1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

مسلمانوں کی باہم تکفیر کے فتوے اور ان کی حقیقت

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 15, 2015

  1. ‏ فروری 15, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    مسلمانوں کی باہم تکفیر کے فتوے اور ان کی حقیقت
    اصل مسئلہ سے توجہ ہٹانے کے لئے دوسرا مغالطہ مرزائیوں کی طرف سے یہ دیا جاتا ہے کہ جو علماء ہم پر کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں وہ خود آپس میں ایک دوسرے کو کافر قرار دیتے آئے ہیں۔ لہٰذا ان کے فتوؤں کا اعتبار اٹھ گیا ہے۔ لیکن اس ’’دلیل‘‘ کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے کوئی شخص یہ کہنے لگے کہ چونکہ بعض عطائیوں اور ڈاکٹروں نے کچھ لوگوں کا غلط علاج کیا ہے۔ اس لئے اب کوئی ڈاکٹر مستند نہیں رہا اور اب پوری میڈیکل سائنس ہی ناکارہ ہوگئی ہے اور وہ طبی مسئلے بھی قابل بقدر نہیں رہے جن پر تمام دنیا کے ڈاکٹر متفق ہیں۔
    حال ہی میں مرزائی جماعت کی طرف سے ایک کتابچہ شائع ہوا ہے جس کا عنوان ہے ’’ہم غیراحمدیوں کے پیچھے کیوں نماز نہیں پڑھتے۔‘‘ اور اس میں مسلمان مکاتب فکر کے باہمی اختلافات اور ان فتاویٰ کو انتہائی مبالغہ آمیز انداز میں پیش کیاگیا ہے جن میں ایک دوسرے کی تکفیر کی گئی ہے۔ لیکن اوّل تو اس کتابچے میں بعض ایسے فتوؤں کا حوالہ ہے جن کے بارے میں پوری ذمہ داری سے کہا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے کہنے والوں کی طرف بالکل غلط منسوب کئے گئے ہیں۔ 1995دوسرے اس کتابچے میں اگرچہ کافی محنت سے وہ تمام تشدد آمیز مواد اکٹھا کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو باہمی اختلافات کے دوران منظر عام پر آیا ہے۔ لیکن ان بیسیوں اقتباسات میں مسلمان مکاتب فکر کے ایک دوسرے پر کفر کے فتوے کل پانچ ہیں۔ باقی فتوے نہیں بلکہ وہ عبارتیں ہیں جو ان کے افسوسناک باہمی جھگڑوں کے درمیان ان کے قلم یا زبان سے نکلیں۔ ان میں ایک دوسرے کے خلاف سخت زبان تو بے شک استعمال کی گئی ہے۔ لیکن انہیں کفر کے فتوے قرار دینا کسی طرح درست نہیں۔
    تیسرے یہ پانچ فتوے بھی اپنے اپنے مکاتب فکر کی مکمل نمائندگی نہیں کرتے۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ جن مکاتب فکر سے وہ تعلق رکھتے ہیں وہ پورا مکتب فکر ان فتوؤں سے متفق ہو۔ اس کے بجائے ہر مسلمان مکتب فکر میں محقق اور اعتدال پسند علماء نے ہمیشہ اس بے احتیاطی اور عجلت پسندی سے شدید اختلاف کیا ہے جو اس قسم کے فتوؤں میں روا رکھی گئی ہے۔ لہٰذا ان چند فتاویٰ کو پیش کر کے یہ تاثر دینا بالکل غلط، بے بنیاد اور گمراہ کن ہے کہ یہ سارے مکاتب فکر ایک دوسرے کو کافر قرار دیتے ہیں۔ اس کے بجائے حقیقت یہ ہے کہ ہر مکتب فکر میں ایک عنصر ایسا رہا ہے جس نے دوسرے کی مخالفت میں اتنا تشدد کیا کہ وہ تکفیر کی حد تک پہنچ جائے۔ لیکن اسی مکتب فکر میں ایک بڑی تعداد ایسے علماء کی ہے جنہوں نے فروعی اختلافات کو ہمیشہ اپنی حدود میں رکھا اور ان حدود سے نہ صرف یہ کہ تجاوز نہیں کیا۔ بلکہ اس کی مذمت کی ہے اور عملاً یہی محتاط اور اعتدال پسند عنصر غالب رہا ہے۔ جس کی واضح مثال یہ ہے کہ جب بھی مسلمانوں کا کوئی مشترک مسئلہ پیدا ہوتا ہے ان تمام مکاتب فکر کے مل بیٹھنے میں بعض حضرات کے فتوے کبھی رکاوٹ نہیں بنتے۔
    یہ مسلمان فرقے جن کی فرقہ بندیوں کا پروپیگنڈہ دنیا بھر میں گلا پھاڑ پھاڑ کر کیا گیا ہے اور جن کے اختلافات کا شور مچا مچا کر لوگوں نے اپنے باطل نظریات کی دکانیں چمکائی ہیں۔ وہی تو ہیں جو ۱۹۵۱ء میں پاکستان کی دستوری بنیادیں طے کرنے کے لئے جمع ہوئے اور کسی ادنیٰ اختلاف کے بغیر اسلامی دستور کے اساسی اصول طے کر کے اٹھے جب کہ پروپیگنڈہ یہ تھا اس قسم کا 1996اتفاق ایک امر محال ہے۔ ۱۹۵۳ء کے موقعہ پر جب مجوزہ دستور میں متعین اسلامی ترمیمات طے کرنے کا مرحلہ آیا تو انہوں نے اکٹھے ہوکر متفقہ سفارشات پیش کیں۔ جب کہ یہ کام پہلے کام سے زیادہ غیرمتوقع سمجھا جاتا تھا۔ ۱۹۵۳ء ہی میں انہوں نے قادیانیت کے مسئلہ پر اجتماعی طریقے سے ایک مشترکہ مؤقف اختیار کیا۔ ۱۹۷۲ء میں دستور سازی کے دوران شیروشکررہ کر اس بنیادی کام میں شریک رہے۔ دنیا بھر میں شور تھا کہ یہ لوگ مل کر مسلمان کی متفقہ تعریف بھی نہیں کر سکتے۔ لیکن ۱۹۷۲ء میں انہوں نے ہی کامل اتفاق واتحاد سے اس پروپیگنڈے کی قلعی کھولی اور اب پھر یہ مرزائیت کے کھلے کفر کے مقابلے میں شانہ بشانہ موجود ہیں۔ غرضیکہ جب بھی اسلام اور مسلمانوں کا کوئی مشترکہ مذہبی مسئلہ سامنے آیا تو ان کے باہمی مذہبی اختلافات اجتماعی مؤقف اختیار کرنے میں کبھی سدراہ ثابت نہیں ہوئے۔ لیکن کیا کبھی کسی نے دیکھا ہے کہ اس قسم کے اجتماعات میں کسی مرزائی کو بھی دعوت دی گئی ہو؟
    اس طرف عمل پر غور کرنے سے چند باتیں کھل کر سامنے آجاتی ہیں۔
    اوّل! یہ کہ باہم ایک دوسرے کی تکفیر کے فتوے انفرادی حیثیت رکھتے ہیں۔ کسی مکتب فکر کی نمائندہ حیثیت نہیں۔ ورنہ یہ مکاتب فکر کبھی بحیثیت مسلمان جمع نہ ہوتے۔
    دوسرے! یہ کہ ہر مکتب فکر میں غالب عنصر وہی ہے جو فروعات کو فروعات ہی کے دائرے میں رکھتا ہے اور آپس کے اختلاف کو تکفیر کا ذریعہ نہیں بناتا۔ ورنہ اس قسم کے اجتماعات کو قبول عام حاصل نہ ہوتا۔
    تیسرے! یہ کہ اسلام کے وہ بنیادی عقائد جو واقعتا ایمان اور کفر میں حد فاصل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان میں یہ سب لوگ متفق ہیں۔
    لہٰذا اگر کچھ حضرات نے تکفیر کے سلسلہ میں غلو اور تشدد کی روش اختیار کی ہے تو اس سے یہ نتیجہ کیسے نکالا جاسکتا ہے کہ اب دنیا میں کوئی شخص کافر ہو ہی نہیں سکتا اور اگر یہ سب لوگ مل کر بھی کسی کو کافر کہیں تو وہ کافر نہیں ہوگا۔
    1997کیا دنیا میں عطائی قسم کے لوگ علاج کر کے انسانوں پر مشق ستم نہیں کرتے؟ بلکہ کیا ماہر سے ماہر ڈاکٹر سے بھی غلطی نہیں ہوتی؟ لیکن کیا کبھی کوئی انسان جو عقل سے بالکل ہی معذورنہ ہو یہ کہہ سکتاہے کہ ان انفرادی غلطیوں کی سزا کے طور پر ڈاکٹروں کے طبقے کی کوئی بات قابل تسلیم نہیں ہونی چاہئے۔ کیا عدالتوں کے فیصلوں میں ججوں سے غلطیاں نہیں ہوتیں؟ لیکن کیا کسی نے سوچا ہے کہ ان انفرادی غلطیوں کی وجہ سے عدالتوں میں تالے ڈال دیئے جائیں۔ یا ججوں کا کوئی فیصلہ مانا ہی نہ جائے؟ کیا مکانات، سڑکوں اور عمارتوں کی تعمیر میں انجینئر غلطی نہیں کرتے؟ لیکن کبھی کسی ذی ہوش نے یہ تجویز بھی پیش کی ہے کہ ان غلطیوں کی بناء پر تعمیر کا ٹھیکہ انجینئروں کی بجائے گورکنوں کودے دیا جائے؟ پھر یہ اگر چند جزوی نوعیت کے فتوؤں میں بے احتیاطیاں یا غلطیاں ہوئی ہیں تو اس کا مطلب یہ کیسے نکل آیا کہ اب اسلام اور کفر کے فیصلے قران وسنت کی بجائے مرزائی تحریفات کی بنیاد پر کرنے چاہئیں؟
    شاعر مشرق مصور پاکستان علامہ اقبال مرحوم نے مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے بالکل صحیح بات کہی تھی: ’’مسلمانوں کے بیشمار فرقوں کے مذہبی تنازعوں کا ان بنیادی مسائل پر کچھ اثر نہیں پڑتا۔ جن مسائل پر سب فرقے متفق ہیں۔ اگرچہ وہ ایک دوسرے پر الحاد کے فتوے دیتے ہوں۔‘‘

    (حرف اقبال ص۱۲۷، مطبوعہ المنار اکادمی لاہور ۱۹۴۷ئ)

اس صفحے کی تشہیر