1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

مناظرے یا مباحثے میں موضوع کا تعیین کرنا

اسامہ نے 'جھوٹے پیر ، پیر زادے ، صوفی ، سائیں سرکاریں' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ دسمبر 19, 2018

  1. ‏ دسمبر 19, 2018 #1
    اسامہ

    اسامہ رکن ختم نبوت فورم

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    کسی بھی مناظرے یا مباحثے میں موضوع کا تعیین کرنا بہت ہی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ خاص طور پر قادیانیوں سے گفتگو کرتے وقت موضوع کا تعیین بہت ہی ضروری ہے۔ ہمارے اور قادیانیوں کے درمیان تین اہم موضوعات ہیں۔
    1: اجرائے نبوت و ختم نبوت
    2: صداقت و کذب مرزا
    3: حیات و وفات عیسیٰ علیہ السلام
    قادیانی عموماً کوشش کرتے ہیں کے اجرائے نبوت یا حیات عیسی علیہ السلام پر بات ہو۔اور ہم مسلمان چاہتے ہیں کہ تیسرے موضوع یعنی صدق و کذب مرزا پر بات ہو۔ کیونکہ ہمارا اور قادیانیوں کا اختلاف مرزا قادیانی کی سیرت و کردار اور اس کی ذات پر ہے۔ باقی موضوعات پر بات کرنا بعد کی بات ہے۔ کیوں کہ ہر مدعی پہلے اپنی سیرت و کردار پیش کرتا ہے۔
    سیرت مرزا پر بات کرو

    مثال کے طور پر جب پیغمبر اسلام جناب خاتم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مکہ کے سامنے دعویٰ پیش کیا تو فرمایا
    دلیل 1 ::
    فَقَدۡ لَبِثۡتُ فِیۡکُمۡ عُمُرًا مِّنۡ قَبۡلِہٖ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ
    سورة یونس آیت نمبر 16
    اس لئے ہم کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی سیرت و کردار پر بات کرتے ہیں۔ اس لئے ہم کہتے ہیں یہ دعویٰ کرنے والے کو دیکھتے ہیں کیا وہ صادق ہے یا نہیں اس کا کردار کیسا ہے پہلے یہ دیکھ لیتے ہیں باقی باتیں بعد میں کر لیں گے۔ ویسے بھی مرزا قادیانی کہتا ہے
    دلیل 2 ::
    ظاہر ہے کہ جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا ( چشمہ معرفت حصہ دوم صفحہ 223 خزائن جلد 23 صفحہ 231 )
    اس لئے ہم بھی کہتے ہیں کہ پہلے کردار مرزا پر بات کر لیتے ہیں اگر وہ اس میں جھوٹا ثابت ہو جائے تو اس کی باقی باتوں اور دعویٰ جات پر اعتبار نہیں رہ جائے گا
    دلیل 3 ::
    حکیم نوردین جو قادیانیوں کا پہلا خلیفہ تھا اسکی بات مرزا بشیر ایم اے جو مرزا قادیانی کا بیٹا تھانہ نقل کی وہ کہتا ہے
    حضرت خلیفہ اول فرماتے ہیں کہ ایک شخص میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ مولوی صاحب کیا نبی علیہ الصلاۃ والسلام کے بعد بھی کوئی نبی ہوسکتا ہے میں نے کہا نہیں اس نے کہا کہ اگر کوئی نبی کا دعوی کرے تو پھر میں نے کہا پھر ہم دیکھیں گے کہ کیا وہ صادق اور راست باز ہے یا نہیں اگر صادق ہے تو بہرحال اس کی بات کو قبول کریں گے (خلاصہ سیرت المہدی روایت نمبر 109 )
    اس لئے ہم بھی کہتے ہیں کہ قادیانیوں آؤ مرزا قادیانی کو صادق اور راست باز ثابت کرو
    دلیل 4::
    قادیانیوں کا دوسرا خلیفہ مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر الدین محمود کہتا ہے
    اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ مدعی ماموریت فل واقع سچ ہے یا نہیں اگر اس کی صداقت ثابت ہو جائے تو اس کے تمام دعویٰ کی صداقت بھی ساتھ ہی ثابت ہوجاتی ہے اور اگر اس کی صداقت ہی ثابت نہ ہو تو اس کے متعلق تفصیلات میں پڑھنا وقت کو ضائع کرنا ہوتا ہے۔ (دعوۃ الامیر صفحہ 49تا50 انوار العلوم جلد 7 صفحہ 376 )
    اس لیے ہم قادیانیوں سے کہتے ہیں کہ آؤ قادیانیوں مرزا قادیانی کو صادق ثابت کرو اور باقی مسائل میں گفتگو کر کے وقت ضائع نہ کرو۔
    حیات و وفات عیسیٰ علیہ سلام پر بحث نہ کرو

    مرزا قادیانی خود کہتا ہے
    دلیل 1::
    اول تو یہ جاننا چاہیے کہ مسیح کے نزول کا کی عقیدہ کوئی ایسا عقیدہ نہیں جو ہمارے ایمانیات کی کوئی جز ہو یا ہمارے دین کے رکن و میں سے کوئی رکن ہو بلکہ صد ہا پیش گوئیوں میں سے ایک پیش گوئی ہے جس کو حقیقت اسلام سے کچھ بھی تعلق نہیں جیسے زمانہ تک یہ پیش گوئی بیان نہیں کی گئی تھی اس زمانہ تک اسلام کچھ ناقص نہیں تھا اور جب بیان کی گئی تو اس سے سلام کچھ کامل نہیں ہو گیا ۔
    (ازالہ اوہام حصہ اول صفحہ 140 خزائن جلد 3 صفحہ 171)
    اس لئے ہم کہتے ہیں کہ یہ تو صدہا پیشگوئی میں سے ایک پیشگوئی ہے اور اس کو حقیقت اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اس سے اسلام نہ ناقص ہوتا ہے نہ کامل تو اس پر بات نہ کرو سیرت مرزا پر بات کرو
    دلیل 2::
    مرزا قادیانی کہتا ہے
    اور مسیحی معہود کے ظہور سے پہلے اگر امت میں سے کسی نے یہ خیال بھی کیا کہ حضرت عیسیٰ دوبارہ دنیا میں آئیں گے تو ان پر کوئی گناہ نہیں صرف اجتہادی خطا ہے جو اسرائیلی نبیوں سے بھی بعض پیش گوئیوں کے سمجھنے میں ہوتی رہی ہے ( حاشیہ حقیقۃ الوحی ص 30 خزائن جلد 22 صفحہ 32 )
    اس لئے ہم کہتے ہیں کہ نزول عیسیٰ کے معتقد پر کوئی گناہ نہیں اور یہ محض اجتہادی خطا ہے اور اس قسم کی خطائیں سریلی نبیوں سے بھی ہوتی رہی ہے مرزا قادیانی کے نزدیک معاذاللہ
    اس لیے عرض یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی سیرت و کردار پر بات کریں
    اگر قادیانی یہ کہیں کہ ہماری طرف سے دو موضوعات ہیں یعنی اجرائے نبوت ختم نبوت وہ حیات و وفات مسیح تو پھر مسلمانوں کو بھی اپنی طرف سے دو موضوعات دینی چاہیے
    یعنی کردار مرزا غلام قادیانی اور کردار مرزا بشیر الدین محمود قادیانی
    اللہ ہم سب کے ایمان کی حفاظت فرمائے آمین
    مدیر کی آخری تدوین : ‏ دسمبر 19, 2018
    • Like Like x 1
  2. ‏ دسمبر 19, 2018 #2
    مبشر شاہ

    مبشر شاہ رکن عملہ منتظم اعلی

    ماشاء اللہ بہت عمدہ:04
    اس میں کچھ ایڈیٹنگ کی ضرورت تھی وہ میں نے کر دی ہے آئندہ فونٹ سائز 6 رکھیں تحریر کا
    • Like Like x 1

اس صفحے کی تشہیر