1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

مرزا قادیانی کی عمر اور قادیانی دھوکہ حصہ دوم

ضیاء رسول امینی نے 'قادیانی خرافات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مئی 27, 2019

  1. ‏ مئی 27, 2019 #1
    ضیاء رسول امینی

    ضیاء رسول امینی منتظم اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    ****مرزا قادیانی کی عمر کا معمہ دوسری قسط*****
    پچھلے سال 26 مئی کو قادیانی مربی جری اللہ نے مرزا کی عمر سے متعلق ایک مضمون لکھا تھا جس میں انہوں نے مرزا کی مختلف تحریرات اور شواہد کی بنا پر ثابت یہ ثابت کیا کہ ان کی عمر 75 سال سے زائد بنتی ہے - میں نے اس کے جواب میں جو مضمون لکھا اس کے مطابق مرزا کی عمر تقریبا 66 سے 67 سال بنتی ہے - کچھ دن قبل میرے مضمون پر جوابی پوسٹ انہوں نے لکھی جس پر میں نے کچھ سوالات کیے ان کا جواب ابھی تک نہیں دیا گیا بہر حال میں نے پوسٹ کی صورت میں ہی ان شاء اللہ اصل حقائق سے پردہ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے - اس سلسلہ میں جری اللہ کی جو مرکزی دلیل تھی وہ حقیقت الوحی کے صفحہ نمبر 208 سے تھی جس پر مرزا نے بائبل سے حضرت دانیال علیہ السلام کی ایک پیشگوئی کو اپنے اوپر فٹ کیا بقول مرزا کے اس پیشگوئی میں دانیال علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے لے 1290 دن بتائے ہیں اور یہاں 1290 دن سے مراد 1290 سال ہیں اور میں 1290 ہجری کو مکالمہ مخاطبہ پا چکا تھا پھر آگے لکھا ہے کہ جب میری عمر چالیس برس کی ہوئی تو خدا نے مجھے مکالمہ و مخاطبہ کا شرف بخشا- قصہ مختصر یہ کہ جری صاحب کی دلیل یہ تھی کہ مرزا کو اپنی عمر کا تو قطعی علم نہیں تھا لیکن جس عمر میں مکالمہ مخاطبہ ہوا اس کا علم قطعی تھا اور وہ 1875 ہے جس حساب سے مرزا کی پیدائش کا سال 1835 بنتا ہے - جس پر میں نے یہ جواب لکھا تھا کہ یہاں مکالمہ مخاطبہ سے مراد وہ الہام جو ماموریت کا الہام تھا یعنی 1882 میں جو ہوا - کیونکہ اگر بقول جری اللہ صاحب کے مرزا کو اپنی عمر کے چالیس سال 1875 میں بننا قطعی طور پر معلوم تھا تو اس سے اگلے صفحہ پر ہی مرزا نے اپنی عمر 68 سال لکھی ہے اور یہ کتاب 1908 میں چھپی تھی اور لکھی شاید 1905 میں گئی تھی - میری اس دلیل کا جواب جری اللہ نے لکھا ہے کہ مرزا نے یہ بھی تو لکھا ہے کہ حقیقی عمر کا علم خدا کو ہے - حد ہے ویسے خود ہی پیدائش کا سال 13 فروری 1835 بتا رہے ہیں اور خود ہی کہہ رہے ہیں کہ مرزا کو مکالمہ مخاطبہ کے سال اپنی عمر کا قطعی طور پر علم تھا کہ وہ چالیس سال ہے اور ساتھ ہی ایک ہی سانس میں یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ حقیقی عمر کا علم تو خدا کو ہے کیا آپ مرزا کو خدا سمجھتے ہیں یا خود کو خدا یا محمد حسین بٹالوی رح اور دوسرے مرزا کے مخالفین جن کے اقوال سے آپ نے ثابت کرنے کی کوشش کی کہ مرزا صاحب کی عمر پوری ہو گئی تھی بھئی جب خود مرزا اور آپ کی جماعت آج تک کسی صحیح نتیجہ پر نہیں پہنچ سکے تو کسی مخالف کی بات کیا حجت ہو گی - چلئے میں اب اپنے دلائل کا آغاز کرتا ہوں ایک لمحہ کے لیے ہم فرض کر لیتے ہیں کہ مرزا کی عمر 1875 میں 40 برس تھی اب غور طلب بات دیکھیں کہ جس پیش گوئی کو مرزا نے اپنے اوپر فٹ کیا اس میں ہے کہ 1290 دن بعد ظہور ہو گا اور 1335 دن تک وہ شخص اپنا کام چلائے گا اس مکمل پیشگوئی کو مرزا اپنے اوپر چسپاں کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ
    " پھر آخری زمانہ اس مسیح موعود کا دانیال 1335 برس لکھتا ہے جو خدا تعالی کے اس الہام سے مشابہ ہے جو میری عمر کی نسبت بیان فرمایا ہے اور یہ پیشگوئی ظنی نہیں ہے"
    (حقیقت الوحی صفحہ خزائن جلد 22 صفحہ 208)
    غور کیجئے مرزا اسی الہام یعنی 80 برس سے 5 ، 6 سال زیا دہ والے الہام اور دانیال علیہ السلام کی پیشگوئی والے الہام سے ثابت کر رہا ہے کہ مسیح موعود کا آخری زمانہ 1335 ہجری ہے یعنی موت کا سال 1335 ہجری ہے جبکہ مرزا کی موت 1326 ہجری میں ہوئی جری اللہ مربی دانیال علیہ السلام کی آدھی پیش گوئی تو لیتا ہے 1335 میں موت کو عمدا چھوڑ رہا ہے جس کو مرزا نے تسلیم کیا ہے اور یہ بھی لکھا کہ یہ پیشگوئی ظنی نہیں لہذا اس الہام سے بھی مرزا صاحب غلط ثابت ہوئے نہ یہ پیشگوئی مرزا صاحب سے متعلق تھی -
    دانیال علیہ السلام کی اسی پیشگوئی کا ذکر مرزا صاحب نے ایک اور جگہ اسطرح کیا ہے
    "۔۔۔ 1290 دن ہوں گے مبارک ہے وہ جو انتظار کیا جائے گا اور اپنا کام محنت سے کرے گا 1335 دن تک"
    (تحفہ گولڑویہ خزائن جلد 17 صفحہ 292 )
    اسی صفحہ کے حاشیہ میں مرزا صاحب نے لکھا ہے
    "اس پیشگوئی میں دانیال نبی بتاتا ہے کہ اس نبی آخر الزمان(محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ظہور کے بعد جب 1290 دن گزریں گے تو وہ مسیح موعود ظاہر ہو گا اور 1335 ہجری تک اپنا کام چلائے گا ""
    ظاہر ہے اگر مرزا صاحب نے 1290 دن سے مراد 1290 ہجری سال بنائے ہیں تو 1335 دن بھی 1335 ہجری سال ہی بتائے جو کہ بالکل جھوٹا نکلا کیونکہ مرزا صاحب 1326 میں ہی مر گئے-
    خیر آگے چلتے ہیں اور اب دیکھتے ہیں کہ مرزا صاحب اپنی عمر چالیس سال 1875 میں بناتے ہیں یا 1882 میں- میں نے اپنی دلیل کی تائید میں مرزا صاحب کی کچھ مزید تحریریں پیش کی تھیں جن کا حرم اللہ صاحب نے کچھ جواب نہیں دیا تھا لہذا یاد دہانی کے طور پر وہ دوبارہ لگا رہا ہوں

    " اور اس کا وہ ظہور جو بلوغ مرسلین کے لیے مقرر کیا گیا ہے یعنی چالیس سال اس وقت ہوا جب چودھویں صدی کا سر آ گیا اور اس آخری خلیفہ کے لیے یہ ضروری تھا کہ آخری ہزار ششم میں حضرت آدم کی طرح پیدا ہو اور سن چالیس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح مبعوث ہو۔۔"
    یہاں پر مرزا صاحب نے مسیح موعود یعنی اپنے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح مبعوث ہونا ضروری قرار دیا ہے -
    اب دیکھتے ہیں مرزا صاحب اپنی عمر کے چالیس سال کہاں سے شروع کرتے ہیں 1875 سے یا 1882 سے - مرزا صاحب کے پیروکاروں کو اگرچہ گراں گزرے گا لیکن یہ حقیقت ہے کہ مرزا صاحب قرآن و حدیث سمیت کسی بھی الہامی پیشگوئی کو اپنے اوپر چسپاں کرنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دیتے تھے - نشان آسمانی نامی کتاب میں مرزا صاحب نے شاہ نعمت اللہ ولی رح کے کچھ اشعار جن میں پیش گوئی ہے کو اپنے اوپر چسپاں کیا- طوالت سے بچنے کے لیے مرزا صاحب نے جو ان کی تشریح کی ہے صرف وہی نقل کروں گا- مرزا صاحب لکھتے ہیں
    "یعنی اس روز سے جب وہ امام ملہم ہو کر اپنے تئیں ظاہر کرے گا چالیس برس تک زندگی کرے گا اب واضح رہے کہ یہ عاجز اپنی عمر کے چالیسویں برس میں دعوت حق کے لیے بالہام خاص مامور کیا گیا اور بشارت دی گئی کہ 80 برس یا اس کے قریب تیری عمر ہے سو اس الہام سے چالیس برس تک دعوت ثابت ہوتی ہے جن میں سے دس برس کامل گزر بھی گئے ہیں "
    (نشان آسمانی خزائن جلد 4 صفحہ 374)
    اسی کتاب میں صفحہ 364 پر مرزا صاحب نے یہی بات لکھی ہے
    "یہ عاجز تجدید دین کے لیے اپنی عمر کے سن چالیس میں مبعوث ہوا جس کو گیاراں برس کے قریب گزر گیا ہے اور بوجہ اس الہام کے جو ازالہ اوہام میں درج ہے ثمانین حولا او قریبا من ذالک ایام بعثت چالیس برس ہوتے ہیں"
    اب یہ کتاب مرزا صاحب نے 1892 میں لکھی تھی جو کہ 1896 میں چھپی اس صاف ظاہر ہے مرزا صاحب 10 برس یا گیارہ کے قریب اپنی عمر کا چالیسواں سال ماموریت کا ہی لے رہے ہیں جو کہ 1882 ہے دوسری بات یہ کہ دانیال علیہ السلام کی پیشگوئی شاہ نعمت اللہ کی پیش گوئی حدیث میں مسیح کے زمین پر چالیس سال رہنے کی پیش گوئی اور اپنی 80 سال عمر والی پیشگوئی سے یہی یقین رکھتے تھے کہ ان کی عمر 80 سال یا اس سے زائد ہو گی اور اس بات کا اظہار انہوں نے ان الفاظ میں بھی کیا
    "اللہ تعالی نے مسیح موعود کی تبلیغ کا زمانہ چالیس سال تک رکھا ہے "
    (ملفوظات جلد 2 صفحہ 708)
    اب سوال یہ ہے کہ مرزا صاحب کی عمر بقول جری اللہ صاحب کے 1875 میں چالیس سال تھی یہ بقول مرزا صاحب کے 1882 میں چالیس سال تھی اور اگر 1882 میں چالیس سال ہو تو پیدائش کا سال 1842 بنتا ہے جس سے عمر 66 سال ہی بنتی ہے- جبکہ مرزا صاحب کو جو عمر سے متعلق دوسرا الہام ہوا کہ خدا تیری عمر لمبی کرے گا 80 سال یا 4 ، 5 زیادہ یا 4،5 کم جو خزائن جلد 22 حقیقت الوحی صفحہ 100 پر اور صفحہ 712 پر بھی درج ہے اور صفحہ 708 پر مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ ان تمام الہامات پر میں ایسے یقین رکھتا ہوں جیسے قرآن پر اس کے مطابق مرزا صاحب کی عمر 75 سے 85 ہونا تھی وہ بھی جھوٹا ثابت ہوا - اور دلچسپ بات یہ کہ جری اللہ صاحب نے جو 1835 سے اپنی مرضی کا حساب لگایا ہے از کے مطابق بھی خود تسلیم کیا ہے کہ مرزا صاحب نے تو 74 سے 86 عمر بتائی تھی جبکہ ان کی عمر 73 سال 3 ماہ اور 14 دن بنی ہے - تعجب ہے کہ اپنی مرضی کے اعداد و شمار سے بھی الہام کو سچا ثابت نہیں کر سکے - اب ثابت ہوا کہ بقول دانیال علیہ السلام کی پیشگوئی جو مرزا صاحب نے اپنے اوپر چسپاں کی اس کے مطابق بھی مرزا صاحب 1335 میں نہ مرنے اور 1875 میں مامور نہ ہونے کی وجہ سے جھوٹے، شاہ نعمت اللہ کی پیشگوئی کے مطابق چالیس سال دعوی کے بعد زندہ نہ رہنے کی وجہ سے بھی جھوٹے حدیث کے اور اپنے دعوی کے مطابق بھی مسیح کی دعوت 40 سال تک پورا نہ ہونے کی وجہ سے بھی جھوٹے، اپنی عمر کے متعلق دونوں الہامات میں عمر 75 سال پوری نہ ہونے کی وجہ سے بھی جھوٹے ثابت ہوتے ہیں-
    رہی یہ بات کہ مرزا صاحب کو موت کے قریب ہونے کے الہام ہو رہے تھے خاص طور پر 1905 کا الہام ہے اول تو مرزا صاحب نے لکھا ہے موت کے قریب کافر کو بھی سچا الہام ہو جاتا ہے دوم یہ کہ مرزا صاحب کو عمر بڑھنے کے بھی الہام ساتھ ہی ہو رہے تھے، مثلا جنوری 1905 کو الہام ہوا خدا تجھے دیر تک باقی رکھے گا ۔۔تیری عمر لمبی کرے گا (تذکرہ صفجہ 496) دسمبر 1905 کو مرزا الہام ہوا "خدایا زندگی بخش" تذکرہ صفحہ (494)
    جنوری 1906 کو الہام ہوا "لائف" یعنی زندگی
    اکتوبر 1906 کو الہام ہوا ہم تجھے وہ بعض امور دکھائیں گے جو مخالفین کی نسبت ہمارا وعدہ ہے اور تیری عمر بڑھائیں گے (تذکرہ صفحہ 574) مارچ 1907 کو الہام ہوا اے ازلی ابدی خدا مجھے زندگی کا شربت پلا-
    (تذکرہ صفحہ 600)
    اللہ کریم ہم سب کو حق کو پہچاننے اور اس پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

اس صفحے کی تشہیر