1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

ملحد ایاز نظامی اور مرزا احمد وسیم کا تحریری مناظرہ

مبشر شاہ نے 'مستشرقین کے اسلام پر اعتراضات کے جوابات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ نومبر 4, 2015

  1. ‏ نومبر 5, 2015 #21
    میاں عمران

    میاں عمران رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ نومبر 4, 2015
    مراسلے :
    21
    موصول پسندیدگیاں :
    21
    نمبرات :
    3
    جنس :
    مذکر
    مرزا احمد وسیم

    (16)
    كمنٹ نمبر 8 كا جواب
    میں ایك بار پھر آپ كے بہتان كو سختی سے مسترد كرتا ہوں كہ میں قرآن كی ترتیب كے ساتھ كوئی چھیڑ چھاڑ كر رہا ہوں!!
    جناب من! میں نے ایك بار بھی انكار نہیں كیا كہ تسویہ سماء خلق ارض كے بعد ہوا ہے جس كا ذكر سورہ بقرہ اور سورہ حم سجدہ میں ہوا ہے! اور نہ اس كا انكار كیا كہ نازعات میں مذكور دحو ارض آسمان كی تخلیق وتسویہ كے بعد ہوا ہے!! لیكن جو چیز لازم ہے ہی نہیں اسے آپ كی زبردستی سے میں كیوں لازم مان لوں؟؟ آخر میری دلیلوں كو نظر انداز كرتے ہوئے یہ اصرار كچھ تو كہہ رہا ہے!! آپ ایسی چیزوں كو لازمی قرار دلوانا چاہ رہے ہیں جو لازمی ہیں ہی نہیں، اور ایسی چیزوں كو منوانا چاہ رہے ہیں، جو حقیقت كے برعكس ہیں، جیسا كہ اوپر كے كمنٹس میں تفصیل سے میں نے بیان كیا!! تو كون اپنی تھوپ رہا ہے؟؟ میں یا آپ؟؟
    آپ نے میرے اس سوال سے تعرض فرمانے كی زحمت نہیں كی كہ "جب واو ترتیب كے لئے نہیں آتا، تو تخلیق ارض كے بعد متعلقات ارض كس دلیل سے درج كیے گئے؟؟"
    سورۃ بقرہ سورہ حم سورہ نازعات تینوں مقامات كی واضح لفظوں میں تضاد سے پاك ایسی وضاحت كی جاچكی جس پر كسی ناحیے آپ كوئی ایك بھی مدلل اعتراض نہیں كرسكے!!
    آپ نے پوچھا كہ((جب دحو خود تخلیق کا ہی ایک مرحلہ ہے تو اسے تخلیق کہنے میں کیا مانع و حارج ہے)) تو جوابا عرض ہے كہ
    دحو تخلیق كا مرحلہ ہے، عین تخلیق نہیں! پس جو تخلیق سورہ بقرہ اور سورہ حم میں تسویہ سماء سے پہلے بیان كی گئی ہے، اس سے اس كا كوئی تعارض نہیں، بلكہ دحو اس تخلیق سے مختلف اور بعد كا مرحلہ ہے! البتہ دحو تخلیق كا مترادف ہرگز نہیں، جو آپ باوہ كرانا چاہ رہے ہیں، اور جس كے بغیر آپ كا تضاد كا مقدمہ ثابت نہیں ہوسكتا!!!
    آپ كا ارشاد ("کیا دحو کے بغیر اخراج الماء و مرعیٰ اور ارساء الجبال ممکن ہے ؟ ") زبردستی كے اوپر ایك اور زبردستی ہے!! جناب دحو نام ہی ان سارے كاموں كا ہے! زمین كو بچھانا، ہموار كرنا، زندگی كی حامل مخلوقات كے رہنے سہنے كے لئے تیار كرنا، جو كچھ چیزیں اللہ نے تخلیق كے ابتدائی مرحلے میں اس میں ركھ دی تھیں، یا جن كی اصل تخلیق فرما دی تھی، ان كو نكالنا، مقررہ مقدار میں اپنی حكمت ومشیت سے پھیلانا!!! اور اسی میں اخراج ماء ومرعی بھی آتا ہے، اور ارساء جبال بھی!!! میں نے واضح كیا كہ اگر اخراج ماء ومرعی دحو سے الگ كوئی چیز ہوتی تو واؤ استئنافیہ كے ساتھ، واخرج منہا ماءھا ومرعاھا كہا جاتا، اس كو سمجھنے كے لئے زیادہ دور جانے كی ضرورت نہیں ہے، اوپر آسمان والی آیات پر غور فرمائیے، "بناھا" كی تشریح شروع كی گئی تو واو نہیں لایا گیا، "رفع سمكھا" اور "سواھا" كو جوڑنے كے لئے فا لایا گیا، پھر "اغطش" كی جگہ واو كے ساتھ "واغطش" كہا گیا۔۔۔ كیونكہ یہ ماسبق سے الگ چیز ہے!! اسی طرح "اخرج منہا ماءھا ومرعاھا" كے بعد "والجبال ارساھا" كہا گیا كیونكہ اگر "الجبال ارساھا" كہا جاتا تو اس سے یہی سے سمجھا جاتا كہ یہ "اخرج منہا۔ ۔ " والے جملے كی تشریح ہے!! تو جناب یہ عربی كا اسلوب ہے، اس كے جواب میں خود ساختہ مفہوم جو آپ كے ذہن میں دحو كا ہے، اس كی كیا حقیقت؟؟
    -----
    حدیث كے بارے میں گفتگو میں تھوڑی دیر بعد كرتا ہوں، اور اسی طرح حدیث ضعیف كے بارے میں آپ كے بلنڈرز كی خبر گیری بھی كرتا ہوں، جو اگرچہ آپ كا موضوع كو دوسری سمت میں لے جانا ہے، لیكن، اس كا جواب دینا بوجوہ ضروری ہے!
    جاری ہے
    • Like Like x 1
  2. ‏ نومبر 5, 2015 #22
    میاں عمران

    میاں عمران رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ نومبر 4, 2015
    مراسلے :
    21
    موصول پسندیدگیاں :
    21
    نمبرات :
    3
    جنس :
    مذکر
    مرزا احمد وسیم

    (17)
    حدیث كے بارے میں ایك بار پھر بالتاكید وبالاصرار عرض كروں كہ قران اور حدیث كا تعارض ہمارا موضوع نہیں ہے!! یہ ہمارا معاملہ ہے كہ ہم حدیث كو كیسے لیتے ہیں، كیا مانتے ہیں! لیكن آپ نے جو مقدمہ پیش كیا ہے وہ قرآن كے اندر داخلی تضاد دكھانے تك محدود ہے، لہذا روایات بالكل ہمارے موضوع سے خارج ہیں!
    رہا میرا ایك روایت كو پیش كرنا تو یہ اچھی طرح واضح رہنا چاہئے كہ میں نے وہ روایت صرف اور صرف یہ بتانے كے لئے پیش كی تھی كہ میں حالات كے تحت یہ تشریح نہیں كررہا ہوں، اور نہ یہ ماحول كی پیداوار ہے! بلكہ یہ تشریح باقاعدہ پس منظر ركھتی ہے!! ۔۔۔۔۔ میں نے اپنے استدلال كی بنیاد اس پر نہیں ركھی تھی، بلكہ اپنا مقدمہ پیش كرنے كے بعد اس كا حوالہ صرف مذكورہ بات ثابت كرنے كے لئے دیا تھا!!
    اور قرآن كے اندر داخلی تضاد دكھانے كا دعوی آپ ہی نے كیا تھا، لہذا اس كی پابندی آپ پر لازمی ہے!! لہذا اس كا خیال ركھیں!
    حدیث ضعیف كا مطلب آپ اپنی طرف سے نہ طے كریں، حدیث ضعیف وہ ہوتی ہے، جو محدثین كی مقرر كردہ قبول كی شرائط پر پوری نہیں اتر سكی! پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم كی طرف اس كی نسبت ثابت نہیں ہوسكی! نبی صلی اللہ علیہ وسلم كی طرف جس چیز كی نسبت ثابت ہی نہ ہوسكی، اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم كی حدیث كے طور پر پیش كرنا صرف اور صرف دھاندلی كہی جاسكتی ہے! جب نسبت مشكوك ہے، تو دلیل بنانا بد دیانتی ہے!

    آپ كا كہنا: ///دوسری بات حدیث ضعیف کو مسترد اس وقت کیا جاتا ہے جب اس سے کوئی فقہی حکم ثابت کرنا ہو، اگر ایک ہی حکم سے متعلق دو متضاد روایات سامنے آئیں/// اتنا بڑا بلنڈر ہے كہ اس پر آپ كو سال سے سب سے بڑے بلنڈر كا ایوارڈ ملنا چاہئے!!
    جناب والا، ترجیح تو مقبول كی شرائط تك پہنچنے والی حدیثوں كے اندر ہوتی ہے!! ضعیف حدیث سے اس كا كوئی تعلق نہیں!
    یہ كہنا كہ //// حدیث ضعیف سے عدم استدلال فقہی مسائل میں ہوتا ہے/// معاملے كو الٹ دینا ہے، حدیث مقبول كا الٹا حدیث مردود ہے، جس میں ضعیف اپنی تمام قسموں كے ساتھ شامل ہے!! مردود كا مطلب ہی ہوتا ہے كہ جسے رد كردیا گیا!! محدثین كے ایك گروہ نے حدیث ضعیف كو صرف اور صرف فضائل اعمال میں استعمال كرنے كی اجازت دی ہے، وہ بھی سخت شرائط كے ساتھ، جبكہ بخاری اور مسلم جیسے بڑے بڑے محدثین نے سرے سے حدیث ضعیف كو ہر باب میں مردود گردانا ہے!
    اور ///واقعات کے بیان میں جب تک اس کے خلاف کوئی روایت نہ ہو تو اسے بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں/// یہ تو صدی كا بلنڈر ہے! جناب! انسانی تاریخی واقعات زیر بحث نہیں ہیں یہاں!! یہاں بدء خلق كی غیبیات زیر بحث ہیں!! یہ عقیدے كے باب میں شمار ہوتی ہیں!! اور عقائد كے بارے میں علماء امت كے ایك طبقے كا خیال یہاں تك ہے كہ اس میں صحیح حدیث بھی مقبول نہیں ہوتی جب تك وہ تواتر كے درجے تك نہ پہنچ لے!! اور آپ اسے واقعات كے كھاتے میں ڈال كر اس میں ضعیف حدیث چلانے كے چكر میں ہیں؟؟ یہ كھوٹے سكے چلانے كی عادت "فری تھنكرز" كے بیچ كام میں لاتے رہیے! یہاں نہیں چلنے والے آپ كے یہ سكے!!
    اور جناب فرما رہے ہیں كہ حدیث ضعیف یہاں وہاں استعمال ہوسكتی ہے، اور قران كے خلاف استدلال كی اس سے كوشش كررہے ہیں، تو كیا قران كے خلاف بھی حدیث ضعیف استعمال ہوسكتی ہے؟؟
    (بعض نقول علماء كی یہاں پیش كردوں حدیث ضعیف كے تعلق سے اپنی باتوں كی شاہد كے طور پر! :
    وقال الحافظ إبن رجب الحنبلي ”وظاهر ما ذكره مسلم في مقدمته (يعني الصحيح) يقتضي أنه لا تُروى أحاديث الترغيب والترهيب إلا ممن تُروى عنه الأحكام“ [شرح علل الترمذي (2/112)] .
    "امام مسلم نے اپنی صحیح كے مقدمے جو ذكر كیا ہے اس كا ظاہر یہی ہے كہ فضائل اعمال كی حدیثیں تك انہیں سے لی جائیں گی جن سے احكام كی حدیثیں لی جاتی ہیں!"
    وقال الحافظ إبن حجر العسقلاني ”ولا فرق في العمل بالحديث الضعيف في الأحكام أو الفضائل إذ الكُّل شُرع“ [تبين العجب (ص04)] .
    "حدیث ضعیف پر عمل میں احكام اور فضائل میں كوئی فرق نہیں اس لئے كہ سبھی شرع ہیں!"

    عقائد میں بعض لوگوں كے نزدیك آحاد مقبول نہیں ہیں، اس كے لئے مثلا دیكھیے ((شرح العقائد النسفية)) (34)،
    حدیث مقبول كا الٹا حدیث مردود ہے، جس میں ضعیف اپنی تمام قسموں كے ساتھ شامل ہے!!
    المردود: وهو الذي لم يَرْجَحْ صِدْقُ المُخْبِرِ بِهِ؛ (نزهة النظر في توضيح نخبة الفكر ت الرحيلي (ص: 55))
    مردود وه حديث ہے كہ جس كی خبر دینے والے كی سچائی راجح نہیں قرار پاسكی )
    خلاصہ یہ ہے كہ حدیث ضعیف حجت نہیں ہے! كسی نے بھی حدیث ضعیف كو حجت نہیں مانا! یہ صرف آپ كی اپنی تمنائیں ہیں كہ حدیث ضعیف كے استعمال كی آپ كو اجازت مل جائے!!
    ((حدثوا عن بنی اسرائیل)) كا جواب: واضح رهنا چاہئے كہ بیان كرنے اور عمل كرنے یا حجت ماننے میں زمین آسمان كا فرق ہے!! حجت تو قطعی نہیں ہوسكتے، البتہ اگر وہ مخالف نہیں ہیں ہماری شریعت كے تو بوقت ضرورت ان سے استیناس كیا جاسكتا ہے! بس! نہ كہ استدلال!
    ///روات حدیث میں جب امام مالک، یحیٰ بن معین جیسے جلیل القدر محدث جرح کے نشتر سے نہ بچ سکے تو باقیوں کا تو ذکر ہی کیا۔ //
    جناب ذرا سنبھل كر، ایك كے بعد دوسرے فن میں آپ گھستے ہی چلے جارہے ہیں!! علم الرجال كے اپنے اصول ہیں قواعد ہے! جرح وتعدیل كب مقبول ہوتی ہے كب مردود سب كچھ كتابوں میں مدون ہے، آپ كو اس سلسلے میں پریشان ہونے كی ضرورت نہیں ہے!!
    • Like Like x 1
  3. ‏ نومبر 5, 2015 #23
    میاں عمران

    میاں عمران رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ نومبر 4, 2015
    مراسلے :
    21
    موصول پسندیدگیاں :
    21
    نمبرات :
    3
    جنس :
    مذکر
    مرزا احمد وسیم

    (18)
    آپ نے كہا:
    ///چوتھی بات یہ کہ مستدرک ابن حاکم میں مذکور احادیث سے متعلق محدثین ہی کی صراحت ہے کہ جس حدیث کے بارے میں ابن حاکم خود صراحت کر دیں کہ هذا حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه .تو وہ حدیث صحیح ہوگی اور شیخین کی شرط پر ہوگی///
    ایك تو یہ ابن حاكم كون ہے؟؟ چلیں سبقت كی بورڈ رہی ہوگی، جناب ابن حاكم نہیں ابو عبد اللہ الحاكم!! جی تو یہ بات ان كی مستدرك میں كون سے محدث نے نقل كی ہے؟؟ آپ كا یہ دعوی بالكل بے بنیاد ہے!!!
    --------------
    محدثین نے كیا كہا ہے، وہ میں دكھاتا ہوں آپ كو:

    - قال الذهبي في ميزان الاعتدال ( 3 / 608 ) :
    ( يصحح في مستدركه أحاديث ساقطة ويكثر من ذلك ) .
    ((حاكم اپنی مستدرک میں ساقط حدیثوں کو صحیح قرار دیتے ہیں اور بكثرت ایسا کرتے ہیں ))

    وصرح الحافظ ابن الصلاح في كتابه علوم الحديث ص 11 :
    ( وهو واسع الخطو في شرط الصحيح ، متساهل في القضاء به ) .
    ((حاكم صحیح كی شرط میں كچھ زیادہ ہی وسعت والے ہیں، اور صحت كا حكم لگانے میں بہت متساہل ہیں!))

    قال النووي في المجموع شرح المهذب ( 7 / 64 ) :
    ( الحاكم متساهل كما سبق بيانه مراراً ) .
    ((حاكم متساہل ہیں، جیسا كہ اس كا بیان بہت بار گزرا))

    قال الامام الزيلعي وهو فقيه حنفي في نصب الراية ( 1 / 360 ) :
    ( الحاكم عرف تساهله وتصحيحه للأحاديث الضعيفة بل الموضوعة ) .
    ((حاكم كا تساہل معروف ہے، اور یہ بھی معروف ہے كہ وہ ضعیف بلكہ موضوع احادیث كو صحیح قرار دے دیتے ہیں!))
    وقال في في نصب الراية : ( 1 / 344 ) : ( وتصحيح الحاكم لا يعتد به )
    ((حاكم كی تصحیح كا كوئی اعتبار ہی نہیں!))

    قال الحافظ ابن تیمیة في الفتاوى الكبرى (2/175) (ومن له أدنى خبرة في الحديث وأهله لا يعارض بتوثيق الحاكم ما قد ثبت في الصحيح خلافه؛ إن أهل العلم متفقون على أن الحاكم فيه من التساهل والتسامح في باب التصحيح، حتى أن تصحيحه دون تصحيح الترمذي والدارقطني وأمثالهما [وهما من المتساهلين] بلا نزاع. فكيف بتصحيح البخاري ومسلم؟ بل تصحيحه دون تصحيح أبي بكر بن خزيمة وأبي حاتم بن حبان البستي وأمثالهما [وهما من أشد المتساهلين من المتقدمين نسبيا]. بل تصحيح الحافظ أبي عبد الله محمد بن عبد الواحد المقدسي في مختاره، خيرٌ من تصحيح الحاكم. فكتابه في هذا الباب خيرٌ من كتاب الحاكم بلا ريب عند من يعرف الحديث. وتحسين الترمذي أحياناً [رغم تساهله الشديد] يكون مثل تصحيحه أو أرجح. وكثيراً ما يُصَحِّحِ الحاكمُ أحاديثَ يُجْزَمُ بأنها موضوعة لا أصل لها.)

    ((اور جس کے پاس حدیث اور محدثين کا تهوڑا سا بھی تجربہ ہوگا وہ حاکم کی توثیق سے اس روایت کا معارضہ نہیں کر سکتا جو اس کے خلاف صحیح (بخاری يا مسلم) میں ثابت شدہ ہو . اہل علم اس بات پر متفق ہیں کہ تصحیح کے معاملے میں حاکم تساہل اور نرمی پائی جاتی ہے ، یہاں تک کہ حاکم کی تصحیح بلا اختلاف ترمذی ، دارقطنی اور ان جیسوں کی تصحیح سے کم تر ہے . تو بھلا وہ بخاری کی تصحیح کا مقابلہ کیوں کر کر سکتی ہے ؟ بل کہ حاکم کی تصحیح ابوبکر بن خزیمہ اور ابو حاتم ابن حبان البستی سے بھی کم تر درجے میں ہے ..... اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ حاکم ان روایات کو صحیح قرار دیتے ہیں جن کے بارے میں یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ وہ موضوع اور من گھڑت ہیں .))

    قال ابن القيم في "الفروسية" (ص245): (وأما تصحيح الحاكم فكما قال القائل: فأصبحتُ من ليلى –الغداةَ– كقابضٍ * على الماء خانته فروجُ الأصابع. ولا يعبأ الحفاظ أطِبّاء عِلَل الحديث بتصحيح الحاكم شيئاً، ولا يرفعون به رأساً البَتّة. بل لا يعدِلُ تصحيحه ولا يدلّ على حُسنِ الحديث. بل يصحّح أشياء موضوعة بلا شك عند أهل العلم بالحديث. وإن كان من لا علم له بالحديث لا يعرف ذلك، فليس بمعيارٍ على سنة رسول الله، ولا يعبأ أهل الحديث به شيئاً. والحاكم نفسه يصحّح أحاديثَ جماعةٍ، وقد أخبر في كتاب "المدخل" له أن لا يحتج بهم، وأطلق الكذب على بعضهم)
    ((جہاں تک حاکم کی تصحیح کا تعلق ہے تو اس کی مثال شاعر کے اس قول کی مانند ہے :
    اگلی صبح مجھے لیلی سے اتنا ہی حاصل ہوا ، جتنا ہاتھ میں پانی کو پکڑنے والے کو حاصل ہوتا جس کی انگلیاں اسے دھوکہ دے جاتی ہیں .
    حدیث کی بیماریوں کے ڈاکٹر حفاظ حاکم کی تصحیح کو کوئی اہمیت نہیں دیتے اور اس کی طرف سر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے .بلکہ ان کی تصحیح حدیث کے حسن ہونے کی برابری بھی نہیں کرتی اور نا ہی اس کی طرف رہنمائی کرتی ہے . بلکہ (حقیقت تو یہ ہے ) کہ بہت سی من گھڑت چیزوں کو بھی صحیح قرار دے دیتے ہیں اور اس سلسلے میں حدیث کا علم رکھنے والوں کے نزدیک کوئی شک نہیں ہے . اگر چہ حدیث سے نا آشنا لوگ اس بات کو نہیں جانتے ، لیکن وہ سنت رسول پر کوئی معیار بھی نہیں اور نہ اہل علم ان کا کچھ اعتبار ہی کرتے ہیں .
    حاکم اپنی کتاب "مدخل" میں ایک گروہ کو نا قابل احتجاج اور بعض کو جهوٹا قرار دینے کے با وجود بھی (مستدرک میں ) انھی کی احادیث کو صحیح قرار دیتے ہیں !!!))
    ---------------
    تو جناب يہ تھے محدثین، اور انہوں نے كیا كہا ہے وہ آپ نے ملاحظہ فرمالیا!! اب یا تو آپ تسلیم كریں كہ آپ نے محدثین پر جھوٹ باندھا تھا كہ وہ یہ كہتے ہیں كہ /// جس حدیث کے بارے میں ابن حاکم خود صراحت کر دیں کہ هذا حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه .تو وہ حدیث صحیح ہوگی اور شیخین کی شرط پر ہوگی/// یا پھر اپنی اس بات كا حوالہ دیں!

    ختم شد
    • Like Like x 1

اس صفحے کی تشہیر