1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

(مسئلہ جہاد پر قادیانی غلط بیانی)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 23, 2015

  1. ‏ مارچ 23, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (مسئلہ جہاد پر قادیانی غلط بیانی)
    پھر انہوں نے اس جسارت سے کام لیا کہ سوال وجواب کے دوران انہوں نے کہا کہ یہ وہ زمانہ تھا کہ نہ مسلمان علماء نے جہاد کا فتویٰ دیا، نہ کسی مسلمان عالم نے جہاد کیا۔ یہ ایک ایسی غلط بیانی ہے جس پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔ جہاں تک فتوے کا تعلق ہے، انگریزوں کے تسلط کے بعد سے اسی طرح کے فتوے باربار علماء کی طرف سے آتے رہے۔ یہ صحیح ہے کہ یہ مسائل بعض بعض دفعہ نزاعی رہے ہیں کہ اب حالات وشرائط جہاد ہیں یا نہیں ہیں۔ اس میں رائیوں کا اختلاف ہوا۔ بعض لوگوں نے کہا کہ نہیں شرائط پوری نہیں ہوئیں۔ بعض نے کہا کہ لڑائی کا وقت ہے۔ بعض نے کہا کہ وقت لڑائی کا نہیں ہے۔ 2886ایسے لوگوں کی تعداد بھی کم تھی۔ ان (مرزا) کی پیدائش کے زمانے میں جوانی کے زمانے میں بھی، ان کی وفات تک مسلسل جہاد ہوتا رہا۔ ان کی وفات کے بعد بھی جہاد جاری رہا۔ ان علماء کی ایک طویل فہرست ہے جنہوں نے جہاد کیا اور جن کو کالا پانی بھیج دیا گیا۔ میں آپ کی اجازت سے چند نام پیش کرنا چاہتا ہوں۔
    Mr. Chairman: Short break for ten minutes: we will meet at 12:15 pm.
    (جناب چیئرمین: ۱۰منٹ کے لئے مختصر وقفہ۔ ہم بارہ بج کر پندرہ منٹ پر دوبارہ ملیں گے)
    ----------
    [The Special Committee adjourned for ten minutes to re-assemble at 12:15 pm.]
    (خصوصی کمیٹی کا اجلاس ۱۰منٹ کے لئے ملتوی کر دیا گیا تاکہ دوپہر بارہ بج کر پندرہ منٹ پر دوبارہ شروع کیا جاسکے)
    ----------
    [The Special Committee re-assembled after short break Mr. Speaker (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.]
    (مختصر وقفے کے بعد خصوصی کمیٹی کا اجلاس دوبارہ شروع ہوا۔ جناب اسپیکر (صاحبزادہ فاروق علی صاحب) نے کرسی صدارت سنبھالی)
    ----------
    جناب چیئرمین: مولانا محمد ظفر احمد انصاری!
    مولانا محمد ظفر احمد انصاری: جناب والا! قبل اس کے کہ میں اپنی گزارشات شروع کروں، آپ سے ایک درخواست یہ ہے کہ مجھے یہ ڈر معلوم ہورہا ہے کہ میری بات بالکل ہی نامکمل رہے گی۔ میں بہت مختصر کر رہا ہوں کہ آپ گھنٹی بجادیں گے اور قصہ ختم ہو جائے گا۔
    جناب چیئرمین: میں نے ابھی تک گھنٹی تو نہیں بجائی۔
    مولانا محمد ظفر احمد انصاری: اگر آپ کوئی ایسی صورت کر سکیں کہ مجھے جس دن اٹارنی جنرل صاحب تقریر کریں گے اس روز کوئی آدھ گھنٹہ آپ دے دیں۔ ورنہ بات بالکل نامکمل رہ جائے گی۔ اس وقت بھی زیادہ ربط تو نہیںہوسکتا۔
    جناب چیئرمین: ٹھیک ہے اٹارنی جنرل صاحب نے پرسوں اپنے Arguments Sum up (دلائل مکمل) کرنے ہیں۔ اس کے بعد اگر آپ مناسب سمجھیں کہ کوئی چیز رہ گئی ہے تو It is open for the members, they can again speak (اراکین اگر چاہیں تو دوبارہ بات کر سکتے ہیں) 2887تو ٹھیک ہے، اٹارنی جنرل صاحب کے۔
    مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ان سے گفتگو کر لیں۔ اگر وہ تھوڑا سا وقت پہلے دے دیں تو ٹھیک ہے۔
    جناب چیئرمین: ٹھیک ہے، آج اٹارنی جنرل صاحب آجائیں گے۔ آپ ان سے کل Consult کر لیں تو پانچ تاریخ کو سہی۔
    مولانا محمد ظفر انصاری: میں یہ عرض کر رہا تھا کہ کتنا غلط دعویٰ کیاگیا ہے۔
    جناب چیئرمین: آپ آج اندازاً کتنی دیر لیں گے۔
    مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ایک گھنٹہ تو دے دیجئے۔
    جناب چیئرمین: ایک گھنٹہ۔
    مولانا محمد ظفر احمد انصاری: مطلب یہ ہے کہ یا تو پھر یہ اجازت ہو کہ میں تحریری طور پر اسے…
    جناب چیئرمین: تحریری طور پر بھی آپ دے دیں۔ وہ اگر آپ کل دے دیں گے تو وہ ہم سائیکلو سٹائل کرا کے ممبروں میں سرکولیٹ کرادیں گے۔
    جناب محمد حنیف خان: اگر یہ تحریری طور پر دے دیں تو ان کی وہ تحریر ایک تو علم پر مبنی ہوگی۔ دوسرے ہم بھی جن کا علم کوتاہ ہے۔ کم ہے، دو، چار جملے کہنے کے قابل ہو جائیں گے۔
    Mr. Chairman: He was almost neck deep in it; he knows this subject much more than any body else.
    (وہ پوری گہرائی کے ساتھ اس مسئلے میں تھے۔ وہ اس موضوع کو کسی اور کی نسبت بہت زیادہ جانتے ہیں)
    جناب محمد حنیف خان: میں نے یہ تجویز پیش کی ہے کہ جس طرح آپ نے اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آپ تحریری طور پر دے دیں تو وہ لوگ جن کا علم اس مسئلے میں کم ہے۔ وہ بھی وہ 2888پڑھ کر اپنے کچھ Views اس کی تائید میں کہہ دیں گے تو زیادہ بہتر ہوگا۔
    مولانا محمد ظفر احمد انصاری: تو اس میں تو کچھ وقت لگے گا۔
    جناب چیئرمین: پانچ تاریخ تک دے دیں۔ اگر آپ ہمیں کل دے دیں تو ہم پرسوں سائیکلوسٹائل کرا کے ممبروںمیں چھ کی صبح کو تقسیم کرادیں گے۔
    مولانا محمد ظفر احمد انصاری: جتنا میں کہہ سکوں گا کہہ دوں گا اور اس کے بعد جو رہ جائے گا وہ تحریری طور پر دے دوں گا۔
    Mr. Chairman: Prince (Mian Gul Aurangzeb), I would like to have your views also after Maulana has finished.
    (جناب چیئرمین: پرنس (میاں گل اورنگزیب) میں چاہوں گا کہ مولانا کی بات ختم ہونے پر آپ بھی اپنے خیالات پیش کریں)
    مولانا محمد ظفر احمد انصاری: تو اس کی معذرت کرتے ہوئے کہ شاید اب میری تقریر میں بہت ربط نہیں رہے گا۔ کوشش کروں گا کہ جو زیادہ اہم چیزیں ہیں وہ آجائیں۔

اس صفحے کی تشہیر