1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان ریل گاڑی چلنے کی پیشگوئی

حمزہ نے 'اہم پیشگوئیاں اور ان کا جائزہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 17, 2015

  1. ‏ فروری 17, 2015 #1
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان ریل گاڑی چلنے کی پیشگوئی

    اس کے نتیجے میں شام اور مدینہ منورہ کے درمیان چلنے والی ریل گاڑی بھی بند ہو گئی

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان بہت لمبا فاصلہ ہے اور یہ اُس دور میں جبکہ آج کی طرح سہولتیں نہ تھیں، سفر خاصا مشکل تھا. یہ اور اس قسم کے دوسرے حالات کے پیش نظر ترکی کی حکومت نے منصوبہ بنایا کہ حجاج کرام کی سہولت کیلئے ان دونوں مبارک شہروں کے درمیان ریل گاڑی چلائی جائے تا کہ حجاج مکہ اور مدینہ کے درمیان کا سفر آرام کے ساتھ طے کریں. اس سلسلے میں ترکی حکومت نے مالی تعاون کیلئے اپیل کی. مرزا غلام احمد کو کہیں سے اسکی خبر ہو گئی کہ ترکی حکومت کے منصوبے میں یہ بات طے ہو چکی ہے کہ حرمین شریفین کے درمیان ریل گاڑی چلائی جائے اور یہ کام عنقریب شروع ہونے والا ہے. چنانچہ اس نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خدا کے نام پر یہ پیشگوئی جاری کر دی کہ حرمین کے درمیان ریل جاری ہو گی اور اس نے قرآن و حدیث کی آیات و احادیث پڑھ پڑھ کر لوگوں کو بتلایا کہ یہ سب مسیح موعود کی نشانیاں ہیں جو میری تائید کیلئے ظہور میں آ رہی ہیں. مرزا غلام احمد نے بزعم خود مولویوں کی بے عقلی کا رونا روتے ہوئے لکھا کہ

    ”اِن مولویوں نے اس نشان کو بھی گاؤ خورد کر دیا اور حدیث سے مُنہ پھیر لیا. یہ بھی احادیث میں آیا تھا کہ مسیح کے وقت میں اونٹ ترک کئے جائیں گے اور قرآن شریف میں بھی وارد تھا واذا العشار عطلت *کہ اب یہ لوگ دیکھتے ہیں کہ مکہ اور مدینہ میں بڑی سرگرمی سے ریل طیّار ہو رہی ہے اور اونٹوں کے الوداع کا وقت آگیا .پھر اس نشان سے کچھ فائدہ نہیں اٹھاتے “ (روحانی خزائن جلد ۱۷- تحفہ گولڑویَّہ: صفحہ 48-49)

    اس میں مرزا غلام احمد نے اپنے مسیح موعود کی نشانی اس بات کو قرار دیا ہے کہ مکہ اور مدینہ میں ریل چلے گی. یہ تو قرآن و حدیث کے نام پر تھا. اب اس نے پیشگوئی کر دی کہ اس ریل کا چلنا تین سال کے اندر ہو گا. قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ مرزا غلام احمد جو کہتا تھا اسکے پیچھے تائید الہٰی شامل ہوتی تھی. خود مرزا غلام احمد اسی کا مدعی تھا، اس نے لکھا کہ

    ”اِس عاجز کو اپنے ذاتی تجربہ سے یہ معلوم ہے کہ رُوح القدس کی قدسیّت ہر وقت اور ہر دم اور ہر لحظہ بلا فصل ملہم کے تمام قُویٰ میں کام کرتی رہتی ہے “ (روحانی خزائن جلد ۵- آئینہ کمالات اسلام: صفحہ 93)

    ظاہر ہے کہ حرمین کے درمیان ریل چلنے کی پیشگوئی میں روح القدس کی قدسیت کیسے علیحدہ رہ سکتی ہے.
    مرزا غلام احمد نے لکھا

    ”منجملہ ان دلائل کے جو میرے مسیح موعود ہونے پر دلالت کرتے ہیں خدا تعالیٰ کے وہ دو نشان ہیں جو دنیا کو کبھی نہیں بھولیں گے یعنی ایک وہ نشان جو آسمان میں ظاہر ہوا اور دوسرا وہ نشان جو زمین نے ظاہر کیا. آسمان کا نشان خسوف کسوف ہے.....(دوسرا نشان-ناقل) یہ پیشگوئی اب خاص طور پر مکّہ معظمہ اور مدینہ منورہ کی ریل طیار ہونے سے پوری ہو جائے گی کیونکہ وہ ریل جو دمشق سے شروع ہو کر مدینہ میں آئے گی وہی مکّہ معظمہ میں آئے گی اور اُمید ہے کہ بہت جلد اور صرف چند سال تک یہ کام تمام ہو جائے گا. تب وہ اونٹ جو تیرہ سو برس سے حاجیوں کو لے کر مکہ سے مدینہ کی طرف جاتے تھے یکدفعہ بے کار ہو جائیں گے اور ایک انقلاب عظیم عرب اور بلا د شام کے سفروں میں آ جائے گا. چنانچہ یہ کام بڑی سرعت سے ہو رہا ہے اور تعجب نہیں کہ تین سال کے اندر اندر یہ ٹکڑا مکّہ اور مدینہ کی راہ کا طیار ہو جائے اور حاجی لوگ بجائے بدوؤں کے پتھر کھانے کے طرح طرح کے میوے کھاتے ہوئے مدینہ منورہ میں پہنچا کریں. بلکہ غالباً معلوم ہوتا ہے کہ کچھ تھوڑی ہی مدّت میں اونٹ کی سواری تمام دنیا میں سے اُٹھ جائے گی. اور یہ پیشگوئی ایک چمکتی ہوئی بجلی کی طرح تمام دنیا کو اپنا نظّارہ دکھائے گی....ذرا س وقت کو سوچو کہ جب مکّہ معظمہ سے کئی لاکھ آدمی ریل کی سواری میں ایک ہیئت مجموعی میں مدینہ کی طرف جائے گا یا مدینہ سے مکّہ کی طرف آئے گا ....یا جب کوئی حاجی ریل پر سوار ہو کر مدینہ کی طرف جاتا ہوا یہ حدیث پڑھے گا کہ ویترک القلاص فلا یُسعٰی علیھا یعنی مسیح موعود کے زمانہ میں اونٹنیاں بے کار ہو جائیں گی اور اُن پر کوئی سوار نہیں ہو گا تو سُننے والے اس پیشگوئی کو سُن کر کِس قدر وجد میں آئیں گے اور کس قدر ان کا ایمان قوی ہو گا.**(روحانی خزائن جلد ۱۷- تحفہ گولڑویَّہ: صفحہ 194تا196)

    کوئی قادیانی سربراہ یا انکی رعیت مرزا غلام احمد کے اس جھوٹ پر وجد میں آئے یا نہ آئے ہمیں اس سے غرض نہیں، سوال صرف یہ ہے کہ مرزا غلام احمد کی یہ پیشگوئی کہ تین سال کے اندر اندر حرمین شریفین کے درمیان ریل گاڑی چلے گی سچ ثابت ہوئی یا جھوٹ؟

    قادیانی مناظر جلال الدین شمس کا کہنا ہے کہ تخفہ گولڑویہ کا زمانہ تالیف 1900ء ہے. اس بیان کی رو سے 1903ء (اور اگر 1902ء تسلیم کیا جائے تو 1905ء تک) حرمین شریفین کے درمیان ریل گاڑی چل جانی چاہیے تھی.
    مگر افسوس کہ اس پیشگوئی کو تقریباً نوے90 سال ہونے جا رہے ہیں مگر وہاں ریل کا نام و نشان تک نہیں ہے. مقام عبرت تو یہ ہے کہ ترکی حکومت کے دور میں شام اور مدینہ منورہ کا ویران اسٹیشن مرزا غلام احمد کی پیشگوئی کے جھوٹے ہونے کا کھلا ثبوت نہیں تو اور کیا ہے؟

    یہ صحیح ہے کہ سعودی عرب میں قادیانیوں کا داخلہ بند ہے، تاہم وہ اگر کسی بھی مسلمان سے یہ پوچھنا چاہیں تو شوق سے پوچھیں کہ کیا حرمین شریفین کے درمیان ریل کا سفر ہو رہا ہے؟ اور کوئی حاجی ریل میں پھل فروٹ کھا کر مدینہ پہنچ رہا ہے؟ اگر اسکا جواب نفی میں ہے اور یقیناً نفی میں ہے تو یہ بات قادیانیوں کو غور کیلئے کافی نہیں؟

    آئندہ کسی دور میں اگر یہ سفر جاری بھی ہو جائے تو بھی اس سے مرزا غلام احمد کے جھوٹا ہونے پر کوئی فرق نہ پڑے گا. ہاں یہ اور بات ہے کہ پچاس اور پانچ میں فرق نہ کرنے والے پھر بھی اس کو جھوٹ کہنے سے کترائیں تو ہم کیا کر سکتے ہیں. فاعتبروا یا اولی الابصار!

    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    *مرزا غلام احمد لکھتا ہے ” یہاں تک کہ عرب اور عجم کے اڈیٹران اخبار اور جرائد والے بھی اپنے پرچوں میں بول اُٹھے کہ مدینہ اور مکّہ کے درمیان جو ریل طیّار ہو رہی ہے یہی اُس پیشگوئی کا ظہور ہے جو قرآن اور حدیث میں ان لفظوں سے کی گئی تھی جو مسیح موعود کے وقت کا یہ نشان ہے“ (روحانی خزائن جلد ۱۹- اعجاز احمدِی: صفحہ 108)

    **مرزا صاحب نے یہ بھی لکھا”مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے لوگوں کے لئے ایک بھاری نشان ظاہر ہوا ہے اور وہ یہ کہ تیرہ سو برس سے مکہ سے مدینہ میں جانے کے لئے اونٹوں کی سواری چلی آتی تھی اور ہر ایک سال کئی لاکھ اونٹ مکہ سے مدینہ کو اور مدینہ سے مکہ کو جاتا تھا اور ان اونٹوں کے متعلق قرآن اور حدیث میں بالاتفاق یہ پیشگوئی تھی کہ ایک وہ زمانہ آتا ہے کہ یہ اونٹ بے کار کئے جائیں گے . . . . پس یہ کس قدر بھاری پیشگوئی ہے جو مسیح کے زمانہ کے لئے اور مسیح موعود کے ظہور کے لئے بطور علامت تھی جو ریل کی طیاری سے پوری ہو گئی . “ (روحانی خزائن جلد ۱۷- اربعین: صفحہ 375) جو کبھی بھی پوری نہ ہو سکی .
    • Like Like x 1

اس صفحے کی تشہیر