1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

مسیح موعود ء پر ایمان نہ لانے والے ...؟

لو فار آل نے 'احمدیہ کارنر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مئی 28, 2016

  1. ‏ مئی 28, 2016 #1
    لو فار آل

    لو فار آل رکن ختم نبوت فورم

    مسیح موعود ء پر ایمان نہ لانے والے ...؟


    راشد علی نے یہ اعتراض کیا ہے کہ

    "He who does not believe on Mirza is disobedient to God and Prophet and will go to Hell." ( Beware....)

    اس اعتراض کا ایک حدّ تک جواب تو گزشتہ صفحات میں آ چکا ہے۔ حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام نے ہرگز کسی کو جہنّمی قرار نہیں دیا۔حقیقت یہ ہے کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلٰوۃ والسلام وہ موعود مسیح اور معہود مہدی ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے صحفِ سابقہ کی پیشگوئیوں اور آنحضرت ﷺ کی پیشگوئیوں کے عین مطابق مبعوث فرمایا ہے۔اس لحاظ سے آپ کا انکار لازماً خدا تعالیٰ کی نافرمانی ہے اور آنحضرت ﷺ کے فرمودات کا انکار قرار پاتا ہے۔


    آنحضرت ﷺ نے اپنے مسیح و مہدی کے بارہ میں فرمایا تھا

    اذا رایتموہ فبایعوہ۔( ابنِ ماجہ۔ کتاب الفتن باب خروج المہدی)

    کہ تم جب بھی اس کو پاؤ تو اس کی بیعت میں داخل ہو جانا

    یہاں سوال حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کی ذات کا نہیں بلکہ اس مسیح اور مہدی کا ہے جس کے منصب پر آپ کو خدا تعالیٰ نے فائز فرمایا۔ اس پر ایمان لانے کا اور اس کی بیعت کرنے کا ارشاد آنحضرت ﷺ کا ہے اور ہمارے آقا و مطاع حضرت محمّد ﷺ کا یہ بھی ارشاد ہے کہ

    ’’ من مات بغیر امام مات میتۃ الجاھلیّۃ‘‘( مسند احمد حنبل)
    یعنی جو شخص اپنے زمانہ کے امام کو شناخت نہ کرے اس کی موت جاہلیت کی موت ہے۔

    یہ حدیث ایک متّقی کے دل کو امام الوقت کا طالب بنانے کے لئے کافی ہو سکتی ہے کیونکہ جاہلیت کی موت ایسی جامع شقاوت ہے جس سے کوئی بدی اور بدبختی باہر نہیں۔ وقت کے مامور کے انکار کا معاملہ خدا تعالیٰ نے بڑی وضاحت سے قرآنِ کریم میں بیان فرمایا ہے۔ اس لئے اس سلسلہ میں کچھ مزید کہنے کی حاجت ہی کوئی نہیں۔

    پس قرآنِ کریم کی آیاتِ بیّنہ اورنبی اکرم ﷺ کی واضح احادیث پر مبنی یہ وہ عقیدہ ہے جو جماعتِ احمدیہ پیش کرتی ہے۔ اس لئے جماعت احمدیہ پر ایسا اعتراض معترض کی جہالت کا آئینہ دار ہے۔
    • Disagree Disagree x 1
  2. ‏ مئی 28, 2016 #2
    محمدعثمان

    محمدعثمان رکن ختم نبوت فورم

    جی جناب کسی ٖقطعی آیت یا حدیث میں یہ تو دکھائیں کہ مرزا قادیانی کے بارے میں اس کے نام کے ساتھ فرمایا گیا ہو کہ مرزا قادیانی ہی آنے والا مسیح اور مہدی ہو گا اور وہ ایک ہی وجود ہو گا؟ اور آپ نے جو احادیث پیش کی ہیں ان کا اصل عربی متن اور سند پیش کریں۔
    • Like Like x 1
  3. ‏ مئی 28, 2016 #3
    محمود بھائی

    محمود بھائی پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    امام کو شناخت نہ کرے کن الفاظ کا ترجمہ ہے ؟؟؟

    اور یہ بھی دیکھ لیں کہ امام احمد بن حنبل اس روایت کا کیا مطلب بیان کرتے ہیں

    وقد سئل الإمام أحمد عن حديث النبي صلى الله عليه وسلم: من مات وليس له إمام مات ميتة جاهلية. ما معناه؟ فقال: تدري ما الإمام؟ الإمام الذي يجمع المسلمون عليه كلهم، يقول هذا إمام. اهـ. من كتاب السنة للخلال.

    یہ بھی یاد رہے کہ
    اصطلاح شرع میں” امام“ سے مسلمانوں کا خلیفہ اور ان کا حاکم مراد ہوتا ہے ۔
    لفظ ”امام ، خلیفہ اور امیر الموٴمنین “میں ترادف
    لغوی معنی کے اعتبار سے اگر چہ یہ تینوں لفظ الگ الگ اور خاص معنی رکھتے ہیں، لیکن اطلاق اور دلالت کے اعتبار سے ان میں ترادف پایا جاتا ہے،خلافت اور امامت کے بارے میں وارد احادیث اور آثا ر کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم اور حضرات صحابہ  و تابعین نے لفظ ”خلیفہ “ اور ”امام“ میں کوئی فرق نہیں کیا ،جب کہ حضرت عمر فاروق  کے خلیفہ بننے کے بعد ان کے لیے ”امیر الموٴمنین “ کا لفظ اختیار کیا گیا، علمائے امت نے اسی وجہ سے ان کو کلماتِ مترادفہ میں شمار کر کے بعض کے بعض پر اطلاق کو جائز کہا ہے چناں چہ علامہ نووی  فرماتے ہیں :”یجوز أن یقال للامام: الخلیفة، والامام، وأمیر الموٴمنین“․ (روضة الطالبین لیحییٰ بن شرف الدین النووی: 10/49، المکتب الاسلامی)یعنی امام کو ”خلیفہ “ ”امام “اور ”امیر الموٴمنین “ کہنا جائز ہے۔

    علامہ ابنِ خلدون مقدمہ میں ر قم طراز ہیں کہ ہم نے اس مقام یعنی خلافت و امامت کی حقیقت کو بیان کیا کہ یہ صاحبِ شریعت کی دین کی حفاظت اور سیاستِ دنیوی میں نیابت کو کہتے ہیں ، اسے ”خلافت “ اور ”امامت “ کہا جاتا ہے ،اس کے انجام دینے والے کو ”خلیفہ “ اور ”امام“ کہا جاتا ہے۔ (مقدمة ابنِ خلدون،ص 190)

    • Like Like x 2

اس صفحے کی تشہیر