1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

مرزا قادیانی کی موت ہیضہ سے ہوئی۔ مستند حوالہ جات

Muhammad Muhammai نے 'ختم نبوت فورم کے استعمال کا طریقہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مئی 17, 2017

  1. ‏ مئی 17, 2017 #1
    Muhammad Muhammai

    Muhammad Muhammai رکن ختم نبوت فورم

    طوالت کے لئے معذرت۔ مگر مجبوری ہے کہ کچھ چیزیں وضاحت سے پیش کی جائیں۔

    جب ہم مرزائی لٹریچر پر نظر ڈالتے ہیں جیسے مرزا قادیانی کی تحاریر، مرزا بشیر احمد اور کتاب حیات ناصر پر، تو ایک بات اظہر من الشمس ہوجاتی ہے کہ مرزا جی واقعتاً ہیضہ کے ہی ہاتھوں آنجہانی ہوگئے تھے۔ سب سے پہلے ہم مرزا بشیر احمد قادیانی کی تحریر سامنے رکھتے ہیں۔ اور دیکھتے ہیں کہ وہ اور مرزا غلام احمد قادیانی کی بیوی اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟
    سیرت المہدی۔ حصہ اول۔ صفحہ 10
    خاکسار نے والدہ صاحبہ کی یہ روایت جو شروع میں درج کی گئی ہے جب دوبارہ والدہ صاحبہ کے پاس برائے تصدیق بیان کی اور حضرت مسیح (یعنی مرزا قادیانی) کی وفات کا ذکر آیا تو والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو پہلا دست کھانا کھانے کے وقت آیا تھا مگر اس کے بعد تھوڑی دیر تک ہم لوگ آپ کے پاؤں دباتے رہے اور آپ آرام سے لیٹ کر سوگئے۔ اور میں بھی سوگئی لیکن کچھ دیر بعد آپ کو پھر حاجت ہوئی اور غالباً ایک یا دو دفعہ رفع حاجت کے لئے آپ پاخانہ تشریف لے گئے۔ اس کے بعد آپ نے زیادہ ضعف محسوس کیا تو اپنے ہاتھ سے مجھے جگایا۔ میں اٹھی تو آپ کو اتنا ضعف تھا کہ آپ میری چارپائی پر ہی لیٹ گئے اور میں آپ کے پاؤں دبانے کے لئے بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب (مرزا قادیانی) نے فرمایا تم اب سوجاؤ۔ میں نے کہا نہیں میں دباتی ہوں۔ اتنے میں آپ کو ایک اور دست آیا مگر اب اس قدر ضعف تھا کہ آپ پاخانہ نہ جاسکتے تھے اسلئے میں نے چارپائی کے پاس ہی انتظام کردیا اور آپ وہیں بیٹھ کر فارغ ہوئے اورپھر اٹھ کر لیٹ گئے اور میں پاؤں دباتی رہی مگر ضعف بہت ہوگیا تھا اس کے بعد ایک اور دست آیا اور پھر آپ کو ایک قے آئی۔ جب آپ قے سے فارغ ہوکر لیٹنے لگے تو اتنا ضعف تھا کہ آپ لیٹے لیٹے پشت کے بل چارپائی پر گرگئے اور آپ کا سر چارپائی سے ٹکرایا اور حالت دگرگوں ہوگئی اس پر میں نے گھبرا کر کہا " اللہ یہ کیا ہونے لگا ہے" آپ نے فرمایا " یہ وہی ہے جو میں کہا کرتا تھا" خاکسار نے والدہ صاحبہ سے پوچھا کیا آپ سمجھ گئی تھیں کہ حضرت صاحب (مرزا قادیانی) کا کیا منشاء ہے؟ والدہ نے فرمایا" ہاں"
    اب ہم دیکھتے ہیں کہ " حیات ناصر" نے اس واقعہ کو کس طرح لیا ہے؟
    حیات ناصر۔ ص 14
    حضرت صاحب رات کو بیمار ہوئے۔ اس رات کو میں اپنے مقام پر جاکر سوچکا تھا۔ جب آپ کو بہت تکلیف ہوئی تو مجھے جگایا گیا تھا۔ جب میں حضرت صاحب (مرزا قادیانی) کے پاس پہنچا۔ اور آپ کا حال دیکھا۔ تو آپ نےمجھے مخاطب کرکے فرمایا۔ میر صاحب مجھے وبائی ہیضہ ہوگیا ہے۔ اس کے بعد آپ نے کوئی ایسی صاف بات نہیں میرے خیال میں نہیں فرمائی۔
    گھر کے بھیدیوں کی جانکاری اور حوالہ جات کے بعد آئیے دیکھتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کیا کہتے ہیں ہیضہ کے بارےمیں۔ تاکہ ان کا مؤقف بھی جانا جاسکے کہ ہیضہ کس حالت کو کہا جائے گا۔
    روحانی خزائن۔ جلد 5 ص 168، آئینہ کمالات اسلام
    مثلاً انسان اپنے مرنے کے وقت صرف ایک ہی ہیضہ کا دست یا تھوڑا سا پانی قے کے طور پر نکال کر راہی عدم ہوجاتا ہے۔
    ان حوالہ جات اور مرزا قادیانی کا موقف "ہیضہ " پر مرزا قادیانی کی موت ہیضہ سے ہونا ہی ثابت کرتا ہے۔
    اب آئیے ذرا ان معاملات کی طرف اور ان پیشگوئیوں اور بددعاؤں کی طرف جس میں کسی ایک مخالف کا ہیضہ سے مرنا لکھا ہوا تھا۔ اور مزے کی بات یہ کہ مرزا قادیانی کی موت کی پیشگوئی اکثر ہیضہ سے ہونا ہی کی گئی ہے۔ سب سے پہلے ہم اس پیشگوئی کو دیکھتے ہیں۔ یہ لیکھرام کی پیش گوئی ہے، جو مرزا جی نے اپنی کتاب میں بھی نقل کی ہے۔
    روحانی خزائن، جلد 13، ص 409 البلاغ ۔فریاد درد
    "اور ان دنوں میں اس نے بھی شوخی اور چالاکی سے میری نسبت یہ اشتعار شائع کیا کہ مجھے بھی یہ الہام ہوا ہے کہ یہ شخص تین برس کے اندر ہیضہ سے مرجائے گا"
    لیجئے قارئین۔ نفس پیشگوئی کا تو معلوم ہوگیا کہ مرزا جی نے ہیضہ سے ہی مرنا ہے۔
    اب مزید تحقیق و جستجو کرتے ہیں اور اس مشہور واقعہ کی طرف چلتے ہیں جس سے مرزائی حضرات منہ چھپائے پھرتے ہیں۔ مگر اس سے قبل مرزا قادیانی کی ایک اور تحریر بھی غور طلب ہے۔ ملاحظہ فرمائیں۔
    مرزا قادیانی اپنی کتاب روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 122 میں لکھتا ہے۔
    شرط یہ ہوگی کہ کوئی موت قتل کے رو سے واقع نہ ہو بلکہ محض بیماری کے ذریعہ ہو۔ مثلاً طاعون سے یا ہیضہ سے یا اور کسی بیماری سے تا ایسی کاروائی حکام کے لئے تشویش کا موجب نہ ٹہرے۔ اور ہم یہ بھی دعا کرتے رہیں گے کہ ایسی موتوں سے فریقین محفوظ رہیں۔ صرف وہ موت کاذب کو آوے جو بیماری کی موت ہوتی ہے۔
    اب آئیے ان وجوہات کی طرف جس سے مرزائی صاحبان نگاہیں چُراتے ہیں اور باجود تحریری ثبوت ہونے کے وہ اسے قبول نہیں کرتے کیوں کہ اس طرح مرزا قادیانی اپنے ہی الفاظ میں ہی کذاب اور مفتری ٹہرتے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں۔
    مرزا قادیانی نے ایک اشتہار دیا جو مجموعہ اشتہارات کے نام سے جلد سوم(3) کے صفحہ نمبر 578سے شروع ہوتا ہے تاریخ۔ 1907 ۔15 اپریل (اخبار بد رنمبر 16 جلد 6 18 اپریل 1907) یہی اشتہار چند دن بعد بھی مشتہر کیا گیا تھا۔ اور اشتہار کا نام ہے۔
    مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کے ساتھ آخری فیصلہ:
    مدت سے آپ کے پرچہ اہلحدیث میں میری تکذیب اور تفسیق کا سلسلہ جاری ہے۔ ہمیشہ مجھے آپ اپنے اس پرچہ میں مردود و کذاب دجال مفسد کے نام سے منسوب کرتے ہیں اور دنیا میں میری نسبت شہرت دیتے ہیں کہ یہ شخص مفتری اور کذاب اور دجال ہے اور اس شخص کا دعوی مسیح موعود ہونے کا سراسر افتراء ہے۔ میں نے آپ سے بہت دکھ اُٹھایا اور صبر کرتا رہا۔ مگر چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ میں حق کے پھیلانے کے لئے مامور ہوں اور بہت سے افتراء میرے پر کرکے دنیا کو میری طرف آنے سے روکتے ہیں اور مجھے ان گالیوں اور ان تہمتوں اور ان الفاظ سے یا د کرتے ہیں کہ جن سے بڑھ کر کوئی لفظ سخت نہیں ہوسکتا۔ اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہوجاؤں گا(مرزا قادیانی کے ان الفاظ پر غور کیا جائے کہ "میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہوجاؤں گا) کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی زندگی میں ہی ناکام ہلاک ہوجاتا ہے۔ اور اس کا ہلاک ہونا ہی بہتر ہوتا ہے تا خدا کے بندوں کو تباہ نہ کرے۔ اور اگر میں کذاب اور مفتری نہیں ہوں اور خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں اور مسیح موعود ہوں تو میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ سنت اللہ کے موافق آپ مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے۔پس اگر وہ سزا جو انسانوں کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے جیسے طاعون ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی میں ہی وارد نہ ہوئی تو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں، محض دعا کے طور پر میں نے خدا سے فیصلہ چاہا ہے، اور میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اے میرے مالک بصیر و قدیر جو علیم و خبیر ہے جو میرے دل کے حالات سے واقف ہے اگر یہ دعوی مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیرے نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن رات افتراء کرنا میرا کام ہے تو اے میرے پیارے مالک میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کردے آمین۔ مگر اے میرے کامل اور صادق خدا۔ اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے حق پر نہیں تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ہی ان کو نابود کر۔ مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون و ہیضہ وغیرہ امراض مہلکہ سے ۔۔( پھر اس اشتہار کے آخر میں مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے۔) ۔۔ اس لئے اب میں تیرے ہی تقدس اور اس رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور مولوی ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور جو تیری نگاہ میں درحقیقت مفسد اور کذاب ہے اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیاسے اٹھالے یا کسی اور نہایت سخت آفت میں جو موت کے برابر ہو مبتلا کر۔ اے میرے پیارے مالک تو ایسا ہی کر۔ آمین ثم آمین۔
    بالآخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ وہ میرے اس تمام مضون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔
    مزید مرزا قادیانی اخبار بدر میں لکھتا ہے۔ (اخبار بد 25 اپریل 1907)
    ثناء اللہ کے متعلق جو کچھ لکھا گیا ہے یہ دراصل ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا ہی کی طرف سے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے۔
    مرزا قادیانی کی اس تحریر سے چند باتیں واضح ہوئیں وہ یہ ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے سچ اور جھوٹ کا مدار دو باتوں پر رکھا تھا۔
    1۔ ان دونوں میں سے جو سب سے پہلے فوت ہوگا وہ خدا کی نظر میں جھوٹا ہوگا۔
    2۔ اور موت بھی قتل سے نہیں بلکہ کسی مہلک بیماری جیسے طاعون یا ہیضہ سے ہلاک ہوگا۔
    اب قارئین کرام فیصلہ فرمائیں کہ مرزا قادیانی خود اپنی تحریر کی رو سے کیا نکلا؟
    غور کیجئے مرزا صاحب کے الفاظ۔۔
    حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کو مخاطب کرتے ہوئے مرزا قادیانی کہتا ہے کہ۔
    ۔ اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہوجاؤں گا
    ۔ اگر یہ دعوی مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیرے نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن رات افتراء کرنا میرا کام ہے تو اے میرے پیارے مالک میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کردے آمین
    ۔ اس لئے اب میں تیرے ہی تقدس اور اس رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور مولوی ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور جو تیری نگاہ میں درحقیقت مفسد اور کذاب ہے اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیاسے اٹھالے یا کسی اور نہایت سخت آفت میں جو موت کے برابر ہو مبتلا کر۔ اے میرے پیارے مالک تو ایسا ہی کر۔ آمین ثم آمین۔
    اس پر مرزا جی مزید کہتے ہیں کہ۔
    ۔ ثناء اللہ کے متعلق جو کچھ لکھا گیا ہے یہ دراصل ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا ہی کی طرف سے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے۔
    ان تمام باتوں پر غور کے بعد فیصلہ کیجئے کہ
    مرزا قادیانی دنیا سے رخصت ہوا بحالتِ ہیضہ: 26 مئی 1908
    جبکہ مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ 1948 میں فوت ہوئے۔
    سچ ہے جو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں درحقیقت مفسد و کذاب تھا وہ صادق کی زندگی میں دنیا سے اٹھ گیا

اس صفحے کی تشہیر