1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

مفصل فیصلہ ۔۔بعدالت شیخ محمد اکبر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج راولپنڈی سول اپیل ۱۹۵۵ء

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 2, 2015

  1. ‏ مارچ 2, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    2265بعدالت شیخ محمد اکبر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج راولپنڈی
    سول اپیل ۱۹۵۵ء
    امۃ الکریم بنت کرم الٰہی راجپوت جنجوعہ مکان نمبر۵۰۰/بی نیا محلہ ٹرنک بازار
    بنام
    لیفٹیننٹ نذیر الدین ملک خلف ماسٹر محمد دین اعوان محلہ کرشن پورہ راولپنڈی
    مفصل فیصلہ
    مسمات امۃ الکریم دختر کرم الٰہی (بقول میاں عطاء اﷲ وکیل برائے اپیلانٹ ایک لوہار ہے) کی شادی مسمی نذیر الدین میٹریکولیٹ (بقول میاں عطاء اﷲ ایک ترکھان ہے) سے ۲۵؍ستمبر ۱۹۴۹ء کو ہوئی تھی اور دو ہزار روپیہ مہر مقرر ہوا تھا۔ یہ بیان کیاگیا کہ نکاح ایک حنفی مولوی نے پڑھایا تھا۔ بقول خواجہ احمد اقبال وکیل برائے اپیلانٹ مسٹر نذیر الدین ترکھان اور میٹریکولیٹ ہونے کے باوجود بڑا خوش قسمت تھا کہ اسے پاکستان آرمی میں کمیشن حاصل ہوگیا۔
    اس نے یہ سوچا کہ آگے چل کر بڑے بڑے افسروں سے اس کا میل جول ہوگا اور ایک لوہار کی لڑکی کو بیوی کی حیثیت سے اپنے گھر میں رکھنا باعث تذلیل ہوگا اور افسران کی نظروں میں وہ سوشل نہیں سمجھا جائے گا۔ اس لئے اس نے ۱۶؍جولائی ۱۹۵۱ء کو اپنی منکوحہ بیوی امۃ الکریم کو باقاعدہ طور پر طلاق دے دی اور طلاق نامہ لکھ دیا۔ مسمات امۃ الکریم نے اس بناء پر مہر کی دو ہزار روپیہ کی رقم حاصل کرنے کے لئے اپنے پہلے خاوند لیفٹیننٹ نذیر الدین ملک کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا۔ اس کے علاوہ شادی کے موقعہ پر اس کے والد نے اسے جو جہیز دیا تھا اور جو اس کے سابقہ خاوند کے پاس تھا۔ اس کی ۲۴۰۳روپے قیمت ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔ یہ مفلسی (پاپرکیس) کا مقدمہ تھا۔

اس صفحے کی تشہیر