ ص 499)
    41۔’’شوخ شنگ لڑکا پیدا ہوگا‘‘۔(البشریٰ ج 2ص91،تذکرہ ص 513)
    42۔’’چوہدری رستم علی‘‘۔(البشریٰ ج 2ص94،تذکرہ ص 532)
    43۔’’تازہ نشان،تازہ نشان کا دھکا‘‘۔(البشریٰ ج 2ص95،تذکرہ ص534)
    44۔’’ہیضہ کی آمدن ہونے والی ہے ‘‘۔(البشریٰ ج 2ص132،تذکرہ ص 725)
    45۔’’زندگیوں کا خاتمہ‘‘۔(البشریٰ ج 2ص103،تذکرہ ص 577)
    46۔’’الرحیل ثم الرحیل۔موت قریب‘‘۔(البشریٰ ج 2ص141،تذکرہ ص 755)
    47۔’’بہت سے حادثات کے بعد تیرا حادثہ ہوگا‘‘۔(تذکرہ ص 522)
    48۔’’موت دروازہ پر کھڑی ہے‘‘۔(البشریٰ ج 2ص94،تذکرہ ص 532)
    49۔’’لاہور میں ایک بے شرم ہے‘‘۔(البشریٰ ج 2ص126،تذکرہ ص 704)
    50۔’’شکار مرگ‘‘۔(البشریٰ ج 2ص94،تذکرہ ص 530)
    51۔’’اس کتے کا آخری دم ہے‘‘۔(تذکرہ ص 417)
    52۔’’بعد11/انشاء اللہ‘‘(البشریٰ ج 2ص65،تذکرہ ص 401)
    53۔’’ایک ناپاک روح کی آواز آئی۔میں سوتے سوتے جہنم میں پڑ گیا‘‘۔(البشریٰ ج 2ص95،تذکرہ ص 535)
    54۔’’پیٹ پھٹ گیا‘‘۔(تذکرہ ص 672)
    55۔’’ماتم کدہ‘‘۔(البشریٰ ج 2ص140،تذکرہ ص 752)
    56۔’’ایک دم میں رخصت ہوا‘‘۔(البشریٰ ج 2ص117،تذکرہ ص 666)
    57۔’’جنازہ‘‘۔(نزول المسیح ص225،خزائن ج 18ص603)
    58۔’’کمترین کا بیڑا غرق ہو گیا‘‘۔(البشریٰ ج 2ص121،تذکرہ ص 683)
    59۔’’وقت رسید‘‘۔(تذکرہ ص 746)
    60۔’’سوراخ دار برتن‘‘۔۔(کتاب البریہ ص84،خزائن ج 13ص102)

    قائرین ! فرمائیے ان الہامات میں کون سی لذت اور طوالت ہے ؟
    ان میں کتنی فصاحت و بلاغت سمٹی ہوئی ہے ؟
    ان میں کون سی معنویت،افادیت ،کشش یا خاص برکت یا شوکت ہے ؟


    • Like Like x 1

اس صفحے کی تشہیر