1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

مقام صحابہ رضی اللہ عنہم اور فتنہ قادیانیت (پارٹ1)

عبیداللہ لطیف نے 'دعوتی سیکشن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جون 21, 2017

  1. ‏ جون 21, 2017 #1
    عبیداللہ لطیف

    عبیداللہ لطیف رکن ختم نبوت فورم

    مقام صحابہ اور فتنہ قادیانیت:۔(پارٹ 1)
    یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور دین اسلام نے بیت الخلاء میں جانے سے لے کر حکومتیں چلانے تک کے لیے ایک واضح لائحہ عمل دیاہے۔ اسلامی تعلیمات کو عوام تک پہنچانے میں صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اہم ترین کردار ادا کیا ہے۔ اگر اسلامی تاریخ اور اسلامی احکامات سے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے طرز زندگی کو نکال دیا جائے تو نہ صرف دین اسلام بالکل ادھورا رہ جاتا ہے بلکہ یہ کہنا بجا نہ ہو گا کہ دین اسلام کا بنیادی ڈھانچہ ہی تبدیل ہو جاتا ہے کیونکہ یہ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ہی تو تھے جنہوں نے پیارے پیغمبر علیہ السلام کی حیات مبارکہ کے ایک ایک لمحے اور ایک ایک بات کو اس طرح اپنی زندگیوں میں اپنایا کہ اللہ رب العزت نے ان کی عظمت کا تذکرہ قرآن مقدس میں کرتے ہوئے فرمایا؛
    وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُہٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْ ہُمْ بِاِحْسَانٍِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَ رَضُوْا عَنْہُ وَاَعَدَّ لَہُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا اَبَدًا ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمْ (سورۃ التوبہ 100:)
    ترجمہ؛ اور جو مہاجرین و انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیروکار ہیں اللہ تعالیٰ ان سب پہ راضی اور وہ اس پر راضی ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہ عظیم کامیابی ہے۔
    اللہ رب العزت نے اس آیت کریمہ میں فقط صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ہی نہیں بلکہ ان کے پیروکاروں کو بھی دنیامیں ہی جنت کی خوشخبریاں سنا دی ہیں اور صحیح بخاری کتاب الایمان میں نبی رحمت علیہ السلام کا فرمان عالیشان اس طرح موجود ہے کہ
    حُبُّ الْاَ انْصَارِ آیَۃُ الْاِیْمَانِ وَبُغْضُ الْاَنْصَارِ آیَۃُ النِّفَاقْ
    یعنی انصار سے محبت ایمان کی علامت ہے اور انصار سے بغض نفاق کی علامت ہے۔
    ایک اور مقام پر پیارے پیغمبر علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ
    موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے بہتر 72فرقے تھے اور میری قوم میں تہتر 733فرقے ہوں گے اور ان میں سے فقط ایک فرقہ جنتی ہو گا۔ یہ سن کر صحابہ کرام نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ گروہ کونسا ہو گا؟تو نبی رحمت علیہ السلام نے فرمایا جو میرے اور میرے صحابہ کے نقش قدم پر چلے گا۔
    (رواہٗ عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سنن ابو داؤد ‘ جامع ترمذی)
    حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا
    لَاتَسُبُّوْااَصْحَابِیْ فَلَوْاَنَّاَحَدَکُمْ اَنْفَقَ مِثْلَ اُحُدٍذَھَبًامَابَلَغَ مُدًّااَحَدِھِمْ وَلَانَصِیْفَہُ (متفق علیہ)
    کہ تم میرے صحابہ کوگالی نہ دو اگرتم میں سے کوئی احدپہاڑکی مثل سوناخرچ کرے وہ ان میں سے کسی ایک کے مد اورنہ ہی آدھے مد(خرچ کرنے کے ثواب)کوپہنچ سکتا ہے
    حضرت عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا
    اَکْرِمُوْااَصْحَابِیْ فَاَنَّھُمْ خِیَارُکُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ
    یعنی تم میرے صحابہ کی تکریم کروپس وہ بے شک تم میں سے بہترلوگ ہیں پھر وہ جوان سے متصل ہوں گے پھروہ جوان سے متصل ہوں گے۔
    (مشکوٰۃ المصابیح باب مناقب الصحابہ رضی اللہ عنھم اجمٰعین)
    محترم قارئین ! مندرجہ بالا قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ صحابہ کرام کی عظمت کا اقرار ‘عزت کی حفاظت اوران کی پیروی کرنا ایمان کا حصہ ہے اور جو کوئی شخص کسی ایک صحابی رسول کے بارے میں بھی غلط عقیدہ رکھے اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو معاذ اللہ غبی یا احمق وغیرہ قرار دے تو وہ مسلمان اور مومن کہلانے کا حقدار نہیں ہو سکتا۔
    محترم قارئین ! اللہ تعالی قرآن مقدس میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے بارے میں فرماتا ہے کہ
    اُوْلٰءِکَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰہ قُلُوْبَھُمْ لِلتَّقْوَی (الحجرات : ۳)
    ترجمہ :۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے تقوی کے لیے منتخب کر لیا ہے
    انہی صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے بارے میں آنجہانی مرزاقادیانی لکھتا ہے کہ
    ’’ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض صحابہ اس غلط عقیدہ میں مبتلا تھے کہ گویا حضرت عیسیٰ دوبارہ دنیا میں آئیں گے ‘‘
    ( حقیقۃ الوحی صفحہ ۳۵ مندرجہ قادیانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۳۵)
    چنانچہ مرزا قادیانی رقمطراز ہے کہ
    * ’’بعض نادان صحابی جن کودرایت سے کچھ حصہ نہ تھا‘‘
    (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم مندرجہ قادیانی خزائن جلد 21ص 285)
    محترم قارئین! مرزا غلام احمد قادیانی ملعون نے جہاں پر اپنے آپ کو ابن اللہ یعنی اللہ کا بیٹا قرار دینے کی ناپاک جسارت کی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہونے کا باطل دعویٰ کیا ہے وہیں پر اس انگریز کے خود کا شتہ پودے نے امت مسلمہ میں انتشار و افتراق پیدا کرنے اور دین اسلام کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کے لیے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین پر بھی کیچڑ اچھالا ہے ‘ آئیے ذرا اس کذاب قادیانی اور اس کی ذریت کی طرف سے توہین صحابہ پر مبنی چند نمونے ملاحظہ فرمائیں تاکہ ان کا ظاہر و باطن واضح ہو سکے۔
    مرزا قادیانی محمدرسول اللہﷺ اور اصحاب مرزا ،اصحاب محمدﷺ ؟
    محترم قارئین !یہاں پریہ بھی یادرہے کہ قادیانیوں کے نزدیک آنجہانی مرزاقادیانی خودمحمدرسول اللہ ﷺہے کیونکہ مرزا قادیانی خودمحمدرسول اللہ ﷺ ہونے کادعویٰ کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ
    ’’مگر میں کہتا ہوں کہ آنحضرت ﷺکے بعد جو درحقیقت خاتم النبین تھے ، مجھے رسول اور نبی کے لفظ سے پکارے جانا کوئی اعتراض کی بات نہیں، اور نہ ہی اس سے مہر ختمیت ٹوٹتی ہے۔ کیونکہ میں بار بار بتلا چکا ہوں ، میں بموجب آیت وَآخَرِیْنَ مِنْھُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِھِمْ وہی خاتم الانبیاء ہوں۔ اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے۔ اور مجھے آنحضرت ﷺکا وجود قرار دیا ہے۔ پس اس طور سے آنحضرت ﷺکے خاتم الانبیاء ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا۔ کیونکہ ظل اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا اور چونکہ میں ظلی طور پر محمد ﷺہوں ، پس اس طور سے خاتم النبین کی مہر نہیں ٹوٹی۔ کیونکہ محمد ﷺکی نبوت محمدہی تک محدود رہی۔یعنی بہرحال محمد ﷺہی نبی رہے اور نہ اور کوئی۔یعنی جب کہ میں بروزی طور پر آنحضرت ﷺہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے، میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں۔ تو پھر کونسا الگ انسان ہوا جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا۔‘‘
    (ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 8 مندرجہ قادیانی خزائن جلد 18صفحہ 212)
    اسی طرح ایک اور جگہ قادیانی کذاب لکھتا ہے کہ
    ’’ نبوت کی تمام کھڑکیاں بند کی گئیں مگر ایک کھڑکی سیرۃ صدیقی کی کھلی ہے۔ یعنی فنا فی الرسول کی ۔ پس جو شخص اس کھڑکی کی راہ سے خدا کے پاس آتا ہے اس پر ظلی طور پر وہی نبوت کی چادر پہنائی جاتی ہے جو نبوت محمدی کی چادر ہے۔ اس لیے اس کا نبی ہونا غیرت کی جگہ نہیں کیونکہ وہ اپنی ذات سے نہیں بلکہ اپنے نبی کے چشمہ سے لیتا ہے۔ اور نہ اپنے لیے بلکہ اسی کے جلال کے لیے۔ اس لیے اس کا نام آسمان پر محمد اور احمد ہے ۔ اس کے یہ معنیٰ ہیں کہ محمد کی نبوت آخر محمد کو ہی ملی۔ گوبروزی طور پر مگر نہ کسی اور کو۔۔۔۔۔۔لیکن اگر کوئی شخص اسی خاتم النبین میں ایسا گم ہو کہ بباعث نہایت اتحاد اور نفی غیریت کے اسی کا نام پالیا ہو اور صاف آئینہ کی طرح محمدی چہرہ کا اس میں انعکاس ہو گیا ہو تو وہ بغیر مہر توڑنے کے نبی کہلائے گا۔ کیونکہ وہ محمد ہے۔ گو ظلی طور پر ۔ پس باوجود اس شخص کے دعویٰ نبوت کے جس کا نام ظلی طور پر محمد اور احمد رکھا گیا ۔ پھر بھی سیدنا محمد خاتم النبین ہی رہا۔ کیونکہ یہ محمد(ثانی) (مرزا قادیانی) اسی محمد کی تصویر اوراسی کانام ہے۔‘‘
    (ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 3تا5مندرجہ قادیانی خزائن جلد 8 1صفحہ207 تا209)
    مرزاقادیانی کابیٹامرزابشیراحمداپنی ایک مقام پرلکھتاہے کہ
    ’’اورچونکہ مشابہت تامہ کی وجہ سے مسیح موعود اورنبی کریم میں کوئی دوئی باقی نہیں کہ ان دونوں کے وجودبھی ایک وجودکاہی حکم رکھتے ہیں جیساکہ خودمسیح موعودنے فرمایاکہ صاروجودی وجودہ (دیکھوخطبہ الہامیہ صفحہ171)اورحدیث میں بھی آیاہے کہ حضرت نبی کریم نے فرمایاکہ مسیح موعود میری قبرمیں دفن کیاجائے گا۔جس سے یہی مرادہے کہ وہ میں ہی ہوںیعنی مسیح موعودنبی کریم سے الگ کوئی چیزنہیں ہے بلکہ وہی ہے جوبروزی رنگ میں دوبارہ دنیامیںآئے گاتاکہ اشاعت اسلام کاکام پوراکرے اورھوالّذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ کے فرمان کے مطابق تمام ادیانِ باطلہ پراتمام حجت کرکے اسلام کودنیاکے کونوں تک پہنچاوے تواس صورت میں کیااس بات میں کوئی شک رہ جاتاہے کہ قادیاں میں اللہ تعالیٰ نے پھرمحمدؐکواتاراتاکہ اپنے وعدہ کوپوراکرے جواس نے آخرین منھم لم یلحقوابھم میں فرمایاتھا۔‘‘
    (کلمۃالفصل صفحہ104‘105)
    محترم قارئین ! بعض لوگ قادیانیوں کے کلمہ پڑھنے سے بھی دھوکا میں آجاتے ہیں کہ دیکھیں جی یہ بھی تو کلمہ پڑھتے ہیں۔ لہٰذا یہ بھی مسلمان ہی ہیں۔ حالانکہ قادیانی گروہ کلمہ میں جب ’’محمدرسول اﷲ ‘‘کے الفاظ ادا کرتا ہے توا ن کا مقصد نبی آخر الزمان علیہ السلامنہیں ہوتا بلکہ مرزا قادیانی ہوتا ہے، جیسا کہ ہم مندرجہ بالا تحریروں میں مرزا قادیانی کے دعویٰ سے ثابت کر آئے ہیں۔
    آئیے! مذیدقادیانی کلمہ کی حقیقت جاننے کے لیے مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر احمد کی درج ذیل عبارت کو بھی ملاحظہ کریں:
    ’’ہم کو نئے کلمے کی ضرورت پیش نہیں آتی کیونکہ مسیح موعود نبی کریم سے کوئی الگ چیز نہیں ہے جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے۔ صار وجودی وجودہ نیز من فرق بینی و بین المصطفی فما عرفنی وماریٰ او ریہ اس لیے ہے کہ حق تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبین کو دنیا میں مبعوث کرے گا جیسا کہ آیت آخرین منھم سے ظاہر ہے۔ پس مسیح موعود خود محمدرسول اﷲ ہے جو اشاعت اسلام کے لیے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔ اس لیے ہم کوکسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں۔ ہاں اگر محمدرسول اﷲ کی جگہ کوئی اور آتاتو ضرور ت پیش آتی۔ ‘‘
    (کلمۃ الفصل صفحہ158از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی )
    مرزاقادیانی ایک اورمقام پرلکھتاہے کہ
    ’’ اور جو شخص مجھ میں اور مصطفی میں تفریق کرتا ہے اس نے مجھے نہیں دیکھا اور نہ پہچاناہے۔‘‘
    (خطبہ الہامیہ صفحہ 171 مندرجہ قادیانی خزائن جلد 16 صفحہ 259)
    یہی وجہ ہے کہ مرزاقادیانی اپنی جماعت کوصحابہ کی جماعت قرار دیتے ہوئے رقمطرازہے کہ
    ’’اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آنے والی قوم میں ایک نبی ہو گا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بروز ہو گا اس لیے اس کے اصحاب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کہلائیں گے‘‘
    (تتمہ حقیقۃ الوحی ص 68مندرجہ قادیانی خزائن جلد 22ص 502)
    * ’’پس وہ جومیری جماعت میں داخل ہوا درحقیقت میرے سردار خیر المرسلین کے صحابہ میں داخل ہوا‘‘
    (خطبہ ا لہامیہ صفحہ 171مندرجہ قادیانی خزائن جلد 16صفحہ 258)
    مقامِ ابوبکرؓوعمرؓاورفتنہ قادیانیت:۔
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا
    ((مَالِاَحَدٍعِنْدَنَاوَقَدْکَافَےْنَاہُ مَاخَلَااَبَابَکْرٍفَاِنَّ لَہُ عِنْدَنَایَدَایُّکَافِیْہِ اللّٰہُ بِھَایَوْمَ الْقِیَامَۃِوَمَانَفَعَنِیْ مَالُ اَحَدٍقَطُّ مَانَفَعَنِیْ مَالُ اَبِیْ بَکْرٍوَّلَوْکُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِیْلًا لا تَّخَذْتُ اَبَابَکْرٍخَلِیْلًااَلَاوَاِنَّ صَاحِبَکُمْ خَلِیْلُ اللّٰہِ))
    کہ ہم پرکسی کا احسان نہیں مگرہم نے اس کابدلہ دے دیا ہے سوائے ابوبکرؓ کے اس کاہم پراحسان ہے پس بے شک اللہ تعالیٰ روزقیامت اس کابدلہ دے گااور اگر میں کسی کوخلیل بناتاتوابوبکرؓ کوبناتا۔آگاہ ہوجاؤ کہ تمہاراصاحب(محمدﷺ) اللہ کاخلیل ہے۔
    (رواہ ترمذی کتاب المناقب‘باب مناقب ابوبکرؓ)
    حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا
    ((لَوْکَانَ نَبِیٌ بَعْدِیْ لَکَانَ عُمَرَبْنُ الْخَطَابِ))
    کہ اگرمیرے بعدکوئی نبی ہوتا تو عمر ابن خطاب ہوتا۔
    (رواہ ترمذی کتاب المناقب ‘باب مناقب عمرؓبن خطاب )
    حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا
    ((مَامِنْ نَبِیِّ اِلَّاوَلَہُ وَزِیْرَانِ مِنْ اَہْلِ السَّمَاءِ وَوَزِیْرَانِ اَہْلِ الْاَرْضِ فَاَمَّاوَزِےْرَایَ مِنْاَہْلِ السَّمَاءِ فَجِبْرَاءِیْلُ وَمِیْکَاءِیْلُ وَاَمَّاوَزِیْرَایَ مِنْ اَہْلِ الْاَرْضِ فَاَبُوْبَکَرٍوَعُمَرُ))
    کہ کوئی نبی ایسا نہیں جن کے دو وزیر نہ ہوںآسمان والوں سے اوردوزمین والوں سے اورمیرے دووزیرآسمان والوں سے جبرائیل اورمیکائیل ہیں اورزمین والوں سے ابوبکروعمرہیں
    (رواہ ترمذی کتاب المناقب ‘باب مناقب ابوبکر رضی اللہ عنہ)
    محترم قارئین!یہ توتھا ابو بکروعمر رضی اللہ عنھم اجمٰعین کامقام ومرتبہ اب مرزاقادیانی اوراس کی ذریت کی طرف سے جناب ابوبکرؓوعمرؓکی شان اقدس میں کی جانے والی گستاخی کی ناپاک جسارت بھی ملاحظہ فرمائیں چنانچہ مرزاقادیانی رقمطرازہے کہ
    * ’’ میں وہی مہدی ہوں جس کی نسبت ابن سیرین سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ حضرت ابو بکر کے درجہ پر ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ابو بکر تو کیا بعض انبیاء سے بہتر ہے‘‘
    (مجموعہ اشتہارات جلد دوئم ص 396طبع چہارم از مرزاقادیانی)
    * مرزا قادیانی کی ذریت کا عقیدہ ابو بکرو عمر رضوان اﷲعلیہم اجمعین کے بارے میں حکیم محمد حسین لاہوری کی اس تحریرسے ملاحظہ فرمائیں۔
    ’’مجھے اہل بیت مسیح موعود علیہ السلام سے خاص محبت اور عاشقانہ تعلق تھا ۔مجھے اس وقت بھی تمام خاندان مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ دلی ارادت ہے اور میں ان سب کی کفش برداری اپنا فخر سمجھتا ہوں مجھے اس خاندان کے طفیل سے بڑے بڑے نفع ہوئے ہیں ۔ میں ان کے احسانات کا شکر ادا نہیں کر سکتا ۔ میرے ایک محب تھے جو اس وقت مولوی فاضل بھی ہیں اور اہل بیت مسیح موعود کے خاص رکن رکین ہیں انہوں نے مجھے ایک دفعہ فرمایا کہ سچ تو یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بھی اتنی پیشگوئیاں نہیں جتنی مسیح موعود (مرزاقادیانی)کی ہیں۔پھر انہوں نے ایک اور بھی ایسا ہی دکھ دینے والا فقرہ بولاکہ ابوبکر و عمر کیا تھے وہ تو حضرت غلام احمد (قادیانی) کی جوتیوں کے تسمہ کھولنے کے بھی لائق نہ تھے‘‘۔(معاذ اللہ)
    (’’ المہدی‘‘ نمبر 2,3 ، 1915 ؁ء صفحہ 57 مؤلف حکیم محمد حسین قادیانی لاہوری منقول
    از قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ از پروفیسرالیاس برنی رحمۃاللہ علیہ صفحہ 298,299 )
    مقام علی رضی اللہ عنہ اورفتنہ قادیانیت:۔
    سیدناعلی رضی اللہ نہ صرف نبی کریم ﷺکے چچاکے بیٹے تھے بلکہ نبی کریم علیہ السلام کی سب سے چھوٹی اورچہیتی بیٹی سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے شوہر بھی تھے اورحضرت علی رضی اللہ عنہ کوبچوں میں سے سب سے پہلے اسلام قبول کرنے کا شرف حاصل ہوااورحضرت علیؓ مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ بھی تھے۔صحیح بخاری باب مناقب علیؓ میں سعدؓبن ابی وقاصؓسے روایت موجود ہے کہ
    اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ ﷺ خَرَجَ اِلَی تَبُوْکَ وَاسْتَخَلَّفَ عَلِیًّافَقَالَ اَتُخَلِّفُنِیْ فِیْ الصِبْےَانِ وَالنِّسَاءِ ؟قال : ((اَلَاتَرْضٰی اَنْ تَکُوْنَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ ھَارُوْنَ مِنْ مُوْسٰی ؟ اِلَّا اَنَّہُ لَیْسَ نَبِیٌّ بَعْدِیْ))
    رسول اللہﷺ غزوہ تبوک کے لیے تشریف لے گئے توآپ ﷺ نے حضرت علیؓکو مدینہ میں اپنا نائب مقررکیاتوحضرت علیؓ نے عرض کیاکہ آپ ﷺ مجھے بچوں اور عورتوں میں چھوڑے جارہے ہیں؟آنحضرت ﷺنے فرمایا((کیاتم اس پرخوش نہیں ہوکہ میرے لیے تم ایسے ہو جیسے موسیٰ کے لیے ہارون تھے ۔لیکن فرق صرف اتناہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا))
    (صحیح بخاری کتاب المغازی باب غزوہ تبوک )
    حضرت علیؓ کو ایک مجوسی عبدالّرحمان بن ملجم نے شہیدکیااورشھداء کے بارے میں رب ذوالجلال قرآن مقدس میں فرماتاہے کہ
    وَلَاتَقُوْلُوْالِمَنْ یُقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتٌ بَلْ اَحْیَآءٌ وَّلٰکِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ*
    اورجواللہ کی راہ میں قتل ہوجائیں انہیں مردہ نہ کہوبلکہ وہ زندہ ہیں اور تم نہیں سمجھتے
    (سورۃ البقرہ :154)
    محترم قارئین !مرزاقادیانی قرآنی حکم کی مخالفت کرتے ہوئے حضرت علیؓ کومردہ قرار دیتے ہوئے لکھتاہے کہ
    * ’’پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑو اب نئی خلافت لو ایک زندہ علی (مرزاقادیانی) تم میں موجود ہے اس کو چھوڑتے ہو اور مردہ علی کو تلاش کرتے ہو‘‘
    (ملفوظات جلد اول ص 400طبع چہارم از مرزا قادیانی)
    مقام امہات المومنین اور فتنہ قادیانیت:۔
    * عزیز مسلمان ساتھیو! قادیانی گروہ مرزا قادیانی کی بیوی نصرت بیگم کو ام المومنین کہتا ہے * چنانچہ مرزاقادیانی کے ملفوظات پرمشتمل کتاب میں لکھاہے :
    ’’ام المومنین کالفظ جومسیح موعودکی بیوی کی نسبت استعمال کیاجاتاہے اس پربعض لوگ اعتراض کرتے ہیں۔حضرت اقدس علیہ السلام نے سن کرفرمایا:
    نبیوں کی بیویاں اگرامہات المومنین نہیں ہوتی ہیں توکیاہوتی ہیں؟خداتعالیٰ کی سنت اورقانونِ قدرت کے اس تعامل سے بھی پتہ لگتاہے کہ کبھی کسی نبی کی بیوی سے کسی نے شادی نہیں کی ہم کہتے ہیں کہ ان لوگوں سے جواعتراض کرتے ہیں کہ ام المومنین کیوں کہتے ہو؟ پوچھنا چاہیے کہ تم بتاؤجومسیح موعود تمہارے ذہن میں اورجسے تم سمجھتے ہوکہ وہ آکرنکاح بھی کرے گا۔کیااس کی بیوی کوام المومنین کہوگے کہ نہیں؟‘‘
    (ملفوظات جلداوّل صفحہ555طبع چہارم)
    محترم قارئین!سیدہ خدیجہؓ سے نبی کریم ﷺ کی محبت کا اندازہ اس بات سے ہوتاہے کہ جب تک آپؓ زندہ رہیں نبی کریمﷺ نے دوسری شادی نہیں کی ۔حضرت خدیجہؓ کینبی کریمﷺ سے محبت کااندازہ سیدہ عائشہؓ کے اس بیان سے بھی بخوبی ہوتاہے جو جامع ترمذی میں موجودہے چنانچہ سیّدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ
    ’’مجھ کو نبیﷺ کی ازواج میں سے کسی پراتنارشک نہیںآیاجتناحضرت خدیجہؓ پرآیا۔اگر میں ان کواپن زندگی میں پاتی تومیراکیاحال ہوتا میراان سے رشک کا سبب یہ تھاکہ نبیﷺان کوبہت یادکرتے اورجب بکری ذبح کرتے توڈھونڈڈھونڈ کر خدیجہؓ کی سہیلیوں کوہدیہ دیتے۔‘‘
    ( جامع ترمذی کتاب المناقب ‘باب فی فضل خدیجہؓ)
    حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا
    ((خَیرُنِسَآءِ ھَاخَدِیْجَۃُ بِنْتِ خُوَیْلِدٍوَّخَیْرُنِسَآءِ ھَامَرْیَمُ بِنْتِ عِمْرَانَ))
    کہ دنیاکی عورتوں میں اپنے زمانہ میں سب سے بہترخدیجہ رضی اللہ عنہاتھیں اوراسی طرح مریم بنت عمران اپنے زمانہ میں سب سے بہتر عورت تھیں
    ( جامع ترمذی کتاب المناقب ‘باب فی فضل خدیجہؓ)
    * محترم قارئین! مرزاقادیانی نصرت بیگم کوسیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنھاسے تشبیہ دینے کی ناپاک جسارت کرتے ہوئے رقمطرازہے کہ
    ’’اشکرنعمتی رئیت خدیجتی۔ براہین احمدیہ صفحہ ۵۵۸۸ ترجمہ :۔ میراشکرکرکہ تونے میری خدیجہ کوپایا۔ یہ ایک بشارت کئی سال پہلے اس نکاح کی طرف تھی۔جوسادات کے گھرمیں دہلی میں ہواجس سے بفضلہ تعالیٰ چارلڑکے پیداہوئے۔‘‘
    (نزول المسیح صفحہ146مندرجہ قادیانی خزائن جلد18صفحہ 524ازمرزاقادیانی)
    سیدہ فاطمہؓ اورفتنہ قادیانیت:۔
    امام بخاریؒ مسوربن خزیمہؓسے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا
    ((فَاطِمۃُ بَضْعَۃُمِنِّیْ فَمَنْ اَغْضَبَھَافَقَدْاَغْضَبَنِیْ))
    کہ فاطمہ میرے جگرکاٹکڑاہے جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔
    (صحیح بخاری :3411)
    سیّدہ فاطمہؓ شرم وحیاکی پیکرتھیں۔جب آپؓ مرض الموت میں مبتلاء ہوئیں توحضرت ابوبکرؓ کی اہلیہ محترمہ اسماء بنت عمیسؓآپؓ کی تیمارداری کے لیے تشریف لائیں توآپؓ نے نحیف آوازمیں کہاکہ عورتوں کاجنازہ تیار کرتے ہوئے بس ایک کپڑااوپرڈال دیاجاتاہے جس سے سترمکمل نہیں ہوتاجسم کے اعضاء کاابھارنمایاں دکھائی دیتاہے ۔یہ بات سن کر اسماء بنت عمیسؓ نے کہا۔کیامیںآپ کووہ طریقہ نہ بتاؤں جوحبشہ میں ہم نے دیکھاہے؟سیدہ فاطمہؓ کہنے لگیں ضروربتائیں۔
    اسماء بنت عمیسؓ درخت کی ٹہنیاں لے کرچارپائی پرخم دے کرباندھ دیں اورٹہنیوں کے اوپر کپڑاڈال دیا ۔چارپائی یوں دکھائی دینے لگی جیسے ہودج یاڈولی بن گئی ہو ۔
    فاطمہؓ یہ دیکھ کربہت خوش ہوئیں اورفرمایا!’’یہ طریقہ بہت اچھا ہے یہ دیکھ کرپتہ چل جائے گا کہ یہ عورت کی میت ہے ۔اللہ تعالیٰ اسی طرح تیرے پردے رکھے جس طرح تونے میرے پردے کا اہتمام کیاہے پھرفرمایاجب میں فوت ہوجاؤں تومجھے تم اور علیؓ بن طالب غسل دیں اورمیرے قریب کوئی نہ آئے۔‘‘
    سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے نبیﷺکی وفات کے تقریبًاچھ ماہ بعداپنے خالقِ حقیقی سے جاملیں اوران کی وصیت کے مطابق انہیں رات کے سنّاٹے میں جنت البقیع میں دفن کیاگیا۔انہی دختر رسول سیدہ فاطمہؓکے بارے میں مرزاقادیانی لکھتاہے کہ
    * ’’حضرت فاطمہ نے کشفی حالت میں اپنی ران پر میرا سر رکھا اور مجھے دکھایا کہ میں اس میں سے ہوں‘‘
    (ایک غلطی کا ازالہ (حاشیہ ) صفحہ 9مندرجہ قادیانی خزائن جلد 18صفحہ 213)
    محترم قارئین !اس اعتراض کاجوب دیتے ہوئے اکثرقادیانی یہ کہتے ہیں کہ ایک تویہ کشفی واقعہ ہے اسے ظاہرپرمحمول نہیں کیاجاسکتا دوسرااس کے حاشیہ میں مرزاصاحب نے وضاحت فرمائی ہے کہ انہوں نے مادرمہربان کی طرح میراسراپنی ران پررکھاتھا تاکہ ثابت ہوسکے کہ میں ان کی نسل میں سے ہوں۔
    آئیے ! مرزاقادیانی کاکشف کے بارے میں عقیدہ بھی ملاحظہ فرمالیں چنانچہ مرزاقادیانی رقمطراز ہے کہ
    ’’حالانکہ کشف اورخواب بھی ہرایک کے یکساں نہیں ہوتے ۔وہ کامل کشف جس کو قرآن شریف میں اظہارعلی الغیب سے تعبیرکیاگیاہے جودائرہ کی طرح پورے علم پرمشتمل ہوتاہے وہ ہرایک کوعطانہیں کیاجاتا‘صرف برگزیدوں کودیاجاتاہے اورناقصوں کاکشف اورالہام ناقص ہوتاہے جوبالآخران کوبہت شرمندہ کرتاہے۔‘‘
    (حقیقت المہدی صفحہ16مندرجہ قادیانی خزائن جلد14صفحہ442)
    ’’اصل بات یہ ہے کہ مقدس اورراستبازلوگ مرنے کے بعدزندہ ہوجایاکرتے ہیں اوراکثرصاف باطن اورپرمحبت لوگوں کوعالمِ کشف میں جو بعینہ عالم بیداری ہے نظرآ جایا کرتے ہیں چنانچہ اس بارہ میں خودیہ عاجز صاحبِ تجربہ ہے بارہاعالم بیداری میں بعض مقدس لوگ نظرآتے ہیں اور بعض مراتب کشف کے ایسے ہیں کہ میں کسی طورکہہ نہیں سکتاکہ ان میں کوئی حصہ غنودگی یاخواب یاغفلت کاہے بلکہ پورے طورپربیداری ہوتی ہے اور بیداری میں گذشتہ لوگوں سے ملاقات ہوتی ہے اورباتیں بھی ہوتی ہیں۔‘‘
    (ازالہ اوہام حصہ دوم صفحہ254مندرجہ قادیانی خزائن جلد3صفحہ354)
    ’’میں کئی بارلکھ چکاہوں اورپھربھی لکھتاہوں کہ اہل کشف کے نزدیک یہ بات ثابت شدہ ہے کہ مقدس اورراستباز لوگ مرنے کے بعدپھرزندہ ہوجایاکرتے ہیں۔‘‘
    (ازالہ اوہام حصہ دوم صفحہ255مندرجہ قادیانی خزائن جلد3صفحہ355)
    ’’میرایہ بھی مذہب ہے کہ اگرکوئی امرخداتعالیٰ کی طرف سے مجھ پرظاہر کیاجاتاہے مثلاًکسی حدیث کی صحت یاعدم صحت کے متعلق توگوعلمائے ظواہر اورمحدثین اس کوموضوع یامجروح ٹھہراویں مگرمیں اس کے مقابل اور معارض کی حدیث کوموضوع کہوں گا اگرخداتعالیٰ نے اس کی صحت مجھ پرظاہر کردی ہے جیسے لَامَہْدِیْ اِلَّا عِےْسٰی والی حدیث ہے محدثین اس پرکلام کرتے ہیں مگرمجھ پرخداتعالیٰ نے یہی ظاہر کیا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے اوریہ میرا مذہب میراہی ایجادکردہ مذہب نہیں بلکہ خودیہ مسلّم مسئلہ ہے کہ اہلِ کشف یااہلِ الہام لوگ محدثین کی تنقیدحدیث کے محتاج اورپابندنہیں ہوتے۔‘‘
    (ملفوظات مرزاغلام احمدقادیانی جلد2صفحہ45طبع چہارم)
    محترم قارئین !مرزاقادیانی کی مندرجہ بالاتحریروں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کشف کی حالت بھی عین بیداری کی حالت ہوتی ہے تو ایسی صورت میں کیا مرزاقادیانی کے عقیدہ کے مطابق سیّدہ فاطمہؓ نے معاذاللہ عین بیداری کی حالت میں مرزاقادیانی ملعون کاسر اپنی ران پررکھاتھا؟جہاں تک تعلق ہے لفظ مادرمہربان کاتو کیاسیدہ فاطمہؓ مرزاقادیانی کی محرم تھیں یقینًا نہیں توپھرمرزا قادیانی کیاثابت کرناچاہتا ہے۔یہاںیہ بات بھی قابل غورہے کہ نبیﷺ کی ازواج مطہرات مومنوں کی مائیں ہونے کے باوجودغیرمحرموں سے پردہ ہی کرتی رہیں تو سیدہ فاطمہؓ کے بارے میں توایساسوچناہی جرم ہوگاکہ وہ کسی غیرمحرم کواپناچہرہ بھی دکھائیں توکہاں مرزاقادیانی کی ناپاک جسارت؟
    (جاری ہے)

اس صفحے کی تشہیر