1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

ممتاز قادری اور ہم

ؐمحمد علی نے 'متفرقات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 3, 2016

  1. ‏ مارچ 3, 2016 #1
    ؐمحمد علی

    ؐمحمد علی رکن ختم نبوت فورم

    میں ایک دو دن سے سخت بےچینی کا شکار ہوں۔ نہ رات کو نیند صحیح آتی ہے نہ دن سکون سے گزرتا ہے۔ ایک برانگیچتگی ہے جو روح و جسم پر طاری ہے۔ ایک رقت ہے جو طاری ہو جاتی ہے جب بھی غازی ممتاز حسین قادری شہید کا خیال آتا ہے۔ سوچتا ہوں کیا یہ وہی ملک ہے جو اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا تھا۔ مجھے رہ رہ کر غازی علم دین کا واقعہ یاد آتا ہے۔ جب غازی علم دین نے گستاخ رسول رام پال کو قتل کیا تو اس کا مقدمہ اور کسی نے نہیں بلکہ قائد اعظم محمد علی جناح نے خود لڑا اور انکے جنازے کو کاندھا دینے والوں میں اقبال خود شامل تھے۔
    بات اسکی نہیں تھی کہ کس نے کس کو قتل کیا بلکہ بات حرمت رسول کے ساتھ ایک عاشق کی وابستگی کی تھی۔ اسکے ہاتھ سے چلا ہوا چھرا جب گستا خ رسول کے سینے میں اترا تو نجانے کتنے ہی عشاق کے قلوب میں ایک ٹھنڈ سی پڑ گئی۔
    قانون تو غازی علم دین نے بھی توڑا تھا اور وقت کے جابر حکمرانوں نے اس سے بھی ظلم و جبر کی چکی میں پس پس کر جان دینے کا ایک شہری کے طور پر معاہدہ کیا تھا۔ مگر ذلت و خواری کے اس گئے گزرے دور میں جب مسلمانوں کو ہر میدان میں شکست ہی شکست کا سامنا ہے اورکمزوری ہمارا مقدر بن چکی ہے اس پس ماندہ لٹی پٹی قوم کے پاس پیوند شدہ گٹھری مین لپٹا ہوا ایک آخری اور سب سے قیمتی ہیرا موجود ہے جو چھپا چھپا کے اس قوم نے اپنے سینوں میں دفن کر دیا ہے۔
    یہ پیارا اور سب سے قیمتی ہیرا آپ ﷺ کی محبت کا ہیرا ہے۔
    ظالم چاہتا ہے کہ ہم یہ ھیرا بھی اسکے حوالے کر دیں۔ کوئی کتا اس پاک ذات کو گالی دے یا کوئی خنزیر اپنی ناپاک زبان سے اپنا خبث باطن بکے ، ہم بس صمّ بکم عمی بن کر سنتے جائیں اور سر دھنتے جائیں اور اس ساری ہلڑ بازی کو کوئی فاحشہ پردہ ِ سکرین پر آ کر فریڈم آف سپیچ کا نام دے۔
    ہم بے غیرت ہیں پر اتنے بھی بے غیرت نہیں۔آج بھی اس امت میں ایسے جانثار موجود ہیں جو نبی کی عزت کے لیے کٹ مرنے کو تیار ہے۔ ہمیں اپنے ان سپوتوں پر فخر ہے۔

    ہاں جو کتا نبی کی شان میں اپنی زبان دراز کرے گا ہم اسکا سر تن سے جدا کر دیں گے۔
    ہاں جو خنزیر خبث باطن بکے گا ہم اسکو بھی قتل کر دیں گے۔
    ہاں ہمارے خون کھولتے ہیں، دل تڑپتے ہیں اور ہاتھ گریبانوں تک پہنچ جاتے ہیں اور ہمیں اس پر فخر ہے۔
    نبی کی حرمت اور عزت اسلام کا مرکز ہے۔ جب کوئی اسکی طرف آنکھ بھی اٹھا کر دیکھتا ہے تو ہم اپنے ہاتھ خون کی مہندی سے رنگ لیتے ہیں۔
    یہ ہمارا فخر ہے۔ یہ سب کچھ ہمارے لیے سرمایہ افتخار ہے۔

    مگر جو بات دل کو چیرتی پھاڑتی اور بار بار بے قرار کرتی ہے وہ یہ ہے اس مملکتِ خدا داد میں جس کے آئین کو ہم نے قران کہا ہے اور جسکے طرزِ زندگی کو جھوٹے طرح یا سچی طرح جس طرح بھی سنت ِ رسول بنانے کا تہیہ کیا ہے ، وہاں ، رسول اللہ ﷺ کی عصمت و عزت کے ایک محافظ کو بڑے دبنگ سے ظالم شہید کر دیتے ہیں اور ہم بے بس ہیں۔
    کتنا عجیب وقت آ کیا ہے اس امت پر!
    حکمران بھی مسلمان ، جج بھی مسلمان ، وکیل بھی مسلمان ۔پھانسی دینے والے بھی مسلمان اور پھانسی پہ لٹکنے والا بھی مسلمان۔
    سزا کس بات کی ہے؟
    ایک گستاخ رسول کو تم نے کیوں قتل کیا؟
    کیا ایک مسلمان کی یہ شان ہے کہ وہ یہ سوال کرے۔ اس سوال کا جواب اور مجرم کا بے گناہ ہونا اتنا ہی یقینی ہے جتنا رات کا رات ہونا اور دن کا دن ہونا یقینی ہے۔
    مگر جب دلوں پر لالچ اور دنیا کے محبت کے قفل پڑ جاتے ہیں تو عشق ، محبت ، عزت اور نظریہ جیسے اصول بے معنی ہو جاتے ہیں۔
    مجھے ندامت ہے۔۔۔۔۔مجھے ندامت ہے اس بات پر کہ اس واقعہ کے ہونے سے پہلے میں مر کیوں نہ گیا۔
    آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ قیامت سے پہلے ایک وقت ایسا آئے گا جب زمین کے اوپر والا زمین کے نیچے والے پر رشک کرے گا اور کہے گا کہ کاش میں تیری جگہ ہوتا۔
    جس دن غازی ممتاز حسین قادری کو پھانسی دی گئی وہ دن بھی شاید انہی دنوں میں سے ایک دن تھا۔
    وہ تو امر ہوگیا پر ہمیں شرمندہ کر گیا۔
    میرے دوست جانتے ہیں کہ میں صوفی ٹآیپ آدمی ہو۔ کنٹروورشل اور متانزعہ بحثوں سے پرہیز کرتا ہوں ۔ کوئی کنٹروورشل بات کرے بھی تو میں کامن گراؤنڈز پر لانے کی اپنے تئیں پوری کوشش کرتا ہوں ۔ یہ بات نہیں ہے کہ مجھے پتہ کچھ نہیں ۔ معلوم ہونے کے باوجود میں ایسی باتوں سے در گزر کرتا ہوں۔ حلم اور برداشت کی بات کرتا ہوں۔ بہت زیادہ تبلیغ میں نے کبھی کسی کو کی نہیں۔میں اپنے کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ دوسروں کو تبلیغ کروں جبکہ خود میں برایئوں سے بھرا پڑا ہوں۔ کوئی پوچھ لے تو بتا دیتا ہوں نہ پوچھے تو اسکی مرضی۔ میرا ماننا ہے یہ فتنوں کا دور ہے ، آدمی اپنے کام سے کام رکھے اور بس۔ متنازعہ باتوں سے صرف گمراہی اور فتنہ پھیلتا ہے۔

    مگر اس واقعہ نے مجھے ہلا دیا ہے۔ اگر ہم اب بھی نہیں بولیں گے تو کب بولیں گے۔
    جب یہ مردود لوگ سرِ عام اس مملکتِ خداداد کی گلی کوچوں میں سرکار کی شان میں گالیا ں بکیں گے؟
    یاد رکھو انہوں نے عصمت رسول کے ایک محافظ کو قتل کیا ہے۔ اور جب محا فظ قتل ہو جاتے ہیں تو عصمتیں اور عزتیں غیر محفوظ ہوجاتی ہیں۔

    اگر ہم اب بھی نہیں بولیں گے تو اس زبان پر تف ہے۔ اب خاموش رہنا فتنہ ہے ۔ بولنے ہی میں امن ہے ۔ ورنہ پھر بولنے کے لیے کچھ باقی نہ بچے گا۔
    کسی کو تکلیف ہوتی ہے تو ہو۔
    کسی کے زخموں پر نمک پڑتا ہے تو پڑے۔
    کوئی جلتا ہے تو جل کر کباب ہو جائے۔
    چاہے اب کوئی ہمارے گریبانوں میں ہاتھ ڈالے ، ہمیں سر کے بالوں سے پکڑ کر کھینچے یا ہمارے ٹکڑے ٹکڑے ٹکڑے کر دے۔ ہم بولیں گے۔ ہم بولیں گے۔ یہاں تک کے جان چلی جائے۔
    لبرل ازم! مردہ باد
    اسلام ! زندہ باد
    • Like Like x 4
  2. ‏ مارچ 3, 2016 #2
    مبشر شاہ

    مبشر شاہ رکن عملہ منتظم اعلی

    آپ نے یہ پوسٹ غلط زمرہ میں لگائی ہے میں اس کو درست زمرہ میں منتفل کر دیتا ہوں آئندہ سے کوشش کریں کہ درست زمرہ کا انتخاب کیا جائے شکریہ
    • Like Like x 1

اس صفحے کی تشہیر