1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

میعار نبوت نمبر27:نبی فحاشی سے نفرت کرتے ہیں۔

ام ضیغم شاہ نے 'منہاج نبوت اور مرزا قادیانی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اپریل 1, 2015

  1. ‏ اپریل 1, 2015 #1
    ام ضیغم شاہ

    ام ضیغم شاہ رکن عملہ منتظم اعلی ناظم پراجیکٹ ممبر مہمان رکن ختم نبوت فورم

    نبی فحاشی سے نفرت کرتے ہیں۔

    حضرات انبیاء کرام ؑ نہ صرف خودفحاشی سے کوسوں دور رہتے ہیں بلکہ اپنی امتوں کو بھی فحش گفتگو سے دور رہنے کی تعلیم دیتے ہیں حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ مومن فحش گوئی نہیں کرتا۔ ( اوکماقال ﷺ) قرآن مجید میں ہے کہ جو لوگ چاہتے ہیں کہ مومنوں میں فحاشی پھیلے ان کے لیے دنیاو آخرت میں درد ناک عذاب ہے ۔ ( النور)
    دنیوی عذاب اولاد کی اپنے دین ، اقدار ، اور اپنے والدین سے دوری کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے ۔ ایڈز کا عذاب اس پر مستزاد ہے ، آخرت کے عذاب کی تفصیلات کے تصور سے ہی رو نگٹے کھڑے ہوتے ہیں ( اللہ تعالی محفوظ رکھے ) خود مرزا قادیانی لکھتا ہے " مومنوں کو چاہیے کہ اشاعت فحش سے پر ہیز کریں۔" ( ملفوظات جلد 6 ص603طبع جدید)
    مرزا قادیانی کی فحش پسندی کے چند نمونے :

    اور میرے مضامیں نازک اندام عورتوں کی طرح تھے پس حسن کے ساتھ پھر اس آواز کے ساتھ جو بطور قبا کے تھی دل اس کی طرف جھک گئے۔
    (حجۃ اللہ روحانی خزائن جلد12ص 227)
    میں دیکھتا ہوں کہ نرم اندام عورتیں اسرار کی ہمارے لیے ننگی ہوگئیں اور غیروں سے وہ چھپنے والیوں کی طرح دور ہوگئیں اور جب ان کا حسن اپنے نورکے ساتھ چمکا۔ پس اندھیرا یوں چلا گیا جیسا کہ وہ لوگ جو اپنے گھروں سے آوارہ پھرتے ہیں اور معشوقوں میں بہت کم ہو گا جس کا حسن ہمارے باکرہ مضامین کی طرح ہوگا اور رخسار روشن ہوں گے۔
    (حجۃ اللہ مندرجہ روحانی خزائن جلد 12ص247)
    اگر وہ مجھے گالی دیتے ہیں تو میں نے ان کے کپڑے اتار لیے ہیں اور میں نے انہیں لاوارث مردہ کردیا ہے ۔
    (انجام آتھم روحانی خزائن جلد111ص158)
    اب عبدالحق کو ضرور پوچھنا چاہیے کہ اس کا وہ مباہلہ ک ی برکت کا لڑکا کہا ں گیا کیا اندر ہی اندر پیٹ میں تحلیل پا گیا یا پھر رجعت قہقہری کے کے نطفہ بن گیا۔
    (انجام آتھم مندرجہ روحانی خزائن جلد 11ص311)
    مگر اس کی بد بحتی سے وہ دعویٰ بھی باطل نکلا اور اب تک اس کی عورت کے پیٹ میں ایک چوہا بھی پیدا نہ ہوا۔
    ( انجام آتھم روحانی خزائن جلد11ص317)
    نیوگ کی مذمت :

    نیوگ ہندومت کی اصطلاح ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ بے اولاد خاتون کا حصول اولاد کے لیے کسی غیر مرد سے ہم بستر ہونا۔۔۔۔ ہندومت میں یہ جائز ہے کہ لیکن دین اسلا م میں حرام ہے ۔ مرزا قادیانی نے عملی نیوگ کی عملی تصویر ایک ہیجان خیز اور رومان پرور افسانے کی صورت میں قلمبند کی ہے جوکہ بائیبل کے صحیفہ غزل الغزلات کے مشابہ ہے۔
    ( دیکھیں مرزاقادیانی کی کتاب آریہ دھرم مندرجہ روحانی خزائن جلدنمبر 10ص 31تا34)
    نماز کے خضوع و خشوع کی تشبیہہ:

    خضوع وخشوع کے ساتھ نماز پڑھنے میں آدمی وہی لذت آتی ہے جیسی کہ مرد کو عورت کے ساتھ ہم بستری سے آتی ہے۔
    (ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم روحانی خزائن جلد 21ص188تا196)
    پرمیشر کی جگہ :
    ا
    ہندوؤں کا پر میشر (خدا ) ناف سے دس انگلی نیچے ہے ۔
    چشمہ معرفت روحانی خزائن جلد23ص114)
    چند نتائج

    1۔ انسان جب حیا چھوڑ دیتا ہے تو جو چاہے بنے کون اس کو روکتا ہے۔
    ( اعجاز احمدی روحانی خزائن جلد 19ص109)
    2۔ انسان کے الفاظ ہمیشہ اس کے خیالات کے تابع ہوتے ہیں۔
    ( روحانی خزائن جلد اول ص393)
    3۔ بے حیا انسان کی زبان کو قابو میں لانا تو کسی نبی کے لیے ممکن نہیں ہوا۔
    ( براہین احمدیہ پنجم روحانی خزائن جلد21ص75)
    درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے

    پلیدوں سے پلید باتیں نکلتی ہیں اور پاک دل سے پاک باتیں ، انسان باتوں سے ایسا ہی پہچانا جاتا ہے جیسا کہ درخت اپنے پھلوں سے۔
    ( تحفہ غزنویہ روحانی خزائن جلد15ص541)
    آخری تدوین : ‏ اپریل 1, 2015
    • Like Like x 1
  2. ‏ فروری 20, 2016 #2
    • Like Like x 1

اس صفحے کی تشہیر