1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

مرزا غلام احمد قادیانی کا وجود نامسعود (پہلی قسط)

مبشر شاہ نے 'متفرق مقالات وتحاریر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جولائی 8, 2014

  1. ‏ جولائی 8, 2014 #1
    مبشر شاہ

    مبشر شاہ رکن عملہ منتظم اعلی

    [​IMG] محمد آصف بھلی
    مرزا غلام احمد قادیانی کون تھا؟ قادیان (انڈیا) میں 1840ءکے قریب پیدا ہونے والا ایک جھوٹا مدعی نبوت، فتنہ قادیانیت کے بانی جھوٹے مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی جماعت کو اپنے قلم سے انگریز حکومت کی نمک پروردہ، خود کاشتہ پودا اور اپنے خاندان کو مرزا قادیانی نے ثابت شدہ وفادار تحریر کیا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے خانہ ساز مذہب (اگر اس کو مذہب قرار دیا جا سکے)کی بنیاد دو عناصر پر تھی پہلا انگریز کی اطاعت اور دوسرا انگریز حکومت کے استحکام کے لئے جہاد کو حرام قرار دینا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے اپنے الفاظ میں: ”میں نے مخالفت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابیں تمام ممالک عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچا دی ہیں۔ میری ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیر خواہ ہو جائیں اور جہاد کے جوش دینے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں“۔ جب انگریز غاصبانہ طور پر ہندوستان پر قابض تھا عین اس موقع پر قوم کو انگریزوں کی دائمی غلامی کی تلقین کرنا کون سا مذہب ہو سکتا ہے؟ دنیا کا کوئی مذہب بھی غلامی اور ذلت کی زندگی بسر کرنے کی تعلیم نہیں دیتا، یہ ایک جھوٹے مدعی نبوت کا جھوٹا مذہب تھا جو اپنے ہم وطنوں کو سدا غلام دیکھنا پسند کرتا تھا۔ جھوٹے مدعیان نبوت میں مرزا غلام احمد قادیانی شاید واحد مثال ہو جس نے اپنے وطن کی آزادی پر اغیار کی غلامی کو ترجیح دی ہو۔ قوم اور وطن کی آزادی پر صرف کوئی غدار ہی سمجھوتہ کر سکتا ہے۔ مسلمان قوم کی گردن میں ذلت آمیز غلامی کا طوق ڈالنے والے انگریزوں کی حکومت کو ارحمت خداوندی قرار دینے والا ”الہام“ بھی یقینا کسی جھوٹے نبی پر ہی نازل ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے ہمارے عظیم فلسفی اور شاعر علامہ اقبال نے قادیانیت کا تجزیہ کرتے ہوئے اپنے ایک خط میں لکھا تھا کہ ”میںاپنے دل میں اس حوالے سے کوئی شک و شبہ نہیں رکھتا کہ قادیانی اسلام اور ہندوستان دونوں کے غدار ہیں“۔ قادیانیت کا بانی مرزا غلام احمد قادیانی اسلام اور ہندوستان دونوں کا غدار اعظم تھا۔ مرزا قادیانی کی غالب تحریریں اطاعت انگریز کا درس دیتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ نبوت کے جھوٹے دعویدار مرزا غلام احمد قادیانی نے انگریز حکمرانوں کو اولی الامر قرار دیتے ہوئے قرآن مجید کی بھی کھلی توہین کی ہے۔ وہ ایک مقام پر لکھتا ہے کہ ”میری نصیحت اپنی جماعت کو یہی ہے کہ وہ انگریزوں کی بادشاہت کو اپنے اولی الامر میں داخل کریں اور دل کی سچائی سے ان کے مطیع رہیں“۔ کیا قرآن میں اللہ اور رسول کی اطاعت کے بعد اولی الامر کی اطاعت کا جو حکم دیا گیا ہے اس اولی الامر سے مراد اسلام کے بدترین دشمن ان انگریز حکمرانوں کو لیا جا سکتا تھا جنہوں نے مسلمانوں کی حکومت ختم کرکے خود غاصبانہ طور پر ہندوستان پر قبضہ کر لیا تھا اور مسلمانوں سے رزق کے تمام وسائل چھین لئے تھے۔ جھوٹے مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کی یہ عجیب منطق تھی کہ وہ مسلسل اپنی تحریروں میں اس انگریز حکومت کو اپنی محسن قرار دیتا رہا جنہوں نے ہندوستان کو لوٹا اور برباد کرکے رکھ دیا اور اس کے برعکس جن مجاہدین آزادی نے انگریز سلطنت کے خلاف بغاوت کا علم بلند کیا انہیں مرزا قادیانی نے اپنی تحریروں میں چور‘ قزاق اور حرامی تک قرار دیا۔
    یوں تو نبوت کے جھوٹے دعویدار مرزا غلام احمد قادیانی کی تمام ”تعلیمات“ ہی تضادات پر مبنی ہیں لیکن انگریزوں اور عیسائیت کے حوالے سے مرزا قادیانی کی تحریروں میں جو تضادات ہیں وہ بہت ہی قابل غور ہیں۔ کذاب مرزا قادیانی نے عیسائیوں کو اوّل درجے کا دجال قرار دیا ہے۔ ایک کتاب میں مرزا قادیانی نے یہ تحریر کیا ہے کہ بائیبل سے یقینی طور پر یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ یاجوج ماجوج کا فتنہ بھی دراصل عیسائیت کا فتنہ ہے۔ غرض مرزا قادیانی کی متفرق تحریروں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ عیسائیت کو دور حاضر کا دجال اکبر قرار دیتا تھا لیکن یہ بات ناقابل فہم ہے کہ انگریزوں کا خود کاشتہ پودہ اور نمک پروردہ جھوٹا نبی ایک طرف تو کسر صلیب اور قتل دجال اکبر کو ”مسیح موعود“ کا خاص کام قرار دیتا تھا اور دوسری طرف دجال اکبر بعنی عیسائی حکمرانوں کے خلاف آزادی کیلئے جدوجہد کرنے والوں کے لئے حرامی، چور اور قزاق جیسے نازیبا الفاظ استعمال کرتا تھا۔
    (جاری)

اس صفحے کی تشہیر