1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

مرزا مسرور صاحب کے نام شیخ راحیل کا خط

حمزہ نے 'مرزا مسرور صاحب کے نام شیخ راحیل کا خط' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اکتوبر 20, 2014

لڑی کی کیفیت :
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
  1. ‏ اکتوبر 20, 2014 #1
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    یہ کھلا خط شیخ راحیل احمد صاحب (جرمنی) کی طرف سے ہے جو انہوں نے قادیانی سربراہ مرزا مسرور احمد صاحب کے نام لکھا ہے اور تمام قادیانیوں کو حقائق و حوالہ جات کی روشنی میں درد کے ساتھ دعوتِ حق کا پیغام دیا ہے۔ شیخ راحیل احمد صاحب 1947ء میں قادیان (انڈیا) میں پیدا ہوئے۔ آٹھ سال کی عمر میں سائق (سالار) اطفال الاحمدیہ ربوہ مقرر ہوئے۔ بتدریج جماعتی ذمہ داریاں سنبھالتے رہے اور 1984ء میں جرمنی چلے گئے اور وہاں بھی قادیانی جماعت کے مرکزی رہنما رہے۔ جرمنی کی قادیانی کی ذیلی تنظیم ” ہیومنٹی فرسٹ“ میں اہم کردار ادا کیا۔ چند سال پہلے اللہ کے فضل و کرم سے ”رائل فیملی“ اور ”احمدیت“ سے بیزار ہونا شروع ہو گئے اور 23 اگست 2003 ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا مشتاق الرٰحمن صاحب کے ہاتھ پر جرمنی کے شہر وفن باخ میں اسلام قبول کیا اور اپنے بیوی بچوں اور داماد سمیت مسلمان ہو کر دنیا بھر میں شہرت پائی۔ شیخ راحیل احمد صاحب نے بتایا کہ وہ کئی سال پہلے اندر سے مسلمان ہو چکے تھے لیکن بیوی بچوں کو قائل کرنے میں تقریباً تین سال لگ گئے۔ ان کا کہنا ہے وہ ردِ قادیانیت پر مبنی لٹریچر پڑھ کر نہیں بلکہ مرزا غلام احمد صاحب کی تصنیفات سے متنفر ہو کر مسلمان ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا کہ نبی، مسیح موعود اور مجدد وغیرہ تو بہت دور کی بات ہے۔ مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کو تو ایک شریف انسان ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ اشتعال انگیز اقدامات اور بیانات کو جماعت احمدیہ الٹا استعمال کر رہی ہے۔ ان کا عزم ہے کہ وہ زندگی بھر ”تحفظ ختم نبوت“ کے لیے مربوط اور منظم جدوجہد کریں گے اور جرمنی میں اس کام کا نظم بھی قائم کریں گے۔ اللہ تعالی شیخ صاحب کو اسلام کی سر بلندی، عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کی سعادت سے نوازیں اور احمدیوں کے لیے ذریعہ ہدایت بنائیں۔ آمین یا رب العالمین۔
    چیلنج
    احمدی جماعت کے سربراہ مرزا مسرور احمد صاحب سے لے کر ہر قسم کے احمدی حضرات سے نہایت محبت سے التجاء کی جاتی ہے کہ وہ شیخ صاحب کے خط کو غیر جانبدار ہو کر پڑھیں اور غور فرمائیں۔ اگر بات سمجھ آ جائے تو قبول کرنے میں کسی قسم کی شرم محسوس نہ کریں۔
    ہم نے تمام حوالہ جات احمدیہ جماعت کی اصل کتابوں سے سکین (Scan) کر کے ساتھ دے دئیے ہیں، تمام حوالہ جات درست ہیں اور کوئی بڑے سے بڑا مربی بھی ان حوالہ جات کو غلط ثابت نہیں کر سکتا۔ اگر حوالہ جات غلط ثابت ہو ں تو ایک کروڑ روپیہ انعام دیا جائے گا۔
    • Like Like x 2
  2. ‏ اکتوبر 20, 2014 #2
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    بنام جناب مرزا مسرور احمد (خلیفہ) صاحب و بزرگو و دوستو!
    السلام
    خاکسار آپ میں سے بہت سوں کی طرح احمدی ماں باپ کے گھر میں پیدا ہوا، ربوہ میں پلا بڑھا اور آپ ہی کی طرح کچھ عرصہ قبل تک اندھے یقین اور جماعت بزر جمہروں کے پھیلائے ہوئے پروپیگنڈہ کا شکار ہو کر مرزا غلام احمد صاحب کو مہدی موعود، مسیح موعود اور نبی خیال کرتا تھا، مگر اچانک ایک واقعہ نے مجھے توجہ دلائی اور میں نے مرزا غلام احمد صاحب کی کتب اور سیرت کا مطالعہ غیر جانبدار ہو کر کیا تو مرزا صاحب کے دعویٰ جات صرف اور صرف تضادات کا شاہکار نظر آئے۔ مرزا غلام احمد صاحب نے خود لکھا ہے: جھوٹے کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔ (براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 275) اور انہی تضادات سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ جناب مرزا صاحب کے دعویٰ جات نہ صرف بے بنیاد ہیں بلکہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی توہین اور ان کے مقام نبوت پر حملہ ہیں۔ چونکہ میری عمر کا ایک بڑا حصہ آپ لوگوں میں گزرا ہے اس لیے قدرتی طور پر میں آپ کے لیے ایک قلبی لگاؤ محسوس کرتا ہوں اور اسی وجہ سے یہ چند سطور آپ کی خدمت میں پیش خدمت ہیں۔ میری اپ سے درخواست ہے کہ انہیں پڑھئے اور ایک بار غور ضرور کیجئے۔ جناب مرزا صاحب کا دعوی ہے کہ براہین احمدیہ میں ہی خدا نے ان کا نام نبی اور رسول رکھا ہے، فرماتے ہیں کہ:
    خدا تعالیٰ کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے اس میں ایسے لفظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں نہ ایک دفعہ بلکہ صدہا دفعہ...ا ور براہین احمدیہ میں بھی جس کو طبع ہوئے بائیس برس ہوئے یہ الفاظ کچھ تھوڑے نہیں ہیں (دیکھو صفحہ 498 براہین احمدیہ) اس میں صاف طور پر اس عاجز کو رسول پکارا گیا ہے۔ (ایک غلطی کا ازالہ، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 206)
    آئیے! قرآن کریم، احادیث اور مرزا صاحب کی اپنی تحریروں سے جائزہ لیں کہ مرزا صاحب کا مقام کیا ہے؟ اور وہ اپنی تحریروں کے آئینے میں کیا ہیں؟ قرآن کریم میں واضح طور پر لکھا ہے:” نہ محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) تم میں سے کسی مرد کے باپ تھے نہ ہیں (نہ ہوں گے) لیکن اللہ کے رسول ہیں اور خاتم النبین ہیں اور اللہ ہر ایک چیز سے خوب آگاہ ہے۔“ (قرآن مجید، سورۃ الاحزاب:41) یہ ترجمہ تفسیر صغیر سے لیا گیا ہے جو جماعت احمدیہ نے شائع کیا ہے۔
    جب ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالی نے بڑی وضاحت اور مثال دے کر بتا دیا کہ جس طرح حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کسی مرد کے باپ نہیں، اسی طرح وہ نبیوں کے ختم کتنے والے ہیں تو آئیے دیکھیں کہ احادیث ان معنوں کی تصدیق کرتی ہیں یا نہیں۔ اس سلسلے میں تین مختلف ادوار کی احادیث پیش خدمت ہیں:
    (1) حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ”میری اور دوسرے انبیاء کی مثال ایسی ہے، جیسے کسی شخص نے گھر بنایا اور اسے بہت عمدہ اور آراستہ و پیراستہ بنایا مگر ایک زاوئیے میں ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی، لوگ اس گھر کے ارد گرد گھومتے اور اسے دیکھ دیکھ کر خوش ہوتے اور کہتے کہ یہ ایک اینٹ کیوں نہ لگا دی گئی؟ حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مزید فرمایا (قصر نبوت کی) کی یہ آخری اینٹ میں ہوں، میں نے اس خالی جگہ کو پُر کر دیا، قصر نبوت مجھ پر مکمل ہوا اور میرے ساتھ ہی انبیاء کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔“ (بخاری، مسند احمد، ترمذی، ابن عساکر)
    اس کا مطلب ہے وہ ایک اینٹ جو رکھ دی گئی اس میں اب کوئی اینٹ نہ لگے گی اور نہ نکلے گی۔
    (2) ”حجۃ الوداع کے اہم ترین موقع پر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں کہ ”لوگو! حقیقت یہ ہے کہ نہ تو میرے بعد کوئی نبی ہو گا اور نہ تمہارے بعد کوئی امت! تو تم اپنے رب کی عبادت کرو، پانچ نمازیں پڑھتے رہو، رمضان کے روزے رکھو، اپنے اموال کی ذکوۃ بخوشی ادا کرو اور اپنے اولو الامر کی اطاعت کرو، تم اپنے آقا کی جنت میں داخل ہو سکو گے“ (کنزالعمال، علی حامش، مسند احمد صفحہ 391)
    اب آپ دیکھیں گے کہ یہ حدیث انتہائی وضاحت سے بتا رہی ہے کہ جنت میں داخل ہونے کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد کسی نبی کا نہ ہونے پر ایمان پہلی شرط ہے اور اس کے بعد دوسری سب باتوں پر یعنی پانچ ارکان اسلام پر ایمان ضروری ہے۔ یہ اعلان اس وقت کے مسلمانوں کے سب سے بڑا اجتماع میں کیا تھا:
    (3) ”اب ہم دیکھتے ہیں کہ مرض وفات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کیا فرماتے ہیں، عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ایسا دکھائی دیتا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہمیں الوداعی خطاب فرما رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تین مرتبہ فرمایا ” میں امی نبی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ جب تک میں تم میں موجود ہوں، میری بات سنو اور اطاعت کرو اور مجھے دنیا سے لے جایا جائے تو کتاب اللہ کو تھام لو، اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھو۔“ (رواہ احمد)
    یعنی وقت وصال بھی یہی تاکید تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد کوئی نبی نہیں۔
    اوپر دئیے گئے حوالوں سے ایک بات واضح ہو جاتی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم آخری نبی ہیں اور ان کے بعد کسی قسم کا نبی نہیں آ سکتا۔ لیکن کیا اوپر دئیے گئے حوالوں میں تاویل ہو سکتی ہے؟ قبل اس کے کہ میں ختم نبوت کے موضوع پر مرزا صاحب کے ارشادات پیش کروں، مرزا غلام احمد صاحب کے اپنے بارے میں اور ان کی کتاب براہین احمدیہ کے بارے میں اور مجدد کے متعلق کچھ ان کے اپنے ارشادات بیان کروں، کیونکہ یہ ارشادات آپ کو ممکن ہے کہ میرا ماضی الضمیر سمجھنے میں مدد کریں۔ براہین احمدیہ:
    مرزا صاحب نے سب سے پہلی کتاب براہین احمدیہ لکھی، براہین احمدیہ کی پہلی چار جلدیں 1884ء میں شائع ہوئیں اور پانچویں جلد 23 سال کے بعد شائع ہوئی اور اس کتاب کے بارے میں ان کے یہ دعویٰ جات ہیں۔ (دعوے تو بہت ہیں، صرف چند کا ذکر کر رہا ہوں )

    1. ” اس عاجز نے ایک کتاب....ایسی تالیف کی ہے جس کے مطالعہ کے بعد طالب حق سے بجز قبولیت اسلام اور کچھ نہ بن پڑے“۔ (اشتہار اپریل 1879ء تبلیغ رسالت حصہ اول صفحہ 8)
    2. ”اور مصنف کو اس بات کا علم دیا گیا ہے کہ وہ مجدد وقت ہے اور روحانی طور پر اس کے کمالات مسیح بن مریم کے کمالات سے مشابہ ہیں....اگر اس اشتہار کے بعد بھی کوئی شخص سچا طالب بن کر عقیدہ کشائی نہ چاہے اور دلی صدق سے حاضر نہ ہو تو ہماری طرف سے اس پر اتمام حجت ہے“۔ (بحوالہ اشتہار 11، مجموعہ اشتہارات جلد 1 صفحہ 23-25)
    3. ”اس پراگندہ وقت میں وہی مناظرہ کی کتاب روحانی جمیعت بخش سکتی ہے جو بذریعہ تحقیق عمیق کے اصل ماہیت کے باریک دقیقہ کی تہہ کو کھولتی ہو“۔ (بحوالہ اشتہار نمبر 16، مجموعہ اشتہارات جلد 1 صفحہ 43)
    4. ”سو اب اس کتاب کا متولی اور مہتمم ظاہراً و باطناً حضرت رب العالمین ہے“۔ (اشتہار نمبر 18، مجموعہ اشتہارات جلد 1 صفحہ 56)
    مجدد کی تعریف میں مرزا صاحب فرماتے ہیں:
    1. ” جو لوگ خدا تعالیٰ کی طرف سے مجددیّت کی قوت پاتے ہیں وہ نرے استخوان فروش نہیں ہوتے بلکہ وہ واقعی طور پر نائب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور روحانی طور پر آنجناب کے خلیفہ ہوتے ہیں۔ خدا تعالیٰ انہیں ان تمام نعمتوں کا وارث بناتا ہے جو نبیوں اور رسولوں کو دی جاتی ہیں.... اور خدا تعالیٰ کے الہام کی تجلّی انکے دلوں پر ہوتی ہے اور وہ ہر ایک مشکل کے وقت روح القدس سے سکھلائے جاتے ہیں اور انکی گفتار اور کردار میں دنیا پرستی کی ملونی نہیں ہوتی کیونکہ وہ بکلّی مصفّا کئے گئے اوربتمام و کمال کھینچے گئے ہیں۔“ (فتح السلام حاشیہ، روحانی خزائن جلد نمبر 3 صفحہ 7)
    اپنی ذات کے بارے میں معصوم عن الخطا ہونے کا دعوی کرتے ہوئے فرماتے ہیں
    1. ”اللہ تعالی مجھے غلطی پر ایک لمحہ بھی باقی نہیں رہنے دیتا اور مجھے ہر ایک غلط بات سے محفوظ رکھتا ہے“۔ (نور الحق حصہ دوئم، روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 272)
    2. ”میں نے جو کچھ کہا وہ سب کچھ خدا کے امر سے کہا ہے اور اپنی طرف سے کچھ نہیں کہا“۔ (مواہب الرحمن، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 221)
    اب ہم دیکھتیں ہیں مرزا صاحب آیت خاتم النبین کی کیا تفسیر کرتے ہیں۔ مرزا صاحب اپنی کتاب ازالہ اوہام میں فرماتے ہیں۔
    1. ”یعنی محمد تمہارے مردوں میں سے کسی مرد کا باپ نہیں ہے، مگر وہ رسول اللہ ہے اور ختم کرنے والا ہے نبیوں کا“ دوسری جگہ سورۃ الاحزاب کی آیت 41 (مندرجہ بالا) کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
    2. ”کیا تو نہیں جانتا کہ فضل اور رحم کرنے والے رب نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا نام بغیر کسی استثناء کے خاتم الانبیاء رکھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے لا نبی بعدی سے طالبوں کے لئے بیان واضح سے اس کی تفسیر کی ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں اور اگر ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد کسی نبی کے ظہور کو جائز قرار دیں تو ہم وحی نبوت کے بند دروازہ کے بند ہونے کے بعد اس کا کھلنا جائز قرار دیں گے جو بالبداہت باطل ہے۔ جیسا کہ مسلمانوں پر مخفی نہیں اور ہمارے رسول کے بع کوئی نبی کیسے آ سکتا ہے جبکہ آپ کی وفات کے بعد وحی منقطع ہو گئی ہے اور اللہ نے آپ کے ذریعہ نبیوں کا سلسلہ ختم کر دیا“۔ (حمامۃ البشریٰ، روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 200)
    3. ”قرآن کریم بعد خاتم النبین کے کسی رسول کا آنا جانا جائز نہیں رکھتا، خواہ وہ نیا رسول ہو یا پرانا ہو“۔ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 511)
    4. ”حسب تصریح قرآن کریم رسول اُسی کو کہتے ہیں جس نے احکام و عقائد دین جبرئیل کے ذریعہ سے حاصل کئے ہوں لیکن وحی نبوت پر تو تیرہ سو برس سے مہر لگ گئی ہے کیا یہ مہر اُس وقت ٹوٹ جائے گی“۔ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 387)
    ہم دیکھتے ہیں کہ مرزا غلام احمد صاحب کا دعوی ہے کہ وہ مجدد ہیں اور قرآن ان کو خدا نے سکھایا ہے اور ہر قسم کے دلائل سے، تحقیق سے اثبات صداقت اسلام پیش کرنے کے دعوے دار ہیں اور کوئی لفظ خدا کی مرضی کے بغیر نہیں نکالتے اور تجدید دین کے لئے خدا ان کو ایک لمحہ بھی غلطی پر نہیں رہنے دیتا، اس حیثیت میں وہ ختم نبوت کا انہی معنوں میں اقرار کر رہے ہیں جن معنوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، صحابہ کرام رضی اللہ اور آئمہ دین و مسلمان تیرہ صدیوں سے ایمان رکھتے تھے اور اس کے علاوہ کسی بھی دوسرے قسم کے معنی کو کفر قرار دے رہے ہیں۔ مرزا صاحب کے بیٹے و خلیفہ ثانی بھی ہمارے اس یقین کی تصدیق کرتے فرماتے ہیں
    ”الغرض حقیقۃ الوحی کے حوالہ نے واضح کر دیا کہ نبوت اور حیات مسیح کے متعلق آپ کا(مرزا غلام احمد کا ) عقیدہ عام مسلمانوں کی طرح تھا مگر پھر دونوں میں تبدیلی فرمائی“۔(بحوالہ الفضل 6 ستمبر 1941ء خطبہ جمعہ کالم 3)
    اب ہوتا کیا کہ کچھ علمائے حق نے خدا کی دی ہوئی دراست سے اندازہ لگا لیا کہ ان صاحب کا ارادہ نبی بننے کا ہے اور انہوں نے جب اعتراض اٹھائے تو مرزا صاحب کے جوابات ملاحظہ ہوں:
    ”ان پر واضح رہے کہ ہم بھی نبوت کے مدعی پر لعنت بھیجتے ہیں“۔ (مجموعہ اشتہارات جلد 2 صفحہ 297 )
    اس طرح وقتی طور پر مخالفت کو کم کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، لیکن علمائے حق کے خدشات صحیح نکلتے ہیں کہ ان صاحب (مرزا غلام احمد) کا مالیخولیا و مراق جیسے جیسے ترقی کرے گا، اسی طرح ان کے دعوی جات بھی بڑھیں گے۔ مرزا صاحب کو مراق تھا یہ نہیں؟ میرے خیال میں یہ حوالہ کافی ہے۔
    ”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے کئی دفعہ حضرت مسیح موعود سے سنا ہے کہ مجھے ہسٹیریا ہے۔ بعض اوقات آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے“۔ (سیرۃ المہدی حصہ دوئم صفحہ 55 از مرزا بشیر احمد ایم اے)
    اور مراق کیا چیز ہے یہ حوالہ میرے خیال میرے خیلا میں کافی رہے گا ” ایک مدعی الہام کے متعلق اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اس کو ہسٹریا مالیخولیا یا مرگی کا مرض تھا تو اس کے دعویٰ کی تردید کے لیے کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں رہتی۔ کیونکہ یہ ایک ایسی چوٹ ہے جو اس کی صداقت کی عمارت کو بیخ و بن سے اکھاڑ دیتی ہے“ (مضمون ڈاکٹر شاہنواز صاحب قادیانی، مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز، قادیان صفحہ6،7 بابت ماہ اگست 1926 ء)
    اب دیکھیں کہ مرزا صاحب کس طرح اپنے دعووں میں آگے بڑھتے بڑھتے نہ صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے مقام تک پہنچتے ہیں (نعوذ باللہ) بلکہ ان کو پرے ہٹانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں:
    (1) ” میرا نبّوت کا کوئی دعویٰ نہیں یہ آپ کی غلطی ہے یا آپ کسی خیال سے کہہ رہے ہیں کیا یہ ضروری ہے کہ جو الہام کا دعویٰ کرتا ہے وہ نبی بھی ہو جائے.... اور ان نشانوں کا نام معجزہ رکھنا نہیں چاہتا بلکہ ہمارے مذہب کی رُو سے ان نشانوں کا نام کرامات ہے جو اللہ رسول ؐکی پیروی سے دیئے جاتے ہیں“(جنگ مقدس، روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 156)
    (2) ” یاد رہے کہ بہت سے لوگ میرے دعوے میں نبی کا نام سن کر دھو کہ کھاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ گویا میں نے اُس نبوت کا دعویٰ کیا ہے جو پہلے زمانوں میں براہ راست نبیوں کو ملی ہے لیکن وہ اس خیال میں غلطی پر ہیں میرا ایسا دعویٰ نہیں ہے“۔ (حقیقۃ الوحی حاشیہ، روحانی خزائن جلد نمبر 22 صفحہ 154)
    (3) ” یہ سچ ہے کہ وہ الہام جو خدا نے اپنے اس بندہ پر نازل فرمایا اس میں اس بندہ کی نسبت نبی اور رسول اور مرسل کے لفظ بکثرت موجود ہیں۔ سو یہ حقیقی معنوں پر محمول نہیں ہیں.... مگر مجازی معنوں کی رو سے خدا کا اختیار ہے کہ کسی ملہم کو نبی کے لفظ سے یا مرسل کے لفظ سے یاد کرے“۔ (سراج منیر صفحہ 5 ، روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 5)
    اب جب ہر طرف سے شور اٹھا تو کیا وضاحت پیش کی جا رہی ہے
    (4) ” نبوت کا دعویٰ نہیں بلکہ محدثیت کا دعویٰ ہے جو خد اؔ ئے تعالیٰ کے حکم سے کیا گیا ہے۔ اور اس میں کیا شک ہے کہ محدثیت بھی ایک شعبہ قویہ نبوت کا اپنے اندر رکھتی ہے“۔ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 320)
    (5) ” محدّث جو مرسلین میں سے ہے اُمّتی بھی ہوتا ہے اور ناقص طور پر نبی بھی.... وہؔ اگرچہ کامل طور پر اُمتی ہے مگر ایک وجہ سے نبی بھی ہوتا ہے اور محدث کے لئے ضرور ہے کہ وہ کسی نبی کا مثیل ہو اور خدائے تعالیٰ کے نزدیک وہی نام پاوے جو اس نبی کا نام ہے“۔ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 407)
    (6) ” یہ عاجز خدا ئے تعالیٰ کی طرف سے اس امت کے لئے محدث ہو کر آیا ہے اور محدث بھی ایک معنے سے نبی ہی ہوتا ہے.... اور بعینہ انبیا کی طرح مامور ہو کر آتا ہے اور انبیا کی طرح اس پر فرض ہوتا ہے کہ اپنے تئیں بآواز بلند ظاہر کرے اور اس سے انکار کرنے والا ایک حد تک مستوجب سزا ٹھہرتا ہے“۔ (توضیحِ المرام، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 60)
    (7) ” مسیح موعود جو آنے والا ہے اس کی علامت یہ لکھی ہے کہ وہ نبی اللہ ہو گا یعنی خدائے تعالیٰ سے وحی پانے والا۔ لیکن اس جگہ نبوت تامہ کاملہ مراد نہیں.... سو یہ نعمت خاص طور پر اس عاجز کو دی گئی ہے“۔ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 478)
    اب ہوتا کیا ہے ان بے سروپا دعووں کی وجہ سے مخالفت بے انتہا بڑھ جاتی ہے، اس کو وقتی طور پر ٹھنڈا کرنے کے لیے 2 اکتوبر 1891ء کو ایک عاجز مسافر کا اشتہار کے نام سے ایک اشتہار شائع کرتے ہیں:
    (8) ”میں نہ نبوت کا مدعی ہوں۔ اور نہ معجزات اور ملائک اور لیلۃ القدر وغیرہ سے منکر، میں ان تمام امور کا قائل ہوں جو اسلامی عقائد میں داخل ہیں اور جیسا کہ اہلسنت و الجماعت کا عقیدہ ہے، ان سب باتوں کو مانتا ہوں جو قرآن و حدیث کی رُو سے مسلم الثبوت ہیں اور سیدنا و مولانا حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم خاتم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کا کاذب اور کافر جانتا ہوں“۔ (مجموعہ اشتہارات جلد 1 صفحہ 230-231)
    اس کے بعد 3 فروری 1892ء کو علمائے کرام سے بحث کے دوران گواہان کے دستخطوں سے تحریری راضی نامہ کرتے ہیں، اس میں لکھتے ہیں:
    (9) ”تمام مسلمانوں کی خدمت میں گزارش ہے کہ اس عاجز کے رسالہ ”فتح الاسلام“ و ”توضیح المرام“ و ”ازالہ اوہام“ میں جس قدر ایسے الفاظ موجود ہیں کہ محدث ایک معنی میں نبی ہوتا ہے یا یہ کہ محدثیت جزوی نبوت نا قاصہ ہے، یہ تمام الفاظ حقیقی معنوں پر محمول نہیں بلکہ صرف سادگی سے ان کے لغوی معنوں کی رو سے بیان کئے گئے ہیں۔ ورنہ حاشا وکلاء مجھے نبوت حقیقی کا ہرگز دعوی نہیں....سو دوسرا پیرایہ یہ ہے کہ بجائے لفظ نبی کے محدث کا لفظ ہر ایک جگہ سمجھ لیں اور اس کو یعنی لفظ نبی کو کاٹا ہوا خیال فرما لیں“۔ (مجموعہ اشتہارات جلد 1 صفحہ 313-314)
    اسی طرح کبھی اقرار، کبھی انکار، کبھی تاویلات کے ذریعہ قدم آگے بڑھاتے بڑھاتے آخر اس دعویٰ پر آ پہنچے کہ:
    (10)”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا“ ۔(دافع البلاء، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 231)
    (11) ”تو بھی ایک رسول ہے جیسا کہ فرعون کی طرف ایک رسول بھیجا گیا“ ۔(ملفوظات جلد 8 صفحہ 424)
    لیکن مرزا صاحب کی نبی و رسول بننے کے بعد بھی تشفی نہیں ہوتی بلکہ اب اپنے تاج نبوت پر مزید مینا کاری کرتے ہوئے صاحب الشریعت بن جاتے ہیں:
    (12)” یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب الشریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کے رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی“۔ (اربعین، روحانی خزائن جلد 17، صفحہ 435)
    لیکن ابھی بھی ان کا مالیخولیا مرزا صاحب کو چین نہیں لینے دیتا، کہ ابھی جہاں اور بھی ہیں کہ مصداق اب مزید آگے بڑھنے کے لئے کس ہوشیاری سے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ان کے مقام سے ہٹا کر خود بیٹھنے کی تیاری ہے:
    (13)” اب اسم محمد کی تجلّی ظاہر کرنے کا وقت نہیں۔ یعنی اب جلالی رنگ کی کوئی خدمت باقی نہیں۔ کیونکہ مناسب حد تک وہ جلال ظاہر ہو چکا۔ سورج کی کرنوں کی اب برداشت نہیں۔ اب چاند کی ٹھنڈی روشنی کی ضرورت ہے اور وہ احمد کے رنگ میں ہو کر میں ہوں“۔ (اربعین 4، روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 445-446)
    اب ہوتا کیا ہے کہ بندہ سوچتا ہے کہ شاید بزعم خود رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا مقام تو لے چکے ہیں، نعوذ باللہ۔ اب تو مرزا صاحب یہاں رک جائیں گے، مگر مالیخولیا اور مراق ہی کیا جو رکنے دے۔
    اب رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے اپنا مقام کیسے بڑھایا جاتا ہے؟ فرماتے ہیں:
    (14)”آسمان سے بہت سے تخت اترے پر میرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا“۔ (تذکرہ صفحہ 638)
    لیکن کیا یہاں بھی قیام کرتے ہیں یا نہیں؟ نہیں جناب ابھی ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں، فرماتے ہیں:
    (15)”اسمع ولدی! اے میرے بیٹے سن“۔ (البشریٰ جلد اول صفحہ 49)
    لیکن وہ اولوالعزمی ہی کیا ہوئی جو کہیں چین لینے دے، اسی طرح بغیر پلٹ کر دیکھے منازل طے کرتے فرماتے ہیں:
    (16)”میں نے ایک کشف میں دیکھا میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں....سو میں نے پہلے تو آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا“۔ (کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 103-105)
    آخری تدوین : ‏ اکتوبر 25, 2014
    • Like Like x 2
  3. ‏ اکتوبر 25, 2014 #3
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    افسوس اس سے آگے منزلیں نا پیدا ہو گئیں ورنہ تفنن طبع کو اور بھی کچھ ملتا۔ جب آپ دیکھیں اور غور کریں کہ ایک شخص جو مجدد، ملہم اور مامور ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے قسم کھاتا ہے اور مدعی نبوت پر لعنت بھیجتا ہے، شیطانی الہامات کی زد میں آ کر نہ صرف نبوت بلکہ خدائی کا دعویٰ کرتے ہوئے نہ صرف اپنی بلکہ کئی نسلوں کی عاقبت خراب کرتا ہے، میرے ان سوالوں پر ٹھنڈے دل سے غور کریں۔

    (1) کیا اللہ سے الہام پانے والے کے کلام میں تضاد ہوتا ہے؟
    (2) کیا ایک مجدد روح القدس سے مصفا ہونے اور معصوم عن الخطاء ہونے کے بعد اسی طرح پینترے بدلتا ہے جس طرح مرزا صاحب نے بدلے؟
    (3) کیا مندرجہ بالا حوالہ جات سے ثابت نہیں ہوتا کہ مرزا صاحب نے اسلامی عقائد کو رگیدتے ہوئے ایک ایسی نبوت کا اعلان کیا ہے جس کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں؟
    (4) کیا اس طرح مرزا صاحب تیس جھوٹے مدعی نبوت پیدا ہوں گے والی حدیث کی زد میں نہیں آ گئے؟
    (5) کیا آپ مرزا صاحب کی نبوت پر ایمان لا کر دین اسلام، قرآن اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے خلاف تو نہیں چل رہے؟

    میرے احمدی دوستو! آخر آپ کو کس چیز کی مجبوری ہے جو ایک نبوت کے اگر جھوٹے نہیں تو کم از کم غلطی خوردہ (مراق زدہ) شخص کے پیچھے لگ کر اس دنیا میں اپنی برادریوں، رشتہ داروں سے کٹ گئے ہو، بجائے خدا کے رضا کے عہدیداروں اور ایک خاندان کی رضا اور خواہش کو ماننے پر مجبور ہو۔ اس خاندان نے خدا کے نام پر تم سے تمھارا ایمان، خاندان، اولاد، عزت و آبرو، وقت، مال، جائیداد، غرضیکہ ہر چیز پر قبضہ کر کے تمہیں مزارعوں کی حیثیت دے دی ہے۔ جس خاندان کی حالت بقول مرزا صاحب کے ایک کمتر درجے کے زمینداروں جیسی ہو گئی تھی اور جس کی جائیداد پر قبضہ تھا، آج وہ خاندان تمہارے چندوں کی بنیاد پر ارب پتی بن گیا ہے لیکن تمہارے پاس کیا ہے؟ سب سے بڑھ کر نہ صرف اپنی عاقبت گنوائی بلکہ اپنا نام دشمنان رسول میں لکھوا لیا۔ خدا کے لیے مرا غلام احمد کی کتابیں غور سے پڑھو اور جماعت کے پروپیگنڈہ سے آزاد ہو کر پڑھو تو تمہیں سوائے تعلیوں کے اور ہر پیشگوئی کی تاویلوں کے اور گالیوں کے کچھ نہیں ملے گا یا پھر مسیح کی خوشامد دجال کے دربار میں نظر آئے گی! سیرت مہدی مصنف مرزا بشیر احمد ابن مرزا غلام احمد صاحب کو پڑھو تو تمہیں پتہ چلے گا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تو بیعت لیتے وقت بھی کسی عورت کے ہاتھ چھو جانے سے سختی سے پرہیز فرماتے تھے اور یہ (نعوذ باللہ) بزعم خود محمد ثانی پوری پوری رات ناکتخدا لڑکیوں سے اور نا محرم عورتوں سے جسم دبواتا رہا اور خدمت کراتا رہا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم حسن صفائی کا نمونہ تھے اور یہ صاحب سلوٹوں بھرے کپڑے و پگڑی، واسکٹ کے بٹن کوٹ کے کاج میں، کوٹ کے بٹن قمیض کے کاجوں میں اور قمیض کے بٹن کہیں اور اٹکے ہوئے، واسکٹ اور کوٹ پر تیل کے داغ اور جرابیں اس طرح پہنی ہوئی کہ ایڑی اوپر اور پنجہ آگے سے لٹکا ہوا، جوتے کا بایاں پاؤں دائیں میں اور دایاں پاؤں بائیں میں، ایڑی بٹھائی ہوئی اور جب چلے تو ٹھپ ٹھپ کی آواز آئے، وٹوانی کی مٹی کے ڈھیلے اور گڑ کی ڈلیاں ایک ہی جیب میں(مزید تفصیل کے لیے سیرت مہدی مصنف مرزا بشیر احمد جلد اول دیکھئے) ایمان سے کہو کہ کیا نبی کا حلیہ ایسا ہی ہوتا ہے؟ ایسا تو نارمل انسان کا حلیہ نہیں ہوتا! اس حلیہ اور جھوٹی قسموں کے بل پر یہ دعویٰ کہ سب رسول میرے کرتے میں! سوچو کس کے پیچھے لگے ہوئے ہو۔ یہ ایک نیا مذہب ہے جو اسلام پر ڈاکہ مار کر اسلام کے لباس میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اپنے ایمان سے کہو کہ جتنی بیعتوں کے دعوے ہر سال تمھارے خلیفہ صاحب کرتے ہیں اس کا ہزاروں حصہ بھی اپنی آنکھوں سے دیکھا؟ ہر احمدی یہی سوچ رہا ہے کہ ہمارے شہر میں نہیں لیکن دوسرے شہر میں بڑی بیعتیں ہوئی ہیں، ہمارے ملک نہیں تو دوسرے ملک میں ہوئی ہیں، جہاں تک تم سے ممکن ہے جائزہ تو لو، اپنے شہر میں دیکھو، دوسرے شہروں و ملکوں میں اپنے سنجیدہ رشتہ داروں سے پوچھو تو ہر کوئی دوسرے شہر کی بات کرے گا۔ اور یہی کہے گا ”نہیں یار تمہاری طرف اور دوسرے شہروں میں بڑا کام ہو رہا ہے لیکن ہمارے شہر میں لوگ سست ہیں“ حیران نہ ہوں! جس جماعت کی بنیاد جھوٹے الہامات، جھوٹی قسموں، جھوٹی پیشگوئیوں اور مال و زر کی خواہش پر رکھی گئی ہو اس میں ایسے ہی کاغذی کام، پروپیگنڈہ کے لئے ہوتے ہیں! یک طرفہ پروپیگنڈے سے جان چھڑاؤ اور اپنی اور اپنے خاندانوں کی عاقبت خراب ہونے سے بچاؤ!

    میں اپنی اپیل اس بات پر ختم کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اور مجھے بھی حق کو پہچاننے اور سمجھنے کی توفیق دے اور جعلی مدعیان نبوت سے بچائے اور آپ کا اور میرا خاتمہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے خالص اور اصلی دین پر ہو نہ کہ انگریزوں کے پٹھو کے دین پر یا کسی اور راہ گم کردہ کہ پیروی میں! آمین ثم آمین



    آپ کا مخلص

    شیخ راحیل احمد، جرمنی
    (سابق احمدی)

    سکرابڈ لنک
    آخری تدوین : ‏ اکتوبر 25, 2014
    • Like Like x 1
لڑی کی کیفیت :
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

اس صفحے کی تشہیر