1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

مرزا قادیانی کی گستاخی کی دفعہ 298 کی حمایت

ضیاء رسول امینی نے 'روحانی خزائن جلد10' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ ستمبر 26, 2016

  1. ‏ ستمبر 26, 2016 #1
    ضیاء رسول امینی

    ضیاء رسول امینی منتظم اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    مرزا قادیانی کی گستاخوں کی سزا کے قانون دفعہ 298 کی حمایت
    مرزائی امت کو دفعہ 298 سے شدید تکلیف ہے اور پوری دنیا میں مرزائی کمیونٹی باقاعدہ ایک مشن کے تحت یہ جھوٹا پروپیگنڈہ کرتی ہے کہ یہ قانون اسلام کے خلاف ہے قرآن و حدیث کے خلاف ہے، وجہ اسکی یہی ہے کہ یہ لوگ خود کو اور دوسرے کافروں کو کھلی کھلی گستاخیوں کا راستہ دکھانا چاہتے ہیں اور ہر طرح کی گستاخی کرکے قانونی شکنجے سے محفوظ رہنے کے چکر میں ہیں۔ ان کو اس قانون سے وہی تکلیف ہے جو چور کو چوری کی سزا سے ، زانی کو زنا کی سزا سے ہوتی ہے۔
    مرزا قادیانی نے نہ صرف اسی دفعہ 298 کی حمایت کی بلکہ اس کو مزید سخت کرنے کی تلقین بھی کی، اور ساتھ ساتھ اس وقت گورنمنٹ برطانیہ کو درخواست بھی لکھی جس میں اس نے دفعہ 298 میں مزید دو شقیں شامل کرنے کی تجویز دی ان شقوں کو شامل کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے
    مرزا قادیانی لکھتا ہے
    لیکن ہمیں اپنے دل آزار ہمسائیوں مخالفوں سے ایک اور شکایت ہے اگر ہم اس شکایت کے رفع کے لیے اپنی محسن اور مہربان گورنمنٹ کو اس طرف توجہ نہ دلاویں تو کس کو دلاویں اور وہ یہ ہے کہ ہمارے مذہبی مخالف صرف بے اصل روایات اور بے بنیاد قصوں پر بھروسہ کرکے جو ہماری کتب مسلمہ اور مقبولہ کی رو سے ہرگز ثابت نہیں بلکہ منافقوں کے مفتریات ہیں، ہمارا دل دکھاتے ہیں اور ایسی باتوں سے ہمارے سید و مولی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرتے ہیں اور گالیوں تک نوبت پہنچاتے ہیں جن کا ہماری معتبر کتابوں میں نام و نشان نہیں ۔ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 84
    آگے مرزا قادیانی لکھتا ہے
    ہم نہایت ادب سے گورنمنٹ عالیہ کی جناب میں یہ عاجزانہ التماس کرتے ہیں کہ ہماری محسن گورنمنٹ ان احسانوں کو یاد کرکے جو اب تک ہم پر کیے ہیں ایک یہ بھی ہماری جانوں اور آبرووں اور ٹوٹے ہوئے دلوں پر احسان کرے کہ اس مضمون کا ایک قانون پاس کردیوے یا کوئی سرکلر جاری کرے کہ آئندہ جو مناظرات اور مجادلات اور مباحثات مذہنی امور میں ہوں ان کی نسبت ہر یک قوم مسلمانوں اور عیسائیوں اور آریوں وغیرہ میں سے دو امر میں ضرور پابند ہوں ۔۔۔ آگے وہ دو امور لکھے ایک یہ کہ جو پاس کسی کی اپنی مذہبی کتاب سے ثابت ہو اس کا اعتراض دوسرے مذہب پر نہ کیا جائے دوسرا یہ کہ فریق مخالف جس جس کتاب کے معتبر ہونے کے بارے اشتہار شائع کرے اس کے علاوہ کسی دوسری کتاب سے معترض کوئی اعتراض پیش نہ کرے۔
    اس کے بعد لکھا کہ کوئی فریق
    اگر اس قانون کی خلاف ورزی کرے تو بلا تامل اس سزا کا مستوجب ہو جو تعزیرات ہند دفعہ 298 میں درج ہے
    مزید لکھا
    اس قانون کے پاس کرنے میں کسی خاص قوم کو رعایت نہیں بلکہ سب اس میں شامل ہیں اور اور اس قانون کو پاس کرنے میں بے شمار برکتیں ہیں جس سے امن و عافیت کی راہیں کھلتی ہیں ۔ ملاحظہ ہو روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 85
    قارئین کرام بالکل ہو بہو یہی کام آج مرزائی مذہب کے پیروکار کرتے ہیں کہ من گھڑت و موضوع روایات اور وہ کتابیں جن کو مسلمانوں کے ہاں کوئی حیثیت حاصل نہیں ان کے حوالے پیش کرکے اور پھر ان میں بھی ردو بدل کرکے دن رات اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخیوں میں مصروف ہیں۔ مرزا قادیانی کے مطابق ایسے عناصر کو دفعہ 298 کے تحت سزا دینی چاہیے۔
    اس وقت دفعہ 298 کے تحت گستاخی کرنے والے کی سزا کتنی تھی یہ بھی مرزا قادیانی کی زبانی سنیے، مرزا قادیانی انبیاء کی شان میں گستاخی کرنے والوں کی سزا بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ
    اگرچہ تعزیرات ہند دفعہ 298 کی رو سے ایسے شخصوں کی توہین کے مقدمہ میں جو ایک عظیم الشان پیشوا کی نسبت کی گئی ہے سزا تو یہ ہے کہ کم سے کم عدالت سے داڑھی اور مونچھ منڈوا کر برس برس کی قید ہو۔ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 54
    آگے مرزا قادیانی قانون کی دفعہ 298 میں ان دو شقوں کو شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے لکھتا ہے کہ
    بے شک اس سے پہلے توہین کے لیے دفعہ 298 تعزیرات ہند میں موجود ہے لیکن وہ ان مراتب تصفیہ پاجانے سے پہلے فضول اور نکمی ہے اور خیانت پیشہ لوگوں کے لیے گریز گاہ وسیع ہے۔اور پھر ہم اپنے مخالف فریقوں کی طرف متوجہ ہوکر کہتے ہیں کہ آپ لوگ بھی برائے خدا ایسی تدبیر کو منظور کریں جس کا نتیجہ سراسر امن وعافیت ہے ۔ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 86
    کمال ہے مرزا قادیانی تو اس دفعہ 298 کو امن و عافیت قرار دے لیکن مرزائیوں کو یہ قانون ایک آنکھ نہ بھائے جن کا سلوگن ہے محبت سب کے لیے :v
    مرزا قادیانی نے نہ صرف اس قانون کی حمایت کی بلکہ اسے امن و عافیت کا ضامن قانون قرار دیا اور اس میں مزید دو شرائط کا اضافہ کرنے کے لیے گورنمنٹ کو درخواست کی اور اس پر 704 لوگوں کے دستخط کروائے جن کے نام بھی صفحہ 88 تا 97 پر موجود ہیں
    اس کے بعد مرزا قادیانی نے 22 ستمبر 1895 کو ایک اشتہار شائع کیا اور اعلان کیا کہ تمام لوگ اس قانون کے لیے آواز بلند کریں اور گورنمنٹ سے درخواست کریں کہ وہ دفعہ298 تعزیرات ہند میں یہ 2 عدد مزید شقیں شامل کرے یہ اشتہار صفحہ 98 تا 102 پر موجود ہے۔ اسی میں مرزا قادیانی نے گورنمنٹ کو لکھی جانے والی درخواست پر دستخط کرنے کی تلقین کرتے ہوئے مرزا نے لکھا
    اگر کسی صاحب نے اس مبارک محضر پر دستخط نہ کیے جس سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت مفتری لوگوں کے افتراوں سے بچ جاتی ہے اور اسلام کمینہ اور سراسر دروغ حملوں سے امن میں آجاتا ہے تو اس کا اسلام نہایت بودا اور تاریکی میں پڑا ہوا ثابت ہوگا۔ صفحہ 102
    آگے صفحہ 103 تا 107 وہ درخواست موجود ہے جو مرزا قادیانی نے انگریز حکومت کو بھیجنے کے لیے لکھی جس پر سب کو دستخط کرنے کی تلقین کی اس درخواست میں لکھا کہ گستاخی کرنے والوں کو دفعہ 298 کے تحت سزا دی جائے نیز یہ 2 شقیں بھی اس دفعہ میں شامل کی جائیں جن کا احوال اوپر بیان کیا گیا ہے۔
    آج کے مرزائی کو اس دفعہ سے شدید تکلیف ہے جس دفعہ کو نافذ کرنے اور مزید فعال اور سخت کرنے کی درخواستیں مرزا اپنے آقا و مولی انگریز کو کرتا رہا۔ اس وقت کی غیر مسلم حکومت میں گستاخی کی کم سے کم سزا داڑھی مونچھیں مونڈ کر سالہا سال کی قید تھی جس کی مرزا نے بھرپور تائید کی جب کہ اس گورنمنٹ کو مرزا قادیانی نے آدھا اسلام قرا دیا تھا تو پھر پورے اسلام میں اور اسلامی سلطنت میں آج گستاخی کرنے والے کو سزائے موت دی جائے تو اس پر اعتراض کیسا؟ مرزا قادیانی نے تو اس شخص کو بھی 298 کے تحت سالہا سال کی قید کی سزا دینے کا مطالبہ کیا جو غیر معتبر کتابوں کے حوالے دے کر اعتراض کرے یا من گھڑت احادیث اور روایات کو پیش کرکے، جیسا آج کے سب مرزائی کرتے ہیں تو اس کے لیے بھی مرزا نے سزا دینے کی حمایت اور درخواست کی تو جو سیدھی سیدھی گستاخی کرے اس کو کیسے معاف کیا جاسکتا ہے؟
    کہہ دو کہ مرزا صاحب سے اجتہادی غلطی ہوگئی تھی اصل ہم نے قرآن کو سمجھا ہے :v

    Baluchistan-loves-pm-narendra-modi.jpg 1.png 2.png 3.png 4.png

اس صفحے کی تشہیر