1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

مرزا قادیانی کا حضرت موسی علیہ السلام کو زندہ ماننا

محمود بھائی نے 'مسلم اور قادیانی مناظرہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اکتوبر 19, 2014

  1. ‏ اکتوبر 19, 2014 #1
    محمود بھائی

    محمود بھائی پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    کتاب "مطالعهء قاديانيت" سے ایک اقتباس ..

    مرزا قادیانی اور حضرت موسى عليه السلام کا آسمان پر زندہ ہونا
    مرزا قادیانی نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ آسمان میں زندہ ہیں اور ان پر موت نہیں آئی ، ملاحظہ فرمائیں :۔
    ’’ہذا موسیٰ فتی اللہ الذی اشار اللہ فی کتابہ الی حیاتہ ، وفرض علینا أن نؤمن بأنہ حيٌ فی السماء ولم یمت ولیس من المیتین‘‘
    یہ وہی موسیٰ مرد خدا ہے جس کی نسبت قرآن میں اشارہ ہے کہ وہ زندہ ہے اور ہم پر فرض ہوگیا ہے کہ ہم اس بات پر ایمان لاویں کہ وہ زندہ آسمان میں موجود ہے اور اس پر موت نہیں آئی اور وہ مُردوں میں سے نہیں۔
    (نور الحق ، رخ 8، صفحات 68 و 69)
    ایک اور جگہ مرزا نے سورۃ السجدۃ کی آیت نمبر 23 کا حوالہ دے کر یوں لکھا :۔
    ’’…وأنت تعلم أن ہذہ الآیۃ نزلت فی موسیٰ ، فہی دلیل صریح علی حیاۃ موسیٰ علیہ السلام ، لأنہ لقي رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، والأموات لا یلاقون الأحیاء ۔ ولا تجد مثل ہذہ الآیات فی شأن عیسیٰ علیہ السلام…‘‘
    اور تو جانتاہے کہ یہ آیت حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے ، یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زندہ ہونے پر صریح دلیل ہے ، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آپ کی ملاقات ہوئی اور مُردے زندوں سے نہیں ملا کرتے ، اور ایسی کوئی آیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں تمہیں نہیں ملے گی ۔
    (حمامۃ البشریٰ، رخ 7، صفحہ 221)
    واضح رہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں بھی مسلمان بالکل یہی عقیدہ رکھتے ہیں کہ
    ’’حيٌ فی السماء ولم یمت ولیس من المیتین‘‘
    وہ آسمان میں زندہ ہیں ، ان پر موت نہیں آئی اور وہ مردوں میں سے نہیں ۔
    نوٹ : مرزا قادیانی کی یہ تحریریں قادیانی جماعت کے لئے مصیبت بنی ہوئی ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زندہ ہونے کالکھا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ وہ روحانی طور پر زندہ ہیں نہ کہ جسمانی طور پر ، لیکن مرزا کے الفاظ ان کی یہ تاویل باطل کرتے ہیں ، کیونکہ مرزا نے ’’نور الحق‘‘ میں لکھا کہ ’’حي فی السماء ولم یمت‘‘ وہ آسمان میں زندہ ہیں اور ان پر موت نہیں آئی ، اگر اس کی مراد روحانی طور پر زندہ ہونا ہوتا تو وہ ’’لم یمت‘‘ نہ لکھتا کیونکہ روحانی طور پر تو وہ بھی زندہ ہوسکتے ہیں جن پر موت واقع ہوچکی ہے ، نیز دوسری تحریر میں مرزا قادیانی نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زندہ ہونے پر یہ دلیل بھی پیش کی ہے کہ آنحضرتﷺ کے ساتھ ان کی ملاقات ہوئی ، یہاں مرزا نے ایک فقرہ بڑا اہم لکھاہے
    ’’مردے زندوں سے نہیں ملا کرتے‘‘
    ، تو اس ملاقات کے وقت چونکہ آنحضرت ﷺ زندہ تھے لہذا ماننا پڑے گا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی زندہ تھے کیونکہ مردے زندوں سے نہیں ملا کرتے ، ظاہر ہے یہاں روحانی حیات کا مفہوم نہیں لیا سکتا کیونکہ آنحضرتﷺ اس ملاقات کے وقت جسمانی طور پر زندہ تھے لہذا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی حیات بھی ویسی ہی ماننی ہوگی ، نیز آگے مرزا قادیانی نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ایسی کوئی آیت نہیں ملے گی جس میں ان کی حیات کا ذکر ہو‘‘ ، مرزا کی یہ بات مزید تاکید کرتی ہے کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی حیات ’’روحانی‘‘ نہیں بلکہ جسمانی کی بات کررہا ہے کیونکہ روحانی حیات تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بھی بلکہ تمام انبیاء اور نیک لوگوں کی وہ خود قرآن سے ثابت کرتا ہے (طلب کرنے پر حوالے پیش کیے جاسکتے ہیں) ۔
    یہاں ’’مردوں کے زندوں سے نہ ملنے ‘‘ کا ذکر آیا تو مرزا قادیانی کی ایک اور بات پر بھی نظر ڈالتے جائیں ، مرزا کی موت سے تقریباً ایک ماہ قبل مورخہ 7 اپریل 1908ء کو ایک امریکی جوڑ ا مرزا قادیانی سے ملنے آیا اور اس کے ساتھ ان کی سوال وجواب کی ایک نشست ہوئی ، ایک موقع پر یہ سوال وجواب ہوئے:۔
    سوال: مسیح کو آپ نے کس رنگ میں دیکھا ہے ۔ آیا جسمانی رنگ میں دیکھا ہے؟ ۔
    (مرزا کا ) جواب : ہاں جسمانی رنگ میں اور عین حالت بیداری میں دیکھا ہے۔
    سوال : ہم نے بھی مسیح کو دیکھا ہے اور دیکھتے ہیں مگر وہ روحانی رنگ میں ہے ۔ کیا آپ نے بھی اسی طرح دیکھا ہے جس طرح ہم دیکھتے ہیں؟۔
    جواب : نہیں ہم نے ان کو جسمانی رنگ میں دیکھا ہے اور بیداری میں دیکھا ہے ۔
    (ملفوظات، جلد 5، صفحہ 521، نیز دیکھیں تحفہ قیصریہ، رخ 12، صفحہ 273)
    غور فرمائیں! مرزا قادیانی نے کہا کہ اس نے حضرت مسیح بن مریم علیہما السلام کو دیکھا ہے اور روحانی طور پر نہیں دیکھا (یعنی کشف وغیرہ کی بات نہیں کیونکہ کشف ایک روحانی چیز ہے) بلکہ جسمانی طور پر دیکھا ہے ، اور خواب میں نہیں بلکہ بیدار ی میں دیکھا ہے ، اور مرزا کا اپنا حوالہ پہلے گذرا جس میں اس نے لکھا ہے کہ ’’مُردے زندوں سے نہیں ملا کرتے‘‘ تو اب ہمارا سوال یہ ہے کہ جب مرزا قادیانی نے حضرت مسیح علیہ السلام کو دیکھا اور اور روحانی نہیں بلکہ جسمانی طور پر دیکھا ، خواب میں نہیں بلکہ بیداری میں دیکھا تو اس وقت یہ دونوں یا تو مردہ تھے یا دونوں زندہ تھے، یہ نہیں ہوسکتا کہ مرزا قادیانی زندہ ہواور حضرت مسیح علیہ السلام زندہ نہ ہوں کیونکہ مُردے زندوں سے نہیں ملا کرتے ، کیا مرزا قادیانی کا کوئی مرید یہ معمہ حل کر سکتا ہے؟ ۔
    مدیر کی آخری تدوین : ‏ دسمبر 9, 2014
    • Like Like x 2
  2. ‏ اکتوبر 19, 2014 #2
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    ماشااللہ بہت عمدہ تحریر ہے ۔ جزاک اللہُ خیرا
  3. ‏ اکتوبر 19, 2014 #3
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    بھائی آپ کی تحریر کے آخر میں یہ منٹس والا جو لکھا ہے اس کو تدوین سے ختم کیا جا رہا ہے
    [​IMG]
  4. ‏ اکتوبر 25, 2014 #4
    • Like Like x 1

اس صفحے کی تشہیر