1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

(معقولیت کس میں ہے؟)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 25, 2015

  1. ‏ فروری 25, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (معقولیت کس میں ہے؟)
    اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہر دو فریق کے بیان کردہ اصولوں میں سے معقولیت کس میں ہے۔ ایک تو اپنے دین کی بنیاد چند منظم اصولوں پر کہ جن کو قدامت کی قوت حاصل ہے۔ قائم کر کے اسے بطور ایک ضابطہ اور قانون کے پیش کرتا ہے۔ دوسرا اسے ایک کھلونا بنا کر ہر کس وناکس کے ہاتھ میں دے دیتا ہے اور بجائے اس کے کہ دین کو ایک مستقل لائحہ عمل سمجھا جاوے۔ اسے ہر لمحہ وہر آن تغیر وتبدل کا متحمل قرار دیتے ہوئے ایک بازیچۂ اطفال بنادیتا ہے۔ کیونکہ اس کے نزدیک ہر شخص اس بات کا اہل اور مجاز ہوسکتا ہے کہ وہ جب چاہے بلاروک وٹوک اپنے اجتہاد کی بناء پر ایک نیا رستہ نکال کر اس پر چلنا شروع کر دے اور نہ کسی صحابی، نہ کسی امام، نہ کسی بزرگ، نہ کسی دوسرے ماہر فن کی کوئی پرواہ کرے۔ بلکہ شارع کے جس قول کو وہ درست سمجھے اور اس کا معنی جو وہ قرار دے۔ اس کے مطابق عمل کرے اور اگر اسے کوئی گرفت کرے تو فوراً اپنے قول کی کوئی تاویل گھڑ کر پیش کر دے اور چونکہ وہ تاویل مقدم سمجھی جائے گی۔ اس لئے کوئی بھی اس کا کچھ نہ بگاڑ سکے گا اور بیچارہ گرفت کرنے والا منہ کی کھا کر چپ ہو جائے گا۔ اس اصول کے تحت نہ صرف کسی دین کی بلکہ کسی قانون کی کوئی حقیقت نہیں رہتی۔ کیونکہ اس قسم کی وسعت ہر اس ضابطہ میں کہ جس کا اجراء بطور قانون مقصود ہو متصور ہوسکتی ہے اور اس صورت میں اس پر کبھی بھی عملدرآمد نہیں ہوسکتا اور وہ محض لفظ ہی لفظ رہ جاتا ہے۔
    2144اگر ان اصولوں کو جو فریق ثانی کی طرف سے بیان کئے گئے ہیں۔ بروئے کار لایا جاوے تو دین نہ صرف دین کہلائے جانے کا ہی مستحق نہیں رہتا۔ بلکہ ایک مضحکہ انگیز چیز بن جاتا ہے اور بجائے اس کے کہ اس میں کوئی یکسانیت پیدا کی جاسکے ہر شخص انفرادی حیثیت سے اپنی منشاء کے مطابق اپنے لئے ایک علیحدہ دین بتاسکے گا۔
    مذکورہ بالاتصریحات سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ مرزاصاحب کے دعویٰ سے قبل دین اسلام جن باتوں پر قائم تھا۔ اب کوئی ان کی اصلیت اور بنا نہیں رہی اور اب بناء صرف مرزاصاحب اور ان کے خلفاء کے اقوال وعقائد پر ہی ہے۔ کیونکہ فریق ثانی کے نزدیک اب ان اصحاب کے سوا نہ کسی پہلے صحابی کی نہ امام کی۔ نہ بزرگ کی کوئی بات مقدم اور صحیح ہے۔ بلکہ جو کچھ مرزاصاحب اور ان کے خلفاء نے کہا ہے اور لکھا ہے۔ وہی درست ہے اور ان کی کتابوں کے سوا اور کوئی کتاب حجت نہیں ہے۔ اس سے صاف طور پر یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ مرزاصاحب کا دین اس دین اسلام سے مختلف ہے۔ جو مرزاصاحب کے دعویٰ سے قبل مسلمان سمجھتے آئے ہیں۔ اس لئے مدعیہ کی طرف سے بجا طور پر کہاگیا ہے کہ مذہب کے لحاظ سے ہر دو فریق میں قانون کا اختلاف ہے اور مدعیہ کی طرف سے بھی یہ تسلیم کیاگیا ہے کہ ان کے درمیان اصولی اختلاف بھی ہے اور فروعی بھی اور سید انور شاہ صاحبؒ گواہ مدعیہ بیان کرتے ہیں کہ احمدی مذہب والے نے مہمات دین کے بہت سے اصولوں کو تبدیل کر دیا ہے اور بہت سے اسماء کا مسمٰی بدل دیا ہے۔ آگے ظاہر ہو جائے گا کہ اس میں کہاں تک صداقت ہے۔
    اب وہ عقائد بیان کئے جاتے ہیں کہ جن کی بناء پر فریق ثانی کی نسبت یہ کہا جاتا ہے کہ وہ مرتد اور کافر ہے۔ اس ضمن میں اہم وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ وہ مرزاغلام احمد صاحب کو نبی مانتا ہے۔ اس لئے یہ دکھانا پڑے گا کہ مرزاصاحب کے اعتقادات کیسے ہیں؟ اور کیا وہ نبی ہوسکتے ہیں یا ؟نہ اور ان کو نبی ماننے سے کیا قباحت لازم آتی ہے؟ اور کیا ان کے اقوال ایسے ہیں کہ ان کی بناء پر انہیں مسلمان قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس لئے ان کے اتباع سے مدعا علیہ کو بھی مسلمان 2145نہیں سمجھا جاسکتا۔

اس صفحے کی تشہیر