1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

مرزا غلام احمد کی طاعون کی پیشگوئی

حمزہ نے 'اہم پیشگوئیاں اور ان کا جائزہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 15, 2015

  1. ‏ فروری 15, 2015 #1
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    مرزا غلام احمد کی طاعون کی پیشگوئی

    جس سے اسکا اپنا گھر بھی محفوظ نہ رہا

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    انیسویں صدی کے شروع میں ہندوستان کے مختلف علاقوں میں طاعون کی وباء پھیل گئی. جس سے لوگوں میں خوف و ہراس کا پایا جانا ایک فطری امر تھا. اس وباء میں بہت سے لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے. جب مرزا غلام احمد کو ان حالات کا علم ہوا کہ ملک کے مختلف حصے طاعون کی گرفت میں آئے ہوئے ہیں تو اس نے دعوی کیا کہ میں نے طاعون کے آنے کی پہلے سے خبر دے رکھی تھی سو یہ طاعون خود بخود نہیں آیا بلکہ میں نے اسکے آنے کی دعا کی تھی جو آسمانوں میں سنی گئی اور مبارک خدا نے پورے ملک میں طاعون پھیلا دیا. اب اس طاعون سے سارے لوگ تباہ ہو جائیں گے سوائے انکے جو میری نبوت کو مانیں. یہ خدا کا فیصلہ ہے کہ قادیان کے سوا کوئی جگہ محفوظ نہ ہو گی اور جب تک میری رسالت کو تسلیم نہ کر لیں ان سے طاعون کا عذاب ختم نہیں کیا جائے گا. مرزا غلام احمد نے لکھا کہ
    ”میں نے براہین احمدیہ کے آخری اوراق کو دیکھا تو ان میں یہ الہام درج تھا ”دنیا میں ایک نذیر آیا اور دنیا نے اسکو قبول نہ کیا. پر خدا اسکو قبول کریگا. اور زور آور حملوں سے اسکی سچائی ظاہر کر دیگا“ اس پر مجھے خیال آیا کہ اسوقت دنیا کہاں تھی اور اسوقت ہمارا دعوی بھی نہ تھا. لیکن اس الہام میں ایک پیشگوئی تھی جو اسوقت طاعون پر صادق آ رہی ہے. اور زور آور حملوں سے طاعون مراد ہے“ (ملفوظات احمدیہ جلد7 صفحہ 522 مرتبہ منظور الہی قادیانی)

    یعنی مرزا غلام احمد نے جب دعوی کیا تو اس وقت اسے کسی نے نہ مانا اس پر خدا کی غیرت کو جوش آیا اور اس نے کئی سالوں پہلے والا الہام کو حقیقت بنا دیا. مرزا بشیر احمد کا کہنا ہے کہ

    ”خدا کا قاعدہ ہے بعض اوقات اس قسم کی بیماریوں کو بھی مرسلین کی صداقت کا نشان قرار دے دیتا ہے اور ان (بیماریوں) کے ذریعہ سے اپنی قائم کردہ سلسلوں کو ترقی دیتا ہے“ (سلسلہ احمدیہ جلد اوّل 1889ء تا 1939ء صفحہ 116)

    مرزا غلام احمد کا کہنا ہے طاعون خود بخود نہیں آیا بلکہ در حقیقت اس نے طاعون پھیلنے کی دعا کی تھی. مرزا صاحب نے لکھا

    ”حمامۃ البشریٰ میں جو کئی سال طاعون پیدا ہونے سے پہلے شائع کی تھی میں نے یہ لکھا تھا کہ میں نے طاعون پھیلنے کے لئے دعا کی ہے سو وہ دعا قبول ہو کر ملک میں طاعون پھیل گئی“ (روحانی خزائن جلد ۲۲- حقِیقۃُالوَحی: صفحہ 235)
    مرزا غلام احمد نے یہ دعا کیوں کی تھی. اسکا جواب درج ذیل ہے
    ” یہ طاعون ہماری جماعت کو بڑھاتی جاتی ہے اور ہمارے مخالفوں کو نابود کرتی جاتی ہے. ہر ایک مہینہ میں کم سے کم پانسوؔ آدمی اور کبھی ہزار، دو ہزار آدمی بذریعہ طاعون ہماری جماعت میں داخل ہوتا ہے.....اور اگر دس۱۰ پندرہ ۱۵سال تک ملک میں ایسی ہی طاعون رہی تو مَیں یقین رکھتا ہوں کہ تمام ملک احمدی جماعت سے بھر جائے گا.....پس مبارک وہ خدا ہے جس نے دنیا میں طاعون کو بھیجا تا اس کے ذریعہ سے ہم بڑھیں اور پھولیں اور ہمارے دشمن نیست و نابود ہوں. “ (روحانی خزائن جلد ۲۲- حقِیقۃُالوَحی: صفحہ 568-570 حاشیہ)

    پھر مرزا صاحب کا یہ اعلان بھی تھا جب تک مرزا صاحب کو خدا کا رسول نہیں مانا جائے گا یہ طاعون دور نہیں ہو گا. مرزا صاحب نے لکھا

    ”جب تک وہ خدا کے مامور اور رسول کو مان نہ لیں تب تک طاعون دُور نہیں ہو گی “ (روحانی خزائن جلد ۱۸- دافَعُ البَلاَ ءِ وَ مِعیَارُ اھلِ الا صطِفَاءَ: صفحہ 225)
    اور
    ”یہ طاعون اس حالت میں فرو ہوگی جب کہ لوگ خدا کے فرستادہ کو قبول کر لیں گے “ (روحانی خزائن جلد ۱۸- دافَعُ البَلاَ ءِ وَ مِعیَارُ اھلِ الا صطِفَاءَ: صفحہ 229)

    یعنی طاعون کے آنے پر مسلمان خوف کے مارے قادیانی ہو جائیں گے اور اپنا گھر بار چھوڑ کر سیدھے قادیان چلے آئیں گے کیونکہ قادیان کے طاعون سے محفوظ رہنے کی پیشگوئی تھی اور خدا نے کہا تھا کہ وہ قادیان کو طاعون سے محفوظ رکھے گا. مرزا صاحب نے لکھا کہ

    ” وہ قادر خدا قادیان کو طاعون کی تباہی سے محفوظ رکھے گا تا تم سمجھو کہ قادیاں اِسی لئے محفوظ رکھی گئی کہ وہ خدا کا رسول اور فرستادہ قادیان میں تھا.“ (روحانی خزائن جلد ۱۸- دافَعُ البَلاَ ءِ وَ مِعیَارُ اھلِ الا صطِفَاءَ: صفحہ 225-226)

    مرزا غلام احمد کا دعوی تھا کہ قادیان کبھی بھی طاعون کی لپٹ میں نہیں آئے گا. اس نے لکھا

    ” خدا تعالیٰ بہر حال جب تک کہ طاعون دنیا میں رہے گو ستر برس تک رہے قادیان کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا کیونکہ یہ اُس کے رسول کا تخت گاہ ہے “ (روحانی خزائن جلد ۱۸- دافَعُ البَلاَ ءِ وَ مِعیَارُ اھلِ الا صطِفَاءَ: صفحہ 230)

    مرزا غلام احمد نے اعلان کیا کہ یہ بات اسے خدا نے بتائی ہے اور اس پر خدا کی وحی اتری ہے اور یہ خدا کا وعدہ ہے اور خدا اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا اور یہ گاؤں اب خدا کی حفاظت کے سپہرے میں ہے اس نے لکھا

    ”خدا نے اس گاؤں کو اپنی پناہ میں لے لیا ہے“ (مجموعہ اشتہارات جلد 3 صفحہ 403)
    ما کان اللّٰہ لیعذّبھم و انت فیھم انہ اوی القریۃ. لولا الاکرام لھلک المقام*
    ترجمہ از مرزا غلام احمد:” خدا ایسا نہیں کہ قادیاں کے لوگوں کو عذاب دے حالانکہ تو اُن میں رہتا ہے. وہ اس گاؤں کو طاعون کی دست برد اور اس کی تباہی سے بچا لے گا. اگر تیرا پاس مجھے نہ ہوتا اور تیرا اکرام مدِّ نظر نہ ہوتا تو میں اِس گاؤں کو ہلاک کر دیتا. “ (روحانی خزائن جلد ۱۸- دافَعُ البَلاَ ءِ وَ مِعیَارُ اھلِ الا صطِفَاءَ: صفحہ 226-227)

    مرزا غلام احمد قادیانی نے یہ بھی اعلان کر دیا کہ جو مرزائی مرزا صاحب کی چار دیواری میں آئیں گے وہ طاعون سے بچ جائیں گے. مرزا صاحب نے اس کے لئے خدا کی یہ وحی سنائی

    ”وہ خدا جو زمین و آسمان کا خدا ہے جس کے علم اور تصرف سے کوئی چیز باہر نہیں اُس نے مجھ پر وحی نازل کی ہے کہ میں ہر یک ایسے شخص کو طاعون کی موت سے بچاؤں گا جو اس گھر کی چار دیوار میں ہو گا “ (روحانی خزائن جلد ۱۹- کشتی نوح: صفحہ 2)

    پھر مرزا غلام احمد نے اس طاعون کو مخالفین کے لئے عذاب اور خود اپنے لئے رحمت قرار دیا. اس نے لکھا کہ
    ”ہمارے لئے طاعون رحمت ہے اور ہمارے مخالفوں کے لئے زحمت اور عذاب ہے“ (روحانی خزائن جلد ۲۲- حقِیقۃُالوَحی: صفحہ 569)

    مرزا غلام احمد کے مذکورہ بیانات سے پتہ چلتا ہے کہ طاعون مرزا صاحب کے کہنے پر آیا تھا اور اس نے اس لئے طاعون منگوایا کہ دنیا نے ایک نذیر (یعنی مرزا صاحب) کو قبول نہ کیا تھا. سو اب یہ طاعون جہاں جہاں جائے گا، مرزا صاحب کے لئے رحمت ہو گا اور ان کے مخالفین کے لئے زحمت بنے گا. اب سب کی خیر اسی میں ہے کہ وہ قادیان چلے آئیں اور مرزا قادیانی کے اپنے گھر میں پناہ لے لیں. ورنہ عمریں گذر جائیں گی. طاعون جانے کا نام نہیں لے گا اور سب کی جان لے کر چھوڑے گا.

    مرزا غلام احمد کی پیشگوئی تھی کہ قادیان اور اس کا گھر طاعون سے بچا رہے گا. آئیے دیکھیں کہ اس کی اس پیشگوئی کا کیا حشر ہوا اور وہ کس طرح جھوٹی نکلی. مرزا غلام احمد قادیانی نے گو یہ پیشگوئی کر دی لیکن اسے پھر خوف ہوا کہ کہیں یہ رحمت ہمارے گھر پر زور دار حملہ نہ کر دے. چنانچہ اس نے دوائیاں لے کر روزانہ گھر کی صفائی شروع کر دی.
    قادیانی ڈاکٹر محمد اسماعیل کہتے ہیں
    ”’حضرت مسیح موعود کو صفائی کا بہت خیال رہتا تھا خصوصاً طاعون کے ایام میں صفائی کا اتنا خیال رہتا تھا کہ فینائل لوٹے میں حل کر کے خود اپنے ہاتھ سے گھر کے پاخانوں اور نالیوں میں جاکر ڈالتے تھے.“ (سیرت المہدی نیا ایڈیشن جلد اول روایت نمبر 382 صفحہ 345)

    مرزا صاحب کا بیٹا بشیر احمد کہتا ہے

    ”بعض اوقات حضرت مسیح موعود گھر میں ایندھن کا بڑا ڈھیر لگوا کر آگ بھی جلوایا کرتے تھے تاکہ ضرر رساں جراثیم مر جاویں اور آپ نے ایک بڑی آہنی انگیٹھی بھی منگوائی ہوئی تھی. جسے کوئلے ڈال کر اور گندھک وغیرہ رکھ کر کمروں کے اندر جلایا جاتا تھا اور اس وقت دروازے بند کر دئیے جاتے تھے. “ (سیرت المہدی نیا ایڈیشن جلد اول روایت نمبر 382 صفحہ 345)

    سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ طاعون مرزا صاحب کے حق میں رحمت تھا اور خود انہوں نے خدا سے مانگ رکھا تھا. تو پھر اس رحمت کو فینائل لے کر ختم کرنے کی کیا ضرورت تھی. پھر جب کہ خدا نے بتا بھی دیا تھا کہ اس طاعون سے قادیان اور مرزا صاحب کا گھر پوری طرح بچا رہے گا. پھر دوائیں ڈالنا اور ایندھن جلوانا اور گندھک رکھنا یہ سب کن باتوں کی نشاندہی کرتا ہے. ممکن ہے کہ مرزا صاحب کو اپنے خدا پر ہی یقین نہ ہو کہ کہیں وہ ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی اس کی پیش گوئی پوری نہ کرے اور خدا کی یہ رحمت سیدھی اس کے گھر چلی آئے. یا پھر مرزا صاحب کو اپنی باتوں پر خود بھی اعتبار نہ تھا اور وہ جانتے تھے کہ یہ سب باتیں بناوٹی ہیں. مرزا غلام احمد کو اس رحمت بی بی (طاعون) کا اتنا خوف پیدا ہوا کہ انہوں نے گھر میں گوشت کھانا تک چھوڑ دیا. صاحبزادہ بشیر احمد کہتے ہیں

    ”جب طاعون کا سلسلہ شروع ہوا تو آپ نے اس (بٹیر-مصنف) کا گوشت کھانا چھوڑ دیا. کیونکہ آپ فرماتے تھے کہ اس میں طاعونی مادہ زیادہ ہے. “ (سیرت المہدی نیا ایڈیشن جلد اول روایت نمبر 56 صفحہ 45)

    آپ ہی سوچیں کہ جب خدا نے مرزا صاحب کو بشارت سنا دی تھی اور مرزا صاحب خود اِسے اپنے حق میں رحمت قرار دے چکے تھے تو اب موصوف پر اس رحمت کا اتنا خوف کیوں مسلط ہو رہا تھا؟ کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ اس کے اپنے دل میں چور تھا اور انہیں ہر وقت فکر رہتی تھی کہ کہیں یہ رحمت بی بی انہیں اپنی بانہوں میں نہ لے لے.

    مرزا صاحب کے خوف کا یہ عالم تھا کہ

    ”اگر کسی کارڈ کو بھی جو وبا والے شہر سے آتا چھوتے تو ہاتھ ضرور دھو لیتے. “ (الفضل قادیان مورخہ 28 مئی 1937ء)

    مرزا صاحب نے خدا سے طاعون منگوا لیا تو لیا، لیکن اب وہ خود ان کے قابو میں نہیں آرہا تھا اور آہستہ آہستہ یہ طاعون قادیان کے قریب ہو گیا. مرزاغلام احمد نے اپنے حکیم دوستوں کی مدد سے طاعون سے بچاؤ کی دوا تیار کرنی شروع کر دی. قادیان کے مفتی محمد صادق نے اپنی ایک تقریر میں اس کا ذکر کیا. جو الفضل قادیان میں شائع ہوئی. اس کا یہ حصہ دیکھئے

    ’’جب ہندوستان میں پیش گوئی کے مطابق طاعون کا مرض پھیلا اور اس کے کیس ہونے لگے تو حضرت مسیح موعود نے اس کے لئے ایک دوا تیار کی. جس میں کونین، جدوار، کافور، کستوری، مروارید اور بہت سی قیمتی ادویہ ڈالی گئیں اور کھرل کر کے چھوٹی چھوٹی گولیاں بنا لی گئیں..... میں نے دیکھا کہ بعض مخالف ہندو بھی آکر مانگتے تو آپ مٹھی بھر ان کو خندہ پیشانی کے ساتھ عطا کر دیتے.‘‘ (الفضل 4 اپریل 1946ء)

    مرزا صاحب نے طاعون مخالفین کی ہلاکت کے لئے منگوایا تھا. ان کو تو خوش ہونا چاہئے تھا کہ ان کی پیش گوئی پوری ہو رہی ہے. مگر یہاں معاملہ اس کے برعکس ہو رہا تھا. خود مرزا صاحب کو اپنی فکر پڑی تھی اور مخالفین کو بھی بچانے کی فکر میں مبتلا ہو گئے تھے. سوال یہ ہے کہ وہ تعلی اور دعوے کہاں گئے؟ کیا یہ خدا پر افتراء نہیں تھا؟ یہ بات خدا کی نہیں تھی. اس لئے قادیان میں رحمت بی بی (یعنی طاعون) نے قدم رکھ لیا. مرزا بشیر احمد اعتراف کرتا ہے کہ قادیان میں سخت طاعون آیا تھا اور مرزا غلام احمد کے پڑوسیوں کی موتیں بھی ہوئیں تھیں. اس نے لکھا

    ”قادیان میں طاعون آئی اور بعض اوقات کافی سخت حملے بھی ہوئے. مگر اپنے وعدہ کے مطابق خدا نے اسے اس تباہ کن ویرانی سے بچایا جو اس زمانہ میں دوسرے دیہات میں نظر آ رہی تھی. اور پھر..... خدا نے حضرت مسیح موعود کے مکان کے ارد گرد بھی طاعون کی تباہی دکھائی اور آپ کے پڑوسیوں میں کئی موتیں ہوئیں.“ (سلسلہ احمدیہ جلد اوّل 1889ء تا 1939ء صفحہ 118-119)

    قادیانی اخبار الحکم نے مورخہ 10 اپریل 1904ء کی اشاعت میں لکھا

    ”اﷲ تعالیٰ کے امر و منشاء کے ماتحت قادیان میں طاعون مارچ کی اخیر تاریخوں میں پھوٹ پڑا. 4اور6 کے درمیان روزانہ موتوں کی اوسط ہے “

    ان دنوں اخبار اہل حدیث امرتسر نے 22 اپریل 1904ء کی اشاعت میں بھی یہ خبر دی تھی کہ

    ”قادیان میں آج کل سخت طاعون ہے. مرزا صاحب اور مولوی نور دین کے تمام مرید قادیان سے بھاگ گئے ہیں. مولوی نور دین کا خیمہ قادیان سے باہر ہے. “

    یہ نہ سمجھئے کہ یہ اخبار مخالفین کے ہیں. خود مرزا صاحب کے اپنے اخبار بدر قادیان کے ایڈیٹر نے لکھا

    ’’قادیان میں جو طاعون کی چند وارداتیں ہوئی ہیں. ہم افسوس سے بیان کرتے ہیں کہ بجائے اس کے کہ اس نشان سے ہمارے منکر اور مکذب کوئی فائدہ اٹھاتے اور خدا کے کلام کی قدر اور عظمت اور جلال ان پر کھلتی. انہوں نے پھر سخت ٹھوکر کھائی.‘‘ (بدر 24 اپریل 1903ء)

    اس سے پتہ چلتا ہے کہ قادیان میں طاعون داخل ہو چکا تھا اور مرزا صاحب کی رحمت بی بی بہت سے قادیانیوں کا شکار کر چکی تھی. بجائے اس کے کہ قادیانی اس سے عبرت حاصل کرتے اور مرزا صاحب پر دو بول پڑھتے الٹا مخالفوں پر برسنے لگے کہ انہیں عبرت حاصل کرنی چاہئے تھی. ان بھلے مانسوں سے کوئی پوچھے کہ قادیان میں طاعون کے نہ آنے کی پیش گوئی مرزا صاحب کی تھی یا ان کے مخالفین کی؟ کچھ دنوں بعد جب طاعون کی شدت میں کمی آئی تو

    مرزا صاحب نے لکھا**

    ”آج کل ہر جگہ مرض طاعون زوروں پر ہے اسلئے اگرچہ قادیان میں نسبتاً آرام ہے.....“ (اخبار بدر 19 دسمبر 1902ء)

    مرزا صاحب کے اس اعتراف سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا صاحب کے خدا کی یہ بات غلط ہوئی کہ قادیان طاعون سے محفوظ رہے گا. اگر یہ بات اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی تو قادیان کبھی طاعون کا شکار نہ ہوتا. اﷲ کی بات سچی ہوتی ہے اور وہ اپنے مقبولوں کو کبھی بے عزت نہیں کیا کرتا.

    مرزا صاحب نے باربار لکھا کہ انہیں خدا نے بذریعہ وحی بتایا ہے کہ قادیان چونکہ اس کے نبی کی تخت گاہ ہے. اس لئے وہ محفوظ رہے گا. مگر مرزا صاحب کا یہ نادان مرید کس طرح دجل و فریب دیتا ہے. اسے ملاحظہ کیجئے اس نے لکھا

    ”قادیان میں طاعون حضرت مسیح کے الہام کے ماتحت برابر کام کر رہی ہے.“ (اخبار بدر 16 مئی 1903ء)

    حالانکہ لکھنا یہ چاہئے تھا کہ مرزا صاحب کی پیش گوئی کے مطابق قادیان میں طاعون کا نام و نشان نہیں ہے. مگر لکھا یہ جا رہا ہے کہ قادیان میں طاعون اس لئے اپنا کام کر رہا ہے کہ مرزا صاحب نے قادیان میں طاعون کے آنے کی پیش گوئی کی تھی. کیا یہ کھلا جھوٹ نہیں؟ افسوس کہ مرزا صاحب اس پر کچھ نہ بولے اور اپنے مرید کی اس غلط بیانی اور دجل کی داد دیتے رہے. کیونکہ اس میں ان کا اپنا ہی بھلا تھا.

    پھر مرزا غلام احمد نے کہا تھا کہ جو قادیان میں آئے گا وہ طاعون سے بچا رہے گا اور اب نوبت یہاں تک آگئی کہ خود مرزا صاحب قادیان چھوڑ کر بھاگ آئے اور اس نے ایک کھلے باغ میں پناہ لے لی. یہاں سے اس نے ایک سیٹھ کے نام خط لکھا کہ

    ”’میں اس وقت تک معہ اپنی تمام جماعت کے باغ میں ہوں. اگرچہ اب قادیان میں طاعون نہیں ہے. لیکن اس خیال سے کہ جو زلزلہ کی نسبت مجھے اطلاع دی گئی ہے. اس کی نسبت میں توجہ کر رہا ہوں. اگر معلوم ہوا کہ وہ واقعہ جلد تر آنے والا ہے تو اس واقعہ کے ظہور کے بعد قادیان واپس چلے جائیں گے. بہرحال دس یا پندرہ جون تک میں اسی باغ میں ہوں. “ (مکتوبات احمد جلد 2 صفحہ 416 مکتوب نمبر 94 سابقہ ایڈیشن جلد 5 حصہ اول صفحہ 39 مکتوب نمبر 93)

    اس سے پتہ چلتا ہے کہ قادیان سے طاعون کے ختم ہونے کے باوجود مرزا صاحب قادیان واپس جانے سے ڈرتے تھے کہ کہیں کسی کونے میں رحمت بی بی بیٹھی نہ ہو اور وہ ہلکا پھلکا حملہ ہی نہ کر دے. مرزا غلام احمد کے کئی مریدوں نے محسوس کیا کہ مرزا صاحب طاعون کے خوف سے قادیان سے بھاگ گئے ہیں. جب مرزا بشیر الدین محمود کو پتہ چلا تو اس نے کہا کہ اس قسم کی باتیں کرنے والے بے وقوف ہیں.

    مرزا بشیر الدین کہتا ہے کہ

    ”کئی بے وقوف کہہ دیا کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود طاعون سے ڈر کر باغ میں چلے گئے اور تعجب ہے کہ بعض احمدیوں کے منہ سے بھی یہ بات سنی ہے. حالانکہ طاعون کے ڈر سے حضرت نے کبھی اپنا گھر نہیں چھوڑا. اس وقت چونکہ زلازل سے متعلق آپ کو کثرت سے الہامات ہورہے تھے اسلئے...الخ“ (الفضل 11مئی 1933ء)

    مرزا صاحب نے خدا سے طاعون کا یہ عذاب اس لئے مانگا تھا کہ مرزا صاحب کی جماعت ترقی کرے اور ان کے مخالفین نیست و نابود ہو جائیں. مگر حالت یہ ہو گئی کہ مرزا صاحب کے معتقدین یکے بعد دیگرے نیست و نابود ہو رہے تھے. لاہور کے پیر بخش پنشنر پوسٹ ماسٹر نے مرزا صاحب کے ان خصوصی مریدوں کے نام لکھے ہیں جو طاعون سے مرے تھے.

    موصوف لکھتے ہیں

    ”بڑے بڑے مرزائی طاعون سے ہلاک ہوئے. مثلاً مولوی برہان الدین جہلمی، محمد افضل ایڈیٹر البدر اور اس کا لڑکا، مولوی عبدالکریم سیالکوٹی، مولوی محمد یوسف سنوری، عبداﷲ سنوری کا بیٹا، ڈاکٹر بوڑے خان، قاضی ضیاء الدین، ملاں جمال الدین سید والہ، حکیم فضل الٰہی، مرز افضل بیگ وکیل، مولوی محمد علی ساکن زیرہ، مولوی نور احمد ساکن لودھی ننگل، ڈنگہ کا حافظ… “ (تردید نبوتِ قادیانی صفحہ 96 مطبوعہ جنوری 1925ء)

    مرزا قادیانی اپنے مریدوں کی موت سے بہت پریشان تھا. چنانچہ اس خوف سے کہ کہیں اس کی جماعت کی ترقی معکوس میں نہ ہو. یہ فتویٰ جاری کر دیا کہ قادیانی میت کو نہ غسل دیا جائے، نہ کفن پہنایا جائے. چار آدمی اس کا جنازہ لے کر چلیں اور سو گز کے فاصلے سے اس کی نماز جنازہ ادا کر کے اسے دفن کر دیا جائے.

    فتویٰ ملاحظہ کیجئے

    ”جو خدا خواستہ اس بیماری میں مر جائے.....ضرورت غسل کی نہیں اور نہ نیا کپڑا پہنانے کی ضرورت ہے..... چونکہ مرنے کے بعد میت کے جسم میں زہر کا اثر زیادہ ترقی پکڑتا ہے. اس واسطے سب اس کے گرد جمع نہ ہوں. حسب ضرورت دو تین آدمی اس کی چارپائی کو اٹھائیں اور باقی سب دور کھڑے ہو کر مثلاً ایک سو گز کے فاصلہ پر جنازہ پڑھیں. “(مرزا صاحب کا ارشاد مندرجہ الفضل 21 مارچ 1915ء)

    سو قادیان میں مرزا صاحب کے مریدوں کے جنازہ اٹھ رہے تھے اور قادیانی عوام سوالیہ نظروں سے مرزا صاحب کی طرف دیکھ رہے تھے. دوسری طرف مخالفین یہ اعتراض کر رہے تھے کہ خدا کا وہ وعدہ کہاں گیا، جس میں قادیان کو اور قادیانیوں کو طاعون سے بچانے کی بشارت سنائی گئی تھی؟ مرزا صاحب کے پاس اس کا کوئی جواب نہ تھا. کیونکہ میت ان کے سامنے تھی. جنازے اٹھ رہے تھے. گھروں میں کہرام مچا ہوا تھا. مرزا صاحب نے مخالفین کے اعتراض کے جواب میں جو مؤقف پیش کیا پہلے اسے ملاحظہ کیجئے

    ”اگر خدا نخواستہ کوئی شخص ہماری جماعت سے اس مرض سے وفات پا جائے تو گو وہ ذلت کی موت ہوئی. لیکن ہم پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا. کیونکہ ہم نے خود اشتہار دے رکھا کہ اﷲ تعالیٰ کا ہماری جماعت سے وعدہ ہے کہ وہ متقی کو اس سے بچا لیگا. “ (ملفوظات احمدیہ جلد 7 صفحہ 492)

    مرزا صاحب نے تسلیم کیا کہ طاعون کی موت ذلت کی موت ہے. مگر چونکہ قادیانی اس کا شکار ہو ر ہے تھے. اس لئے اس کی یہ تاویل کر لی کہ خدا نے سب قادیانیوں کو بچانے کا وعدہ نہیں کیا. صرف متقیوں کو بچانے کا وعدہ کیا ہے. لیکن جب اس سے بھی کام نہ بنا تو اب صاف کہہ دیا کہ جو قادیانی اس ذلت کی موت مرتا ہے وہ تو مرزا صاحب کی جماعت میں سے ہی نہیں. اس لئے ان پر اعتراض کہاں رہا. نہ رہے بانس نہ بجے بانسری.

    مرزا صاحب کہتے ہیں

    ”اگر ہماری جماعت کا کوئی شخص طاعون سے مر جائے اور اس وجہ سے ہماری جماعت کو ملزم گردانا جائے تو ہم کہیں گے کہ یہ محض دھوکہ اور مغالطہ ہے. کیونکہ طاعونی موت ثابت کرتی ہے کہ وہ فی الحقیقت جماعت سے الگ تھا. “ (ملفوظات احمدیہ جلد 6 صفحہ 358)

    لیجئے! قصہ تمام شد! مرزا صاحب کا یہ بیان قادیانی عوام پر بجلی بن کر گرا. ایک طرف تو ان کے گھر ماتم کدہ بنے ہوئے تھے. اس حالت میں مرزا صاحب پر لازم تھا کہ مرنے والے قادیانی کے گھر جاتے اور ان سے تعزیت کرتے. انہیں تسلی دیتے. مرزا صاحب نے سرے سے ہی ان مرنے والے قادیانیوں کو جماعت سے الگ قرار دے دیا. آپ ہی سوچیں کہ جن لوگوں نے اپنی زندگی بھر کی کمائی مرزا صاحب کو دے دی تھی اور وہ اپنے خون پسینے کی کمائی سے مرزا صاحب کا گھر پال رہے تھے. اگر وہ اس حادثہ کا شکار ہو گئے تو محض اپنے جھوٹ کو بچانے کے لئے ان غریب قادیانیوں کو جماعت سے خارج بتانا کیا ظلم و زیادتی نہیں ہے؟ اور کیا یہ ان کے زخموں پر مزید نمک پاشی کرنا نہیں؟ کیا یہ ان دکھی گھر والوں پر حملہ نہیں؟

    مرزا غلام احمد کے اس اعلان سے کہ وہ قادیانی جماعت سے نہ تھے. کئی قادیانی اکھڑنے لگے اور مرزا صاحب کے چندوں کا سلسلہ کم ہونے لگا. جب مرزا صاحب کو معلوم ہوا کہ ان کے اس بیان سے کئی قادیانی جماعت سے نکل کر مخالفین کی صف میں جا رہے ہیں تو اس نے ایک نیا اعلان جاری کیا کہ جو قادیانی طاعون کی موت کا شکار ہوں وہ تو شہید کہلائیں گے اور ان کی شہادت کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی شہادت کے مثل بتانے تک سے دریغ نہ کیا.

    مرزا صاحب نے لکھا

    ”چنانچہ بعض نادان کہتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کے بعض لوگ بھی طاعون سے ہلاک ہو گئے ہیں .....ہم ایسےمتعصبوں کا یہ جواب دیتے ہیں کہ ہماری جماعت میں سے بعض لوگوں کا طاعون سے فوت ہونا بھی ایسا ہی ہے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ لڑائیوں میں شہید ہوتے تھے “ (روحانی خزائن جلد ۲۲- حقِیقۃُالوَحی: صفحہ 568)

    قادیانی عوام مرزا صاحب کی یہ دو رنگی چال دیکھیں کہ پہلے تو یہ کہہ کہہ کر قادیانیوں کو تسلی دی گئی کہ طاعون قادیانیوں کے حق میں خدا کی رحمت ہے اور اس سے سلسلہ کی ترقی ہوگی. جب کہ مخالفین تباہ ہوں گے. مگر جب طاعون سے خود قادیانی فوت ہونے لگے تو مرزا صاحب نے اپنی بات کی لاج رکھنے کے لئے یہ کہا کہ وہ متقی نہ تھے. جب اس سے بھی کام نہ بنا تو صاف کہہ دیا کہ وہ جماعت سے خارج تھے. اس لئے وہ طاعون کا شکار ہوئے. مگر جب چندوں میں کمی ہونے لگی اور قادیانی مرزا صاحب سے علیحدہ ہونے لگے تو جھٹ بات بدل دی اور کہا کہ یہ نہ صرف شہید ہیں بلکہ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی مثل ہیں. انا ﷲ و انا الیہ راجعون!

    کیا اس دو چہرے والے آدمی سے جس کو حدیث میں منافق کہا گیا ہے. کچھ بھی خیر کی توقع ہو سکتی ہے؟ بڑا ہی بدنصیب ہے وہ شخص جو ان حقائق کے دیکھنے کے بعد بھی مرزا صاحب کو خدا کا نبی اور اس کا رسول مانے. العیاذ باﷲ تعالیٰ!

    ہماری مذکورہ گذارشات کا حاصل یہ ہے کہ مرزا صاحب نے قادیان کے بارے میں جو پیش گوئی کی تھی کہ خدا تعالیٰ اسے محفوظ رکھے گا وہ پیش گوئی غلط نکلی اور قادیان میں طاعون پھیلا. پھر کئی قادیانی اس کا شکار ہوئے اور مرزا صاحب نے خود قادیان سے بھاگنے میں عافیت سمجھی اور ایک باغ میں جا کر چھپ گئے.

    رہا یہ سوال کہ کیا مرزا صاحب کا اپنا گھر جسے انہوں نے کشتی نوح قرار دیا تھا اور اس کی تعمیر کے لئے چندہ بھی کیا تھا. اس طاعون سے محفوظ رہا؟ مرزا صاحب کے خطوط بتاتے ہیں کہ نہیں. اگر ان کا گھر محفوظ ہوتا تو وہ گھر چھوڑ کر کبھی باہر نہ جاتے اور نہ اپنے گھر میں دوائیں ڈال ڈال کر اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو بچانے کی فکر کرتے. مرزا صاحب کا یہ بیان قادیانیوں کے لئے مقام عبرت ہے کہ

    ”طاعون کے دنوں میں جبکہ قادیان میں طاعون زور پر تھا میرا لڑکا شریف احمد بیمار ہوا اور ایک سخت تپ محرقہ کے رنگ میں چڑھا جس سے لڑکا بالکل بیہوش ہو گیا “ (روحانی خزائن جلد ۲۲- حقِیقۃُالوَحی: صفحہ 87)

    اس سے پتہ چلتا ہے کہ مرزا صاحب کے گھر میں یہ طاعون داخل ہوا تھا. مرزا صاحب کا اعتراف ملاحظہ کیجئے.

    10 اپریل 1904ء کو نواب محمد علی خان کے نام لکھے گئے خط کا یہ حصہ دیکھئے

    ”بڑی غوثاں (نوکرانی کا نام-مصنف) کو تپ ہو گیا تھا. اس کو گھر سے نکال دیا ہے. لیکن میری دانست میں اس کو طاعون نہیں ہے. احتیاطاً نکال دیا ہے. ماسٹر محمد دین کو تپ ہو گیا اور گلٹی نکل آئی. اس کو بھی باہر نکال دیا ہے..... میں تو دن رات دعا کر رہا ہوں اور اس قدر زور اور توجہ سے دعا کی گئی کہ بعض اوقات ایسا بیمار ہو گیا کہ یہ وہم گذرا کہ شاید دو تین منٹ جان باقی ہے اور خطرناک آثار ظاہر ہو گئے “ (مکتوبات احمدیہ جلد2 صفحہ 267 مکتوب نمبر 59، سابقہ ایڈیشن جلد 5 حصہ چہارم صفحہ 115-116)

    لاہور کے پیر بخش پنشنر پوسٹ ماسٹر لکھتے ہیں

    ”خاص مرزا صاحب کے گھر میں عبدالکریم اور پیراں دتہ طاعون سے ہلاک ہوئے “ (تردید قادیانی صفحہ 96)

    مرزا صاحب کے خدا نے بذریعہ وحی بتایا تھا کہ اس کی چار دیواری طاعون سے محفوظ رہے گی. لیکن مرزا صاحب کی چار دیواری بھی محفوظ نہ رہی. اگر نہیں واقعی اس وحی پر یقین ہوتا تو وہ اپنے نوکر اور نوکرانی کو کبھی گھر سے باہر نہ نکالتا. ان دونوں کا طاعون کی لپٹ میں آنا اور مرزا صاحب کا گھبرا کر دونوں کو نکال دینا واضح کرتا ہے کہ مرزا صاحب کی یہ رحمت بی بی (طاعون) اس کے گھر قدم رنجہ فرما چکی تھی. معلوم نہیں مرزا صاحب نے گھر بلائے مہمان کو باربار نکالنے کی کوشش کیوں کی اور وہ کیوں فینائل ڈال کر اسے ختم کرنے کی سازشیں کرتے رہے؟

    مرزا صاحب کا یہ خوف اور ان کی یہ احتیاط اور بچاؤ کی متعدد ترکیبیں ثابت کرتی ہیں کہ مرزا صاحب اپنی پیش گوئی میں جھوٹے تھے اور انہوں نے جھوٹ بول کر اپنے لئے لعنت کا داغ خریدا. یہ الفاظ ان کے ہیں اور ہم انہی کے الفاظ انہی کی نذر کرتے ہیں.

    ”اللہ جلّ شانہٗ جانتا ہے جس پر جھوٹ باندھنا لعنت کا داغ خریدنا ہے “ (روحانی خزائن جلد ۱۵- تریَاق القلوُب: صفحہ 409)

    آپ ہی فیصلہ کریں کہ جو خدا پر جھوٹ باندھ کر لعنت کا داغ خریدتا ہے تو کیا یہ داغ اسے نہیں ملے گا. جو اس جھوٹ کو نہ صرف یہ کہ مانتا ہے. بلکہ اس جھوٹے کو خدا کا مامور قرار دینے سے بھی باز نہیں آتا. قادیانی عوام سوچیں کہ لعنت کا داغ خریدنا عقلمندی ہے؟


    ___________________________________


    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    *مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مرزا صاحب کے اس الہام کی عربی پر ایک نظر کریں۔
    اکرام کے معنی ہیں عزت کرنا، تیری عزت قطعاً نہیں۔ تیری کیلئے عربی میں ک ہے۔ اگر ہم یہاں ک محذوف تصور کر لیں تو پھر عبارت یوں ہوگی۔ لو لا الاکرمک جو صریحاً غلط ہے۔ اسلئے کہ اکرام مضاف ہے اور مضاف پر ال (الف لام) داخل نہیں ہو سکتا۔ اگر ہم ال کو بھی حذف کر دیں تو فقرہ بنے گا لو لا اکرامک جس کے معنی ہونگے اگر تیرا عزت کرنا نہ ہوتا، ظاہر ہے کہ اس فقرے میں بھی کوئی مفہوم موجود نہیں۔
    علاوہ ازیں مقام کے لفظی معنی ہیں وہ جگہ جو دو پاؤں کے نیچے ہو یا وہ جگہ جہاں آپ دوران سفر قیام کریں۔ مستقل جائے قیام کو بیت یا دار کہتے ہیں۔ لغت لغت کے لحاظ سے ہر جگہ مقام کہلاتی ہے۔ لیکن اصطلاحاً عرب کسی بستی کو مقام نہیں کہتے اس کے لئے قریہ کا لفظ ہے۔ پھر اہل لغت میں ہلاکت کا لفظ جاندار اشیاء کیلئے مخصوص ہے۔ انسان، جانور اور پرندے ہلاک ہوتے ہیں نہ کہ پتھر، دریا، صحرا اور درخت۔ جب عرب یہ کہتے ہیں کہ فلاں بستی ہلاک ہو گئی تو انکا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اس گاؤں کی اینٹیں اور مکان فوت ہو گئے ہیں بلکہ یہ کہ بسنے والے تباہ ہو گئے ہیں۔ عربی ادب میں ھلک القری (بستیاں ہلاک ہو گئیں) تو ملے گا مگر ھلک المقام کہیں نظر نہیں آئے گا۔ مقام کا یہ استعمال ہندی ہے۔ تو گویا اس الہام میں مندرجہ ذیل خامیاں پائی جاتی ہیں
    1) الاکرام کا استعمال غلط اور بے معنی ہے۔ 2) مقام کا استعمال ہندی ہے۔ 3) ہلاکت کی نسبت مقام کی طرف عربی محاورہ کے خلاف ہے۔ (حرف محرمانہ صفحہ396)

    **مرزا غلام احمد نے یہ بھی لکھا کہ ”اس طرف (قادیان میں-ناقل) طاعون کا اس قدر زور ہے کہ نمونہ قیامت ہے“ (مکتوبات احمد جلد 2 صفحہ 402مکتوب نمبر 81 ، سابقہ ایڈیشن جلد 5 حصہ اول صفحہ 39 مکتوب نمبر 91)
    • Like Like x 1

اس صفحے کی تشہیر