1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

میں ایک لڑکی ہوں میں ایک لڑکی ہوں کسی کی بہن ، کسی کی بیٹی اور شائد مستقبل میں کسی کی ماں بھی مگر۔۔۔

محمدابوبکرصدیق نے 'متفرق مقالات وتحاریر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جولائی 6, 2014

  1. ‏ جولائی 6, 2014 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    میں ایک لڑکی ہوں میں ایک لڑکی ہوں کسی کی بہن ، کسی کی بیٹی اور شائد مستقبل میں کسی کی ماں بھی مگر پھر بھی حیرت ہے کہ معاشرہ مجھے عجیب نظروں سے کیوں دیکھتا ہے ۔
    میں اپنے گھر سے باہر نکلوں تو راہ چلتے بھائی گردن گھما گھما کے میری طرف کیوں دیکھنے لگتے ہیں ؟
    میں ایک عا م سے گھرانے کی ایک عام سی لڑکی ہوں سو بس میں بیٹھ کر کالج جاتی ہوں ۔
    صبح لڑکوں کے غول راستے میں ملتے ہیں ۔ انکے پاس سے گزرتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہےـ
    جیسے میں کوئی تماشا ہوں اور یہ تماش بین ۔
    نجانے کیوں بس میں سوار ہونے والی ہر لڑکی کو دیکھ کر انکے چہرے پر مسکراہٹ پھیل جاتی ہے ـ
    اور یہ زیرِ لب گنگنانے لگتے ہیں ۔
    شائد بہنوں کو دیکھ کر ان میں برادرانہ محبت جاگ اٹھتی ہے ۔
    جب میں بس میں سوار ہوتی ہوں تو بھائی پہل کر کے اندر پہنچتے ہیں ـ
    اور مجھے خوش آمدید کہنے کا فریضہ انجام دیتے ہیں ۔
    یہ غیرت مند بھائی بریک لگنے پر خواتین کے پاؤں کچل کر روحانی سکون محسوس کرتے ہیں ـ
    اور بس کی نشستوں پر بیٹھی لڑکیوں کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر نفلی عبادت کا ثواب حاصل کرتے ہیں ۔
    جب کالج آنے پر میں بس سے اترتی ہوں تو میرے اچھے بھائی شائد میری جدائی برداشت نہیں کر پاتےـ
    اسی لئے راستہ روک کر کھڑے ہو جاتے ہیںـ
    ہر ایک کو سرگوشی کے انداز میں کچھ نہ کچھ کہتے سنتی ہوں شائد جاتی ہوئی بہن کو خدا حافظ کہتے ہیں ۔
    امید ہے اللہ انکو اتنی محبت کااجر ضرور دے گا اور یقینا جس قوم کے نوجوان اتنے باشعور اور غیرت مند ہوں اسکے مستقبل کی تابناکی کی قسم کھائی جا سکتی ہے ۔
    خدا ان اچھے بھائیوں کا سایہ ہمیشہ ہمارے سروں پر قائم رکھے ۔۔۔۔آمین
    • Like Like x 5

اس صفحے کی تشہیر