1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

مرزا غلام قادیانی بروزی نبی کی حقیقت

مبشر شاہ نے 'متفرق مقالات وتحاریر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ ستمبر 12, 2019

  1. ‏ ستمبر 12, 2019 #1
    مبشر شاہ

    مبشر شاہ رکن عملہ منتظم اعلی

    مرزا غلام قادیانی بروزی نبی کی حقیقت

    (میری نئی آنے والی کتاب "قادیانی کلمہ" سے ایک اقتباس پیش خدمت ہے ملاحظہ فرمائیں اور اپنی رائے لازمی دیں )
    محمدﷺ اور مرزا میں دوئی نہیں
    "مسیح موعود کا آنا گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا آنا ہے جو بروزی رنگ رکھتا ہے۔ اگر کوئی اورشخص آتاتو اس سے دوئی لازم آتی اور عزت نبوی کے تقاضے کے خلاف ہوتا۔

    بروز میں دوئی نہیں ہوتی
    اگر کوئی غیر شخص آجاوے تو غیرت ہوتی ہے لیکن جب وہ خودہی بروز میں دوئی نہیں ہوئی ہےلیکن جب وہ خود ہی آوے تو پھر غیرت کسی؟ اس کی مثال ایسی ہے کہ اگر ایک شخص آئینہ میں اپنا چہرہ دیکھے اور پاس اس کی بیوی بھی موجود ہو تو کیا اس کی بیوی آئینہ والی تصویر کو دیکھ کر پردہ کرے گی اور اس کو یہ خیال ہوگا کہ کوئی نامحرم شخص آ گیا ہے اس لیے پردہ کرنا چاہیے اور یا خاوند
    کو غیرت محسوس ہوگی کہ کوئی اجنبی شخص گھر میں آ گیا ہے اور میری بیوی سامنے ہے نہیں بلکہ آئینہ میں انہیں خاوند بیوی کی شکلوں کا بروز ہوتا ہے اور کوئی اس بروز کو غیرنہیں جانتا اور نہ ان میں کسی قسم کی دوئی ہوتی ہے۔"
    (ملفوظات حضرت مسیح موعود ، جلد 5 ، صفحہ 97،98 ، ایڈیشن 2016)

    اس اقتباس سے ماخوذ نتائج:
    1: مرزا غلام قادیانی (محمد ﷺ) کا بروز ہے ۔
    2: بروز میں دوئی نہیں ہوتی۔

    تبصرہ :
    اس اقتباس میں دو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں ان کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں :
    (1)بروز (2) دوئی
    1: بروز ۔
    بروز کو سمجھنے کے لیے ہم مرزا غلام قادیانی سے ہی پوچھتے ہیں کہ یہ بروز اور بروزی کیا ہوتا ہے اس کی تعریف کرو تو مرزا غلام قادیانی جواب دیتا ہے ملاحظہ فرمائیں :
    ’’صوفیوں کا یہ مقرر شدہ مسئلہ ہے کہ بعض کاملین اسی طرح پر دوبارہ دنیا میں آ جاتے ہیں کہ ان کی روحانیت کسی اور پر تجلی کرتی ہے اور اس وجہ سے وہ دوسرا شخص گویا پہلا شخص ہی ہو جاتا ہے ہندؤوں میں بھی ایسا ہی اصول ہے اور ایسے آدمی کا نام وہ اوتار رکھتے ہیں ۔‘‘
    (ضمیمہ براہین احمدیہ صفحہ 125مندرجہ روحانی خزائن جلد 21صفحہ 291)
    مرزا غلام قادیانی کی اس عبارت کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ بروزی شخص وہ ہوتا ہے جو پہلے شخص کی اصل ہو جو کہ دوبارہ دنیا میں پیدا ہوجائےجیسا کہ ہندوں کا عقیدہ ہے ۔
    بروز کالغوی معنیٰ فروزو اللغات (فارسی ) میں بیان کیا گیا ہے کہ :
    بروز: نظر آنا ، ظاہر ہونا ، نمایاں ہونا، آشکار ہونا(فیروز اللغات فارسی اردو لغت صفحہ127)
    یعنی کسی بھی چھپی ہوئی چیز کا ظاہر ہوجانا بروزی کہلاتا ہے ۔ عربی صرف و نحو کی کتب میں بھی ایک قاعدہ لکھا ہے کہ ضمیر دو طرح کی ہوتی ہے ایک ضمیر بارز اور دوسری ضمیر مستتر ۔ ضمیر بارز اس کو کہتے ہیں جو عبارت میں لکھی ہوئی نظر آئے اور ضمیر مستتر اس ضمیر کو کہتے ہیں جو عبارت میں لکھی نظر نہ آئے بلکہ دوسرے کسی کلمہ میں چھپی ہوئی ہو ۔
    مرزا غلام قادیانی پوری زندگی یہی کہتا رہا کہ میں بروزی نبی ہوں اور بروزی محمد ﷺ ہوں ، جس کی مراد یہ ہے کہ جو محمد ﷺ چھپے ہوئے تھے اب دنیا میں ظاہر ہو گئے ہیں ۔(معاذ اللہ، لعنۃ اللہ علی الکاذبین)
    2: دوئی
    فروز اللغات میں دوئی کا ترجمہ بتایا گیا ہے کہ : جدائی، دو سمجھنا ، شرک
    (فیروز اللغات صفحہ 657)
    اس کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ جو دو اشخاص دو نہ رہیں اور وہ ایک ہی بن جائیں جہاں پر کوئی دوسرا شریک نہ ہو ، جن میں جدائی نہ ہو اس کو دوئی کہتے ہیں ۔
    اب مرزا بشیر ایم اے کی عبارت آپ کو درست سمجھ آئے گی کہ وہ یہ کہہ رہا ہے کہ مرزا غلام قادیانی جن کا غلام تھا یعنی آنحضرت ﷺ ان دونوں میں جدائی نہیں تھی یہ اصل میں ایک ہی شخصیت ہیں دو نہیں ہیں (معاذ اللہ ، نقل کفر کفر نا باشد)
    (ماخوذ از کتاب قادیانی کلمہ)

    مفتی سید مبشر رضا قادری
    منتظم اعلیٰ ختم نبوت فورم

اس صفحے کی تشہیر