1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

مولانا قاسم نانوتوی پر ختم نبوت کے انکار کا الزام

محمود بھائی نے 'ختم نبوت پر اعتراضات کے جوابات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 31, 2015

  1. ‏ مارچ 31, 2015 #1
    محمود بھائی

    محمود بھائی پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃُ اللہ علیہ اور مسئلہ تحفظ ختم نبوت پر ان پہ لگائے گئے الزام کا جواب

    حضرت اقدس مولانا محمد قاسم نانوتویؒ ’’تحذیر الناس‘‘ میں مسئلہ ختم نبوت پر عالمانہ و حکیمانہ تقریر فرمائی جو تقریباً چالیس صفحات پر پھیلی ہوئی ہے، قرآن کریم میں خاتم النبیین آیا ہے، اس کی تشریح کرتے ہوئے ختمِ نبوت کے تین درجے لکھے ہیں، ایک ختم نبوت زمانی (جس کو عام طور پر سبھی جانتے ہیں)، دوسرے ختم نبوت مکانی کہ اس کرۂ ارض کے لحاظ سے بھی آپﷺ خاتم ہیں، کوئی دوسرا نبی نہیں آسکتا، تیسرا ختم نبوت مرتبی کہ آپﷺ ذاتی کمالات کے لحاظ سے بھی خاتم ہیں کہ ان میں نہ صرف یہ کہ آپﷺ کا کوئی ہمسر نہیں بلکہ سارے انبیاء علیہم السلام کی نبوت آپﷺ کی نبوت کا فیض ہے۔
    حضرت مولانا نے تینوں درجوں کے اعتبار سے حضرت نبی کریم ﷺ کو خاتم النبیین ثابت کیا ہے، یعنی آپﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا ہے اور مرتبہ کے اعتبار سے بھی آپﷺ آخری نبی ہیں کہ اس زمین پر آپﷺ نبی ہیں کہ یہ مرتبۂ ختم نبوت اور کسی کو حاصل نہیں ہوسکتا اور اس پر فقہی اور عقلی دلائل قائم فرمائے ہیں اور واضح کیا ہے کہ جو آپﷺ کے آخری نبی ہونے کا انکار کرے وہ بلاشبہ اسلام سے خارج اور قطعی کافر ہے، اس لئے کہ قرآن عزیز کی آیت ’’خاتم النبیین‘‘ کا اور حدیث شریف ’’لانبی بعدی‘‘ (میرے بعد کوئی نبی نہیں) کا منکر ہے، درانحالیکہ یہ حدیث معنی کے اعتبار سے متواتر ہے اور اس پر اجماع ہے کہ جیسے کہ ظہرکی نماز فرض ہے اور اس کی چار رکعت کا ثبوت حدیث سے ہے، جو معنیٰ کے اعتبار سے متواتر ہے جس طرح اس کا منکر ہے وہ بھی کافر ہے، ’’تحذیر الناس‘‘ بغور مطالعہ فرمائیں۔
    اس دعوے پر جن حضرات نے اشکالات کئے ان کے جواب میں حضرت مولانا نے ایک دوسرا رسالہ بھی تحریر فرمایا جس کا نام ’’مناظرۂ عجیبہ‘‘ ہے، یہ رسالہ در حقیقت ’’تحذیر الناس‘‘ کے لئے بمنزلہ شرح کے ہے، اس کے صفحہ:۳ پر حضرت اقدس مولانا محمد قاسم نانوتویؒ فرماتے ہیں: ’’حضرت خاتم المرسلینﷺ کی نبوت خاتمیت زمانی تو سب کے نزدیک مسلم ہے ‘‘، صفحہ:۳۷ پر یہ لکھا ہے کہ ’’خاتمیتِ زمانی کی میں نے تو توجیہ و تائید کی ہے (معاذ اللہ) تغلیط نہیں کی‘‘۔
    پھر اُسی صفحہ پر چار سطر کے بعد صاف صاف خاتمیت مرتبی، خاتمیتِ زمانی اور خاتمیت مکانی تینوں کو حضرت رسول اللہ ﷺ کے لئے ثابت کیا ہے، صفحہ:۳۹ پر لکھا ہے: ’’خاتمیتِ زمانی اپنا دین و ایمان ہے‘‘، صفحہ:۵۰ پر لکھا ہے: ’’اس سے بھی بڑھ کر لیجئے (صفحہ:۹، سطر:۱۰ سے لیکر صفحہ:۱۱ کی سطر:۷ تک تحذیر الناس میں) وہ تقریر تحریر فرمائی ہے جس سے خاتمیت زمانی اور خاتمیت مکانی اور خاتمیتِ مرتبی تینوں مرتبے آیت خاتم النبیین سے بدلالتِ مطابقی ثابت ہوجائیں‘‘، پھر اسی صفحہ پر لکھا ہے: ’’حاصل مطلب یہ ہے کہ خاتمیتِ زمانی سے (ہی نہیں کہ) مجھ کو انکار نہیں بلکہ یوں کہئے کہ منکروں کے لئے گنجائشِ انکار نہ چھوڑی‘‘۔
    ان تصریحات کے باوجود یہ کہنا کہ حضرت اقدس مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین (آخری نبی) نہیں مانتے، کتنا صریح بہتان اور ظلمِ عظیم ہے اور اس بہتان کی بنیاد پر کفر کا فتویٰ دینا ظلم بر ظلم اور آخرت کے لحاظ سے انتہائی خطرناک ہے، جس کی فکر ’’ قادیانیوں ‘‘ کو سب سے زیادہ ہونی چاہئے تھی، آخر انہیں بھی تو حق تعالیٰ کے سامنے ایک دن پیش ہونا ہے اور اس کی جواب دہی فرمانی ہے، ان کی نظر سے حدیثِ نبویؐ کا یہ مضمون بھی تو گذرا ہوگا کہ جو شخص کسی کو کافر کہے اور وہ واقعۃً کافر نہ ہو یعنی شرعی دلائل سے اس کا کفر ثابت نہ ہو تو یہ کفر خود اسی پر لوٹ کر آتا ہے جس نے کافر کہا ہے، الفاظ حدیث یہ ہیں:

    عن ابی ذر رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا یرمی رجل رجلا بالفسوق و لا یرمیہ بالکفر الا ارتدت علیہ ان لم یکن صاحبہ کذالک۔
    (رواہ البخاری و المشکوٰۃ:۴۱۱)
    اور پھر ایسا بے بنیاد فتویٰ دینے کی وجہ سے جو مخلوق اس فتوے کو صحیح سمجھ کر گمراہ ہوگی اس کی ذمہ داری بھی آخر کار انہیں کے سر آتی ہے۔
    حضرت اقدس مولانا محمد قاسم نانوتوی قدس سرہ کی بلند پایہ شخصیت کا جہاں تک تعلق ہے سب جانتے ہیں کہ حضرت ممدوح حدیث شریف میں حضرت مولانا شاہ عبد الغنی مجددی محدث دہلویؒ کے شاگرد ہیں اور شیخ العرب و العجم حضرت حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکیؒ کے دست مبارک پر بیعت پر چاروں خانوادوں (چشتی، قادری، نقشبندی، سہروردی) میں مجاز طریقت ہیں، آپ نے اپنے شیخ کی رہنمائی میں گذشتہ صدی ۱۸۵۷ء میں انگریزوں سے جہاد فرمایا اور اس کے بعد ہمیشہ دشمنانِ اسلام کے ساتھ قلم سے جہاد فرماتے رہے۔
    • Like Like x 1
    • Winner Winner x 1
  2. ‏ مارچ 31, 2015 #2
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    بھائی آپ کی پوسٹ کو متفرق مقالات و تحاریر سے نکال کر ختم نبوت پر قادیانی اعتراضات کے جوابات کے سیکشن میں منتقل کیا جا رہا ہے۔
    اور بھائی برائے مہربانی پوسٹ میں کلر ، فونٹس کو ضرور استعمال کیا کریں ۔ اور سیکشن کا صحیح انتخاب کیا کریں ۔ پہلے بھی بھائی بہت دفعہ آپ کو کہہ چکا ہوں

اس صفحے کی تشہیر