1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

مہدی کے زمانہ میں ایک دم دار ستارہ نکلے گا اور یہ کہ وہ 1888 عیسوی میں نکلا،

غلام نبی قادری نوری سنی نے 'ملفوظات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اکتوبر 22, 2015

  1. ‏ اکتوبر 22, 2015 #1
    غلام نبی قادری نوری سنی

    غلام نبی قادری نوری سنی رکن ختم نبوت فورم

    سوال۔۔۔ مہدی کے زمانہ میں ایک دم دار ستارہ نکلے گا اور یہ کہ وہ 1888 عیسوی میں نکلا،
    جواب۔۔۔ مرزا قادیانی کہتا ہے کہ۔۔۔۔
    ایک اور نشان یہ بھی تھا کہ اس وقت ستارہ زوالنین طلوع ہوگا ، یعنی ان برسوں کا ستارہ جو پہلے گزرچکے ہیں ، یعنی وہ ستارہ جو ناصری مسیح کے ایام (برسوں)میں طلوع ہوگیا،۔ جس نے یہودیوں کے مسیح (علیہ السلام) کی اطلاع آسمانی طور سے دی تھی۔۔۔
    حوالہ(ملفوظات جلد 1 صفحہ 49)
    aaaaa.gif
    امام مہدی کا یہ نشان کہاں لکھا ہوا ہے؟مرزا قادیانی نے یہ بات کہاں سے لی ہے؟؟
    کیا یہ قرآن میں لکھا ہے یا کسی حدیث میں ہے َ؟ یا خود مرزا قادیانی کی اپنی اختراع ہے؟؟
    مرزا قادیانی خود تو جہنم واصل ہوگیا اب اس کی امت ہمیں اس کا حوالہ بتادے تو مزید بات آگے چلے وگرنہ قرآن کریم اور احادیث نبوی ﷺ میں حضرت مہدی رضی اللہ عنہ کی کوئی ایسی نشانی موجود ہی نہیں ہے۔
  2. ‏ اکتوبر 21, 2017 #2
    faheem khan

    faheem khan رکن ختم نبوت فورم

    حضرت مرزا غلام احمدؑ نے بات خود اختراع نہیں کی بلکہ یہ حدیث پائی جاتی ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ لوگوں کی کم فہمی اور محدود علم کی وجہ سے یہ حدیث کسی نے پڑھی نہ ہو۔ یہ حدیث کتاب الفتن بن حماد باب مایذکر من علامات السماء۔۔حدیث ۶۴۲ مکتبہ التوحید اسی طرح حدیث نمبر ۶۲۳ میں بھی اس کا ذکر ہے۔ اگر یہ بھی کافی نہیں تو اہل تشیع کی کتب لے لیں وہاں بھی یہ بات ملے گی۔ دیکھیئے بحار الانوار جلد ۵۲ ص ۲۶۷۔۲۶۸ حدیث ۱۵۵۔ میرے خیال سے کسی عقلمند کے لئے ایک ہی حوالہ کافی ہو گا(جبکہ نشان پورا ہو چکا ہے) مگر آپ کی تصلی کے لئے تین حوالے پیش کر دیئے ہیں۔

اس صفحے کی تشہیر