1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

مرزا قادیانی کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کی مخالفت کرنا

ہاشم علی نے 'سیرت المھدی پر تبصرہ جلد دوم' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جولائی 22, 2014

  1. ‏ جولائی 22, 2014 #1
    ہاشم علی

    ہاشم علی رکن ختم نبوت فورم

    سیرت مہدی سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی ویلائیتی بسکٹس کھاتا تھا جن کے بارے میں اس یقین نہیں تھا کہ وہ سور کی چربی سے بنے ہوئے ہیں یا نہیں۔ اس شبہے کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا واضح فرمان ہے کہ ان سے بچا جاے تاکہ ایمان قائم رہے۔ مرزا قادیانی دعوہ کامل اطاعت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کرتا ہے مگر خبیث اپنی ہر بات میں محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرتا اور لعین بنتا۔

    [​IMG]


    صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 51
    ابو نعیم، زکریا، عامر، نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے کہ حلال ظاہر ہے اور حرام (بھی ظاہر ہے) اور دونوں کے درمیان میں شبہ کی چیزیں ہیں کہ جن کو بہت سے لوگ نہیں جانتے، پس جو شخص شبہ کی چیزوں سے بچے اس نے اپنے دین اور اپنی آبرو کو بچالیا اور جو شخص شبہوں (کی چیزوں) میں مبتلا ہوجائے (اس کی مثال ایسی ہے) جیسے کہ جانور شاہی چراگاہ کے قریب چر رہا ہو جس کے متعلق اندیشہ ہوتا ہے کہ ایک دن اس کے اندر بھی داخل ہو جائے (لوگو! آگاہ ہو جاؤ کہ ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہے، آگاہ ہو جاؤ کہ اللہ کی چراگاہ اس کی زمین میں اس کی حرام کی ہوئی چیزیں ہیں، خبردار ہو جاؤ! کہ بدن میں ایک ٹکڑا گوشت کا ہے، جب وہ سنور جاتا ہے تو تمام بدن سنور جاتا ہے اور جب وہ خراب ہو جاتا ہے تو تمام بدن خراب ہو جاتا ہے، سنو وہ ٹکڑا دل ہے۔




    سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 864
    عمرو بن رافع، عبداللہ بن مبارک، زکریابن ابی زائدہ، شعبی، حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے منبر پر اپنی دو انگلیاں کانوں کے قریب کر کے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے سناحلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں جن سے بہت سے لوگ ناواقف ہیں سو جو مشتبہ امور سے بچتا رہا اس نے اپنا دین اور اپنی عزت کو پاک رکھا اور جو مشتبہ امور میں مبتلا ہوگیا وہ (رفتہ رفتہ) حرام میں مبتلا ہو جائے گا جیسے سرکاری چراگاہ کے اردگرد جانور چرانے والاقریب ہے کہ سرکاری چراگاہ میں بھی چرانے لگے غور سے سنو ہر بادشاہ کی مخصوص چراگاہ ہوتی ہے اور غور سے سن لو کہ اللہ کی چراگاہ (جس میں داخلہ منع ہے) اس کے حرام کردہ امور ہیں (جو اس کے اردگرد مشتبہ امور میں مبتلا ہوگا وہ ان محرمات میں بھی مبتلا ہوسکتا ہے) غور سے سنو جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے جب یہ صحیح ہو جائے تو تمام بدن صحیح ہو جاتا ہے اور جب اس میں بگاڑ پیدا ہو جائے تو تمام بدن میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے غور سے سنو گوشت کا یہ ٹکڑا دل ہے۔



    مسند احمد:جلد ہشتم:حدیث نمبر 256
    حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے ان دونوں کے درمیان جو کچھ ہے وہ متشابہات ہیں جو شخص ان متشابہات کو چھوڑ دے گا وہ حرام کو بآسانی چھوڑ سکے گا اور اللہ کے محرمات اس کی چراگاہیں ہیں اور جو شخص چراگاہ کے آس پاس اپنے جانوروں کو چراتا ہے اندیشہ ہوتا ہے کہ وہ چراگاہ میں گھس جائے، یاد رکھوانسان کے جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے اگر وہ صحیح ہوجائے توسارا جسم صحیح ہوجائے اور اگر وہ خراب ہوجائے توساراجسم خراب ہوجائے یاد رکھو! وہ دل ہے ۔


    سنن دارمی:جلد دوم:حدیث نمبر 377
    حضرت نعمان بن بشیربیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے حلال اور حرام واضح ہیں ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ ہیں جن سے بہت سے لوگ واقف نہیں ہیں جو شخص ان چیزوں سے بچ جائے گا وہ اپنی عزت اور دین کو محفوظ رکھے گا۔ جو شخص ان چیزوں میں مبتلا ہوجائے گا وہ حرام میں بھی مبتلا ہوجائے گا اس کی مثال اس چرواہے کی طرح ہے جو کسی چراگاہ کے آس پاس جانور چراتا رہے تو اس بات کا امکان رہے گا کہ وہ اس چراگاہ میں داخل ہوجائیگا۔ بے شک ہر بادشاہ کی مخصوص چراگاہ ہوتی ہے اور بے شک اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ اشیاء ہیں۔ خبردار جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے اگر وہ ٹھیک رہے تو سارا جسم ٹھیک رہے گا اور اگر وہ خراب ہوجائے تو سارا جسم خراب ہوجائے گا خبردار وہ دل ہے۔
    • Like Like x 3
    • Agree Agree x 1
    • Dumb Dumb x 1
  2. ‏ جولائی 23, 2014 #2
    ثناء شہزادی

    ثناء شہزادی رکن ختم نبوت فورم

    شکریہ
    • Like Like x 1
    • Dumb Dumb x 1
  3. ‏ جولائی 23, 2014 #3
    مبشر شاہ

    مبشر شاہ رکن عملہ منتظم اعلی

    ثناء بہن آپ کا فورم میں آمد کا شکریہ
    آپ سے گزارش ہے کہ اپنی پروفائل پیکچر تبدیل کر لیں
    • Like Like x 1
    • Bad Spelling Bad Spelling x 1
  4. ‏ جولائی 23, 2014 #4
    ثناء شہزادی

    ثناء شہزادی رکن ختم نبوت فورم

    شکریہ بھائی میں نے تبدیل کر دی ہے
    • Bad Spelling Bad Spelling x 1

اس صفحے کی تشہیر