1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

مسئلہ حیات مسیح قرآن و حدیث کی روشنی میں ( پارٹ 1)

عبیداللہ لطیف نے 'دعوتی سیکشن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جون 22, 2017

  1. ‏ جون 22, 2017 #1
    عبیداللہ لطیف

    عبیداللہ لطیف رکن ختم نبوت فورم

    مسئلہ حیات مسیح قرآن و حدیث کی روشنی میں
    (Ubaidullah Latif, )

    محترم قارئین ! سب سے پہلی بات کہ اگر مرزا قادیانی کے اس دعویٰ کو تسلیم بھی کر لیا جائے کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں تب بھی یہ سوال پید اہوتا ہے کہ کیا اﷲ تعالیٰ فوت شدہ کو زندہ کرنے پر قادرہے یاکہ نہیں؟ یقینا اﷲ رب العزت فوت شدہ کو زندہ کرنے پر قادر ہے۔ اسے قادیانی بھی تسلیم کرتے ہیں۔ اسی قدرت کومدنظررکھتے ہوئے نبی کریم علیہ السلام کے مندرجہ ذیل فرمان پر غورکریں چنانچہ فرمان نبوی ہے کہ
    وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَیُوْشِکَنَّ أنْ یَّنْزِلَ فِیْکُمُ ابْنُ مَرْیَمَ حَکَمًا عَدْلًا فَیَکْسِرُ الصَّلِیْبَ وَیَقْتُلَ الْخَنْزِیْرَ وَیَضَعَ الْجِذْیَۃَ وَیَفِیْضَ الْمَالُ حَتّٰی لَا یَقْبَلَہُ اَحَدٌ حَتّٰی تَکُوْنَ السَّجْدَۃُ الْوَاحِدَۃُ خَیْرٌ مِنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیْھَا ثُمَّ یَقُوْلُ اَبُوْھُرَیْرَۃَ وَاقْرَؤُوْا إنْ شِئْتُمْ :
    ﴿وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبلَ مَوْتِہٖ وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَکُوْنُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا﴾
    ترجمہ: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! البتہ قریب ہے کہ ابن مریم تم میں تشریف لائیں۔ وہ حاکم اور عادل کی حیثیت سے آئیں گے ۔ صلیب کو توڑیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ ختم کر دیں گے ۔ مال ودولت کی فراوانی ہوگی حتی کہ اسے کوئی قبول کرنے والا نہیں ہوگا۔ حتیٰ کہ ایک سجدہ دنیااور جو کچھ اس میں ہے اس سے بہتر ہوگا۔‘‘
    پھر ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایاکہ اگر تم چاہو تواس آیت کی تلاوت کرو۔ ’’ اور اہل کتاب میں سے سب کے سب اس (مسیح علیہ السلام ) پر اس کی موت سے پہلے ضرور ایمان لائیں گے اور وہ قیامت کے دن ان پر گواہی دیں گے۔‘‘
    (صحیح بخاری ، کتاب الاحادیث الانبیاء باب نزول عیسیٰ ابن مریم حدیث3448)
    یعنی نبی کریم علیہ السلام نے قسم اٹھا کر فرمایا کہ ابن مریم علیہ السلام قیامت سے قبل ضرور نازل ہوں گے۔ تو کیا اﷲ رب العزت اپنے نبی اور سب سے زیادہ محبوب شخصیت جناب محمدرسول اﷲ صلی اﷲعلیہ وسلم کی قسم کو پورا کرنے کے لیے عیسیٰ ابن مریم کو دوبارہ زندہ نہیں کرسکتے ،یقینا کر سکتے ہیں۔ تو پھر بھی مرزا غلام احمد قادیانی مثیل مسیح یا مسیح موعود ثابت نہیں ہوتا۔
    آئیے سب سے پہلے اس آیت کا جائزہ لیتے ہیں جس سے تمام مسلمان عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمانوں پر اٹھایا جانا ثابت کرتے ہیں اور اسی آیت سے مرزا غلام احمد قادیانی اوراس کی ذریت وفات مسیح ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتی ہے۔
    ﴿اِذْ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیْسٰی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَ رَافِعُکَ اِلَیَّ وَمُطَھِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّـبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُکَ فَاحْکُمْ بَیْنَکُمْفِیْمَا کُنْتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُوْنَ ﴾(آل عمران :55)
    ترجمہ: اور جب اﷲ تعالیٰ نے کہا: اے عیسیٰ ! میں آپ کو پوری طرح لینے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور جن لوگوں نے انکار کیا ہے میں ان سے آپ کو پاک کرنے والا ہوں۔ اور آپ کی پیروی کرنے والوں کو قیامت تک ان لوگوں پر بالادست رکھوں گا جنھوں نے تجھ سے کفر کیا۔ پھر تم سب کومیری طرف ہی لوٹنا ہے۔تمھارے آپس کے تمام تر اختلافات کا فیصلہ کروں گا۔
    یہاں پر یہ بات یاد رہے کہ ’’المتوفی‘‘ کا مصدر تَوَفِّیْ اور مادہ وَفْیٌّ ہے، جس کے اصل معنی پورا پورا لینے کے ہیں۔ انسان کی موت پر جو وفات کا لفظ بولا جاتا ہے تو اسی لیے کہ اس کے جسمانی اختیارات مکمل طور پر سلب کر لیے جاتے ہیں ۔ اس اعتبار سے موت اس کے معنی کی مختلف صورتوں میں سے ایک صورت ہے۔ نیند میں بھی چونکہ انسانی اختیارات عارضی طور پرمعطل کر دیے جاتے ہیں۔ اسی لیے نیند پر بھی قرآن نے وفات کے لفظ کا اطلاق کیا ہے۔ جس سے معلوم ہوا کہ اس کے حقیقی اور اصلی معنی پورا پور لینے کے ہی ہیں۔ اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ میں یہ اس اپنے حقیقی اور اصلی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی اے عیسیٰ ! میں تجھے یہودیوں کی سازش سے بچا کر پورا پورا اپنی طرف آسمانوں پر اٹھا لو ں گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔(تفسیر احسن البیان)
    محترم قارئین ! قبل اسکے کہ اس آیت کے حوالے سے مذید گفتگو کروں آپ کوآگاہ کرتا چلوں کہ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب براہین احمدیہ مندرجہ قادیانی خزائین جلد اول صفحہ 620پرانّی متوفیک و رافعک علیّ کا ترجمہ ’’میں تجھ کو پوری پوری نعمت دونگا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا ‘‘ کیا ہے اور اسی کتاب کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ
    ’’یہ بھی یاد رہے کہ مسلم میں مسیح موعود کے حق میں نبی کا لفظ بھی آیا ہے یعنی بطور مجاز اور استعارہ کے اسی وجہ سے براہین احمدیہ میں بھی ایسے الفاظ خداتعالی کی طرف سے میرے حق میں ہیں ۔ دیکھو صفحہ ۴۹۸میں یہ الہام ھوالذی ارسل رسولہ بالھدی اس جگہ رسول سے مراد یہ عاجز (مرزاقادیانی) ہے ‘‘
    (ایام الصلح صفحہ 75مندرجہ قادیانی خزائین جلد 14صفحہ 309)
    محترم قارئین! یعنی جب یہ کتاب لکھی گئی بقول اس کے اس وقت بھی وہ رسول تھااور اس کتاب میں مرزا قادیانی نے انّی متوفّیک کے جو معنی کیے وہ تو آپ ملاحظہ کر ہی چکے ہیں لہذا اب اسی مسئلہ پر مذید دلائل ملاحظہ فرمائیں
    محترم قارئین! اس آیت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی موت کے بارے میں یہود ونصاریٰ کے عقیدے کا بھی علم ہو کیونکہ متنبی قادیانی مرزا غلام احمد بھی وفات مسیح کے متعلق دلیل دیتے ہوئے یہ اصول بیان کرتاہے کہ
    ’’بائیسویں آیت وفات مسیح پر یہ ہے کہ﴿ فَاسْئَلُوْا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ﴾یعنی اگرتمہیں ان بعض امور کا علم نہ ہو جو تم میں پیدا ہوں تو اہل کتاب کی طرف رجوع کرو اور ان کے واقعات پر نظر ڈالو تاکہ اصل حقیقت تم پر منکشف ہو جائے۔‘‘
    (ازالہ اوہام طبع اوّل صفحہ 616 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 433)
    محترم قارئین ! نزول قرآن کے وقت مسیح علیہ السلام کے متعلق دو قسم کے خیالات تھے۔ چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی رقم طراز ہے کہ
    ’’اوریہودیوں کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت یہ خیال تھا کہ وہ قتل ہو گئے ہیں اور صلیب بھی دیے گئے ، بعض کہتے ہیں کہ پہلے قتل کرکے پھر صلیب پر لٹکائے گئے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ پہلے صلیب دے کر پھر ان کو قتل کیا گیا۔‘‘
    (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 136مندرجہ روحانی خزائن جلد 21صفحہ345)
    عیسائیوں کا جو خیال تھا بالفاظ مرزا متبنی قادیاں یہ ہے کہ
    ’’ عیسائیوں کا یہ بیان کہ درحقیقت مسیح پھانسی کی موت سے مر گیا جس سے یہنتیجہ نکالنا منظور تھا کہ مسیح عیسائیوں کے گناہ کے لیے کفارہ ہوا۔‘‘
    (ازالہ اوہام صفحہ 373 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 292)
    مرزا قادیانی یہ بھی مانتاہے کہ اس خیال باطل پر نصاریٰ کے تمام فرقے متفق تھے اس بات کا اظہارکرتے ہوئے مرزاقادیانی رقمطراز ہے
    ’’ کیونکہ تمام فرقے نصاریٰ کے اس قول پر متفق نظر آتے ہیں کہ تین دن تک حضرت عیسیٰ مرے رہے اور پھر قبر میں سے آسمان کی طرف اٹھائے گئے۔‘‘
    (ازالہ اوہام صفحہ 248 مندرجہ روحانی خزائن جلد3 صفحہ 225)
    قادیانی گروہ قرآن وحدیث کے خلاف عیسیٰ علیہ السلام کی طبعی موت پر اصرار ، صلیب پر چڑھنے کا اقرار اور رفع الی السماء کا انکار کرتاہے ۔ چنانچہ مرزا قادیانی لکھتاہے کہ
    ’’رفع سے مراد روح کا عزت کے ساتھ اٹھایا جانا ہے۔‘‘
    (ازالہ اوہام صفحہ 386 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3صفحہ 299)
    اور صلیب پر چڑھنے کا واقعہ مرزا قادیانی نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
    ’’پھر بعداس کے مسیح ان کے حوالہ کیا گیا اور اس کو تازیانے لگائے گئے اور جس قدر گالیاں سننا اور فقیہوں اور مولویوں کے اشارہ سے طمانچے کھانا اور ہنسی اور ٹھٹھے اڑائے جانا اس کے حق میں مقدر تھا سب نے دیکھا ۔ آخر صلیب دینے کے لیے تیار ہوئے۔ یہ جمعہ کا دن تھا اور عصر کا وقت اور اتفاقاً یہ یہودیوں کی عید فسخ کا بھی دن تھا۔ اس لیے فرصت بہت کم تھی اور آگے سبت کا دن آنے والا تھا۔ جس کی ابتدا غروب آفتاب سے ہی سمجھی جاتی تھی کیونکہ یہودی لوگ مسلمانوں کی طرح پہلی رات کو اگلے دن کے ساتھ شامل کر لیتے تھے اور یہ ایک شرعی تاکید تھی کہ سبت میں کوئی لاش صلیب پر لٹکی نہ رہے۔ تب یہودیوں نے جلدی سے مسیح کو دو چوروں کے ساتھ صلیب پر چڑھا دیا تا شام سے پہلے ہی لاشیں اتاری جائیں۔‘‘
    (ازالہ اوہام صفحہ 32 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3صفحہ 296)
    مگر قرآن مجید نے اس عقیدہ کو لعنتی ٹھہرایا ہے اور مسیح علیہ السلام کا زندہ آسمان پر اٹھایا جانا ظاہر کیا ہے۔
    سورہ آل عمران کی آیت نمبر55 سے پہلی آیت میں اﷲ رب العزت فرماتے ہیں کہ
    وَمَکَرُوْا وَمَکْرَ اللّٰہُ وَاللّٰہُ خَیْرُ الْمَاکِرِیْنَ
    ’’اور انھوں (یہودیوں)نے(عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ) تدبیر کی اور اﷲ نے بھی تدبیر کی جب کہ اﷲ تعالیٰ بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔‘‘
    اگر اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَسے مراد موت لی جائے جیسے مرزائی لیتے ہیں تو پھر یہ کہنا بجا نہ ہو گا کہ یہودیوں کی تدبیر کامیاب رہی کیونکہ وہ بہرحال عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنا چاہتے تھے لیکن اﷲ رب العزت نے عیسیٰ علیہ السلام کو قتل سے بچا کر زندہ آسمانوں پر اٹھالیا جس کا ذکر قرآن مجید کی سورہ النساء کی آیت 158میں موجودہے۔ چنانچہ اﷲرب العزت فرماتا ہے کہ
    ﴿وَقَوْلِھِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰہِ وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰــکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ وَاِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ مَالَھُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَاقَتَلُوْہُ یَقِیْنًا O بَل رَّفَعَہُ اللّٰہُ إِلَیْہِ وَکَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا﴾
    ترجمہ:او ریوں کہنے کے باعث کہ ہم نے اﷲ کے رسول مسیح ابن مریم کو قتل کر دیا حالانکہ نہ توانھوں نے اسے قتل کیا ، نہ صلیب دیا بلکہ ان کے لیے وہی صورت بنا دی گئی تھی۔ یقین جانو کہ عیسیٰ کے بارے میں اختلاف کرنے والے ان کے بارے میں شک میں ہیں،انھیں اس کا کوئی یقین نہیں بجز تخمینی باتوں پر عمل کرنے کے ۔ اتنا یقینی ہے کہ انھوں نے اسے قتل نہیں کیابلکہ اﷲ تعالیٰ نے اسے اپنی طرف اٹھالیا اور اﷲ بڑا زبردست ، بڑی حکمت والا ہے۔
    ان آیات کا مضمون بڑا واضح ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو نہ سولی دی گئی اور نہ وہ قتل کییگئے۔ بلکہ اﷲ رب العزت نے انھیں اپنی طرف اٹھالیا۔ یہاں پر مرزا غلام احمد قادیانی اوراس کی ذریت رفع سے مراد درجات کی بلندی لیتی ہے۔ اگر ان کی بات کو تسلیم کر لیا جائے توآیت کے آخری حصے میں اﷲرب العزت کا یہ فرمانا کہ اﷲ بڑا ہی زبردست ، بڑی حکمت والا ہے ،کا کوئی مقصد نہیں رہتا۔ جب کہ یہی بات واضح کرتی ہے کہ اﷲ رب العزت نے عیسیٰ علیہ السلام کو کسی ایسے طریقے سے اوپر اٹھایا ہے جو خارق عادت ہے ۔ مزید یہ کہ شہادت میں تو درجات کی بلندی اس سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ اگر یہود ونصاریٰ عیسیٰ علیہ السلام کو شہید کر دیتے تو کیا درجات کی بلندی نہ ہوتی۔ دوسری بات یہ کہ اﷲ رب العزت نے عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان پر اٹھا کر عیسائیوں کے عقیدہ کفارہ کو مکمل طو رپر نیست و نابود کر دیا ہے، کیونکہ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی جان دے کر ہمارے گناہوں کا کفارہ ادا کر دیا، جو کہ بالکل غلط ہے اور اﷲ رب العزت نے اس بات سے ان کے اس عقیدے کی مکمل طور پر نفی فرما دی ہے۔ اگر سورہ آل عمران کی آیت نمبر55میں اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ کا معنی فوت لیا جائے تو پھراس کو ترجمہ کرتے ہوئے بعد میں پڑھیں گے اور رَافِعُکَ پہلے پڑھیں گے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے کئی ایک مقامات پر اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَکو ترجمہ کے دوران بعد میں پڑھنے پر اعتراض کیا ہے۔ اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ واؤ کا لفظ ترتیب کے لیے نہیں ہوتا۔ اگراس کی مثال قرآن مجید سے چاہیں تو سنیے ۔ ایک مال دار شخص کا سال یکم رمضان کو ظہر کے وقت پورا ہوا ۔ اب بحکم آیت وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاَتُوا الزَّکٰوۃَ (مرزائی اصول کے مطابق)مسلمان پر فرض ہے کہ پہلے نماز پڑھے اور پھر زکوٰۃ دے۔اگر پہلے زکوٰۃ ادا کردی تو شاید گناہگار ہو جائے گا اور اس کی زکوٰۃ بھی ادانہ ہوگی۔ کیا کوئی بھی انسان اس مسئلہ میں قادیانیوں کے ساتھ ہوگا۔دوسری آیت وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَلَا تَکُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَکے بموجب(قادیانی اصول کے مطابق) ضروری ہے کہ پہلے نماز پڑھے اور اس کے بعد شرک چھوڑے۔ اگر پہلے شرک چھوڑ دے گا تو شاید قادیانی اس سے خفا ہوں گے۔ تیسری آیت میں اﷲ تعالیٰ نے فرعون کے جادوگروں کے قول کو ایک جگہ یوں فرمایا کہ بِرَبِّ مُوْسٰی وَہَارُوْنَ (پارہ 9رکوع4)دوسری جگہ فرمایا ہیبِرَبِّ ہَارُوْنَ وَمُوْسٰی (پارہ 9رکوع 4) جو پہلے کے الٹ ہے حالانکہ جادوگروں نے صرف ایک ہی طریق سے کہا ہوگا ۔ اگر یہاں پر قادیانی اصول کے مطابق واؤ کا لفظ ترتیب کے لیے مان لیا جائے تو پھر مندرجہ بالا آیات میں اگر جادوگروں کاکہنا طریق اول ہوگا تو دوسرے میں کذب آئے گا۔
    اگر دوسرا ہے تو پہلے میں جھوٹ ہوگا ۔ علاوہ اس کے کئی مقام پر انبیاء سابقین کا لاحقین سے پیچھے ذکر کیا ہے ۔ چنانچہکَذٰلِکَ یُوْحِی اِلَیْکَ وَاِلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکَ اللّٰہُ پس جب واؤ کا لفظ ترتیب کے لیے نہیں ہوتا بلکہ محض جمعیت کے لیے ہے تو متوفی کے معنی رافع سے پیچھے کر لینے میں کونسی قباحت ہے۔
    محترم قارئین ! اب میں آپ کو اسی سلسلے میں مرزاقادیانی کے ایک اعتراف سے آگاہ کرتا ہوں چنانچہ مرزا قادیانی لکھتاہے کہ
    ’’یہ تو سچ ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ حرف واؤ کے ساتھ ہمیشہ ترتیب کا لحاظ واجب ہو ‘‘
    (تریاق القلوب حاشیہ صفحہ 143مندرجہ قادیانی خزائن جلد 15صفحہ 454) (جاری ہے)

اس صفحے کی تشہیر