1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

مسلمان شرک نہیں کر سکتا ، مسلمان مشرک نہیں ہو سکتا

مبشر شاہ نے 'انجینئر کذاب محمد علی مرزا جہلمی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 19, 2021

  1. ‏ فروری 19, 2021 #1
    مبشر شاہ

    مبشر شاہ رکن عملہ منتظم اعلی

    مسلمان شرک نہیں کر سکتا ، مسلمان مشرک نہیں ہو سکتا


    لاتشرکوا بعدی.jpg
    بخاری شریف حدیث نمبر: 1344

    حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا الليث , حدثني يزيد بن ابي حبيب، عن ابي الخير، عن عقبة بن عامر،" ان النبي صلى الله عليه وسلم خرج يوما فصلى على اهل احد صلاته على الميت ثم انصرف إلى المنبر , فقال: إني فرط لكم وانا شهيد عليكم، وإني والله لانظر إلى حوضي الآن، وإني اعطيت مفاتيح خزائن الارض او مفاتيح الارض، وإني والله ما اخاف عليكم ان تشركوا بعدي ولكن اخاف عليكم ان تنافسوا فيها".
    ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ ان سے یزید بن ابی حبیب نے بیان کیا ‘ ان سے ابوالخیر یزید بن عبداللہ نے ‘ ان سے عقبہ بن عامر نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن باہر تشریف لائے اور احد کے شہیدوں پر اس طرح نماز پڑھی جیسے میت پر پڑھی جاتی ہے۔ پھر منبر پر تشریف لائے اور فرمایا۔ دیکھو میں تم سے پہلے جا کر تمہارے لیے میر ساماں بنوں گا اور میں تم پر گواہ رہوں گا۔ اور قسم اللہ کی میں اس وقت اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں اور مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئی ہیں یا (یہ فرمایا کہ) مجھے زمین کی کنجیاں دی گئی ہیں اور قسم اللہ کی مجھے اس کا ڈر نہیں کہ میرے بعد تم شرک کرو گے بلکہ اس کا ڈر ہے کہ تم لوگ دنیا حاصل کرنے میں رغبت کرو گے (نتیجہ یہ کہ آخرت سے غافل ہو جاؤ گے)۔


    مسلمان شرک کریں گے.jpg


    سنن ابن ماجہ شریف حدیث نمبر:
    حدثنا هشام بن عمار , حدثنا محمد بن شعيب بن شابور , حدثنا سعيد بن بشير , عن قتادة انه حدثهم , عن ابي قلابة الجرمي عبد الله بن زيد , عن ابي اسماء الرحبي , عن ثوبان مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم , ان رسول الله صلى الله عليه وسلم , قال:" زويت لي الارض حتى رايت مشارقها ومغاربها , واعطيت الكنزين الاصفر او الاحمر , والابيض يعني: الذهب والفضة , وقيل لي: إن ملكك إلى حيث زوي لك , وإني سالت الله عز وجل ثلاثا: ان لا يسلط على امتي جوعا فيهلكهم به عامة , وان لا يلبسهم شيعا ويذيق بعضهم باس بعض , وإنه قيل لي إذا قضيت قضاء فلا مرد له , وإني لن اسلط على امتك جوعا فيهلكهم فيه , ولن اجمع عليهم من بين اقطارها حتى يفني بعضهم بعضا ويقتل بعضهم بعضا , وإذا وضع السيف في امتي فلن يرفع عنهم إلى يوم القيامة , وإن مما اتخوف على امتي ائمة مضلين , وستعبد قبائل من امتي الاوثان , وستلحق قبائل من امتي بالمشركين , وإن بين يدي الساعة دجالين كذابين قريبا من ثلاثين , كلهم يزعم انه نبي , ولن تزال طائفة من امتي على الحق منصورين لا يضرهم من خالفهم , حتى ياتي امر الله عز وجل" , قال ابو الحسن: لما فرغ ابو عبد الله من هذا الحديث , قال: ما اهوله.

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے لیے زمین سمیٹ دی گئی حتیٰ کہ میں نے اس کے مشرق اور مغرب کو دیکھ لیا، پھر اس کے دونوں خزانے زرد یا سرخ اور سفید (یعنی سونا اور چاندی بھی) مجھے دئیے گئے ۱؎ اور مجھ سے کہا گیا کہ تمہاری (امت کی) حکومت وہاں تک ہو گی جہاں تک زمین تمہارے لیے سمیٹی گئی ہے، اور میں نے اللہ تعالیٰ سے تین باتوں کا سوال کیا: پہلی یہ کہ میری امت قحط (سوکھے) میں مبتلا ہو کر پوری کی پوری ہلاک نہ ہو، دوسری یہ کہ انہیں ٹکڑے ٹکڑے نہ کر، تیسری یہ کہ آپس میں ایک کو دوسرے سے نہ لڑا، تو مجھ سے کہا گیا کہ میں جب کوئی حکم نافذ کر دیتا ہوں تو وہ واپس نہیں ہو سکتا، بیشک میں تمہاری امت کو قحط سے ہلاک نہ کروں گا، اور میں زمین کے تمام کناروں سے سارے مخالفین کو (ایک وقت میں) ان پر جمع نہ کروں گا جب تک کہ وہ خود آپس میں اختلاف و لڑائی اور ایک دوسرے کو مٹانے اور قتل نہ کرنے لگیں، لیکن جب میری امت میں تلوار چل پڑے گی تو وہ قیامت تک نہ رکے گی، مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ خوف گمراہ سربراہوں کا ہے، عنقریب میری امت کے بعض قبائل بتوں کی پرستش کریں گے، اور عنقریب میری امت کے بعض قبیلے مشرکوں سے مل جائیں گے، اور قیامت کے قریب تقریباً تیس جھوٹے دجال پیدا ہوں گے جن میں سے ہر ایک کا دعویٰ یہ ہو گا کہ وہ اللہ کا نبی ہے، اور میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا، اور ہمیشہ ان کی مدد ہوتی رہے گی، اور جو کوئی ان کا مخالف ہو گا وہ ان کو کوئی ضرور نقصان نہیں پہنچا سکے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آ جائے ۲؎۔ ابوالحسن ابن القطان کہتے ہیں: جب ابوعبداللہ (یعنی امام ابن ماجہ) اس حدیث کو بیان کر کے فارغ ہوئے تو فرمایا: یہ حدیث کتنی ہولناک ہے۔

اس صفحے کی تشہیر