1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

مسئلہ حیات مسیح قرآن و حدیث کی روشنی میں ( پارٹ 2)

عبیداللہ لطیف نے 'دعوتی سیکشن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جون 22, 2017

  1. ‏ جون 22, 2017 #1
    عبیداللہ لطیف

    عبیداللہ لطیف رکن ختم نبوت فورم

    مسئلہ حیات مسیح قرآن و حدیث کی روشنی میں (پارٹ 2)

    تحریر:۔ عبیداللہ لطیف

    محترم قارئین! قرآن مجید میں مزید بھی ایسے دلائل موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمانوں پر اٹھالیا گیا ہے۔ لیکن طوالت کے باعث ان ہی پراکتفا کیا جاتا ہے۔اب چند احادیث نبوی نزول مسیح علیہ السلام کے بارے میں ذکرکرکے اس بحث کو سمیٹتا ہوں۔
    حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہسے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺنے فرمایا:
    یَمْکُثُ عِیْسٰی فِی الْاَرْضِ بَعْدَ مَا یَنْزِلُ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً ثُمَّ یَمُوْتُ وَیُصَلِّیْ عَلَیْہِ الْمُسْلِمُوْنَ وَیَدْفِنُوْنَہ‘
    (مسند ابی داود طیالسی حدیث 2664)
    ترجمہ: عیسیٰ ؑ نزول کے بعد چالیس سال زمین پر رہیں گے پھر آپ فوت ہوجائیں گے ۔ مسلمان آپ کی نماز جنازہ پڑھیں گے اور دفن کریں گے۔ حضرت عبداﷲ بن عمروؓسے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺنے فرمایا!
    ( یَنْزِ لُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ اِلیَ الْاَرْضِ فَیَتَزَوَّجُ وَیُوْلَدُلَہُ وَیَمْکُثُ خَمْسًاوَاَرْبَعِیْنَ سَنَۃً ثُمَّ یَمُوْتُ فَیُدْفَنُ مَعِیَ فِیْ قَبْرِی فَاَقُوْمُ اَنَاوَعِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ فِیْ قَبْرٍوَاحِدٍبَیْنَ اَبِیْ بَکَرٍوَعُمَرَ)
    (رَوَاہُ اِبْن الْجَوْزِیْ فِیْ کِتَابُ الْوَفَاء)
    یعنی(( حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام زمین کی طرف اتریں گے ‘وہ شادی کریں گے‘ان کی اولادہوگی‘اور پنتالیس سال تک زندہ رہیں گے پھرفوت ہوں گے اورمیرے ساتھ میرے مقبرے میں دفن کیے جائیں گے پھر میں(محمدرسول اﷲﷺ)اورحضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک ہی مقبرہ سے قیامت کو اٹھیں گے جبکہ ابوبکرؓوعمرؓکے درمیان ہوں گے))
    اسے ابن جوزی نے کتاب الوفاء میں روایت کیاہے۔
    (بحوالہ مشکوٰۃ المصابیح‘ باب نزول عیسیٰ علیہ السلام‘ حدیث نمبر 5272)
    ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا :
    یَقْتُلُ ابْنُ مَرْیَمَ الدَّجَّالَ بِبَابِ لُدّا
    یعنیابن مریم دجال کو باب لد پر قتل کریں گے۔
    (مسند ابی داؤد طیالسی حدیث 2662)
    ابوہریرہ ؓبیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺنے فرمایا:
    وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَیُھِلَّنَّ ابْنُ مَرْیَمَ مِنْ فَجِّ الرَّوْحَاءِ بِالْحَجِّ أوْ بِالْعُمْرَۃِ اَوْ لَیَشْنِیَنَّھُمَا
    (مسلم: حدیث1252)
    ترجمہ:اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ابن مریم مقام فج الروحاء سے حج یا عمرہ یا دونوں کے لیے ضرور تلبیہ پڑھیں گے۔
    نبی کریم ﷺنے فرمایا:
    کَیْفَ اَنْتُمْ اِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْیَمَ فِیْکُمْ وَاِمَامُکُمْ مِنْکُمْ
    (بخاری ، احادیث الانبیاء باب نزول عیسی بن مریم حدیث3449)
    ترجمہ:تمھاری اس وقت کیسی حالت ہوگی جب ابن مریم تم میں نازل ہوں گے اور تمھارا امام تم میں سے ہی ہوگا۔
    رسول اﷲﷺ نے فرمایا:
    یَخْرُجُ اَعْوَرُ الدَّجَّال مَسِیْحُ الضَّلَالَۃِ قِبَلَ الْمَشْرِقِ فِیْ اَزْمُنِ اخْتِلَافٍ مِنَ النَّاسِ وَ فُرْقَۃٍ فَیَبْلُغُ مَا شَآءَ اللّٰہُ اَنْ یَّـبْلُغَ مِنَ الْاَرْضِ فِیْ اَرْبَعِیْنَ یَوْمًا اَللّٰہُ اَعْلَمُ مِقْدَارِھَا فَیَلْقَی الْمُؤْمِنُوْنَ شِدَّۃً شَدِیْدَۃً ثُمَّ یَنْزِلُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ مِنَ السَّمَآءِ فَیَؤمُّ النَّاسَ فَاِذَا رَفَعَ رَاْسَہ‘ مِنْ رَکْعَتِہٖ قَالَ: سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ‘ قَتَلَ اللّٰہُ مَسِیْحَ الدَّجَّالِ وَظَھَرَ الْمُسْلِمُوْنَ)) وَاَحْلِفُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَبَا الْقَاسِمِ الصَّادِقَ الْمَصْدُوْقَ قَالَ: اِنَّہ‘ لَحَقٌّ وَاَمَّا أنَّہ‘ قَرِیْبٌ فَکُلُّ مَا ھُوَ آتٍ فَھُوَ قَرِیْبٌ
    ترجمہ: کانا دجال مسیح گمراہی لوگوں کے اختلاف وافتراق کے دور میں مشرق کی طرف سے نکلے گا اور وہ چالیس روز میں جس قدر اﷲ چاہے گا زمین کے حصے کو فتح کرے گا اور اﷲ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کی مقدار کتنی ہوگی۔ مومنوں کو بہت تکلیف کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پھر عیسیٰ ابن مریم آسمان سے نازل ہوں گے (اورپھر لوگوں کو نماز پڑھائیں گے) جب وہ رکوع سے سر اٹھائیں گے تو ’’سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ‘‘کہنے کے ساتھ ہی ’’اﷲ تعالیٰ مسیح دجال کو ہلاک کردے گااور مومن غالب آجائیں گے۔کہیں گے راوی کہتے ہیں میں قسم اٹھاتاہوں کہ رسول اﷲ ﷺ جو صادق ومصدوق ہیں نے فرمایا: بے شک یہ حق ہے۔ رہی یہ بات کہ وہ قریب ہے توہر وہ چیز جو آنے والی ہے تو وہ قریب ہے۔
    (صحیح ابن حبان حدیث 6773)
    ابوہریرہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا:
    لَمْ یُسَلَّطْ عَلٰی قَتْلِ الدَّجَّالِ اِلَّا عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمُ
    (مسند ابی داود طیالسي حدیث 2626)
    ترجمہ: دجال کے قتل پر صرف عیسیٰ ابن مریم ہی مسلط و مقرر کیے گئے ہیں۔
    ابن عباس ؓ جن کو بدعا ء نبوی علم قرآن حاصل تھا اور اس کا اعتراف مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی ان الفاظ میں کیا ہے کہ
    ’’حضرت ابن عباس قرآن کریم کے سمجھنے میں اول نمبر والوں میں سے ہیں۔ اوراس بارہ میں ان کے حق میں آنحضرت کی ایک دعا بھی ہے۔‘‘
    (ازالہ اوہام صفحہ 247 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 225)
    یہی ابن عباس ؓ اﷲ تعالیٰ کے فرمان :
    ﴿وَاِنَّہ‘ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَۃِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِھَا﴾ (الزخرف 61:)
    ترجمہ: بے شک وہ (عیسیٰ ؑ ) قیامت کی ایک علامت ہیں۔ پس تم اس کے بارے میں شک نہ کرو۔
    کے بارے میں نبی کریم ﷺسے روایت کرتے ہیں کہ
    اس علامت سے مراد قیامت سے پہلے عیسیٰ dکا نزول ہے۔
    (صحیح ابن حبان حدیث 6778,6817)
    رسول اﷲ کے آزاد کردہ غلام ثوبان ؓنبی ﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:
    عِصَابَتَانِ مِنْ اُمَّتِيْ اَحْرَزَھُمُ اللّٰہُ مِنَ النَّارِ عِصَابَۃٌ تَغْزُوْا الْھِنْدَ وَعِصَابَۃٌ تَکُوْنُ مَعَ عِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ عَلَیْہِ السَّلَامِ
    ترجمہ: میری امت کی دو جماعتیں ہیں جنھیں اﷲ نے آگ سے بچالیا ہے۔ ایک جماعت وہ ہے جو ہندوستان سے جہاد کرے گی اور دوسری جماعت وہ ہے جو عیسیٰ بن مریم ؑکے ساتھ ہوگی ۔
    (مسند احمد 278/5)
    اوس بن اوس ؓسے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
    یَنْزِلُ عِیْسَی بْنُ مَرْیَمَ عِنْدَ الْمَنَارَۃِ الْبَیْضَاءِ شَرْقِیَّ دِمَشْقَ
    )المعجم الکبیر للطبرانی حدیث590)
    ترجمہ: ۔ عیسیٰ ابن مریم ؑدمشق کے مشرق میں سفید منارے کے پاس نازل ہوں گے۔
    ابن عباس ؓسے ایک روایت تفسیر معالم میں مرقوم ہے۔ امام ابن کثیر ؒ اور امام سیوطی نے اس روایت کی سند کوصحیح قراردیاہے روایت کے الفاظ یہ ہیں:
    فَبَعَثَ اللّٰہُ جِبْرَائِیْلَ فَاَدْخَلَہ‘ فِیْ خَوْجَۃٍ فِیْ سَقْفِھَا رَوْزَنَۃٌ فَرَفَعَہ‘ اِلَی السَّمَآءِ مِنْ تِلْکَ الرَّوْزَنَۃَ فَاَلْقَی اللّٰہُ شِبْہَ عِیْسَی عَلَیْہِ السَّلَام فَقَتَلُوْہُ وَصَلَبُوْہُ
    (تفسیر معالم جلد 2 صفحہ 238)
    ترجمہ:۔ جب وہ شخص جو مسیح علیہ السلا م کو پکڑنے کے لیے گیا تھا مکان کے اندر پہنچا تو خدا نے جبرائیل علیہ السلام کو بھیج کر مسیح علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا اور اسی بدبخت یہودی کو مسیح کی شکل پر بنا دیا۔ پس یہود نے اسی کو قتل کیا اور صلیب پر چڑھایا۔
    محترم قارئین ! اتنے بین اور واضح دلائل کے باوجود اگر کوئی حیات مسیح کا انکار کرے توپھر اس پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ آیئے اب آخر میں ایک اور حدیث بیان کرکے بحث کو سمیٹیں۔ حضرت ابن عباس ؓ ایک طویل حدیث بیان میں کرتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺنے فرمایا:
    فَعِنْدَ ذٰلِکَ یَنْزِلُ اَخِیْ عِیْسَی ابْن مَرْیَمَ مِنَ السَّمَآءِ عَلٰی جَبَلٍ آفِیْقٍ امَامًا ھَادِیًا وَحَکَمًا عَادِلًا
    (کنز العمال جلد 7 صفحہ 268)
    ترجمہ:تواس وقت میرے بھائی عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام آسمان سے جبل افیق پر امام و رہنما اور عادل حاکم بن کر نازل ہوں گے۔
    ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺنے فرمایا:
    ((لَےْسَ بَیْنِیْ وَبَےْنَہُ یَعْنِیْ عِیْسٰی عَلَیْہِ السّلام نَبِیٌّ وَاِنَّہُ نَازِلٌ فَاِذَا رَأَیْتُمُوْہُ فَاعْرِفُوْہُ رَجُلٌمَّرْبُوْعٌ اِلَی الْحُمْرَۃِ وَالْبَیَاضِ بَیْنَ مُمَصَّرَتَیْنِ کَاَنَّ رَاسَہُ ےَقْطُرُوَاِنْ لَّمْ یُصِبْہُ بَلَلٌ فَیُقَاتِلُ النَّاسَ عَلَی الْاِسْلَامِ فَےَدُقَّ الصَّلِیْبَ وَیَقْتُلُ الْخَنْزِیْرَوَےَضَعُ الْجِزْےَۃَ وَیُھْلِکُ اللّٰہُ فِیْ زَمَانِہِ الْمِلَلَ کُلَّھَااِلَّاالْاِسْلَامَ وَیُھْلِکُ الْمَسِےْحَ الدَّجَّالَ فَےَمْکُثُ فِی الْاَرْضِ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً ثُمَّ یُتَوَفّٰی فَےُصَلِّیْ عَلَیْہِ الْمُسْلِمُوْنَ))
    (سنن ابو داؤد کتاب الملاحم باب خروج الدّجّال حدیث:4324)
    ((میرے اورعیسٰی کے درمیان کوئی نبی نہیں۔ لہٰذا جب تم انھیں دیکھو توا نھیں پہچان لینا کہ وہ درمیانے قد والے سرخ و سفید رنگ والے اور سیدھے بالوں والے ہیں۔ گویا ان کے بالوں سے پانی ٹپکتا محسوس ہوگا۔اگرچہ وہ گیلے نہیں ہوں گے۔ وہ زردی مائل کپڑوں میں ملبوس ہوں گے۔ وہ صلیب توڑیں گے۔ خنزیر کو قتل کریں گے۔ جزیہ ختم کردیں گے اوراسلام مخالف لوگوں سیقتال کریں گے،حتیٰ کہ اﷲ تعالیٰ ان کے زمانے میں مسیح گمراہ ،دروغ گو دجال کو ہلاک کرے گا۔ ان کے زمانے میں روئے زمین پر امن قائم ہو جائے گا حتیٰ کہ کالا ناگ اونٹوں کے ساتھ ، چیتے گائے کے ساتھ ، بھیڑیے بکریوں کے ساتھ چریں گے اور بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے۔ کوئی کسی کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ اور جس قدر اﷲ تعالیٰ چاہے گا وہ زمین پر رہیں گے۔ پھر وفات پا جائیں گے اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھائیں گے۔
    محترم قارئین!مرزاقادیانی اور اس کی ذریت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ آسمان پراٹھائے جانے کے عقیدہ کو شرک قرار دیتی ہے لیکن اس کے برعکس مرزاقادیانی موسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر زندہ موجود ہونے کاقائل تھا۔چنانچہ مرزاقادیانی رقمطرازہے کہ
    ’’یہ وہی موسیٰ مردخداہے جس کی نسبت قرآن میں اشارہ ہے کہ وہ زندہ ہے اورہم پرفرض ہوگیاکہ ہم اس بات پرایمان لاویں کہ وہ زندہ آسمان میں موجودہے اورمردوں میں سے نہیں۔‘‘
    (نورالحق حصہ اول صفحہ50مندرجہ روحانی خزائن جلد8صفحہ68‘69)
    مزیدایک مقام پرمرزاقادیانی اپنے اسی عقیدے کو بیان کرتے ہوئے رقمطرازہے کہ
    ’’اعیسیٰ حی ومات المصطفی؟تلک اذاقسمۃ ضیزی!اعدلواھو اقرب للتقوی۔واذاثبت ان الانبیاء کلھم احیاء فی السموات‘فای خصوصیۃ ثابتۃ لحیاۃ المسیح‘اھویاکل ویشرب وھم لایاکلون ولایشربون؟بل حیاۃ کلیم اﷲ ثابت بنص القرآن الکریم‘الاتقرء فی القرآن ماقال اﷲ تعالیٰ وعزوجل: فلا تکن فی مریۃ من لقاۂ ؟انت تعلم ان ھذہ الآیۃنزلت فی موسٰی فھی دلیل صریح علیٰ حیاۃ موسیٰ علیہالسلام ۔‘لانہ لقی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم والاموات لا یلاقون الاحیاء‘ولاتجدمثل ھذہ الآیات فی شان عیسٰی علیہ السلام ‘ نعم جاء ذکروفاتہ فی مقامات شتّٰی فتدبر فان اللّٰہ یحب المتدبرین۔‘‘
    (حمامۃ البشریٰ ص35مندرجہ روحانی خزائن جلد7ص 221‘222)
    یعنی کیاعیسیٰ ؑزندہ ہیں اورمصطفےٰﷺ فوت ہوگئے یہ تو بھونڈی تقسیم ہے۔انصاف کرووہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے اور جب یہ ثابت ہوگیاکہ تمام انبیاء آسمان میں زندہ ہیں توپھرحیات مسیح کی کونسی خصوصیت ثابت ہوتی ہے۔کیاوہ وہاں کھاتاپیتاہے اوردوسرے انبیاء کھاتے پیتے نہیں بلکہ حضرت موسٰی علیہ السلام کازندہ ہوناقرآن کریم سے ثابت ہے ۔ کیاتوقرآن کریم میں نہیں پڑھتاکہ اﷲ نے فرمایا:فلاتکن فی مریتہ من لقاۂ(تواس ملاقات کے بارے میں شک نہ کر)اورتوجانتاہے کہ یہ آیت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اتری ہے اورآپ کی زندگی پرصریح دلیل ہے کیونکہ انھوں نے رسول اﷲﷺ سے ملاقات کی اورمردے زندوں سے نہیں ملتے۔ اورتو اس جیسی آیات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارہ میں نہیں پائے گا۔ہاں ان کی وفات کاذکرمختلف مقامات پرآیاہے۔پس توتدبرکرکیونکہ اﷲتدبرکرنے والوں کوپسندکرتاہے۔
    نوٹ:۔مندرجہ بالا ترجمہ احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہورکی طرف سے شائع ہونے والی مترجم کتاب حمامۃ البشریٰ سے لیاگیاہے۔کتاب میں اردو ترجمہ کے ساتھ ساتھ عربی متن بھی دیاگیاہے۔
    محترم قارئین!اب آخر میں ایک اور حدیث نزول مسیح کے حوالے سے بیان کر کے اس بحث کو سمیٹتا ہوں ۔
    چنانچہ عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کو جبمعراج ہوئی تو آپ ﷺ نے ابراہیم موسی اور عیسٰی علیھم السلام سے ملاقات کی اور باہم قیامت کا تذکرہ ہوا سب نے ابراہیم علیہ السلام سے قیامت کے بارے میں سوال کیا لیکن انہیں کچھ معلوم نہ تھا پھر موسٰی علیہ السلام سے سوال کیاتو انہیں بھی کچھ معلوم نہ تھا پھر عیسٰی علیہ السلام سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا :
    ((قَدْعُہِدَاِلَیَّ فِیْمَادُوْنَ وَجْبَتِھَافَاَمَّاوَجْبَتُھَافَلَا یَعْلَمُھَااِلَاللّٰہُ فَذَکَرَخُرُوْجَ الدَّجَّالَ قَالَ فَاَنْزِلُ فَاقْتُلُہُ فَیَرْجِعُ النّٰاسُ اِلَی بِلَادِھِمْ فَیَسْتَقْبِلُھُمْ یَاجُوْجُ وَمَاجُوْجُ وَھُمْ مِنْ کُلِّ حَدَبٍ یَنْسِلُوْنَ فَلاَ یَمُرُّوْنَ بِمَاءٍ اِلَّا شَرِبُوْ ہُ وَلَا بِشَیْ ءٍ اِلّا اَفْسَدُوْہُ فَتَجَاَرُوْنَ اَلَی اللّٰہَ فَادْعُوْاللّٰہَ اَنْ یُمِیْتَھُمْ فَتَنْتُنُ الْاَرْضُ مِنْ رِیْحِھِمْ فَیَجْاَرُوْنَ اِلَی اللّٰہِ فَادْعُوْ اللّٰہَ فَیُرْسِلُ السَّمَاءِ بَالْمَاءِ فَیَحْمِلْھُمْ فَیَلْقِیْھِمْ فِی الْبَحْرِ ثُمَّ تَنْسِفُ الْجِبَالُ وَتُمَدُّالْاَرْضُ مَدَّ الْاَدِیْمِ فَعُھِدَ اِلَیَّ مَتَی کَانَ ذَالِکَ کَاَنْتِ السَّاعَۃُ مِنَ النَّاسِ کَالْحَامِلِ الَّتِی لَایَدْرِی اَھْلُھَا مَتٰی تَفْجُوْھُمْ بِوِ لَادَتِھَا قَالَ الْعَوَّامُ وَوُجِدَ تَصْدِیْقُ ذَالِکَ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ تَعَالٰی حَتّٰی اِذَا فتِحَتْ یَاجُوْجُ وَمَاجُوْجُ وَھُمْ مِنْ کُلِّ حَدَبٍ یَنْسِلُوْنَ ))
    (سنن ابن ماجہ کتاب الفتن حدیث نمبر 4180)
    ترجمہ:۔ میرے ساتھ قیامت سے قبل (نزول) کا وعدہ کیا گیا ہے لیکن اس کا وقت اﷲ ہی کو معلوم ہے عیسٰی علیہ السلام نے دجال کے ظہور کاذکر کیا اور فرمایا : میں نازل ہو کر اسے قتل کروں گا پس لوگ اپنے اپنے شہروں کو لوٹیں گے اتنے میں یاجوج ماجوج ان کے سامنے آئیں گے اور ہر بلندی پر وہ چڑھ جائیں گے جس پانی پر وہ گزریں گے اس کو پی لیں گے اور ہر ایک چیز کو خراب کر دیں گے آخر لوگ اﷲ تعالی کے حضور عاجزی و انکساری سے گڑگڑائیں گے پھر میں دعا کروں گا کہ اﷲ تعالی ان کو مار ڈالے (وہ مرجائیں گے ) اوران کے پاس زمین بدبودار ہو جائے گی لوگ پھر اﷲ تعالی کے حضور عاجزی و انکساری سے گڑگڑائیں گے میں پھر اﷲ تعالیٰ سے دعاکروں گا تو اﷲ تعالی پانی بھیجے گا جوان کی نعشیں سمندر میں بہا لے جائے گا پھر پہاڑ اکھیڑ ڈالے جائیں گے اور زمین کھینچتی جائے گی صاف ہموار اور اس میں پہاڑ ،ٹیلے،اور سمندر گڑھے وغیرہ نہیں رہیں گے پھر مجھ سے کہا گیا جب یہ باتیں ظاہر ہوں تو قیامت لوگوں سے ایسے قریب ہو گی جیسے حاملہ عورت (جس کے دن پورے ہو گئے ہوں) بچہ جننا اس کے گھر والے نہیں جانتے کہ وہ کسوقت ناگہاں جنتی ہے ، تو مکمل تیاری کر رکھتے ہیں اور ہر وقت زچگی کے منتظر ہوتے ہیں ۔ عوام بن حوشب نے کہا اس واقعہ کی تصدیق کتاب اﷲ میں موجود ہے اِذَا فتِحَتْ یَاجُوْجُ وَمَاجُوْجُ وَھُمْ مِنْ کُلِّ حَدَبٍ یَنْسِلُوْنَ یعنی جب یاجوج ماجوج کھل جائیں گے تو وہ ہر بلندی پر چڑھ دوڑیں گے ))
    محترم قارئین ! اب آخر میں مرزا قادیانی کی کتب سے عیسٰی علیہ السلام کے آسمان پر موجود ہونے کا حوالہ بھی ملاحظہ فرمائیں چنانچہ مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ
    ’’اور مسیح کوخوب معلوم تھا کہ خداجلدتر اس عارضی تعلیم کو نیست و نابود کرکے اس کامل کتاب کو دنیا کی تعلیم کے لیے بھیجے گا کہ جو حقیقی نیکی کی طرف تمام دنیا کو بلائے گی اور بندگان خدا پر حق اور حکمت کا دروازہ کھول دے گی ۔ اس لیے اس کو کہنا پڑا کہ ابھی بہت سی باتیں قابل تعلیم باقی ہیں جن کو تم ہنوز برداشت نہیں کر سکتے مگر میرے بعد ایک دوسرا آنیوالا ہے وہ سب باتیں کھول دے گا اور علم دین کو بمرتبہ کمال تک پہنچائے گا ۔سو حضرت مسیح تو انجیل کو ناقص کی ناقص ہی چھوڑ کر آسمانوں پر جا بیٹھے اور ایک عرصہ تک وہی ناقص کتاب لوگوں کے ہاتھ میں رہی ‘‘(براہین احمدیہ حاشیہ صفحہ ۳۶۰تا۳۶۱ مندرجہ قادیانی خزائین جلد 1حاشیہ صفحہ 429تا431)
    آئیے اب نزول مسیح کے حوالے سے بھی مرزا قادیانی کی ایک تحریر ملاحظہ فرمائیں چنانچہ مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ
    ’’ھُوَ الَّذِی اَرْسَلَ رَسُوْلَہُ بِالْھُدیٰ وَدِیْنِ الْحَقْ لِیُظْھِرَہُ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیشگوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعے سے ظہور میں آئے گا اور جب مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا ‘‘
    (براہین احمدیہ صفحہ 499مندرجہ قادیانی خزائین جلد 1صفحہ 593)
    ایک اور مقام پر مرزا صاحب قادیانی یوں رقمطراز ہیں کہ
    ’’وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ جب خدائے تعالی مجرمین کے لئے شدت اور عنف اور قہر اور سختی کو استعمال میں لائے گا اور حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے ‘‘
    (براہین احمدیہ صفحہ 505مندرجہ قادیانی خزائین جلد 1صفحہ601)
    محترم قارئین!آپ قادیانیوں سے کسی بھی موضوع پر گفتگو کریں گے تو ان کی تان مسئلہ حیات مسیح پر ہی ٹوٹے گی جبکہ اس کے برعکس مرزاقادیانی رقمطرازہے کہ
    ’’اوّل تویہ جانناچاہیے کہ مسیح کے نزول کا عقیدہ کوئی ایسا عقیدہ نہیں ہے جو ہماری ایمانیات کی کوئی جزویاہمارے دین کے رکنوں میں سے کوئی رکن ہوبلکہ صدہاپیشگوئیوں میں سے یہ ایک پیشگوئی ہے۔جس کوحقیقت اسلام سے کچھ بھی تعلق نہیں جس زمانہ تک یہ پیشگوئی بیان نہیں کی گئی تھی اس زمانہ تک اسلام کچھ ناقص نہیں تھااورجب بیان کی گئی تواس سے اسلام کچھ کامل نہیں ہوگیا۔‘‘ (ازالہ اوہام صفحہ140مندرجہ روحانی خزائن جلد3صفحہ171)
    ’’اورمسیح موعودکے ظہور سے پہلے اگرامت میں سے کسی نے یہ خیال بھی کیاکہ حضرت عیسیٰ( علیہ السلام)دوبارہ دنیامیں آئیں گے توان پرکوئی گناہ نہیں صرف اجتہادی خطاہے جواسرائیلی نبیوں سے بھی بعض پیشگوئیوں کے سمجھنے میں ہوتی رہی ہے۔‘‘
    (حقیقت الوحی صفحہ30مندرجہ روحانی خزائن جلد22صفحہ32)
    ’’ہماری یہ غرض نہیں کہ مسیح علیہ السلام کی وفات حیات پرجھگڑے اورمباحثہ کرتے پھرو یہ ایک ادنیٰ سی بات ہے۔‘‘
    (ملفوظات احمدیہ جلد1صفحہ352طبع چہارم)

اس صفحے کی تشہیر