1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

مرزا قادیانی کو بندے دا پتر ثابت کرنے کی ناکام مرزائی کوشش

حمزہ نے 'قادیانیت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ ستمبر 23, 2014

  1. ‏ ستمبر 23, 2014 #1
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ جولائی 2, 2014
    مراسلے :
    559
    موصول پسندیدگیاں :
    406
    نمبرات :
    63
    جنس :
    مذکر
    پیشہ :
    تعلیم
    مقام سکونت :
    کشمیر ،جنت نظیر
    مرزا قادیانی کو بندے دا پتر ثابت کرنے کی ناکام مرزائی کوشش


    یہ تو سب کو معلوم ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنے بارے میں کہا تھا

    کِرم خاکی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں۔ ۔ ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار

    اس شعر میں مرزا نے اپنے آدم زاد ہونے کا انکار کیا ہے اور اپنے آپ کو بشر کی جائے نفرت کہا ہے اور شاید مرزا نے اپنی زندگی میں یہ واحد سچ بولا ہے ۔ اور حقیقت میں جو دجل و فریب اور کذب کی مثال مرزا نے قائم کی وہ کوئی انسان پیش بھی نہیں کر سکتا، یہ کام وہی کر سکتا ہے جو بندے کا پتر (بچہ، بیٹا) نہ ہو۔
    مرزا کے اس حقیقت پر مبنی اقرار کا جواب دینے کی کوشش میں مرزائی مربی حسب عادت جھوٹ بولتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ” نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب دعا فرماتے تھے اپنی دعا میں اپنے آپ کو ذلیل کے لفظ سے یاد کیا کرتے تھے۔“ اور حوالہ دیا جاتا ہے مستدرک حاکم کی ایک روایت کا اور پھر عربی کے ایک لفظ ”ذلیل“ کو اردو والا ”ذلیل“ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ آئیے سب سے پہلے دیکھتے ہیں کہ کیا واقعی یہ دعا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے تھے؟ مستدرک حاکم کی پوری روایت یہ ہے۔حَدَّثَنَاأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَخْبَرَنَامُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْأَنْصَارِيُّ،وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ السُّلَمِيُّ، قَالَا : حَدَّثَنَاأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَاابْنُ فُضَيْلٍ، عَنِالْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْأَبِي دَاوُدَ الْأَوْدِيِّ، عَنْبُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُلِ :اللَّهُمَّ إِنِّي ضَعِيفٌ فَقَوِّ فِي رِضَاكَ ضَعْفِي ، وَخُذْ لِيَ الْخَيْرَ بِنَاصِيَتِي ، وَاجْعَلِ الْإِسْلَامَ مُنْتَهَى رِضَائِي ، اللَّهُمَّ إِنِّي ضَعِيفٌ فَقَوِّنِي ، وَإِنَّنِي ذَلِيلٌ فَأَعِزَّنِي ، وَإِنِّي فَقِيرٌ فَارْزُقْنِي۔ ھذا حدیث صحیح الاسناد، و لم یخرجاہ۔(مستدرک حاکم روایت نمبر 1931، الدعوات الكبير للبيهقي روایت نمبر 224)
    صحابی حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ تم یوں کہا کرو کہ اے اللہ میں کمزور ہوں، اپنی رضا میں میری کمزوری کو قوی کر دے اور میری پیشانی کو پکڑ کر اچھائی کی طرف لے چل اور اسلام کو میری رضا کی انتہا بنا دے۔ اے اللہ میں ضعیف ہوں مجھے قوت دے، میں ناتواں اور کمزور اور عاجز ہوں مجھے مضبوطی دے اور میں محتاج ہوں مجھے رزق دے۔

    اس روایت میں صاف طور پر یہ بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابی حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے فرمایا تم یوں کہا کرو...اس میں ہرگز یہ نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خود یوں دعا فرماتے تھے۔ اس لیے اپنی طرف سے ایسا جھوٹ صرف مرزا قادیانی کا امتی اور مرزائیت کا سپوت ہی بول سکتا ہے۔ دوسری بات یہ حدیث عربی میں ہے نہ کہ اردو میں۔ اس لیے ہمیں دیکھنا ہو گا کہ لفظ ”ذلیل“ کے معانی عربی میں کیا کیا آتے ہیں؟ آئیے مختصر طور پر چند لغت کی کتابیں دیکھتے ہیں۔

    لسان العرب میں لکھا ہے

    والذُّلُ و الذِّلُّ: الرِّفْقُ وَ الرَّحْمَۃٌ. وَ فِی التَّنْزِیلِ الْعَزِیزِ: وَ اخْفِضْ لَھُما جَناحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَۃِ. وَ فِی التَّنْزِیلِ الْعَزِیزِ فِی صِفَۃِ الْمُؤْمِنِینَ: أَذِلّۃٍعَلَی الْمُؤْمِنِینَ أَعِزَّۃٍ عَلَی الْکافِرِینَ.

    ذُل اور زِل کا معنی ہوتا ہے نرمی اور رحمت، قرآن کریم میں ہے ماں اور باپ کے لیے نرمی کا بازو جھکاؤ، اور مومنوں کی صفت یوں بیان کی گئی ہے کہ وہ مومنوں پر رحم کرنے والے یا نرم ہیں اور کافروں پر سخت ہیں۔

    نیز لسان العرب میں یہ بھی ہے کہ

    و الذِّلُّ. بِالْکَسْرِ: اللِّین وَ ھُوَ ضِدُ الصُّعُوبَۃِ. والذُّلُ و الذِّلُّ: ضِدُ الصُّعُوبَۃِ. ذَلَّ یَذِلُّ ذُلًّا و ذِلًّ، فَھُوَ ذَلُولٌ، یَکُونُ فِی الإِنسان وَ الدَّابَّۃِ.

    ذِل کہتے ہیں نرمی کو جو سختی کی ضد ہے...اور یہ انسان اور جانور دونوں میں ہو سکتی ہے۔(لسان العرب، باب الذال المعجمۃ)

    تاج العروس میں اسکے علاوہ ایک اور معنی بھی لکھا ہے۔

    وتَذََلَّی: تَواضَعَ
    یعنی تواضع اختیار کرنا(تاج العرس مادۃ ذل )

    نتیجہ:ثابت ہوا کہ عربی میں ذل یا ذلیل کا معنی صرف وہ نہیں جو اردو میں آتا ہے، بلکہ اس کا معنی نرمی کرنے والا، رحم کرنے والا، عاجزی اور انکساری کرنے والا بھی آتا ہے اور یہی معنی مستدرک حاکم کی روایت میں ہے، کمزور و ناتواں اور عاجز۔ قرآن کریم میں مومنوں کو ”ازلۃ“ کہا گیا ہے جو کہ ذلیل کی جمع ہے تو کیا مرزائی مربی وہاں بھی اردو والا معنی کرتے ہیں؟ نیز غزوہ بدر کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے قرآن میں ہے۔

    وَلَقَدْ نَصَرَکُمُ اللہُ بِبَدْرٍ وَّاَنۡتُمْ اَذِلَّۃٌۚ فَاتَّقُوا اللہَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوۡنَ(ال عمران 123)
    اور بے شک اللّٰہ نے بدر میں تمہاری مدد کی جب تم بالکل بے سرو سامان تھے ،تو اللّٰہ سے ڈرو کہ کہیں تم شکر گذار ہو۔

    اس آیت میں ”اَذِلَّۃٌ “ کا معنی وہ کرنا جس کے لیے یہ لفظ اردو میں استعمال ہوتا ہے غلط ہو گا۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ مرزائی مربیوں کا مستدرک حاکم کی روایت میں لفظ ذلیل کو اردو والا ذلیل بتانا سراسر مرزائی دجل اور فریب ہے۔

    پھر مرزا قادیانی نے تو اپنے بارے میں کہا کہ ”میں آدم زاد نہیں ہوں اور میں بشر کی جائے نفرت ہوں اور انسانوں کی عار ہوں“ ۔ مرزا کا یہ شعر اردو زبان میں ہے نہ کہ عربی میں۔ اور اردو میں ”آدم زاد“ نہ ہونے کا ایک ہی مطلب ہوتا ہے۔ کہ ”میں بندے کا پتر نہیں“

    کچھ مستدرک حاکم کی اس روایت کے بارے میں

    اگرچہ امام حاکم نے اس روایت کو صحیح بتلایا ہے لیکن امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ اسناد کی صحت میں تساہل سے کام لیتے ہیں جیسا ائمہ محدثین نے فرمایا ہے کہ اس روایت میں ایک راویأَبِي دَاوُدَ الْأَوْدِيِّ (جسے ابو داؤد الاعمی بھی کہا جاتا ہے)“ اسکے بارے میں امام ذہبی نے تلخیص المستدرک میں لکھا ہے کہ یہ ”متروک الحدیث“ ہے یعنی اس کی حدیث ترک کر دی گئی ہے۔ اس راوی کا نام” نفیع بن الحارث“ ابن معین، ابو حاتم، بخاری، ترمذی، نسائی، عقیلی، ابن عدی، ساجی اور ابن حبان جیسے ائمہ نے اسے ضعیف، متروک الحدیث، حدیثیں گھڑنے والا، کذاب اور رافضی تک کہا ہے۔
    (دیکھیں: تھذیب التھذیب: من اسمہ نفیع، نفیع بن الحارث)

    اس لیے یہ روایت بھی صحت کے درجے کو نہیں پہنچتی، لیکن کیا کریں، مرزائی دھوکے بازوں کی عادت ہے کہ وہ مرزا میں ثابت شدہ ہر عیب کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور دوسرے انبیاء کرام کی ذات اقدس میں ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    ۞***۞***۞​


    تحقیق: جاء الحق
    پی ڈی ایف میں پڑھیں۔
    آخری تدوین : ‏ ستمبر 23, 2014

اس صفحے کی تشہیر